دل مرا لگتا نہیں تیرے بغیر
اے مرے بابو کہیں تیرے بغیر
دیکھ تیری ماں بہت بے حال ہے
باغِ جنت کے مکیں تیرے بغیر
آسماں بد رنگ سا مجھ کو لگے
اور اجڑی سی زمیں تیرے بغیر
کس طرح تنہا جیوں تو ہی بتا
مہر و الفت کے امیں تیرے بغیر
ایک لمحہ بھی مرے پیارے پسر
ہے بہت مشکل تریں تیرے بغیر
تو نہیں تو کچھ نہیں بھاتا مجھے
اے مرے خوابِ حسیں تیرے بغیر
ہوگیا مسمار خوابوں کا محل
مثلِ تاجِ مرمریں ، تیرے بغیر
لُٹ گئی میراث میری دفعتاً
جانمن ، اے جانشیں تیرے بغیر
دل جہاں میں تو نہیں لگتا مگر
حیف ! ہوں اب تک یہیں تیرے بغیر
لگ رہی ہے زندگی اک بوجھ سی
راحتِ قلبِ حزیں تیرے بغیر
اے مرے لختِ جگر ، نورِ نظر
تو نہیں تو کچھ نہیں تیرے بغیر
جو چمکتی تھی ترے دیدار سے
مضمحل ہے وہ جبیں تیرے بغیر
گوشۂ قلب و جگر ہے پاش پاش
بالیقیں ، جنت نشیں تیرے بغیر
ساتھ چھوڑا جس جگہ جانِ پدر
ہوں کھڑا تنہا وہیں تیرے بغیر
چشم پرنم ہے سبھی کا اشک سے
سب سیاہ و سرمگیں تیرے بغیر
اے شکیب اکرم غزالی کا سخن
ہو نہیں سکتا مبیں تیرے بغیر
☆☆☆
۔۔۔۔ محمد مصطفےٰ غزالی ، پٹنہ
۔۔۔ 9798993200 // 8409508700
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

