ہندو پاک میں ہمیں رو مانیت کے ایسے نقوش نظر آ تے ہیں جن سے امن چین ،سلامتی کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں:پروفیسر عباس رضا نیر
میرٹھ18؍نومبر2021ء
’’ہند و پاک دو نوں ملکوں کے شعرا کے یہاں دیکھتے ہیں تو رومانیت کے نقوش کو پاتے ہیں۔ ہند و پاک کے شعرا کے کلام میں ہمیں رو مانیت کے ایسے نقوش نظر آ تے ہیں جن سے امن چین ،سلامتی کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں‘‘۔یہ الفاظ تھے صدر شعبۂ اردو، لکھنؤ یو نیورسٹی ،پرو فیسر عباس رضا نیر کے جو شعبۂ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی اور بین الاقوامی نوجوان اردو اسکالرز انجمن(آیوسا) کے زیر اہتمام منعقد ’’آزادی کے بعد رو مانی شاعری‘‘ موضوع پر اپنی صدارتی تقریر میں آن لائن ادا کررہے تھے۔انہوں نے تینوں مقالوں پر بہترین تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ رومانیت مغرب سے ضرور آئی ہے لیکن اس کی جڑیں ہمارے اردو ادب میں بھی ملتی ہیں۔انہوں نے مرزا دبیر اور میر انیس سے لے کر اکبر الہ آبادی اور غالب اور بیسویں صدی میں اقبال، احسان دانش، حفیظ جالندھری، اختر شیرانی، ناصر کاظمی، شہر یار، بشیر بدر کے مختلف اشعار پیش کر کے رو مانویت کی مختلف مثالیں پیش کیں۔
ڈاکٹر ناصر پرویز نے نا صر کاظمی کی شاعری میں رو مانویت کے حوالے سے اپنی گفتگو میں کہا کہ ناصر کاظمی کی شاعری میں حسن و عشق کے عناصر شدت سے ملتے ہیں جب کہ انہوں نے ہجرت کے کرب اور بے سرو سا مانی کو خود بھی جھیلا تھا لیکن کبھی کبھی ان کی غزلوں میں رومان کے علاوہ ہجرو کرب کے مسائل بھی ملتے ہیں۔
اس سے قبل پرو گرام کا آغاز سعید احمد سہارنپوری نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔اس ادب نما پروگرام کی سر پرستی معروف ادیب عارف نقوی ، جرمنی اور صدر شعبۂ اردو،چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی،میرٹھ پروفیسر اسلم جمشید پوری نے فرمائی ۔مہمان خصوصی کے بطور ایسو سی ایٹ پروفیسر عین شمس یونیورسٹی،مصر سے ڈاکٹر ولا جمال العسیلی نے آن لائن شرکت کی۔مقالہ نگاران کے بطور مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی ،حیدر آباد سے ڈاکٹر کہکشاں لطیف،ذاکر حسین کالج،دہلی سے ڈاکٹر ظہیر رحمتی اور انصار انٹر کالج،مراد آباد سے ڈاکٹر ناصر پرویزنے اپنے پر مغز مقالات پیش کیے۔استقبالیہ کلمات ڈاکٹر ارشاد سیانوی ،نظامت کے فرائض تابش فرید اور شکریے کی رسم ڈاکٹر آصف علی نے ادا کی۔
اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر کہکشاں لطیف نے کہا کہ اس طرح دیکھا جائے تو ایک عام سا لفظ’’ رومانس‘‘ مختلف علا قوں اور مختلف معنوں میں استعمال ہو تے ہوتے اٹھارویں صدی کے آخر تک ایک ادبی تحریک کی شکل میں ہمارے سامنے آ گیا جسے ادب میں’’رومانی تحریک‘‘ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اس تحریک کے بنیاد گذا روں اور فروغ دینے وا لوں میں روسو، ورڈز ورتھ، کالرج، بائرن، شیلے، کیٹس، مسز ریڈ کلف، ولیم بیک فورڈ، ایملی برونٹے، شارلٹ برونٹے، والٹر اسکاٹ، ہر ڈر ، وکٹر ہیو گو کے نام خاصے اہم ہیں۔اردو میں رو مانیت کی بات کی جائے تو داستانوں، قصوں اور حکا یات میں اس کی جھلک زمانۂ قدیم ہی میں ملنی شروع ہو جاتی ہے۔ رومانیت ایک آ فاقی تصور ہے جو انسان کو اشرف المخلوقات بھی بناتا ہے۔ رو مانی شاعری میں انسان اپنی زندگی کی تعمیر کرتا ہے۔ رو مانی فن کا روں نے اپنے فلسفہ اور شاعری کے ذریعے انسانی جذبات کو پیش کیا ہے
ڈاکٹر ولا جمال العسیلی نے کہا کہ رو مانیت کا سب سے اہم اور بنیادی پہلو یہ ہے کہ رو مانی شاعری کی دنیا جدا ہوتی ہے۔یہ عشقیہ مضامین کو خوبصورتی سے پیش کر نے کا ایک ذریعہ ہے۔شاعر اور رومان کو الگ نہیں کیا جاسکتا۔شاعری کی روح رومان کے بنا تصور نہیں کی جاسکتی۔یہ رومانیت کا ہی جادو ہے کہ اسے پڑھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ قاری کبھی حسن مجازی اور کبھی حسن حقیقی کے مظاہرے سے رو برو ہے۔ مجازی اور حقیقی حسن کی تعریفیں قاری کو ایک لازوال مسرت عطا کرتی ہیں۔
اس مو قع پرڈاکٹر شاداب علیم،سیدہ مریم الٰہی،محمد شمشاد،عبد الواحد وغیرہ آن لائن جڑے رہے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

