جب معاشرے کی تکالیف،اس کی محرومیاں،مایوسیاں، اداسیاںاو رمجبوریاں افسانے کے کرداروں میں نمودار ہونے لگتی ہیں تو وہ اپنے عصر کی ترجمانی کا دعویٰ کرتاہے۔اس کی ایک تاثیر ہوتی ہے جومعاشرے کی منافقت اور اس کے گھناؤنے پن کو آئینہ دیکھاتی ہے۔جب سوچ کے آبشار پھوٹتے ہیں تو اس کی نمی سے فکر کی شاخوں پر وہ برگ وبار اور کلیاں پھوٹتی ہیں جن کے رس معاشرے میں پھیلی بیماریوں کے لیے تریاق کا کام کرتاہےاور یہ سب کام سہل پسندی سے نہیں جنوں آمیزی سے ہوتاہے اور جنوں آمیزی آتش نمرود کو بھی سرد کردیتی ہے اور جب آتش نمرود سرد ہوتاہے تو جلتی انگیٹھی بھی گلزاربن جاتی ہے۔یہ سوچ جب اردو افسانے کے کینوس پر اپنا جلوہ دیکھاتی ہےتو قاری اس کے دام الفت میں گرفتار ہوتاہے ایسااس لیے کہ خون دل کے خراج سےان فن پاروںکے رخسار پر نکھارآتا ہے۔ان افسانوں میں احساس وجذبات کی تاباں وتوانا دنیا آباد ہوتی ہے۔جہاں تہذیبی، اخلاقی ،معاشی اورمعاشرتی زوال اظہاریت کا لبادہ زیب تن کرکے قاری کے سامنے کھڑے ہوکربے ساختہ کہتاہے ۔ خوش فہمیوں کے جھولے میں خواب نہیں پلتے۔!ایسے افکار کی شناوری کوئی معمولی عمل نہیں ہے اس کے لیے احساسات کی ہر مقناطیسی سوئی کو باعمل ہو نے پڑتاہے نیزحساسیت بام عروض پر کمندیں ڈالنے کی توانائی رکھتی ہو۔
ہرفن پارے کے باطن میں معنی ہوتاہے اس معنی کی تلاش کرنا،اس کو قاری کے سامنے اجاگر کرنا اس کے حسب ونسب کو پراثر طریقے سے پیش کرناصاحب علم وادب کا ادبی فریضہ ہےکیونکہ ہر فن پارے میں واسطہ یا بلواسطہ فن پارے کاخالق ایک خواب دیکھتاہے۔اس خواب کی تعبیر کی اسے تلاش ہوتی ہے۔ جب ایسے سیکڑوں خواب مجسم ہوتے ہیں تو ایک عہد کی تعمیر ہوتی ہے۔اسی لیے ایساکہاجاتا ہے کہ فن پارے میں اس کا عہد جھانکتا دکھائی نہ دے تو پھر وہ کس کام کی چیز؟ رہی بات دل بہلانے کے لیے تو اس کے لیے دنیامیں ہزاروں و سائل میسر ہیں۔
جب تک افسانہ عصری حقائق کی جستجو پر توجہ مرکوز نہیں کرے گا عصری مقبولیت اس کو نہیں ملے گی اور جس فن پارے کو عصری مقبولیت نہیں ملتی وہ حاشیے پر چلاجاتاہے۔افسانے کے کینوس پرجب معنیاتی،نحویاتی اور لفظیاتی جہاتوں کا سنگم ہوتاہے تب اس میں موضوعاتی،جمالیاتی اور لسانی شعاعیں ایک ساتھ ایک نکتے پر مرکوز ہوکر قاری کے دل ودماغ کو منور کرتی ہیں۔ اس ضمن میں نعیم بیگ(لاہور) کا افسانہ” عالمی چیپٹر” سرمایہ داری کی عفریت کو دامن میں سمیٹے ایک ایسے عالمی چیپٹر سے قاری کو روشناس کراتا ہے جس کو پڑھ کر رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔اس افسانے کا مرکزی کردارماہر معاشیات ہےجس کا نکتہ نظرمرکزی مالی استطاعت پر استعماری اعداد و شمار کے نظام سے منحرف ہے۔وہ انسانیت کو فوقیت دیتا ہے جبکہ ثانی الذکر ادارہ کا مقصد دنیا کا نقشہ عددی لحاظ سے مختصر رہے،عالمی دولت میں اضافہ ہو لیکن اس کی محدویت چندہاتھوں تک ہی رہےاور وسائل کی مکمل اجارہ داری رہے۔اس فلسفہ حیات کو سامنے رکھ کر ادارہ فعال ہے۔اور اس کو پروان چڑھانے کے لیے توزی چیائو کو غددارقراردے کر ووہان میں ایکٹویٹ کردیا جاتا ہے۔
۔ "ہمیں بتایا گیا کہ یہ سزا نئی زندگی ہوگی جو ’وائرس ایکٹیویشن‘ سے ہوگی۔غدار خود زندہ رہے گا لیکن موت کے تباہ کن و تیز ترین پھیلنے والے جرثوموں کا کیرئر ہوگا۔ اس کے قریب پھٹکنے والی ہر زندگی موت میں بدل جائے گی ۔ لاکھوں انسانوں میں بیماری پھیلانے کے بعد ایک مخصوص وقت کے بعد خود بھی انھی جرثوموں کے ہاتھوں عبرتناک موت کا شکار ہو جائے گا۔”
افسانے کے مرکزی کردار کا ذہنی کشمکش شباب پر تب آجاتا ہے جب اس کے پاس آپشن آتا ہے کہ غلام بن کر رہواور انسانیت کو مارو۔ایسے میں اس کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہےکہ کون ہے جو عالمی اعداد و شمار کو شفاف بنا کر انسان کے حق میں کردے۔افسانے کاتھیم یہاں اکر سمٹتا ہے کہ فطری آزادی انسانی زندگی کی معراج ہے اور سرخاب احمد خان غلامی کے سنہرے طوق کو گلے سے نوچ کر اتار پھینکتاہے۔المختصر افسانے میں جہاں انسان دوستی کی تبلیغ ہے وہیں اس کا ملال بھی ہے:
’’ ڈارلنگ ! میں دھوکا کھا گیا۔ یہ سب سراب تھا۔ مجھے بتایا گیا تھا کہ ہم انسانی تحفظ کی نئی راہیں استوار کرنا چاہتے ہیں۔لیکن یہاں ’سروائول آف دی فٹسٹ‘ کے معنوں کو بالکل نئی تفہیم دی جا رہی ہے۔ اور اِس کے نتائج کو سرمایہ سے نتھی کرکے انسانیت کو روندا جا رہا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ دولت بڑھ جائے اور اس کا ارتکاز چند لوگوں تک سکڑ جائے ۔ نیو لبرل فلاسفی کا آخری حربہ آزمایا جا رہا ہے۔ جب تک حیات کی گلوبل سطح پر عددی کمی نہ ہوگی۔ ان کے لیے مثبت نتائج سامنے نہیں آئیں گے۔ ‘‘
موناشہزاد(کینڈا) کاافسانہ "انوکھا لاڈلہ کھیلن کو مانگے چاند”تین حصوں پر مشتمل ہے۔تینوں حصے ایک نکتے پر سمٹتے ہیں جہاں یہ تاثر ابھر تا ہے کہ نئی نسل کے لڑکے اپنے خواب کو پورا کرنے کے لیے والدین ،ان کی وراثت اور دوسرے خونی رشتے کو صرف جذباتی وابستگی سمجھتے ہیں۔افسانے سے یہ بھی تاثر ابھرتا ہے کہ بیٹیاں مکان اور گھر کے افتراق کو بیٹوں سے زیادہ سمجھتی ہیں۔افسانے میں بچھڑنے والی روح کے کرب کو بھی محسوس کیا جاسکتا ہے۔جس میں ایک چبھن ہے۔حساس دل ہی اس ٹس کو محسوس کرسکتا ہے۔ افسانہ یہ بھی کہناچاہتا ہے کہ ڈالر بیٹے کا بدل نہیں ہے نیز ماں کی ممتا پیپل کی چھاؤں ہےجس کے نرم نرم سایے میں بچپن لڑکپن کے حدود کو فرلانگتے ہوئے جوانی کی دہلیز پر دستک دے کر ناخلف ہوجاتا ہے۔یہ وہی ماں ہےجو جب تک بیٹا سفر میں رہتا ہے وہ سجدے میں رہتی ہے۔اس کی مقدس نگاہیں بیٹے کے قدموں کے غبار کی واپسی کا منتظر رہتی ہیں۔بہر حال افسانہ قاری کے جمالیاتی حس کو تسکین دیتا ہے ۔افسانے میںجن مسائل کی طرف نشاندہی کی گئی ہے وہ اچھوتا نہیں ہے لیکن انداز پیشکش جداگانہ ہے۔اس افسانے کو پڑھ کرذہن کے سائبان میں اس شعر کی بازگشت سنائی دینے لگتی ہے۔
میری جاں بازی کے منظر موسموں کو یاد ہیں
وہ دیا ہوں جو سدا طوفان کی زد پر جلا
ڈاکٹر ریاض توحیدی (کشمیر)کا افسانہ” داستان شوقین” روایتی موضوع کا ایک دلگداز افسانہ ہے جو اختتام پر رزم گاہ عشق میں الم کی داستان سناتا ہے۔افسانے میں منظر کشی اپنے شباب پر ہے۔افسانہ پڑھ کر ایسا لگ رہا ہے جیسے میں خود کشمیر یونیورسٹی کے باہر ڈل جھیل کے کنارے کھڑے ہوکرسارے مناظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔افسانہ کیا ہے دو اسکالروں کی پریم کہانی جو پریم رس سے شرابورہےجس کا اختتام المیاتی ہے۔کہانی بس اتنی سی ہے کہ شوقین اور شائستہ ایک ہی نگراں کے ماتحت کشمیریونیورسٹی میں ریسرچ کررہے ہیں۔دونوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے محبت کے کنول کھلتے ہیں ۔خیالات و جذبات کے امانت دار بنتے ہیں۔جب زندگی گلستا ن بننے لگتی ہےتو مغل باغات کی سیر کا مزہ بدل جاتا ہےاور چشمئہ شاہی کا نظارہ فردوس نگاہ لگنے لگتا ہے۔ایسے نظارے جب شباب پر پہنچتے ہیں تو اس کا نکتہ راس یہ ہوتاہے۔
"ہم دونوں اکثر چشمہ شاہی کے فردوس نگاہ سبززار،گنگناتے ابشار اور رنگ برنگ کے گلزاروں کے دل اویز نظاروں میں پہروں کھوجاتے اور بے کنار اسمان کے نیلے عالم کو تکتے رہتے ۔خاموش فضا میں کبھی کبھی ملائم ہوائیں پیڑوں کی شاخوں سے ٹکراتیں اور ان پر بیٹھے پرندوں کی سریلی اوازیں ہماری سماعتوں کو قیدی بنا کر بانسری کی میٹھی اواز کی حریف بن جاتیں۔ ”
اس اقتباس کو پڑھ کر کرشن چندر کا افسانہ” پورے چاند کی رات”کی یاد دردل پر دستک دیتی ہے اور جمالیاتی حس ایک ان کہی لذت محسوس کرتی ہے۔افسانے کے اختتام پرشائستہ اپنے نگراں کے ایم بی بی ایس بیٹے کے ساتھ گھروالوں کی مرضی سے انگیز ہوجاتی ہےاور رو رو کرکہتی ہے۔
"زون کا یوسف سے جدا ہونے کا وقت اگیا ہے۔میں تم سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بچھڑ گئی۔”
اس جملے سے قاری کے دل پر بھی دھک سے لگتا ہےاور قاری کو ایسا محسوس ہوتا ہےکہ ڈل جھیل میں تیرتے تیرتے محبت کا ایک شکارا یک بہ یک غرق آب ہوگیا۔پھر موسم بہار اںمیں خزاں کا ماتم ہونے لگتا ہے۔جھیل سی آنکھوں کے کنول کمہلاجاتے ہیں۔تب افسانے کا راوی کہتا ہے۔
"وقت کتنا بے رحم ہے کہ گلابی چہروں کے حسن کو جھریوں کے زہریلے کانٹوں سے ریزہ ریزہ کرتا رہتا ہے۔وہ اگر حسن پرست ہوتا تو حسین شئے کو ہمیشہ حسین ہی رکھتا۔”
یقیناً یہ شکوہ کچھ بجاسا لگتا ہے۔افسانے کے کرداروں میں اپنے کلچر کی تحفظ کا احساس جاگزیں ہے۔ اس میں تذبذب ہے۔میرے خیال سے اختتام اگر شعرکی بجائے ایک پنچ لائن سے ہوتا تو بہتر ہوتا۔زبان کی روانی کیا کہنے بس لگتا ہے جیسے ڈل جھیل کی نرم نرم کومل وملائم لہریں سبک رفتاری سےآگے بڑھتی جارہی ہیں۔افسانے کی فضا میں ایک سمفینی ہے۔آغاز میں ایک جگہ افسانے میں بین المتونی کا عنصرکا شائبہ بھی ہےلیکن دوہنسوں کے جوڑے کو بچھڑ جانے کا احساس قاری کو شدت سے ستاتا ہے۔افسانہ” کھیپ(شاہین جمال ،سوئزرلینڈ)” میں دوکردار سامنےآتے ہیں۔سالار اوراحیا۔افسانے کی نسائی کردار احیا سے سالارکی قربت بڑھتی ہے۔سالار احیا کی محبت میں خود کو بھول جاتا ہے۔ وہ اس کی محبت کو اوڑھ لیتا ہے۔اس کی دھڑکنوں کو اپنی دھڑکن میں مدغم کرلیتاہے۔سالارجس فارماسیوٹیکل کمپنی میں ملازم ہے وہ کمپنی قصبے کے مضافات میں ایک تحقیقی مرکز قائم کرنا چاہتی ہےتاکہ اس قصبے کی بنجر زمین اس قابل ہوجائے کہ اس میں ایک مخصوص فصل کی کھیتی کی جائے۔ کمپنی سالار کو وہاں بھیجتی ہے۔وہاں کے لوگوں کی زندگی بس ایک روبوٹ کی طرح ہے۔سالار سے ان کا رشتہ ناطہ صرف صبح و شام کے صاحب وسلام سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔غالباًاسی کو افسانے میں معدوم شدہ قدیم انسانی خصوصیات کہاگیاہے جس کو تبدیل کرنےکی کوشش ہورہی ہےاور مٹی کو زرخیز کیاجارہا ہے۔افسانے کا اختتا م اس کو سائنسی فکشن کی قطار میں کھڑا کرنے کی کوشش ہے ۔ نئی کلون کھیپ میں معدوم شدہ قدیم انسانی خصوصیات کا پایا جانا اور پھر اگلی کھیپ تیار کرنے سے پہلے ڈی۔این ۔اے پر تحقیق کی ضرورت یہ اشارہ کرتی ہے کہ معدوم شدہ انسانی خصوصیات کی پیش قدمی کو روکنے کے لیےآپریشن کلین اپ ضروری ہے۔یہ آپریشن ڈی۔این۔اے پرکرنے کا منصوبہ ہے۔ڈی۔این۔اے وراثت Heredity) )کی اکائی ہےجس کی تشکیل چارقسم کے بیس Adenin, Guanin, Cytocin, Thiamin or Urecilسے ہوتی ہے۔اس کے علاوہ اس میں فاسفورس بھی ہوتا ہے۔ایک جاندار کے تمام اوصاف اس میں موجود ہوتے ہیں جو موافق حالات میں Decodہوکراوصاف ظاہر کرتے ہیں۔اس افسانے کا اشارہ اس جانب ہے کہ قصبے میں بسنے والے لوگوں کی خصوصیت کو بیرونی وائرس سے بدلنا ہوگایہ بیرونی وائرس سالار کے نظریات کی طرف اشارہ ہوسکتا ہے۔ افسانے کی کلید آخری اقتباس ہے جس سے افسانہ کھلتاہے۔یعنی موصوفہ افسانے کو سائنس کی کلید سے کھول کر اس کو سائنسی فکشن کے قریب کردیا ہے۔فرحین جمال (بیلجیم )کاافسانہ” میری دلاری” نصیحت کا ایک پٹارہ ہے جس کی ضرورت ہماری زندگی کو بھی ہے۔افسانے کا مرکزی کردا راپنی ماںکی نصیحت سنتے سنتے یہ بھول جاتا ہے کہ لڑکپن کے سندر سپنے کیا ہوتے ہیں۔بیٹی کو حرافہ بننے سے روکنے کے لیے اور ایک مہذب زندگی جینے کے لیے کن کن باتوں پر دھیان رکھنا پڑتا ہے، اس کی تاکیدماں روزانہ کرتی ہےلیکن خورشیدسے شادی کے بعدجب وہ دوبچیوں کی ماں بن جاتی ہے تو زندگی کے سائبان میں خورشید کی تمازت اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ ایک دن طلاق کا طوق پہن کرنفسیاتی اذیت پہنچانے والے شوہر کے گھرسے نکلناپڑتا ہے۔اس دوران زندگی کے رن میں ماں کی پوٹلی سے ایک بھی گرکام نہیں آیا۔افسانے کا آخری جملہ پڑھ کر ایسا لگا جیسے افسانہ نسائیت کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ مرداساس معاشرے میں زندگی جینے کا ہنرنبردآزمائی میں ہے۔افسانے میںخورشید کی زیادتی کابھی ذکر ہوتا تو سکـے کے دوسرے رخ سے بھی قاری واقف ہوتا۔افسانے کی زبان رواں دواں اور پرتاثر ہے۔” نیلو،ایفر وتی اور ایک خواب "(معظم شاہ پاکستان) ایک نفسیاتی افسانہ ہے۔بابا گیری کے نام پر خواتین کا جو استحصال ہوتا ہے اس پس منظر میں افسانے کا تانہ بانہ بناگیاہے جس میں ہر کردار باعمل ہے۔اس افسانے میں قاری تک یہ پیغام دینے کی کوشش ہوئی ہے کہ انسان کی شرشت میں خباثت چھپی ہوتی ہے لیکن ایمانی جذبہ جب تک اس پر غالب رہتا ہے شیطانی نفسیات قابو میں رہتی ہے۔جیسے ہی یہ بے لگام ہوتا ہے،دورکھڑے ہوکر شیطان اپنی کامیابی پر قہقہے پر قہقہے لگاتا ہے ۔افسانے سے یہ بھی انکشاف ہوتا ہے کہ محبت جب فحاشہ بن جاتی ہے تو اس کی شکل کیسی شرمناک ہوجاتی ہے۔افسانہ میں ذات کا نفسیاتی کرب اپنے عروج پرہے۔زبان کی روانی خوب ہے۔قاری جس جذبے کے بہاؤ میں بہتا ہےوہ اختتام سے کچھ قبل اس جملے سے ٹھٹھک جاتا ہے۔
۔”حضرت صاحب میں نے پانی گرم کردیا ہے،وضوکرلیں۔”
سبین علی کا افسانہ "سرنگ کے راستے”جدیداسلوب میں لکھا گیاہے۔افسانے میں تذبذب کی کیفیت ہے۔سرنگ زندگی کی علامت ہے۔جس میں راوی کوکبھی وقت کا پہیہ رک جانے کا خوف ستاتاہے تو کبھی ماضی کی تاریکی میں گم ہوجانےکے ساتھ ساتھ مستقبل کو پیچھے چھوٹ جانےکا تذبذب ہے ۔راوی کو خوداپنے وجودکی شناخت نہیں مل رہی ہے کہ وہ کون ہےاور کس عہد میں زندہ ہے۔اس کوزندگی کے سفر میں ایسا کوئی موڑ نہیں آیا کے اس سے باہر نکلے۔یہاں راوی عورت ہے جو اپنی مظلومیت کو یوں پیش کرتی ہے:
۔”اختیار اور بے اختیاری کی کشمکش ایسی ہے جیسے تنگ راہگزر میں کھائی کے ساتھ چلتا مسافر یا ایک تنے رسے پر چلتا مداری جو منزل تک پہنچ جائے گا یا کہیں بیچ راہ محض ورق گم گشتہ بن جائے گا.”
یہ وہ عورت ہے جس کاوجود تپتی مٹی کے زروں سے بناہے جس میں کیکرکے پھولوں کی مہک ہےاور قدم گردآلودہیں اور چہرہ غیر واضح ہے۔ایسااس لیے کہ یہ اپنا سب کچھ بے اختیاری میں تیاگ دی ہے۔زندگی کے طلاطم خیزلمحوں کے بعد دوردیس سےآئے سواری اسے راج سنگھاسن پر بٹھا کراس کی ذات پرپریم رنگ ایسے چڑھاتا ہے کہ وہ چاہ کر بھی اپناکورا رنگ واپس نہیں لاسکتی ہےکیونکہ سفید کپاس پھول کے ریشوں پر کوئی بھی رنگ ہو چوکھا چڑھ جاتا ہے۔افسانے میں جہاں عورت کی مظلومیت کا کرب ہے وہیں حسین زادیوں کے بے قیمت حسن کا رونا بھی رویا گیا ہےجو پارکنگ کی ٹکٹ کاٹتے بسوں میں دھکے کھاتے ،ریسیپشنسٹ کے کائونٹر پر گھنٹوں کھڑی رہتی ہیں۔ان حسین زادیوں کودیکھ کر افسانے کے کینوس پر سوال کا یہ سکہ اچھالا جاتا ہے۔
. کیا حسن اتنا ارزاں ہوتا ہے یا چند سکے اتنے گراں مایہ؟ ”
اس کے علاوہ افسانے میں تعلیم یافتہ لڑکیوں کی بے بسی اورمرداساس معاشرے میں ان کی گم ہوتی شخصیت پر بھی چوٹ کی گئی ہے۔افسانے کا اختتام یہ اشارہ کرتا ہے کہ ایک عورت کی زندگی سانپ کی مانندگھوم کر زندگی کی اسی سرنگ میں دوبارہ داخل ہوجاتی ہے جہاں مرداساس معاشرے میںوہ کولہو کابیل ہےجس کی اپنی شناخت اورقدر وقیمت گم ہے۔ ریحان کوثر کاافسانہ” ریختہ”جدید اسلوب ونیم علامتی پیرائے میں لکھا گیا ہے جس کا بے نام کردارجدید افسانے کے کرداروں کی طرح الجھن کا شکار ہے۔افسانے میں تذبذب ہے۔ایک قتل کی پرسراریت پر سے پردہ اٹھانے کے لیے پلاٹ کے تانے بانے کو اس طرح بناگیا ہے جیسے ہم کوئی جاسوسی ناول کا باب پڑھ رہے ہوں۔افسانے میں ٹرین کا کمپارٹمنٹ دراصل ہمارا وہ سماج یا معاشرہ ہے جس میں ہم زندگی کی ایک ایک سانس لے رہے ہیں۔جہاں جسم میں سر نہیں بلکہ دونوں طرف پیر ہی پیر ہیں۔کھڑکیاں کھلی ہیں لیکن پردے حائل ہیں۔منہ پر کالابینڈس ہے۔امن کمیٹی کی سربراہی مذہبی پیشواکررہے ہیں۔افسانے میں عالمی سطح پر ایک مخصوص قوم کی زبوں حالی کا فلیش بیک مقتول کے نوٹ بک کے سہارے پیش کیا گیا ہے۔افسانے کے کینوس پرڈرائیور کی پرسراریت آخر آخر تک سمجھ میں نہیں آئی۔سریا،روہنگیا،فلسطین میں مسلمانوں کی گم ہوتی شناخت کے المیے کو افسانے میں بڑی ہنر مندی سے پیش کیاگیا ہے۔ پریاگ راج،مرلی،بنسل کے علاوہ امام صاحب اور ڈرائیوراس افسانے کے متحرک کردار ہیں لیکن افسانے کا محور جس کردار کے گردوپیش گھوم رہا ہے وہ بے نام ہے۔جدید افسانے میں بے نام کرداروں کی اہمیت بہت زیادہ تھی۔افسانےمیں قتل کی پرسراریت سے اختتام تک پردہ نہیں اٹھتاہے۔یعنی اس گھتی کو سلجھانے کی ذمہ داری قاری کے سر رکھی گئی ہے۔افسانہ کچھ طویل ضرور ہوگیا ہے۔خصوصاًابتدائی حصے میں اتنے مکالمے بازی ہوئے ہیں کہ ذہن بوجھل ہوجاتا ہے۔مکرم نیاز کا افسانہ” سوکھی باؤلی "سادہ بیانیہ اسلوب میں ایک سبق آموز افسانہ ہے۔افسانے کا مرکزی خیال گھر کے بزرگوں کی ناقدری کا شکوہ ہے۔عصر حاضر میں یہ گھر گھر کا قصہ ہے کہ بوڑھے والدین گھرکا اچھوت بن گئے ہیں۔جن کی خوشحالی کے لیے ان بزرگوں نے سنہری خواب دیکھے، رات کی نیدحرام کی،زندگی کی دھوپ کی تمازت برداشت اورخودبھوکے رہ کر اپنی اولادوں کے منہ میں نوالہ ڈالا،لیکن افسوس جب ان پر ضعیفی طاری ہوئی تو ان کو اولڈ ہوم بھیج کر یا اپنے ہی مکان کے گوڈام میں ان کے لیے کمرے بناکر ان کو زندگی گھیسٹنے پر مجبورکردیتے ہیں۔اس افسانے کے کینوس پریہ کرب جاگزیں ہے۔
"اس دنیا میں لوگ عمارت دیکھتے ہیں، مکان کی منزلیں گنتے ہیں، لیکن کوئی سنگ بنیاد کے بارے میں دریافت نہیں کرتا۔ دادی جان بھی محض بنیاد کا پتھر تھیں۔ لوگ سمجھتے ہیں بڑھاپا آدمی کو تمام جذبات، احساسات اور ضروریات سے بیگانہ کر دیتا ہے اس لئے ہمارے معاشرے میں بوڑھے لوگوں کو "دادی جان” جیسا کوئی معزز خطاب عطا کر کے گھر کے کسی کونے میں شو پیس کی مانند بٹھا دیا جاتا ہے۔”
افسانے کا مرکزی کردار دادی جان ہیں۔جوایک بالٹی پانی کے لیے ترس رہی ہیں۔یہ وہی دادی جان ہیں جنہوں نے کبھی ایک پرسکون جگہ پر حویلی تعمیر کرکے اس میں ایک بائولی بنوائی تھیںلیکن ان دنوں ان کے لہومیں بھی گرمی تھی۔اس لیے انہوں نے بھی ایک مزدور کو اس بائولی سے پانی لینے پر یہ کہہ کر اعتراض کیا تھا۔
۔”ا ےدور ہٹو! یہ تمہارے باپ کی باؤلی نہیں ہے۔ پانی پینا ہے تو باہر جا کر کسی دوسری باؤلی کا پانی پیو۔ خبردار اس پانی کو جو اپنے غلیظ ہاتھوں سے ناپاک کیا۔ چلو نکلو یہاں سے۔”
دادی کے اس کلمے میں تھوڑا سا غرورکا شائبہ ہےجو اللہ کو پسند نہیں۔بڑے بزرگ کہتے ہیں کہ آپ دنیا میں جیسا کیجئے گاٹھیک وہ اسی شکل میں ایک دن آپ کے سامنےآئے گا۔لہذا دادی جان کو بھی یہ دن دیکھنا پڑا کہ ان کو بہوؤں نے اپنے حمام میں داخل ہونے سے روک دیا۔افسانہ خودغرضی پر بھی روشنی ڈالتاہے۔یہ بھی سبق پڑھارہا ہے کہ بدیانتی ناانصافی کے بطن سے پنپتی ہے۔یہ نکتہ بھی قاری کے ذہن میں ڈالتا ہے کہ ہم اپنی ضرورت کی تکمیل تو کرلیتے ہیں لیکن جن کی ضروریات کی تکمیل ہمارے ذمہ ہوتی ہے اس سےآنکھیں چراتے ہیں۔افسانے میں دادی جان کی خوداریت کی شعاعیں بھی قاری کی نگاہوں تک آتی ہیں۔اس کردار کے معرفت افسانہ نگار یہ بات گوش گذار کرناچا ہتاہےکہ انسانیت کے تقاضے کا لحاظ اور اس کی تعمیل ہی انسان کو حقیقی معنوں میں عزت دار بناتی ہے۔افسانے میں دادی کے کردار کے حوالے سے ہمارےگھر کے بزرگوں کے اس کرب کو اجاگر کیا جارہا ہے:
"اپنی آن کی خاطر جان جا رہی ہو تو کوئی اپنا قاتل آپ نہیں بنتا بلکہ بخوشی آن کو ٹھوکر مار دیتا ہے لیکن اپنی آن کی خاطر دوسروں کی جان جا رہی ہو تو شوق سے جائے۔ ایسے معاملے میں اپنی آن پر آنچ آنے دینا کوئی گوارا نہیں کرتا۔ رسم و رواج ، روایات اور قدریں کیا گردش زمانہ کا شکار ہو گئیں؟ زمین بدل گئی کہ آسمان بدل گیا؟ خون بے وفا ہوا ہے یا جذبات فنا ہو گئے؟ کسے پتا کون بتائے؟””
افسانے کی پینچ لائین قاری کویہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ کہیں ہم بھی تو اپنے گھر کی بوڑھی آنکھوں کے دو انمول قطروں کو جذبے کرنے والی بنجر زمین تو نہیں بن گئے ہیں۔اس طرح یہ افسانہ عصریت کو دامن میں سمیٹ کر موضوعاتی اعتبار سے عصری ترجمان ہونے کادعوی کرتا ہے۔افسانہ” تم "احسان قاسمی کا ایک مونو لاگ افسانہ ہے۔جس کی زبان وبیان پر مقامیت کے اثرات آئے ہیں۔گرچہ افسانہ رومانی ہےلیکن اس کے دامن میں پونجی وادی،سیاسی،مذہبی،اور فرقہ واریت اورکروناسے نبردازمازندگی میں سرمایہ داروں کے داس بننے پرکف افسوس ملاجارہا ہےجہاں انسان کی کوئی وقعت نہیں ہے۔ایسے میں راوی کو کارل مارکس کا دس کیپیٹل کی تھیوری بے کارلگ رہی ہے۔افسانے میں جاری سسٹم کے خلاف ایک عدم اعتماد کا اظہارہوا ہے جہاں حقدار کو ان کا حق نہیں مل رہاہےنیزپرتبھاکا سمان ان کو نہیں مل رہاہے۔شاکر انور کاافسانہ ایک "دوپہر” انسانی شک کی جبلت بہت نقصان دہ ہوتی ہے کے محور پر گھوم رہا ہے۔کرشن چندرکا افسا نہ پورے چاندرات "میں اسی جبلت کی وجہ سے محبت کاتاج محل کھنڈر میں تبدیل ہوجاتاہےجبکہ وہاں رشتے بہت پاکیزہ تھے۔اس افسانے میں بھی ایسی ہی کچھ کیفیت ہےجہاں دودوست علی اور زین کی کہانی قلم بندہوئی ہے۔کہانی بس اتنی سی ہے کہ بازار جانے کے دوران علی کی بیوی شگفتہ کے ماتھے میں مائگرین کا درد اٹھتا ہے۔وہ سرپکڑ کر راستے میں علی کے دوست زین کے گھرچلی جاتی ہے۔ زین کی بیوی کے ذہن میں شک کی ناگن پھنکارنے لگتی ہے۔ادھر ایک رات شگفتہ پیار کے نشے میں علی کی بانہوں میں لیٹے لیٹے اس زرددوپہر کی روداد سناتی ہے۔اس کے بعدعلی کے اندر کا جن باہرآتاہےاور اس پر بدچلنی کا الزام لگا کراسے طلاق دے کرسعودیہ سے کینڈا چلاجاتاہے جہاں میرین اسے اس کے غلط رشتے ہموار ہوجاتے ہیں۔باپ جب بدچلنی کے ڈگر پرقدم رکھتا ہے تو بات یہاں تک پہنچ جاتی ہے۔:
۔”جب باپ کے قدم ڈگمگا جائیں تو بچوں کو کون روک سکتا ہے۔ بیٹا‘ بیٹی دونوں ڈیٹس (Dates) پر جانے لگے ۔ ایک رات علی جب گھر آے تو ان کے قدم ڈگمگا رہے تھے ۔ وہ سیدھا بستر پر جا کر لیٹ گئے ۔ میں بھی بے نیند سونے کی کوشش کرنے لگی کہ اچانک دوسرے کمرے میں کھٹکا سا ہوا‘ دل کسی چمگادڑ کی طرح اندھیرے میں پھڑپھڑایا ۔ سونی کے کمرے سے ایک سایہ باہر نکل رہاتھا۔ میں نے علی کو جگانے کی کوشش کی اس کے جسم کو چھوا‘ پھر ٹٹولا ہر کونے کو…. میرے ہاتھ خالی کے خالی رہے ۔اس کے جسم پر کسی دوسری عورت کی بہت ساری نشانیاں تھیں ۔شاید میرینا کے‘ جو بعد میں اس کی داشتہ بن کر رہی۔ اس کے بعد سے میں اس سے بہت دور ‘بہت دور ہوتی چلی گئی۔ ”
حالانکہ شگفتہ اور زین کے بچپن کی دوستی میں عزت واحترام کی خوشبو تھی۔شگفتہ کو بھی اس کا احساس تھا کہ زین کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جواکیلے کمرے کی تنہائی میں سوئی ہوئی عورت کی حفاظت کرتے ہیں لیکن روح کی اس پاکیزگی کا احساس نہ علی کو تھااور نہ ہی زین کی بیوی کو۔نتیجہ یہ ہوا کہ علی کو شراب اور شو گرنے ماردیااور اپنے سارے خواب کے ساتھ ساتھ اپنے گھر والوں کی خوشیوں کو لے کرمرگیا۔ علی کو موت کے دروازے تک لانے میں شگفتہ کی بدعائیں بھی ساتھ ساتھ رہیں۔کیونکہ شراب کے نشے میں اس کی ہوس کو ہررات پوراکرنا اس کے لیے پہاڑ جیسے گناہ کے بوجھ تلے ہر رات مرنے کے مترادف تھا۔اس لیے علی کی موت کی دعاکرنے لگی لیکن اس کاقلق شگفتہ کو ہے۔
” کسی بھی عورت نے اپنے شوہر کی موت کے لیے دعا نہیں مانگی ہوگی۔ میں و ہ بد قسمت ہوں۔”
افسانہ یہ بھی تاثر دیتا ہے کہ ظاہر ہمیشہ انسان کو دھوکے میں رکھتا ہے۔اندر جھانکو گے تو صرف کھوکھلاپن ملے گا۔افسانے سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ وطن کی مٹی کبھی نہ کبھی بلاتی ہے۔افسانے کا سب سے بڑاپیغام یہ ہے کہ اذدواجی زندگی میں بہت سنبھل کر رہنا چاہے۔اس زندگی میں شک کی گنجائش نہیں ہونی چاہےکیونکہ زندگی کا یہ سفر بہت نازک ہوتاہے۔یعنی لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام۔!
شہریار قاضی کاافسانہ” مٹی کی چڑیاں”مرداساس معاشرے میں نسائی استحصال ،ان کی بے بسی،ان کی محرومیت کی ایک گاتھاہے جس میں رانوجب بیاہ کر اپنے سسرال آئی ہے جہاں اس کاشوہر شرفوصبح ا ٹھ کر کبوتروں کو کھڈے سے نکالتا،دانہ ڈالتا اور اُنھیں آسمان کی طرف اُڑا دیتااور پھر دن بھر آسمان کو تکتا رہتا ہے۔ایک ہفتہ گذرجانے کے بعدایک دن اس نے رنگ اورربر لاکر اپنی بیوی کودیا۔رانومتعجب ہوکر اس کے بابت پوچھتی ہے۔تب وہ کہتا ہے۔
”ہاں تمہاری اماں نے، ابا کو بتایا تھا کہ تم مٹی کی چڑیاں بناتی ہو،جنہیں رنگ کر کے اور خوبصورت کر دیتی ہو۔“
رانوجواب دیتی ہے بات تو صحیح ہے لیکن اس کو بیچنے میری اماں جاتی تھی۔شرفوبڑی بے حیائی سے تحکمانہ انداز میں اس سے کہتاہے۔
”نہیں گئی تو اب چلی جانا، چڑیاں ہی بیچنی ہیں نا کونسا ڈنگروں کا وپار کرنے بھیج رہاتجھے، اب اُٹھ جا۔۔جا کے مٹی کا ا ینتجام کر“۔
بے بسی کے عالم میںرانوچڑیابناتی ہےاورٹوکری میں رکھ کر بیچنے نکل جاتی ہے۔یہاں پر ایسالگتا ہے جیسے رانوشرفوکی بیوی نہیں اس کا غلام ہے۔یہاں کمزورطبقے میں نسائیت کی بے بسی کی تصویر صاف صاف دیکھی جاسکتی ہے۔جب آمدنی کم ہوتی ہے توشرفو رانو کوچڑیاں فروخت کرنے کے گربتاتا ہےلیکن بیوی کی کمائی کھانے والے اس نکمے کے پاس اتناظرف نہیں ہے کہ وہ خود جاکرچڑیاں فروخت کرے۔رانواس کے مشورے سے گھرگھر کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہے۔اب سماج کے ہاتھوں اس نسائیت کا استحصال کیسے ہوتا ہے۔اس کی منظر کشی شہریار یوں کرتے ہیں:
۔”ایک گھر کا دروازہ تھوڑا سا کُھلاتھا جسے رانو نے اور کھول دیا اور بولنے لگی؛”اے باجی چڑیاں لے لو چڑیاں،بچوں کے لیے رنگ برنگی چڑیاں۔“
کوئی جواب نہ آیا تووہ گھر کے اندر چلی گئی۔اِتنی دیر میں بنیان پہنے آدمی کمرے سے باہر نکلا؛”ہاں کیاہے؟“ اُس نے رانو کے بہت قریب آکر کہا۔
”وہ چڑیاں۔۔۔۔“پسینہ اُس کی کنپٹی سے بہتا ہوا سانولی گردن پر بہنے لگا۔وہ جلدی سے دوپٹہ سنبھالتی دروازے کی طرف پلٹی تو آدمی نے اُس کا بازو پکڑ کر اپنی طرف کھینچا جس سے ٹوکری نیچے جا گری اور کئی ساری چڑیوں پر آٹا کفن کی مانند پھیل گیا۔”
نسائیت کی مظلومیت کا اس سے کریہہ منظر اور کیا ہوگاجہاں فرش پر بکھری مٹی کی چڑیوں کے درمیان رانوبھی مانند چڑیاں نوحہ کناں ہے۔ایسے میں اگر رانوں کے ذہن میں یہ سوال کوندتا ہے تو بے جانہیں ہے۔
۔”کیا اُنھیں اِس لیے بنایا جاتا ہے؟”
یقیناًیہ افسانہ بے حس معاشرے میں عورتوں کی سماجی اور جنسی استحصال کو پیش کرتا ہے جس کے زبان وبیان میں صفائی وستھرائی ہے۔ اس کے کینوس پرمقامیت کا رنگ ہے لیکن شاداں اور رانو کے اندر مزاحمت کا مادہ نہیں ہے کہ وہ اپنے استحصال کی پرزورمخالفت کریں بلکہ حالات کے سامنے ایک طرح سے خودسپردگی ہےجیسے دونوں یہ مان کرچل رہی ہیں کہ مردوں کی محکومیت ان کا مقدر ہے،جس کے باعث یہ دونوں کردار تانیثی کرداربن کرابھرنے سے قاصر رہ گئے ہیں۔افسانہ بڑی خاموشی کے ساتھ قاری سے یہ اپیل کرتا ہے کہ جیون چکر میں خواتین کے ساتھ یہ قصے کب تک دوہرائے جاتے رہیں گے۔؟تنویر احمد تماپوری کا افسانہ” وکاس”سادہ بیانیہ اسلوب میں لکھا گیا ایک ایسا افسانہ ہے جس میں منظر کشی خوب ہے۔ایسا لگتا ہے جیسے تمام مناظر آنکھوں کے سامنے آرہے اور جارہے ہیں۔افسانہ عصری مسائل پر خاموشی سے بہت کچھ کہہ جاتا ہے۔افسانے میں غربت کی لکیر مٹانے کے لیے جرائم پیشے کو اپنانا ایک طرح سے انسان کی تنزلی کی طرف جانے کا اشاریہ ہے۔ا بتدا میں گوپال کی غربت کے پیش نظرہمدردی کی لہر اٹھی ہے لیکن اختتام پر نفرت تو نہیں بلکہ اس کی بے بسی پر رونا آیا ہے کہ اپنے اور اپنے گھر والوں کے لیے اس سادہ لوح انسان نے بھی عصر کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتا ہے جوخودغرض انسان کی اس جبلت کو اجاگر کرتا ہے کہ روٹی اور کوٹھی کے لیے سب کچھ جائزہے ۔لہذاافسانے کا مرکزی کردار آج بھی گورکن ہے فرق یہ ہے کہ کل تک میت کے لیے قبریں کھودتارہا، اب انسانیت کی قبریں کھود رہا ہے۔نشاط یاسمین خاں کا افسانہ” رامین اور وہ "اسلوب کے اعتبار سے سادہ بیانیہ ہے۔افسانے میں نسائیت کاجنسی استحصال موضوع بحث ہے۔بہرام صاحب کی بدکرداری کا بدلہ انہیں کی ہاتھوں کی ستائی ہوئی عورت کی روح لیتی ہے جو بہرام صاحب کی ذیادتی کاشکارہوکر خودکشی کرلی تھی لیکن افسانے کےاختتام سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ ایک ناری کی روح ناری کی عصمت کو بچانے کے لیے آرٹ گیلری میں شراب پھینک کر آگ لگادیتی ہےاور سب کچھ جل کربھسم ہوجاتاہےکیونکہ اس آرٹ گیلری کے مالک بہرام صاحب کے یہ کالے کرتوت تھے:
۔”عورتوں کی برہنہ تصویریں بنا کروہ عیاش امیروں کو بیچتے تھے اور انہوں نے یہ گیلری بھی اسی پیسے سے بنائی تھی۔”
افسانے کے کینوس پراس کی اس فطرت کاشکاررامین بھی ہوتی ہے۔اسے جب نیم بے ہوشی کے عالم میں اپنی بے لباسی کا احساس ہوتا ہےتو اسے یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ سامنے ایزل پر اس کی برہنہ تصویر تھی اور قریبی کاؤچ پر بہرام صاحب آڑے ترچھے پڑے تھے۔ تپائی پر شراب کی بوتل اور آدھا بھرا گلاس رکھا تھا۔سگریٹ کے ٹکروں سے ایش ٹرے بھری ہوئی تھی۔ کمرے میں سگریٹ اور شراب کی بو پھیلی ہوئی تھی اور شرافت کے چولے میں بے غیرت بہرام شراب کے نشے میں اپنی کامیابی کا جشن منارہا تھاکہ اچانک ایک عورت کا ہیولہ سامنے آتاہےاور تپائی سے شراب کا گلاس اٹھاکر برہنہ تصویرپر پھینک کر پورٹریٹ کو آگ لگا دیتاہےتاکہ رامین کے ساتھ اس کی کہانی دوہرائی نہ جائے۔اس افسانے کو پڑھ کر ایسا لگاجیسے کوئی من گھڑت کہانی ہے۔اگرافسانے میں ایزل کو نذراتش رامین کرتی تو افسانہ مزید جاندار ہوجاتا۔اس سے تو یہی ظاہر ہورہا ہے کہ عورت اتنی کمزور ہے کہ مردوں کی حیوانیت سے ان کی حفاظت روحیں کررہیں ہیں۔افسانہ یہ بتانے کی کوشش کررہا ہے کہ عورتوں کا جنسی استحصال ہمارے سماج میں شرافت کا چولاپہن کرشرفا کررہے ہیں۔افسانے کی تکنیک میں ڈرامائیت زیادہ لگی۔کردار متحرک نظر ائےاور سسپینس بنارہا۔عشرت ظہیرکاافسانہ” درپردہ "یہ بتانے کی کوشش کررہا ہے کہ جب بچے والدین کی حقیقی محبت و شفقت سے محروم ہوجاتے ہیں تب وہ نفسیاتی بیماری کا شکار ہوتے ہیں۔ جب یہ بیماری اپنا بال وپرکھولنے لگتی ہے تو اس کے بطن سے نفسیاتی بیماریاں لاحق ہوتی ہیں اور جیسے جیسے عمر بڑھتی ہے مریض دماغی خلل ،ڈیپریشن کا شکار ہونے لگتا ہے اور جسمانی کمزوری دن بہ دن بڑھتی جاتی ہےجس سے بدن کی مزاحمتی قوت کم ہونے لگتی ہے۔ایسے میں وبائی مرض کا حملہ ہوتا ہے اور مریض آئی سی یو میں چلاجاتا ہے۔افسانے کا دوسرا پہلو یہ کہ دو محبت کرنے والے کی لاپرواہی کا خمیازہ ان کی اولاد کو بھوگنا پڑتا ہے۔
۔”بسااوقات انسان اپنی زندگی میں رونما ہونے والے غیرارادی اور غیرمتوقع واقعے کو کوئی معنی نہیں دے پاتا لیکن ایسے لمحے، دیر تک اور دور تک اپنی اثر انگیزی کے باعث چبھتے ہیں۔ ”
فائزہ دراصل ڈاکٹر وقاراور غزالہ کی بیٹی ہے لیکن افسانے میں اس جوڑے کے درمیان خط فاصل کیوں آیا اس کا اسرارکہیں نہیں کھلتا ہے۔ادھرماں کی مصروف زندگی اور باپ کی غیرموجودگی فائزہ کو نفسیاتی الجھن میں ڈالتی ہیں جس کے باعث وہ کبھی خواب میں روتی ہے توکبھی اسے اپنے آیا کاچہرہ بے رونق لاش کی طرح دکھتاہے جس پر زندگی کی کوئی رمق نہیں ہے۔ اسے محسوس ہوتا ہے جیسے اس کی ماں کی محبت خالص نہیں ہے۔ اس کے سامنے محبت کا معیاریہ ہے کہ محبت ہمدردی کی ملاوٹ اور دلجوئی کی کثافت سے بوجھل ہوجاتی ہے۔اسے خالص رکھنے کے لیے بے غرض ہوناضروری ہے۔اختتام پر افسانے کا پیغام یہ ہے۔
۔”جس سے محبت کرو، اس کے آرام، اس کی سہولت کا خیال کرو، اسے ہر کلفت اور پریشانی سے بچائے رکھو.”
ثمینہ سید کا افسانہ "بندھن کا بوجھ” سماجی افسانہ ہےجس میں انسانی نفسیات،تعلیم نسواں پر پرانے لوگوں کی دقیانوسی،اعلی اور درمیانی طبقے کی سوچ کے درمیان فرق اور وباکے دوران اس کے بطن سے پنپے متعددمسائل کاذکر فن کے دائرے میں رہتے ہوئے کمال ہشیاری سے کیا گیاہے۔افسانہ المیاتی ہے اس معنوں میں کہ حبیب کی سرگوشی سےشفق کے اندر کوئی چیز ٹوٹی تھی۔سوبھید کھولتی زہریلی چپ کے درمیان اس کو احساس ہواکہ وہ رشتوں کے بندھن کے بوجھ تلے دبی سسک رہی ہے۔سسک کی ایسی آوازہمارے معاشرے میں گھونجتی رہتی ہے لیکن بے حس لوگ اس آواز کو سننے سے محروم رہتے ہیں۔اقبال مٹ (لاہور)کا افسانہ "درد جب حد سے گذرتاہے” کے افسانے میں اظہارخیال پر جبر کے بڑھتے ہوئے شکنجے کوقاری کے سامنے اجاگر کرنے کی کوشش ہوئی ہے۔درد ،خوف،بے بسی، جبر،ذات کا بکھرائو،داخلی کشمکش،ذات کا نوحہ کو علامتی اسلوب میں پیش کرناجدیدافسانوں کے خاصہ ہیں۔مٹ صاحب نے ان ہی عناصر کو مذکورہ اسلوب میں اپنے افسانے کے کینوس پر پیش کرنے کی ادبی کوشش کی ہے جہاں علامتیں زیادہ گنجلک نہیں بلکہ غیر شفاف ہیں ۔افسانے کا محوراس مرکزی خیال پر گردش کررہا ہے کہ قلم جب جبر کی آگ میں تپتا ہے تو اس کی نوک سے شعلے ابلنےلگتے ہیں۔ایسااس لیے کہ مزاحمتی قوت ،جبرکی قوت کے براہ راست متناسب ہوتی ہے۔سلیم سرفراز کا شمار معاصر افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے ۔موصوف کا افسانہ "خسارہ میں کفیل احمد اور ریحانہ کی رومانی زندگی کی روداد بیانیہ اسلوب میں رقم ہو ئی ہے۔افسانے کی رومانی فضا میں متعدد شعراکے اشعار کی شمولیت افسانے کی فضاکو مزید رومانیت سے شرابور کرتی ہے جن کی بازگشت سونے پر سہاگہ کا کام کرتی ہے۔ اس افسانے کے کینوس پردورحوں کا ملن جب روحانیت سے لبریز مزار شریف کے احاطے میںہوتا ہےتو منظر بڑا دل گداز ہوجاتاہے۔روحانیت سے لبریزاس مقام کی منظر نگاری خوب ہوئی ہے۔ایسا لگ رہا ہے جیسے خود قاری مزار شریف کے احاطے میں کھڑے ہوکر سب کچھ دیکھ رہا ہے۔یہ منظر نگاری حرف حرف صحیح ہے کیونکہ خاکسار کو بھی رانی گنج کے اس مشہور مزارشریف پر کئی دفعہ حاضری دینے کاصرف حاصل ہے،جہاں کی فضا میں ایک پاکیزگی کا احساس ہوتاہے۔افسانے میں روایتی طورپر دوہنسوں کا جوڑا بچھڑ جاتا ہےاور مدتوں بعد ایک بار پھر دونوں کی ملاقات بس میں ہوتی ہے جہاں ریحانہ کفیل کو پہچانے سے انکار کردیتی ہےجس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ نسائیت بزدل مردکو پسندنہیں کرتی ہے۔کفیل برسرروزگار ہونے کے بعد اذدواجی زندگی کی تکرار اور بچوں کے شور کےدوران جب اس کی سماعتوں سے ماضی کی یہ خوش آہنگ آواز لہراتی ـ :
۔”موہے چاندی کی پائل منگا دو سجن۔!”
تووہ ایک عجیب دردوکرب میں ڈوب جاتاہےاور وہ یہ فیصلہ کرنے سے قاصر رہ جاتا ہے کہ:
۔” حیات نفع بخش رہی یا سراسر خسارے میں گزری ـ ”
زویاحسن کا افسانہ”گم شدہ آوازوں کاتعاقب ” کا اسلوب خودکلامی بیانیہ ہے جس کے زیریں تہہ میں جو کرنٹ ہے اس کا اسپارک بڑا شدیدہے۔افسانہ بیوی اورشوہر کی کہانی ہے ۔یہ دونوں افسانے میں میں( شوہر) اور وہ( بیوی ) کی صورت میں کینوس پر نمودار ہوتے ہیں۔ دونوں عمر کے آخری پڑاومیں ایک ہی چھت کے نیچے زندگی کی آخری سانس لے رہیں ہیں۔ وہ ٹی بی، ، بلڈ پریشر،دل کے عارضے، بہرے پن اور بڑھاپے کی مریضہ ہےجبکہ میں(شوہر) اپنی کھوئی آوازوں کے تعاقب میں سرگرداں ہے کیونکہ اس کی آواز کئی عرصہ سے کہیں گم ہو گئی ہے ۔ اسی لیے وہ اس تعاقب میں ہے کہ شاید کہیں سے اس کی آواز اس کو واپس مل جائے۔افسانے میں شوہرمیکانکی انداز میں اٹھ کر ا پنی بیوی کا پیشاب سے بھرا بیڈ پین غسل خانے میں خالی کرتا ہے اور اس کے کانوں میں سرگوشیاں کرتا ہے۔
۔”تم بہت پیاری ہو قدس ۔۔تمہارے گلابی ہونٹ میری کمزوری ہیں.”
جو اس کی بیوی کا حق ہے مگر وہ سنتی کب ہے ؟ وہ مسلسل اپنے ایک گھٹنے میں مُکے چلاتی چلی جاتی ہے۔کبھی وہ دن تھے جب قدس اس آواز پر ایمان لے آتی تھی اور اسی آواز پر ساری زندگی اس کے ساتھ گزارنے کو تیار ہوگئی تھی۔افسانے کاوہ ایک انقلابی تحریک کا صدر تھا اور اپنی پارٹی کے جلسوں میں اپنی آواز کے طلسم سے ثور پھونک دیتا تھا۔ مائیک پر پورے جوش وخروش سے اپنی آواز کا جادو جگا تاتھا اور لوگوں کے ایک جم گفیر کو اپنے نام کا ورد جپتے سنتا تھا لیکن اب اس کے ساتھ صرف کمرے کی خاموشی ہے۔ قدس کے رہتے ہوئے اسے تنہائی کا احساس ستا تاہے۔افسانہ یہ درس دیتاہے۔
۔”کہی بات اور لکھا جملہ درست سامع اور قاری کے محتاج ہوتے ہیں میرے عزیز ۔دانا شخص عام لوگوں میں بے وقوف اور مسخرکہلاتا ہے اور بے وقوف، دانا لوگوں میں قابل رحم سمجھا جاتا ہے۔لفظ کی حرمت میں یہ بھی ہے کہ اسے درست سامع کے کان میں انڈیلا جائے۔”
افسانے میں الائچی کے کھیت میں گذرے دنوں کا ذکر روح کو ٹھنڈک پہنچاتا ہے۔اس کے باطن میں آواز کی گمشدگی کا کرب ہے۔کمرے کی جزیات نگاری بہت خوب ہےجہاں اس کی بیوی بلغم کھانستے کھانستے خون تھوکنے لگی ہے جس کے باعث کمرے میں دردکا نوحہ نکتہ راس پرہے۔بہرحال آخری عمر میں زندگی کی کرب ناکی کوپیش کرتا یہ افسانہ اپنا ایک تاثر چھوڑنے میں کامیاب ہےلیکن افسانے میں شامل پنجابی اشعار سر کے اوپر سے گذرگئے۔ڈاکٹر فاطمہ خاتون(کولکاتا) کا افسانہ۔”رنگ بدلتی زندگی” سادہ بیانیہ اسلوب میں لکھا گیاہےجس میں عورت کی زندگی کے مختلف شیڈکو ابھاراگیا ہے۔افسانے میں احتجاجوں کا شہر کلکتہ کو بلڈنگوں کاجنگل کہہ کرمتعارف کرا کے جہاںاس کی تعمیراتی پیش قدمی کی طرف اشارہ کیا گیاہے وہیں اس کے دوسرے رخ کواس طرح پیش کیاگیا ہے کہ یہاں کے باشندوں کوقدرت کے خوبصورت مناظر دیکھنے کے لیے آنکھیں ترس جاتی ہیں۔ اس کمی کو افسانے کی پہلی راوی ٹرین کے سفرمیں پوری کرتی ہے جو وشوابھارتی یونیورسٹی میں ریسرچ اسکالرہے۔افسانے میں درمیانی طبقے کے طلبہ وطالبات کی نفسیات کو بھی پیش کیاگیاہےکہ ان کے والدین ان کے ساتھ وہ سلوک نہیں کرتے جیساکہ تعلیم یافتہ گھرانے کے گارجین اپنے بچوں کے ساتھ اپناتے ہیں۔افسانے میں اس کا بھی ذکر ہے کہ اس بناوٹی دنیا میں خالص معصومیت بڑی مشکل سے دیکھنے کو ملتی ہے۔افسانہ دراصل رادھیکا کی زندگی کے محور پر ہی گھوم رہا ہے جس کی زندگی بے بادباں کشتی کی طرح ہے۔جوتیرہ سال کی عمر میں اپنے ماسٹر جی اور والدین کی مرضی کے خلاف آنند کے ساتھ بھاگ کرشادی کرتی ہے۔قدرت ہر چیز کا انتقام لیتی ہے اس لیے اس کی بیٹی درگاکی زندگی میں بھی ایساموڑاتاہے:
۔”میری ماں درگا کے ساتھ رہتی ہے۔ آج درگا چودہ سال کی ہے اور اسی سال اس کا میٹرک کا امتحان ہونے والا ہے۔ لیکن مجھے بہت غصہ آتاہے کہ جو غلطی میں نے کی وہی غلطی وہ بھی کررہی ہے۔ وہ بھی ایک لڑکے کے چکرمیں ہے ۔ اوراس سے شادی کرنے کے لیے ضدکررہی ہے۔میں اس کو کتنا سمجھاتی ہوں کہ پہلے پڑھائی پوری کرو لیکن وہ میری بات ماننے کوہی تیارنہیں۔ ڈرلگتاہے کہیں کوئی غلط قدم نہ اٹھالے. میں ہروقت اس پر نظرتونہیں رکھ سکتی۔“
رادھیکا کی زندگی مسائل کے چوراہےپر کھڑی ہے۔اس کے باوجود چہرے کی مسکراہٹ،اس کا پراعتماد لہجہ راوی کوجینے کاحوصلہ دیتاہے۔افسانہ کوئی بڑابول یافلسفہ نہیں پیش کررہا ہے لیکن زندگی کی ایک سچائی کو بڑے خلوص کے ساتھ قاری کے سامنے رکھتاہے۔ایسا اس لیے کہ ادب زندگی کا آئینہ ہوتا ہے۔سید کامی شاہ کا افسانہ” ہائے خواب”،نفسیاتی افسانہ ہےجس کو پڑھ کر ایسا لگا جیسے کوئی میرے سامنے کھڑا ہے اور Running Comentry جاری ہے۔افسانے میں منتشرذہن کی رودادقلم بندکی گئی ہے۔ایک آدمی میں شیطان اور رحمان دونوں کی موجودگی کا اعتراف افسانے میں کیا گیاہے۔یہ دونوں آپس میں برسرپیکار رہتے ہیں۔جوغالب آتاہےآدمی وہی دکھتاہے۔اختتام پر لڑکی کو اس کی ماں لیٹا دیتی ہے اور اس پر خنجرچل جاتاہے۔لہوکے چھینٹے راوی کے منہ پرپڑتے ہیں۔اس دلخراش منظر سے دل دھک سے کرتاہے ۔کوئی بھی فن پارہ قاری جمالیاتی آسودگی کے لیے پڑھتاہے۔جدیدذہن ایسے افسانے سے لذت کشیدکرتاہے۔رفعت امان اللہ کاافسانہ "جانِ امّاں ” جذبات سے لبریز ادبی فن پارہ ہےجس میں ماں اور بیٹے کے فطری جذبے کی خوب خوب عکاسی ہوئی ہےجس کے باعث افسانے میں جذباتیت کے عنصر کا تناسب کچھ زیادہ ہوگیا ہے۔خصوصاماں کے جذبے کی عکاسی کرنے کے دوران افسانہ نگارکے قلم میں جذباتیت کچھ زیادہ سمٹ آئی ہے۔افسانے میں سرحدکا قیدی بن جانے کا المیہ ماں کی زبان سے یوں ہوا ہے۔
۔”انسان ان ملکوں کی حدود میں قید ہو کے رہ گیا ہے۔لیکن یہ روکیں تب تک ہیں جب تک سانس چل رہا ہے،سانس کی ڈوری ٹوٹتے ہی سب روکیں سب واسطے ختم۔”
اس فن پارے میں ماں کی طرف سے قاری کے لیے کچھ نصیحتیں بھی بہت قیمتی ہیں۔خصوصاً یہ کہ مظلوم کی بدعاعرش ہلا کر رکھ دیتی ہے،کسی کمزور کا دل کبھی نہ دکھانا،کسی ماتحت ملازم اور اپنی بیوی پہ بلاوجہ غصہ نہ کرنااور ان کی خطاوں کودرگذرکرناوغیرہ ۔اس افسانے کو پڑھ کر منور راناکا یہ شعرذہن کے سائبان میں گونج اٹھتا ہے۔
اب اندھیرامستقل رہتاہے اس دہلیز پر
جو ہماری منتظر رہتی تھی آنکھیں بجھ گئیں
صبیحہ تزئین کاافسانہ” کنگن "نئی نویلی دلہن کے نسائی جذبے اور نئی تہذیب کے پروردہ نوجوانوں کی بے راہ روی اور اس کے بدانجام پر سے پردہ اٹھاتاہے۔افسانے کے اختتام پر نسائی جذبےکی عدم برداشتگی کا بے باکی کے ساتھ مظاہرہ عصمت چغتائی کی یاددلاتاہے۔اسلوب سادہ بیانیہ ہے۔دلشادنسیم کاافسانہ "اندھیرے میں”دکھ کی ایک ایسی گاتھاہے جہاں محبت کرنے والے دوہنسوں کا جوڑا سسک سسک کر ایک کرب ناک زندگی جی رہاہے۔افسانے میں غربت کی جو ر وداد رقم ہوئی ہے، بہت کرب انگیز ہے۔کینوس پر آغاز سے درمیانی حصے تک سبین کے لیے قاری کے دل میں نفرت کی چنگاری پھوٹ رہی تھی لیکن اچانک افسانہ ٹویسٹ لیتاہے اوردیکھتے ہی دیکھتے سبین سے نفرت ہمدردی میں بدل جاتی ہےاور اس کا قداونچادکھائی دینے لگتا ہےکیونکہ اس نے جو بھی کیاوہ ایک وفا شعار بیوی اور محبوبہ بن کر کیا۔اپنی محبت اوراذدواجی زندگی کی لاج اپنی عصمت کو داؤ پر لگاکر بچائی۔یقیناًسبین کا محبوبہ سے بیوی اور پھر کال گرل بن جانااس کی محبت کے ارتقائی پہلو ہیں لیکن یہ بھی واضح رہے کہ سبین اور احسان جس زندگی کوجھیل رہے ہیں وہ والدین کی بدعائیں ہیں جو ان کا پیچھانہیں چھوڑ رہی ہیں۔افسانےمیں چندمکالمےجاندارہیں۔
”تم بغیر محبت کے کیسے اپنا آپ کسی غیر کو سونپ دیتی ہو۔“
”بات تو واقعی یہ اور ہے۔ اگر میں یہ کیوں کہ معاشرے نے ہی مجھے باہر نکلنے پر مجبور کیا ہے تو….؟“
”سلمان صاحب! ہم اس دو گھنٹے کی ملاقات کو اپنے اپنے مقصد کی حد تک رکھیں تو بہتر ہوگا۔“
” نہ یہ لڑکیاں تھیں نہ عورتیں…. یہ سب گالیاں ہیں….مجھ سمیت۔“
یہ سوال کرتی ہیں
”جی امی…. کیونکہ اب گھر میں میری جوانی کے علاوہ بیچنے کے لیے کچھ بچا ہی نہیں تھا….“
۔” بات پیٹ کی دوزخ تک پہنچے تو حرام حلال ایک ہوجاتے ہیں۔”
افسانے میں روایت کے پاسداروالدین کی سخت مزاجی ، ذات پات اور برادری کی بوبھی آتی ہے۔اس میں درد کے آنسوں کا جوسیلاب آتاہے اس میں قاری بھی بہہ جاتاہے ۔مکالمے میں برجستگی،زبان وبیان میں روانی اوراسلوب سادہ بیانیہ ہے لیکن ایک دو جگہ ڈرامائی انداز سے بھی واسطہ پڑا۔ذکیہ مشہدی کا شمار عصری منظر نامے پر معتبر افسانہ نگاروں کی صف میں ہوتاہے۔افسانہ” کوڈ کے ماتم دار”میں ایک غریب جوڑے کی کہانی بیان کی گئی ہے جس کی غربت کی ریکھا لاک ڈاؤن کی وجہ سے مزید لمبی ہوگئی ہے۔لاک ڈاؤن کی وجہ سے مالی تنگی اتنی بڑھ گئی ہے کہ اسے بیٹی کا کھلونابہلابکری کو بھی فروخت کرناپڑتاہے۔اس کی معصوم بیٹی جاتی بکری کو دیکھ کر چینخنے لگتی ہے۔اس وقت پھول سنگھ غصہ سے لال ہوکربیٹی کو پٹخ دیتا ہے۔افسانے میں مقامی زبان کا استعمال اس کوحقیقت سے بہت قریب کرتاہے۔افسانے میں سونا ایک پتی ورتاناری کے روپ میں د کھائی دے رہی ہے۔دونوں کی نوک جھونک دلچسپ ہے۔عورت کی کم عقلی اور بیٹی جننے کا طعنہ مرد اساس معاشرے کی ذہنیت کو اجاگر کرتا ہے۔پولیس کی زیادتی اور اس کی کرپشن کا بھانڈا بھی اس افسانے میں پھوڑاگیاہے۔ انسان پیٹ کی آگ اور گھرکی لاج بچانے کے لیے سب کچھ کرتاہے۔دلشاد نسیم کے یہاں(افسانہ: اندھیرے میں)بیوی اپنی عصمت کو ہی دائو پر لگادیتی ہےجبکہ ذکیہ مشہدی کے یہاںایک باپ بیٹی کاکھلونا(بکری)کو جبراً قصاب کے ہاتھوںفروخت کردیتاہے اور خودپھوٹ پھوٹ کررونے لگتاہے۔ پھول سنگھ کا رونااس کی پدرانہ شفقت کا نکتہ راس ہے۔افسانے میں جزیات نگاری خوب ہوئی ہے۔مقصود حسن کا افسانہ” ڈیٹنشن کیمپ "علامتی پیرائے میں رقم ہواہے،لیکن یہ علامتیں ایسی نہیں ہیں کہ اس کوOpaqueکہاجائے۔افسانہ عصرکا شعلہ بارموضوع کے محور پر گردش کررہا ہے۔آغاز میں افسانے کی فضامیں مزاج کی گرم ہوائیں چلی ہیں ایسا اس لیے کہ مرکزی کردارStrugle for existance کے لیے اپنی ہی مٹی پر جدوجہد کررہا ہےتاکہ وہ Servival of the fitest کی صف میں آسکے،کیونکہ اُس کے ساتھ وجود کی شناخت کا مسئلہ درپیش ہے لیکن جیسے جیسے افسانہ آگے بڑھا ہے اس کی شدت میں کمی آئی ہے۔یہاں تک کہ مرکزی کردارAre you safe ٹائپ کر کے سوچ رہا ہےکہ آنند کو واٹس ایپ کروں یا نہیں۔ افسانے کی پنچ لائین بہت دیر تک سوچنے پر مجبورکرتی ہےکہ واقعی قدرت کے نظام کے آگے کسی کا بس نہیں چلتا ایسااس لیے کہ کروناکے بطن سے پیداہونے والا لاک ڈاؤن ہرایک کواپنے ہی گھر میں محصورکرکے ڈیٹنشن کیمپ کی زندگی کامزہ چکھنے پر مجبور کردیاہے۔ نئی صدی کا کربلا” میں ڈاکٹر صوفیہ شیریں کا تراشا کردارجوڈی اپنی غلطی پر نہ صرف کف افسوس مل رہا ہے بلکہ اس کا ضمیر اس پر ملامت بھی کررہاہے۔یہاں ضمیر کی بیداری جوڈی کی خوشگوارزندگی کے لیے زہر ہلاہل بن گئی ہےجس کو نیندمیں معصوم بچوں کی روح کی صدائیں سونے نہیں دے رہی ہیں۔زندگی کی تمام رونقیں اور شادابیاں قیامت خیز مناظر کی نذرہوگئیں ہیں۔اس کی آنکھوں میں وحشت کا بسیرا ہے۔اس کو خود احساس ہے کہ جب تک اس کا ضمیربیدار رہے گا، اس کو نیندنہیں آئے گی اور نہ ہی وہ چین کی نیند سوسکے گا۔اس لیے وہ ڈاکٹر کے پاس نہیں جاناچاہتا ہے۔اس کے سامنے سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ خواب میں اس سے معصوم بچے کی خون میں ڈوبی لاشیں یہ سوال کرتی ہیں:
”دنیا کے کس قوم کے بچے دہشت گرد ہوتے ہیں؟ تم نے ہمیں کیوں مارا؟ ہم تو انتظار کررہے تھے کہ حالات بدل جائیں اور ہم پھر سے اسکول جائیں ،پارک جائیں کھیلیں، کودیں اپنے دوستوں سے ملیں۔ لیکن تم نے ہمیں موت کی آغوش میں سلا دیا. ”
یقیناًضمیرکوہلادینےوالے ان سوالوں کی بوچھار سے مردہ ضمیر بھی جاگ اٹھے گااوراسے خواب آور گولیوں کی ضرورت پڑجائے گی۔ہڈاسابہت کوشش کرتی ہے کہ جوڈی کی وحشت زدہ آنکھوں میں پریوں اور چاندستارے کاخواب بھردےلیکن اس میں اس کو کامیابی نہیں ملتی ہے۔ایسا اس لیے کے معصوم روح کی بدعائیں تاعمرقاتل اورغاصب کاپیچھا نہیں چھوڑتی ہیں۔صرف یہی نہیں بلکہ میدان حشر میں بھی دامن گیرہوتی ہیں۔اس سے دامن بچانے کے لیےپرائشچیت کے طورپر جوڈی زاروقطار روناچاہتاہے تاکہ اعتراف جرم سے کچھ سکون ملے ،لیکن واضح رہے کہ آنسوں کی دھارسے پاپ نہیں دھلتاہے۔!افسانے میں عصر کی سفاکیت اور حریت کی مزاحمت کا ذکریوں ہواہے:
۔”ہاں چنا تھا مگر مجھے دھوکا ہوا۔ میں سمجھتا رہا کہ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں یا کرنے جارہا ہوں وہ اپنی قوم کے تحفظ کیلئے ہے۔ ہماری بقا اسی میں ہے۔ مجھے پتہ نہیں چلا کب میں سپاہی سے غلام اور غلام سے ایک جنگی ہتھیار بن گیا۔ ہم انسانوں نے اپنے مفاد کیلئے پہاڑ کاٹے، جنگل کاٹے، اب سر کاٹ رہے ہیں۔ بڑی طاقتوں کا یہی ماننا ہے کہ جو سر جھکے گا نہیں کاٹ دیا جائے گا۔ لیکن میں نے دیکھا ہے ۔ ان کی آنکھوں میں موت کا ذرا بھی خوف نہیں تھا۔ ان کے بوڑھے بچے ہم سے آنکھ ملا کر بات کرتے ہیں۔ ہنستے ہنستے موت کو گلے لگاتے ہیں جیسے موت نہ ہو کوئی انعام ہو۔“
ایسے ہی لوگوں کے لیےکبھی فیض احمد فیض نے کہا تھا۔
سب ساغر شیشے لعل وگہر
اس بازی میں بدجاتے ہیں
اٹھو سب خالی ہاتھوں کو
اس رن سے بلاوا آتے ہیں
افسانہ نفسیاتی ہے۔ اگرچہ پکوان اورکرداروں کے نام غیر مانوس لگےلیکن سادہ بیانیہ اسلوب میں افسانہ اپنا تاثر چھوڑنے میں کامیاب ہے۔افسانہ” مقدس سکہ” محمد شاہد محمود(پاکستان)کا وہ فن پارہ ہے جس کا اسلوب جدیدیت کے رجحان کی پیروی کررہا ہے،جس کے دامن میں تجریدیت بھی خوب پھولی اور پھلی۔افسانے کا لوکیشن مصر ہے ،جہاں حنوط شدہ لاشیں اہرام میں رکھی جاتی ہیں۔ اس افسانے کے متن کو ڈی کوڈ کرنے کے بعد مفہوم کا ہیولہ ذہن کے پردے پررقص کناں ہوتاہے جس سے یہ تاثر ابھرتاہے کہ ہماری زندگی میں جو بھی تبدیلیاں آئی ہیں، اس کا واحد سبب طرز تہذیب اورسوچ کی تبدیلی ہےکیونکہ ہماری زندگی کادارومدار ہماری سوچ پر ہے۔اگر ہم سوچ کے قبلے کو درست کرلیں توہمارے تمام مسائل خود بخودحل ہوجائیں گے۔ہماری سوچ سے جو مقناطیسی لہریں نکلتی ہیں وہ ماحول میں دائرے کی شکل میں پھیلتی ہیں۔ان مقناطیسی لہروں کے Vibration سے ہمارے ارد گرد کا ماحول متاثر ہوتا ہے۔ اگر ہماری سوچ سے Negative vibration نکلتا ہے تو ماحول میں Anxiety،درد،خوف اور اگرPossetive Vibration نکلتاہے توماحول میں آسودگی کا احساس ہوتا ہے، جو ترقی اور خوشحالی کا پہلا زینہ ہے۔اگریہ زینہ کامیابی کے ساتھ طے ہواتوپھرزندگی کی تمام راہیں اپنے آپ ہموارہوتی چلی جائیں گی۔ لہذا دنیا کو گہوارہ امن بنانے کے لیے ابن آدم کو منفی کی بجاے مثبت سوچنا ہوگا کیونکہ ہماری سوچ نےہی ست یگ کو کل یگ اور پھر گھورکل یگ بنایا ہے۔ ہم اپنی مثبت سوچ سے ایک بار پھر اس گھور کل یگ کو ست یگ بنا سکتے ہیں۔ شرط یہ ہے کہ مثبت سوچ کی راہ پر چلنا ہوگا۔المختصرافسانے کا ماحصل یہ ہے کہ ہماری زندگی میں تمام مصیبتیں منفی سوچ کی وجہ سے آتی ہیں۔افسانے کا پیغام یہ ہے:
۔”اب تو جدید سائنس بھی ثابت کرتی ہے کہ اگر ہم مثبت پہلوؤں پر سوچیں گے تو ہماری زندگیوں میں مثبت تبدیلیاں رونما ہوں گی اور اگر ہم منفی سوچ کے حامل ہوں گے تو ہماری زندگیوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ یہ لوگ انہیں مثبت اور منفی لہروں پر یقین رکھتے تھے۔ دشمن کو زیر کرنے یا اپنے لئے آسانیاں پیدا کرنے کے لیے ان لہروں کو سوچ کے تابع بنانے کی باقاعدہ مشق کیا کرتے تھے۔ آج آگاہی مہم چلا کر ، معاشرے کے ہر فرد کو مثبت سوچ کا حامل بننے میں مدد کی جائے ، تو یہ ایک بہترین اصلاحی تحریک چلانے کے مترادف ہے۔ دنیا امن کا گہوارہ بن جائے”۔
کنول بہزاد (پاکستان)کا افسانہ "راجدھانی”زمیندارانہ نظام کے دوران عورت کی بے قیمت زندگی پر سے پردہ اٹھاتاہے۔جاگیرداروں اور زمین داروں نے اپنے غریب رعیت کی غربت کا خوب خوب فائدہ اٹھایا۔انہوں نے نہ صرف مردوں کا جسمانی استحصال کیابلکہ ان کی بہن بیٹیوں کو بھی خواب گاہ کا زینت بنایا۔اپنی بے اولادی کودورکرنے کے لیےچوہدری امداد اپنی رعیت کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتاہے۔ ایک دفعہ تاجوراور پھردوسری مرتبہ فیروزہ کو خواب گاہ میں لاتاہےلیکن پروین کی جہیزمیں آئی بوڑھی رشیداں کی بدعاسے تاجور کی گودبھی خالی رہتی ہے۔اس کے بعدامداد علی ایک کمسن لڑکی فیروزہ کو اپنی بیوی بنانےکے لیے اپنی حویلی میں لاتاہے۔تاجور اس استحصال کی مخالفت من ہی من میں کرتی ہےاور بڑی چالاکی سے اس کمسن لڑکی کو کچھ رقم دے کردلاورکے ساتھ بھگادیتی ہےاور چوہدری امداد،دلاور کی لائی گئی دواکو اس امید پر کھاتاہے کہ وہ روبصحت ہوجائے گا۔افسانے میں Tellکی خوشبوزیادہ ہے۔پروین کے کردار میں تانیثیت نہیں ہے۔البتہ تاجورکے کردارجس کے پاس عشوے غمزے کے نیزے بھی ہیں،میں تھوڑی بہت اس کی رمق ہےکہ وہ پروین کی طرح حالات کے سامنے سپر نہیں ڈالتی ہے بلکہ اپنی زندگی کی بقا کے لیے سازش رچتی ہے۔ اس سے یہ بھی انکشاف ہوتاہے کہ اصل بیوی لاکھ مصائب سے نبردآزماہو،شوہرکے خلاف سازش نہیں کرتی ہے۔محمدریاست(پاکستان) کا افسانہ” پتھر”کے بطن سے کئی قسم کی شعاعیں منعکس ہورہی ہیں۔آدم کی موجودگی کے باوجودحواکے بطن میں حمادکے نطفے کا پلنایہ انکشاف کرتا ہے کہ Natural callکسی پاکیزہ رشتے کا منتظر نہیں ہوتا۔اسے بہ وقت ضرورت صرف آسودگی چاہئے۔عہد آفرنیش سے حواکے دامن پر نافرمانی کے داغ لگے ہیں۔ اسی نافرمانی کی پاداش میں وہ جنت سے نکالی گئی ۔یہ جبلت منتقل ہوتی ہوئی افسانے کے کردارتک پہنچی ہے جہاں گولیوں کا شکارہوتی ہے۔افسانے میں مجرد زندگی کی کسک کا احساس بھی جاگزیں ہے۔اس میں انسانی جبلت کی تڑپ کا احساس بھی قاری کوہوتا ہے۔مردکی جنونی کیفیت کا بھی اندازہ ہوتاہےاور اس حقیقت کا بھی اسرارکھلتاہے کہ ایک ہی جگہ پڑے رہنے سے انسان بھاری ہوجاتاہے۔افسانے کے اسلوب ْ میں جدیدیت کاخمیرشامل ہے۔ فرحانہ صادق کابیانیہ افسانہ”نارسائی” میں ایک غیرشادی شدہ لڑکی کی زندگی کے مسائل،اس کے عنفوان شباب کے دنوں کے ذاتی مسائل کو بڑی ہنرمندی اور چابکدستی کے ساتھ بیان کیاگیاہے۔کال سنٹر میں کام کرنے والی غریب لڑکیوں کی زندگی کا عکاس، اس افسانے کے کینوس پرلفظوں کی مدد سے جوتصویر بنائی گئی ہےاس میں حقیقت کا عکس نمایاں ہے۔آج ہمارے معاشرے میں ایسی سیکڑوں لڑکیاں ہیں جوکال سنٹر میں اس طرح کی زندگی گذارتی ہیں۔
۔”آنکھیں بند کیں تو گزرا دن فلم کی طرح چلنے لگا. اسے کسٹمرز کا شکایتیں درج کروانا یاد آنے لگا. کچھ مؤدب لہجے تو کچھ جارحانہ ، کچھ ایسے تحکمانہ جیسے اپنے نوکر سے بات کر رہے ہوں، اور کچھ صرف شرارتا کال کرتے تھے۔”
لیکن افسانے کے مرکزی کردارکو اپنی قسمت سے کوئی گلہ نہیں ہے۔ وہ اپنی فطری خوش دلی کے ساتھ اپنا کردار نبھا رہی ہے ۔مگر کبھی کبھی اس کا دل اچاٹ ہوجاتاہے۔اس کو احساس ہوتاہے کہ نوکری اور گھریلو ذمہ داریاں ، کسی بڑی سی چکی کے دو تہہ دار پاٹ ہیں جس میں اس کی ذات پس رہی ہے ۔ کبھی کبھی نفسیات کی جھیل میں بھی گرداب اٹھتے ہیںاوراعصاب میں بھی ہلچل ہوتی ہے۔
۔”کاش ماریہ کی طرح میرے پاس بھی جن ہوتا. وہ مجھے آوازیں دیتا تو میں اس سے اپنا جسم دبوا لیتی. ”
اس خیالی پیچ وخم کے دوران اس کونیندآجاتی ہے۔پھرنیندمیں گذرے لمحوں کی ستم انگیزیوں کے بعد جب صبح میں اس کی نیندٹوٹتی ہے اس وقت لعاب میں کڑواہٹ محسوس ہونے لگی اور اسے شدید کراہیت کا احساس ہوتاہے اور دونوں ہاتھوں سے چہرہ چھپا کر بستر پر گرجاتی ہے اور رونے لگتی ہے۔اس کا یہ رونااس کی بے بسی کا اظہاریہ ہے۔فارحہ ارشدکا افسانہ "دنانیر بلوچ "جدیدوتجریدی اسلوب میں لکھاگیاہے جس میں دینانیرایک عمدہ مجسمہ ساز ہے ۔اس کے محبوب نے اسے مجسمہ سازی سکھائی۔انسانوں کے ساتھ پراکسی وارلڑنے کا احساس اس کے دلوں میں جاگزیں ہے۔وہ اپیل کرتی ہے کہ ہمیں زندگی جینے کا حق دیاجائے۔شطرنج کی بساط پرانسانوں کوبے جان مہرے کی بجائے انسان سمجھاجائے۔افسانے میںجہاں سانپوں کی سازش سے مجسمہ ساز کو نگل لینے کا ذکرہے وہیں مجسمہ ساز کواس لیے غائب کردیا گیاہے کہ وہ مجسمہ سازی کے اوزار کے پس پردہ قتل کے ہتھیاروں سے لیس مشکوک باغی ہے۔رد عمل میں غصے سے جب روشن دان کے کبوتروں کےپر پھڑپھڑائے تو مجسمہ سازان سے یوں مخاطب ہوتاہے:
“او میرے بھید بھرے پرندو امن کے گیتوں میں مجھے رخصت کرو۔”
فارحہ ارشد کے ا س افسانے میں عصری جبریت کے خلاف ایک توانا آوازکی بازگشت سنائی دیتی ہےلیکن فضامیں مغمومیت کاغبارچھایارہتاہےجس کے باعث کلائمکس تک آتے آتے یاسیت کے دائرے کا قطر بڑھ جاتاہے۔اس فضامیں بھی ہم نسل ڈار ، شکستہ پروں کے باوجوداس جانب اڑان بھرتے ہیں جہاں ان کے پرچھپادیئے گئے ہیں۔اس تیقن کے ساتھ کہ ہفت رنگ پر ملتے ہی ان کی اڑان دیکھنے کے لائق ہوگئی۔المختصرافسانے کے کینوس پر جہاں احتجاج کی لئے تیزہے وہیں امن کے فاختے بھی اڑے ہیں کیونکہ امن کے بطن سے ہی دنیاکی شادابی قائم ودائم ہے۔افسانہ۔”بڑے گھرکی بہوبقلم نشاط پروین” سادہ بیانیہ اسلوب میں لکھاگیاہےجس میں ناخلف اولاد کاجہاں ذکر ہے وہاں ذات ،خون اور ہڈی کواہمیت دینے والے ہاشم کی بے چین زندگی کاخلاصہ بھی کیاگیاہے۔جوہی کاکرداریہ ا شارہ کرتاہے کہ پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیرتھا۔افسانے سے یہ شعاع بھی پھوٹتی ہے کہ محبت اندھی ہوتی ہے۔تب ہی تو رضی گھرکی نوکرانی کے دام الفت کاشکارہوکر اس سے شادی کرتاہے ۔لنچنگ اور لوجہادکا ذکر چھیڑ کرافسانے کو عصر سے جوڑنے کی کوشش ہوئی ہے۔رقیہ بیگم کا پوتی سے انسیت یہ اشارہ کرتا ہے کہ خون میں فطری کشش ہوتی ہے۔ افسانے کے کینوس پر گاؤں کے شریفوں کی قلعی بھی کھلی ہے۔افسانہ پریم چندکے اسلوب کی یاد دلاتاہے۔افسانہ "دستک اور پکنک”بقلم ڈاکٹر فریدہ تبسم مونولاگ ہے جس میں بیانیہ کابہاؤتیزترہے۔افسانے سے ذہن کے پردے پر یہی تاثر ثبت ہواکہ ایک انسان دنیا میں آیا اور اس کی رنگینیوں میں کھوگیا۔اسے یاد نہیں رہاکہ یہ دنیاایک پارک ہے جہاں ہم سیروتفریح کرنے آئے ہیں ۔یہاں سے واپسی کا ایک دن مقررہے جہاں ہمارے اعمال ایسے ہوں کہ واپسی پر شرمندگی نہ ہو۔افسانے میں دنیامیں انسان کی گمرہی کی طرف بھی اشارہ کیاگیا ہے۔منظر کشی کا تناسب کچھ زیادہ ہے۔یہ مناظر انسان کو خداکا احساس دلاتے ہیں لیکن انسان دنیاوی رنگینوں میں اتنا ڈوب گیا ہے کہ وہ غفلت کے دلدل میں دھنستاچلاجارہاہے۔زندگی کے دو رنگے رخ کاذکرکرکے افسانہ نگاریہ بتاناچاہتی ہیں:
۔” زندگی کے نشیب وفراز میں انسان کا تخیل بدلتا رہتا ہے تخیل کے ساتھ عمل بھی ہے۔”
زندگی کے سفر میں غلط بات کرنے،انصاف میں چوک،دست طمع کی درازی،خواہش نفس کی قبولیت،خیرکی لکشمن ریکھاکی عبوری،اور مالک حقیقی سے غفلت ہونے کے دوران دستک ہوتی ہے۔یہ دستک اپنے ضمیرکی ہوتی ہے ۔جولوگ دنیاکی رنگینوں میں گھوجاتے ہیں ان کو اس دستک کی آواز سنائی نہیں دیتی ہے۔
۔”ایک صدائے حق کلیم اللہ نے بھی سنی تھی۔۔۔۔”کیا حق کے کلیم نہیں رہے یا ان کی آواز ہر جگہ گنگ ہوگئی”۔۔۔؟؟؟ یا۔۔ دنیا اب کلیموں سے خالی ہوگئی ۔؟؟”
افسانے کا پیغام صوفیانہ ہے جوقاری کے دل پر دستک دیتاہے کہ اس سے پہلے کہ موت کا فرشتہ آئے اور آپ سے کہے کہ آپ کا وقت ختم ہوگیاہے ۔۔۔پکنک کا ٹائم ختم ۔۔۔۔!آپ صراط مستقیم پر چلناشروع کریںجہاں سیاہ وسفیدکے درمیان خط تنسیخ نہ ہو،میزان عدل غیر متوزان نہ ہو۔اسرار گاندھی کا شمار ،معتبر افسانہ نگاروں میں ہوتاہے۔زیر نظر افسا نہ "مفاہمت کا عذاب” اذدوا جی زندگی کے مسائل اور کرب کے محور پر گردش کرتا ہے۔افسانے میں عامر اور شافعہ شوہر بیوی ہیں۔ان دونوں کے درمیان رنجش تب شروع ہوتی ہے جب شافعہ ابارشن کروانے کی بات کرتی ہے۔وجہ یہ بتائی ہے:
”آفس کی زندگی میں ان جھمیلوں کے لئے گنجائش کہاں نکل پاتی ہے۔ آفس میں کام کرنا پھر بچے بھی پالنا میرے بس کی بات نہیں۔ میں نے تم سے احتیاط کرنے کو کہا تھا لیکن تم نے خیال نہیں کیا۔“
اس کے اس مشورے پرعامر کہتاہے کہ اگرتم چاہوتو سروس چھوڑسکتی ہو۔میری تنخواہ میں زندگی گذرجائے گی۔اس کی بات سن کر شافعہ زور سے ہنستی ہے اور بڑے تیکھے لہجہ میں بولتی ہے:
”تاکہ تم آسانی سے اپنی مرضی مجھ پر تھوپ سکو۔ کیسے کیسے خواب دیکھتے ہیں یہ بے چارے مرد۔“
عامر اس کی بات سن کرتلملاجاتاہے۔ دونوں کے درمیان تلخی بڑھتی ہےلیکن شافعہ اپنے فیصلے پر جمی رہتی ہے۔ پھروہ جلد ہی اپنی کوکھ میں موجود سانس لیتی ہوئی زندگی سے چھٹکارہ حاصل کرلیتی ہے۔نتیجہ یہ ہوتاہے کہ انا کے ٹکراؤ سے دونوں کے درمیان اجنبیت کی دیوارتعمیر حائل ہوتی ہے۔اسی دوران وہ چاہتاہے کہ رینااس سے شادی کرلے لیکن وہ اس کو جواب دیتی ہے:
”دیکھو میں تم سے شادی نہیں کر سکتی۔میری اپنی آزادی ہے۔ہاں لیونگ ٹو گیدر کی طرح سے میرے یہاں آ کر رہنا چاہو تورہ سکتے ہو۔“
لیکن عامر کو خاندانی وقار کا پاش ہے لہذا وہ ایساکرنے سے قاصر رہتاہے۔آج کل تعلیم یافتہ خصوصاًبرسرروزگارلڑکیوں میں ماڈرن تہذیب سرائیت کرتی جارہی ہے۔ان کے اندر یہ شعور جاگزیں ہوگیا ہے کہ وہ بچہ پیداکرنے کی مشین نہیں ہیں۔افسانے سے یہ اشارہ بھی ملتاہے کہ زندگی کےمسائل کا حل کبھی کبھی جانوروں سے بھی سیکھاجاسکتاہے ۔ترقی یافتہ معاشرے میں شوہر اور بیوی کی اذدواجی زندگی Live together کے فارمولے پر چل پڑی ہے جہاں جین کی تحفظ کا درجہ ثانوی ہوگیا ہے۔یہ رجحان اپنے کلچرسے انحراف ہے۔افسانے میں مرداورعورت دونوں کی انااور کمپلیکس کاپگھلاؤ ہوا ہے۔افسانے میں کنڈوم کلچرکی عکاسی فنکاری سے ہوئی ہے جہاں ،مکالمے چست اوربیانیہ کی روانی قاری کے ذہن کوبوجھل ہونے سے محفوظ رکھنے میں معاون ہیں۔ثالث نشست کے ایڈمین پروفیسرڈاکٹراقبال حسن آزادکا افسانہ "رکشہ والا” کا مرکزی کردار رکشہ چلانے والاہےجس کی کسمپرس زندگی کو خوب صورت بیانیہ کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔شرفو کو اپنے پیڈل رکشہ سے بہت پیارہے۔وہ اس کو بیچ کرٹوٹو خریدنانہیں چاہتاہےجبکہ اس کا بھائی ٹوٹو چلاتاہے اور خوب روپئے کماتاہے ادھرشرفو کو دس روپیہ کمانابھی بھاری پڑرہا ہےکیونکہ زمانہ ترقی کی دوڑ میں رکشہ سے ای رکشہ اور ٹوٹو تک آگیاہے۔پریم چندکے یہاں ہوری کھیتی چھوڑنے کو تیار نہیں ہے جبکہ محمد حسن آزادکے یہاں شرفوپیڈل رکشہ چھوڑنے کو تیارنہیں ہے:
۔”شرفو کو اپنے رکشے سے پیار تھا۔پہلے وہ اپنے رکشے کو دولہے کی طرح سجا سنوار کر رکھتا تھا۔خوشنما جھالر اور گھنٹیاں اس کے رکشے کی خاص پہچان تھیں۔ جب وہ دھیرے دھیرے رکشہ چلاتا تو ایسا لگتا جیسے فضاؤں میں کوئی مدھر نغمہ گونج رہا ہو اور جب کبھی اس کے رکشے پر جوان زنانیاں سوار ہوتیں تو وہ ہوا سے باتیں کرنے لگتا۔ ایسے میں گھنٹیوں کی تیز آوازیں اور دبی دبی نسوانی چیخیں اسے ایک خاص لطف و سرور عطا کرتیں۔مگر اب اس کا رکشہ ایک ایسے خزاں رسیدہ درخت کی طرح ہو چکا تھا جس کے سارے پتّے جھڑ چکے تھے اور زنانیاں اب لیڈیز بن کر آٹو اور ٹوٹو کو رونق بخش رہی تھیں۔مگر پھر بھی اسے اپنا رکشہ پیارا تھا۔وہ اسے کیسے چھوڑ دیتا۔کیا ماں باپ کے بوڑھے ہو جانے پر انہیں چھوڑ دینا چاہیے؟”
لیکن شرفواور ہوری دونوں میں ایک فرق ہے وہ یہ کہ ہوری کھیتی کو اس لیے سینے سے لگائے رکھنا چاہتا ہے کہ یہ اس کے پرکھوں کا ترکہ ہے جو اس کو بہت عزیزہےجبکہ شرفوخود اپنے بیٹے کو انگلش میڈیم اسکول میں پڑھاتاہےتاکہ اس کا بیٹا بڑا ہوکرباپ داداکی طرح رکشہ نہ چلائے۔
افسانہ یہ پیغام دے رہا ہے کہ کوئی بھی سکہ یاپیشہ ہردور میں رائج الوقت نہیں ہوتاہے بلکہ زمانے کی گردش سے اس کے مہرے بھی پیٹ جاتے ہیں۔اس لیے اس کی گردش کی رفتار پر دھیان مرکوز رکھنا چاہئے اورزمانے کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کی عادت ڈالنی چاہئے ورنہ شرفوکی طرح رکشہ پر بیٹھ کر اونگھنے اور جمائیاں لینے کے علاوہ کچھ بھی حاصل نہیں ہو گا۔یہی وجہ تھی کہ الطاف حسین حالی نے کہاتھا۔۔۔۔ چلوتم ادھر کو ہواہوجدھر کی۔
افسانے میں معاشرے کی کچھ اہم باتوں کوبھی اجاگر کرنے کی کوشش ہوئی ہے۔
1:”زمانے کادستورہے کہ والدین کا سایہ سر سے اُٹھ جانے کے بعد دلوں کا بٹوارہ ہو جاتا ہے۔”
2:”یادیں خواہ صاحبِ زر کی ہوں یا کسی غریب کی ،وہ اس کی زندگی کا قیمتی سرمایہ ہوتی ہیں۔”
المختصر افسانے کا تھیم یہ ہے کہ ۔۔۔۔’ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں‘
المختصراس مطالعے کا ماحصل یہی ہے کہ اکیسویں صدی کے عالمی گائوں میں معاصر اردوافسانے کی فکری اساس سماجی نسب وفراز،تہذیبی،اخلاقی ومعاشی زوال،نظریاتی موقوف،حسن و عشق،جنس ورومان،سیاسی چنگیزیت، فرد کی گمشدگی ،خوابوں کی شکست،محرومی ، آزردگی اور نسائی استحصال کے محورپرمحورقص ہے۔اس تناظر میں فکرو مسائل کی یہ شناوری اکیسویں صدی کے اردو افسانےاورافسانہ نگاروں کوبہ بانگ ودہل یہ کہنے کا حق فراہم کرتی ہے کہ ادب اپنے عصر کا درپن ہوتاہے۔!!
ڈاکٹر عظیم اللہ ہاشمی
ہولڈنگ نمبر1۔A،گلی نمبر 23،
کیلابگان،جگتدل،شمالی 24پرگنہ،
مغربی بنگال(انڈیا)
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

