یہ بات ۱۹۹۶ء کی ہے کہ پروفیسر عبدالحق شعبۂ اردو، دہلی یونیورسٹی کے اس وقت صدر تھے، کہنے لگے: ’’میاں! نارنگ صاحب شعبہ سے سبکدوش ہوئے ہیں، میں ’’ارمغان نارنگ‘‘ کے نام سے ان کی خدمات پر ایک کتاب مرتب کررہا ہوں۔ ایک مضمون آپ بھی لکھیے۔‘‘ اِس سے قبل پروفیسر ظہیر احمد صدیقی ’’ارمغان فاروقی‘‘ پروفیسر خواجہ احمد فاروقی کی شعبہ سے سبکدوشی پر ترتیب دے چکے تھے۔
میں نے نارنگ صاحب سے اپنے رشتے تلاش کرنے شروع کیے۔ گزشتہ دس سال سے تو ہم شعبہ میں ساتھ تھے، اس سے پہلے وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں تھے۔ ہمارا شمار قمر رئیس کی جماعت میں ہوتا تھا اس لیے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ رشتے کیسے ہوں گے۔ ۱۹۷۸ء تک ہم علی گڑھ میں تھے اور علی گڑھ میں ہماریلیے سب قابل احترام تھے۔ پروفیسر قمر رئیس بھی، پروفیسر گوپی چند نارنگ بھی اور پروفیسر عنوان چشتی بھی۔ اس وقت بھی علی گڑھ اور دہلی میں اتنا فاصلہ تھا، لیکن اتنے قریب نہیں تھے جتنے آج ہیں۔ آج تو کھانا دہلی میں کھائیے اور پانی علی گڑھ پہنچ کر پی لیجیے۔ موبائل اور انٹرنیٹ تھا نہیں، ٹیلی فون پر لمبی گفتگو کی سب کی حیثیت نہیں تھی اور ہم ٹھہرے طالب علم، جس کی حیثیت پوسٹ کارڈ اور اِن لینڈ سے زیادہ نہیں ہوتی۔ دہلی میں رہنے والے سبھی ادیب اور شاعر عظیم لگتے تھے۔ ہم سبھی کا احترام کرتے تھے۔ احترام کرنے کی ایک وجہ ہمارے والد محترم کنول ڈبائیوی بھی تھے۔ مذکورہ تینوں شخصیات سے والد صاحب کے مراسم تھے۔ کچھ اور پہلے نارنگ صاحب سے رشتوں کے تار جوڑنے کی کوشش کی، ۱۹۷۰ء کی یاد آئی۔ والد صاحب کا شعری مجموعہ ’’بساط زیست‘‘ شائع ہوا جس میں حب الوطنی سے سرشار نظمیں شامل تھیں۔ ہم علی گڑھ کے مشہور اسکول منٹو سرکل میں زیر تعلیم تھے۔ باقاعدہ اردو میں نہیں تھے، لیکن اردو پڑھتے تھے۔ مزاج بھی اردو والوں جیسا تھا۔ شاعری میں تک بندی شروع کردی تھی۔ پتہ نہیں کیسے ہمارے ابّا کو کچھ احساس ہوا کہ آگے چل کر یہی لڑکا میرے اردو ورثہ کو سنبھالے گا۔ لائق سمجھ کر ہمیں اپنی کتابیں بھی دکھانے لگے۔ اُن کی شاعری پر جہاں بہت سے اردو کے ناقدین اور شعراء نے رائے دی تھی، ان میں ایک نام ڈاکٹر گوپی چند نارنگ کا بھی تھا۔ کوئی کسی کے ابّا کی یا بیٹے کی تعریف کرے تو یوں بھی قابل احترام ہوجاتا ہے۔ سو ہماری نظر میں بھی ان کا مرتبہ بہت بلند ہوگیا اور کیوں نہ ہوتا، اس لیے کہ انھوںنے لکھا تھا:
’’وہ لوگ یقینا خوش نصیب ہیں اور قابل فخر ہے ان کی ہستی جو اپنے وطن کے ذرّے ذرّے سے محبت کرتے ہیں اور اپنے کردار و گفتار سے دوستوں کے دلوں میں بھی وطن کے جذبات کو پیدا کرتے ہیں۔ ڈاکٹر کنول ڈبائیوی ایسے ہی بیش قیمت انسانوں میں سے ہیں۔ انھوں نے اپنے فن کو اسی کام کے لیے وقف کردیا ہے اور اسی خوبی کی بدولت ان کا مجموعہ ’’بساطِ زیست‘‘ اہل نظر سے خراج تحسین حاصل کرے گا۔‘‘
اس وقت نارنگ صاحب دہلی یونیورسٹی میں استاد تھے اور ہم اسکول میں طالب علم۔ نہ انھیں معلوم تھا اور نہ مجھے کہ ایک دن ہم رفیق کار بھی ہوں گے۔ جب اسکول سے نکل کر علی گڑھ کے شعبۂ اردو میں آئے تو اردو اور اردو والوں کی سیاست کچھ کچھ سمجھنے میں آنے لگی۔ اور ۱۹۷۸ء میں دہلی آکر تو اردو کا پارلیمنٹ ہی دیکھ لیا۔ یہاں تو باقاعدہ آزادانہ حکومتیں قائم تھیں۔ کہیں پانی پت کا میدان تھا، کہیں پلاسی کی جنگ تھی، کہیں بکسر کی لڑائی۔ ہمارے لیے بڑی مشکل تھی۔ ایماں مجھے روکے ہے تو کھینچے ہے مجھے کفر۔ ابّا نے کہا تھا تینوں کا احترام کرنا، حالات کہہ رہے تھے کسی ایک کا ہوجا — ہم ٹھہرے صلح کُل پر چلنے والے آدمی۔ یعنی کُل سے صلح رکھو۔ نظریہ اپنا رکھو، نہ کاہو سے بیر رکھو، نہ کاہو سے دشمنی۔ اساتذہ کے اختلافات میں اکثر طلباء کا نقصان ہوجاتا ہے۔ ہم نے ابّا کا کہنا مانا اور تینوں کاحترام کیا اور تھے بھی لائق احترام۔ یوں بھی اساتذہ کی معرکہ آرائی میں طلباء کو آستینیں نہیں چڑھانی چاہئیں۔ بادشاہوں کی لڑائی میں پیدل شہید ہوجاتے ہیں۔ بادشاہ کب صلح کرلیں کچھ پتہ نہیں۔ اساتذہ کو بھی اپنی لڑائی میں طلباء کو استعمال نہیں کرنا چاہئے۔
علی گڑھ کے قیام تک ہم نارنگ صاحب کو ماہر لسانیات سمجھتے تھے، یہاں آکر معلوم ہوا کہ گوپی چند نارنگ تو ہمہ جہت اور ہمہ گیر ادیب کا نام ہے۔ ہندوستان اور ہندوستان سے باہر بڑی قدر و قیمت ہے۔ ہماری وابستگی تھی دہلی یونیورسٹی سے، لیکن رہائش جامعہ نگر میں تھی۔ نارنگ صاحب اس وقت جامعہ ملیہ کے شعبۂ اردو میں تھے۔ جامعہ کے زیادہ تر طلباء آس پاس ہی رہتے تھے۔ قریب ہونے کی وجہ سے جامعہ میں جو بھی اردو کے پروگرام ہوتے اس میں ہم بھی شریک ہوتے تھے۔ مارچ ۱۹۸۰ء میں نارنگ صاحب نے اردو افسانہ پر بین الاقوامی سمینار جامعہ میں کروایا۔ ہندوستان اور دیگر ممالک سے بہت سے افسانہ نگار اور ناقد آئے۔ ہم بھی افسانہ نگار ہونے کا دعویٰ کرتے تھے، اس لیے باقاعدہ شریک ہوئے۔ صلاح الدین پرویز بحیثیت ناول نگار ’’نمرتا‘‘ کے ساتھ اسی سمینار میں متعارف ہوئے۔ بہت لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ نارنگ صاحب کی انتظامی صلاحیتیں واقعی قابل ذکر تھیں۔ یہاں معلوم ہوا کہ نارنگ صاحب کو افسانوی ادب میں بھی گہری دلچسپی ہے۔ ’’اردو افسانہ‘‘ پر اتنا بڑا عالمی سمینار شاید ہی کسی نے دیکھا ہو۔ سمینار کیا تھا اردو میلہ تھا۔ اس وقت کے نامور ناقدین اور افسانہ نگار بنا تفریقنظریات موجود تھے۔ راجندر سنگھ بیدی کا خصوصی خطبہ تھا۔ عصمت چغتائی، قرۃ العین حیدر، صالحہ عابد حسین، دیوندر ستیارتھی، جوگندر پال، رام لعل، کلام حیدری، احمد ہمیش، منیر احمد شیخ، انتظار حسین، انور عظیم، بلراج مینرا، جیلانی بانو، غیاث احمد گدی جیسے افسانہ نگار شامل تھے اور آل احمد سرور، خواجہ احمد فاروقی، وزیر آغا، شمس الرحمن فاروقی، قمر رئیس، شمیم حنفی، حامدی کاشمیری، لنڈا وینٹک، محمد عمر میمن، محمود ہاشمی، وارث علوی، باقر مہدی جیسے ناقدین مقالات کی بلند خوانی کررہے تھے، اور کہیں ’’افسانوں کی شام‘‘ کا انعقاد ہورہا تھا۔ کہیں ناول کی بلند خوانی۔ اس وقت ہمارے دوستوں میں جامعہ کے ریسرچ اسکالر شمس الحق عثمانی، ڈاکٹر صابرین، فریاد آذر، باذل عباسی وغیرہ شامل تھے۔ اتنے اردو والوں کو ایک جگہ جمع کرنا ہی عجوبہ ہے۔
اب جیسے جیسے دہلی میں میرے قیام کی مدت بڑھتی رہی، نارنگ صاحب کی صلاحیتوں کی تہیں کھلتی رہیں۔ معلوم ہوا کہ نارنگ صاحب کا دہلی یونیورسٹی کے شعبۂ اردو سے بڑا گہرا تعلق ہے اور ان کی تربیت میں پروفیسر خواجہ احمد فاروقی نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ ریسرچ بھی فاروقی صاحب کے ساتھ کی اور جب شعبہ کا قیام عمل میں آیا بحیثیت استاد تقرر بھی فاروقی صاحب کے ہاتھوں ہوا۔ نارنگ صاحب نے فاروقی صاحب سے بہت کچھ سیکھا۔ لیکن یہ بھی سچائی ہے کہ نارنگ صاحب اس مقام تک اپنی محنت اور لگن سے پہنچے، ورنہ اردو اُن کی مادری زبان نہیں۔ بٹوارے میں بے گھر ہوگئے، دہلی میں شرنارتھی کی حیثیت سے آئے۔بلوچستان کے دُکی ضلع لورالائی میں پیدا ہوئے، دہلی آکر تعلیم مکمل کی اور وہ سب کچھ حاصل کیا جو شاید وطن میں رہ کر نہیں ملتا۔ ان کی تعلیم دہلی یونیورسٹی سے ہوئی اور ملازمت کا آغاز و اختتام بھی دہلی یونیورسٹی سے ہی ہوا، لیکن یونیورسٹی سے باہر اردو اور اردو والوں کے فروغ میں نارنگ صاحب نے اہم کردار ادا کیا، اس لیے کہ وہ جانتے تھے کہ شعبہ میں موجود طلباء تو اردو جانتے ہی ہیں، باہر اردو کو زندہ رکھنا بہت ضروری ہے۔ ہم ۱۹۷۸ء میں شعبۂ اردو میں آئے، اس وقت نارنگ صاحب جامعہ جاچکے تھے اور ڈاکٹر تنویر احمد علوی شعبۂ اردو دہلی یونیورسٹی میں آگئے تھے۔ ۱۹۸۶ء میں نارنگ صاحب کی واپسی دہلی یونیورسٹی میں ہوگئی۔ اب ملاقاتوں کا سلسلہ بڑھ گیا۔ یہ سب جانتے تھے کہ نارنگ صاحب اور قمر رئیس صاحب میں نظریاتی اختلاف ہے۔ دونوں میں معرکہ آرئی رہتی ہے، لیکن اخلاقی اقدار کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے۔ ملتے تھے تو اختلافات کا کسی کو احساس بھی نہیں ہوتا تھا۔ ہم نے بھی اپنے ابّا کی بات گانٹھ باندھ لی تھی کہ دونوں کا احترام کرنا، سو کیا۔ نارنگ صاحب کے رویے سے بھی کبھی یہ ظاہر نہیں ہوا کہ قمر صاحب کی قربت کی وجہ سے انھوں نے ہمیں نظرانداز کیا ہو۔ ۱۹۸۵ء میں دہلی اردو اکیڈمی کے زیر اہتمام پانچ روزہ ورکشاپ آٹھویں دہائی کے افسانہ نگاروں کے فن پر منعقد ہوا، جس میں سلام بن رزّاق، انور قمر، انور خان، شوکت حیات، عبدالصمد، قمر احسن، علی امام نقوی، سید محمد اشرف، کنور سین، شفق، طارق چھتاری، انجم عثمانی، علی باقر، ساجد رشید، مظہر الزماں خاں، مشتاق مومن وغیرہ کے علاوہ میں نے بھیفسانہ پڑھا۔ افسانوں کے تجزیے نامور ناقدین نے کیے۔ ہمارے افسانے کا تجزیہ دیوندر اسّر نے کیا تھا۔ اس ورکشاپ میں سینئر افسانہ نگاروں نے بھی شرکت کی۔ اس کا اہتمام نارنگ صاحب نے کیا تھا۔ اس میں صدارت سینئر افسانہ نگاروں نے کی، افسانے نئے لکھنے والوں کے اور تجزیے بزرگ ناقدین کے تھے۔
نارنگ صاحب سے میری شناسائی کو پچاس سال گزر گئے۔ ۱۹۷۰ء میں جو ان کی تصویر ذہن میں اُترکر آئی تھی وہ آج بھی ہے۔ اس پچاس سال میں میں نے نارنگ صاحب کے دور رہ کر اور پاس آکر بہت سے رنگ دیکھے۔ جو ان کے قریب ہوتا ہے، جس سے وہ محبت کرتے ہیں اس کی مدد کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار رہتے ہیں۔ جو ان کے مخالف گروہ میں ہے اُسے خود کوئی نقصان نہیں پہنچاتے بلکہ یہ احساس دلاتے ہیں کہ اس نے کیا کھویا۔ نارنگ صاحب بھولتے کچھ نہیں ہیں، یادداشت بہت قوی ہے۔ انھیں اپنے اساتذہ کے نام بھی یاد ہیں، رفقائے کار کے بھی اور خاص احباب کے بھی۔ وہ اپنے عزیزوں کو بھی فراموش نہیں کرتے۔ یہ الگ بات ہے کہ عزیزداری کب ختم ہوجائے، پتہ نہیں۔ میں نے اردو میں اتنا باسلیقہ ادیب نہیں دیکھا۔ ادیب کی تو پہچان ہی اس کے لااُبالی پن سے ہوتی ہے، لیکن بعض ساہوکاروں اور مہاجنوں کی طرح بہی کھاتہ رکھتے ہیں۔ نارنگ صاحب کا سلیقہ ہی ہے کہ انھیں ۱۹۷۵ء سے لے کر آج تک کے تمام ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے پروگراموں کی تاریخیں اور گفتگو کے موضوعات تک یاد ہیں۔ ہمیں تو پچھلے چھ مہینے کے بھی یاد نہیں رہتے، بلکہ اسٹوڈیو سے باہر نکل کر یاد نہیں رہتا کہ اندر کیا بات کی تھی۔ نارنگ صاحب کا بڑپن یہ ہے کہ وہ کسی کی دی ہوئی دعوت کو بھی نہیں بھولتے۔ انھیں ابھی تک یاد ہے کہ ۲۲؍جنوری ۱۹۶۳ء کو ہمدرد کے ملازمین نے پروفیسر خواجہ احمد فاروقی کے ساتھ انھیں عصرانہ پر بلایا تھا اور ۲۹؍اکتوبر ۱۹۶۷ء کو امریکہ سے واپسی پر بزم ادب، جامعہ شبینہ دہلی یونیورسٹی نے انھیں استقبالیہ دیا تھا۔ بعض لوگ تو کسی کے دسترخوان پر مستقل قورمہ بریانی کھاکر بھول جاتے ہیں۔ یہی خوبیاں نارنگ صاحب کو ممتاز کرتی ہیں اور دوست دشمن کو محتاط۔
نارنگ صاحب علی سردار جعفری اور خورشید الاسلام کی طرح تقریر بہت اچھی کرتے ہیں اور بہت طویل بھی کرتے ہیں، انھیں سننے کے بعد لوگ کسی اور کو نہیں سنتے یا سننے کے لائق نہیں رہتے۔
۲۰۰۶ء میں جب میں شعبۂ اردو کا پہلی بار صدر بنا تو اکیڈمک کونسل کی میٹنگ میں پروفیسر ایمریٹس کے لیے نارنگ صاحب کا نام منظور ہوا۔ اس وقت پروفیسر دیپک نیّر وائس چانسلر تھے۔ صبح کو میں نے نارنگ صاحب کو فون کیا۔
’’ہیلو! جی! آداب۔ مبارک ہو۔‘‘
ادھر سے نارنگ صاحب کی آواز آئی:
’’بہت بہت شکریہ، یہ کام آپ کی صدارت میں ہونا تھا۔‘‘
منورما بھابھی بھی خوش تھیں۔
اس وقت نارنگ صاحب ساہتیہ اکیڈمی کے صدر تھے۔ انھوں نے مجھ سیکہا کہ ’’کبھی یونیورسٹی سے واپسی پر اِدھر آجایا کیجیے۔‘‘
کئی بار جانا ہوا، شعبہ کے ماضی اور مستقبل کے اندیشوں کے بارے میں بات کرتے۔ شعبۂ اردو کی تعمیر میں انھوں نے فاروقی صاحب کے ساتھ محنت کی تھی، چاہتے تھے کہ شعبہ جس طرح فاروقی صاحب کے زمانے میں برصغیر کا سب سے بڑا شعبہ تھا، پھر وہی مقام حاصل ہوجائے۔
ہم ذاتی یا نظریاتی اختلافات رکھتے ہوں، لیکن یہ سچ ہے کہ پروفیسر گوپی چند نارنگ نے اردو زبان کے لیے اور اردو ادب میں جو کام انجام دیا ہے وہ ناقابل فراموش ہے۔ ساہتیہ اکیڈمی کی صدارت کے عہدے تک کسی اردو والے کا پہنچنا ہی معجزہ ہے۔ ساہتیہ اکیڈمی میں نارنگ صاحب کی وجہ سے ہی اردو کو منفرد مقام حاصل ہے۔ پسند اور ناپسند ہر شخص کی ہوتی ہے۔ ہم بھی اگر اس عہدے پر ہوتے تو اپنی مرضی کے کنوینر بناتے اور اپنے چاہنے والوں کو ایوارڈ سے نوازتے۔ یہ تو انسانی فطرت ہے، اس کی شکایت غیرانسانی ہے۔ نارنگ صاحب کو جاننا ہے تو ان کی انسانی کمزوریوں کو ہٹاکر دیکھیے۔ خالص اردو کے ادیب کے طور پردیکھیے، تب ان کے قد کا اندازہ ہوگا۔ نارنگ صاحب ۱۹۹۵ء میں شعبہ سے سبکدوش ہوئے۔ وہ پروفیسر خواجہ احمد فاروقی کی جگہ پر آئے تھے۔ وہ جگہ پچاس سال بعد بھی آج تک خالی ہے۔ ایک دن میں نے اپنے وائس چانسلر پروفیسر دیپک پینٹل سے کہا کہ ۱۹۹۵ء میں پروفیسر گوپی چند نارنگ کے ریٹائرمنٹ کے بعد جو جگہ خالی ہوئی تھی اسے بھردیجیے، کہنے لگے: کوئی گوپی چند نارنگ جیسا آدمی لائو، بھر جائیگی۔ مجھے لگتا ہے کہ نہ کوئی دوسرا گوپی چند نارنگ آئے گا اور نہ شعبۂ اردو کی پروفیسرشپ کی جگہ پُر ہوگی۔ عزت، شہرت اور انعامات کون نہیں چاہتا، سب چاہتے ہیں۔ وہ جھوٹ بولتے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہمیں کچھ نہیں چاہیے۔ نارنگ صاحب نے سب اپنی محنت سے حاصل کیا ہے۔ اردو والے رشک نہیں، حسد کرتے ہیں۔ محنت نہیں کرتے۔ نارنگ صاحب نے اردو دنیا میں وہ مقام حاصل کرلیا ہے کہ ان سے نظریاتی اختلاف رکھنے والے بھی احترام سے ان کا نام لیتے ہیں اور ان کی دعوت پر انکار نہیں کرپاتے۔ میں نے بھی کبھی ان کے احترام میں کمی نہیں کی اور نہ انھوں نے بزرگانہ محبت اور شفقت میں بخیلی سے کام لیا، جبکہ اردو میں ’’چغل خوروں‘‘ کی کمی نہیں ہے۔
(۵؍مئی ۲۰۲۰ء)
٭٭٭
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


2 comments
ڈاکٹر ابن کنول
معاصر دور میں آپ خاکہ نگاری کے سلطان ہیں
سچائی متانت اور حکمت آپ کے خاکہ نگاری میں بہر پور ہے
ڈاکٹر فرزانہ اعظم لطفی
ایران
یونیورسٹی آف تہران
محترم ڈاکٹر ابن کنول صاحب !
آپ کے قلم میں زور ہے اور روانی بھی ۔۔ آپ کی تحریروں کا فوارہ ، سچ تو یہ کہ ، زور دروں اور جذب بطوں سے بلند ہوتا ہے ۔ ڈاکٹر گوپی چند نارنگ صاحب کا خاکہ بھی آپ نے خوب لکھا ہے ۔ ہدیہ تبریک و حرف تحسین قبول کریں ۔
ڈاکٹر شبیر احمد قادری
چیئرمین شعبہ اردو ، رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی ، ستیانہ روڈ ، فیصل آباد
03006643887
dr.shabbirahmadqadri@yahoo.com