ممکن ہے مری موت عین جوانی میں ہو
ہاں مجھے یہ خدشہ ہمیشہ کھائے جاتا ہے
میں چاہتی ہوں کہ اس دنیا سے
میں کسی کو ناراض کیے نہ جاؤں
میرے جانے کے بعد مرے نہ ہونے کا اک احساس باقی رہے
محبت کے دریچوں میں میرا نام بھی درج ہو
اور کوئی تو یہ محسوس کرے
کہ مری محبت بے لوث تھی
کوئی تو اپنی منڈیر پہ مرے پیغام کا منتظر رہے
ہاں کسی کو مرے نہ ہونے کا احساس باقی رہے
کہیں جب لفظ وفا آئے تو
مرا نام ذہنوں پر نقش ہو
کہیں لفظ بے لوث بے غرض آئے
تو مری محبت کا نقش ابھرے
کہیں جب ہوا کی بازگشت میں مرا نام گونجے
تو کسی کی آنکھیں نم ہوں
کوئی تو عام دستور سے ہٹ کر مجھے دیکھے
کوئی تو مرے زندہ رہنے کی دعا کرے
لیکن جب عین جوانی میں
مَیں حقیقی سفر پر لوٹ جاؤں
مجھے اک تسلی ہو کہ
مرا نام وفا کے خزانوں میں درج ہے
کوئی آج بھی اپنی منڈیر پر مرا منتظر ہے
کسی کی آنکھیں مرے جانے پر نم ہیں
ہاں کسی کو مری بےلوث محبت کا یقین ہے
ہاں کوئی تو مجھے کھونے پر افسرده ہے
کوئی روز مری قبر کی کھوج میں نکلتا ہے
اور اس کے ڈگمگاتے قدم جب مری قبر کی اور بڑھیں
تو اس کی آنکھیں آنسوؤں سے دھندلا جائیں
وہ پہروں مری قبر کے سرہانے بیٹھے مجھ سے باتیں کرے
شاید تبھی مری روح شاد ہو سکتی ہے!
ملائکہ اعوان
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

