Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
خصوصی مضامین

جمیل جالبی اور مطالعۂ شبلی – ڈاکٹر شاہ نواز فیاض

by adbimiras نومبر 18, 2021
by adbimiras نومبر 18, 2021 0 comment

جمیل جالبی(۱۹۲۹-۲۰۱۹)کا نام اردو زبان و ادب میں کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ انھوں نے تحقیق وتدوین میں جس طرح سے اپنی غیر معمولی صلاحیت کا عملی نمو نہ پیش کیا ہے، اس سے اردو زبان و ادب کے و قار میں یقیناً اضافہ ہوا ہے۔ انھوں نے ترجمے بھی کیے ، ارسطو اور ایلیٹ کے افکارو نظریات سے اردوداں طبقے کو روبرا کرایا۔ ادب اور کلچر کے حوالے سے ان کے کارمے بطور خاص پاکستان کے تناظر میں کافی اہم ہیں۔ ادب اطفال کے متعلق انھوں نے جو کچھ کیا ہے، اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ان کے کارناموں کی فہرست پر نظر ڈالی جائے تو اس بات کا خاطر خواہ اندازہ ہوتا ہے کہ کلاسیکی ادب اور جدیدادب دونوں پر گہری نگاہ تھی۔ دیوان حسن شوقی، دیوان نصرتی، مثنوی کدم راؤ پدم راؤ جیسے فن پاروں کی تحقیق وتدوین کی ہے تو کلیات میراجی کو بھی شائع کرایا۔ میر تقی میر کے حوالے سے قلم اٹھایا تو ن۔ م۔ راشد اور میراجی کے کلام پر بھی اپنی رائے کا اظہار کیا۔لیکن ان سب کے باجود ان کا سب سے اہم کارنامہ’تاریخ ادب اردو‘ہے۔

’’تاریخ ادب اردو‘‘ حالیہ برسوں میں شائع ہونے والی اہم تاریخ ادب اردو میں اس کتاب کا شمار ہوتا ہے۔ البتہ اس کتاب کے ابتدائی حصے پر تبصرہ کرتے ہوئے رشید حسن خاں نے بہت سے کمزور حصوں یا غلطیوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔اس سے جمیل جالبی نے بہت سی چیزوں پر از سر نو غور و فکر کیا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس کتاب کی’تاریخ ادب اردو‘ کے باب میں اپنی اہمیت ہے۔ جمیل جالبی نے اس کتاب کی ترتیب اس طرح سے دی ہے:

(۱)جلد اول قدیم دور آغازسے ۱۷۵۰ تک۔

(۲)جلد دوم اٹھارویں صدی۔

(۳)جلد سوم۱۸۰۱ سے ۱۸۵۰ تک۔

(۴)جلد چہارم۱۸۵۱ سے ۱۹۰۰ تک(یہ جلد دو حصوں پر مشتمل ہے)

اس کے علاوہ جلد پنجم جو ۱۹۰۱ سے ۲۰۰۰ تک پر محیط ہے، عنقریب شائع ہوگی۔

جلد چہارم کے حصہ دوم میں جمیل جالبی نے علامہ شبلی نعمانی پر بہت تفصیل سے لکھا ہے۔ شبلی نعمانی کے عنوان سے چھ الگ الگ ضمنی موضوعات کے تحت تقریباً۵۳ صفحات میں شبلی کے کارناموں کا جائزہ لیا ہے۔ اس حصے کا پہلا موضوع ہی جمیل جالبی کے غیرجانبدارانہ رویے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ سمجھ سے پرے یہ ہے کہ ایسے تمام لوگوں کو شبلی کے ساتھ عطیہ فیضی کیوں نظر آتی ہیں۔ حالات زندگی، عطیہ فیضی، شخصیت مزاج کے تعلق سے لکھتے ہوئے انھوں نے عطیہ فیضی کو حالات زندگی کے تحت جو لکھنا تھا، لکھتے، اس طرح سے عنوان ہی میں عطیہ فیضی کا نام لکھنا یہ غیرمناسب کے ساتھ ساتھ تعصبانہ ذہنیت سے بھی تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ انسان کی زندگی میں بہت سے ایسے پہلو ہوتے ہیں ،جو وقتی حقیقت سے تعبیر کیے جاسکتے ہیں ،اور کچھ ایسے وقتی پہلو ہوتے ہیں جن کا تعلق محض قیاس پر مبنی ہوتا ہے۔ عطیہ فیضی والا معاملہ بھی قیاسی ہے۔ لیکن اس تعلق سے ابتدا میں جن لوگوں نے لکھا تھا، جمیل جالبی جیسے لوگ بھی اسی سوچ میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اب اس طرح کی قیاسی باتوں سے اوپر اٹھ کر حقیقت میں آنا چاہیے۔ جو لوگ علامہ شبلی کے ساتھ عطیہ فیضی کے رشتے کوجوڑتے ہیں، وہی لوگ جب علامہ اقبال کے تعلق سے لکھتے ہیں تو کیوں جانبداراور متعصب ہوجاتے ہیں۔ یہ کون سی غیرجانبداری کا رویہ ہے، جس طرح سے لوگ بشمول جمیل جالبی ’’موازنۂ انیس ودبیر‘‘ کے تعلق سے لکھتے ہوئے شبلی کو انیس کا طرفدار کہتے ہیں، جب عملی طور پر یہ لوگ بھی کچھ لکھتے ہیں تو یہاںیہ لوگ بھی کسی نہ کسی کے طرفدار نظر آتے ہیں۔ شبلی نے جو کام سو سال پہلے کیا تھا،اس پر لوگ انگلی اٹھاتے ہوئے بھی خود کو اس رویے سے الگ نہیں کرسکے۔جمیل جالبی کا انداز ملاحظہ ہو، جو علامہ شبلی اور عطیہ فیضی کے حوالے سے لکھاہے:

’’شبلی پر لکھنے والوں نے عطیہ فیضی سے ان کے دلی لگائو (عشق) کو دبانے، چھپانے یا نظرانداز کرنے کی اکثر کوشش کی ہے لیکن یہ عشق ان کی زندگی کا اہم جز تھا، اس لیے اس سے صرف نظر کرنا کسی طرح مناسب نہیں ہے۔ اس عشق نے ان کی فارسی شاعری کو نیا رنگ اور تازہ روپ دیا ہے۔ عطیہ کے نام ان کے خطوط سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ احتیاط سے کام لے رہے ہیں اور کھل کر اظہار نہیں کررہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ خود عطیہ انھیں ’’بے ہمت‘‘ کا طعنہ دیتی ہیں۔‘‘ (۱)

یہاں جمیل جالبی نے جس احتیاط کا ذکر کیا ہے اور اس تعلق سے انھوں نے علامہ شبلی کے خطوط سے مثال بھی دی ہیں، لیکن ان اقتباسات کے پڑھنے سے کہیں بھی ایسا نہیں لگ رہا ہے کہ علامہ شبلی احتیاط سے کام لے رہے ہیں۔ جسے احتیاط کا نام دیا گیا ہے، اس کو بہ نظر غائر دیکھا جائے تو ان جملوں سے بھی شبلی کی صاف گوئی کا اندازہ ہوتا ہے۔

جمیل جالبی نے اسی حوالے سے یہ بھی لکھا ہے کہ عطیہ فیضی سے شبلی نعمانی کے دلی لگاؤ کو اکثر لوگوں نے چھپانے اور نظر انداز کرنے کی کوشش کی ہے۔ جمیل جالبی کا یہ کہنا کہ شبلی کے عشق کو چھپانے اور نظر اندازکرنے کی اکثر کوشش کی گئی ہے، کہاں تک درست معلوم ہوتا ہے؟امین زبیری سے شیخ اکرام تک اسی حوالے سے کام کرتے رہے، اس پر مستزاد یہ کہ بابائے اردو مولوی عبد الحق نے شبلی کو کیا کچھ نہیں کہا۔ مولوی عبد الحق کے نزدیک شبلی کی کتابوں کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔ اس لیے یہ کہنا کہ چھپایا گیا ہے، کسی بھی طور قابل قبول نہیں۔ تقریباًایک صدی سے اس حوالے سے لکھا جا رہا ہے، اس کی تازہ مثال خود جمیل جالبی کی تحریریں ہیں۔ کاش عطیہ فیضی والے معاملہ کو سمجھا گیا ہوتا تو اتنی باتیں نہ کہی گئی ہوتیں۔ الزام کو اس طرح سے تراشا گیا کہ وہ سچ کا قالب اختیار کر گیا، لیکن’ وقت بہت بے رحم ہوتا ہے، سب کا فیصلہ کر دیتا ہے۔‘ ظاہر ہے کہ جن خطوط کی بنیاد پر شبلی کو عاشق بنا کر پیش کیاگیا، در اصل اس میں ایسا کچھ نہیں ہے، جس سے کچھ ثابت کیا جا سکے۔ لیکن انسان جو دیکھنا چاہتا ہے بعض حالات میں آنکھیں وہی دکھا دیتی ہیں، جن کو محض سراب سے تعبیر کیا جا نا چاہیے۔ کاش کہ جمیل جالبی اس نگاہ سے ان خطوط کا مطالعہ نہ کرتے تو ان کی رائے یقیناً کچھ اور ہوتی۔

تاریخ نویسی کے حوالے سے لکھتے ہوئے جمیل جالبی نے ان کی تاریخ نویسی پر بھی تنقید کی ہے۔ یہاں جمیل جالبی کے پیش نظر ایک صدی قبل کا زمانہ ہونا چاہیے۔ اس کے بعدعلامہ شبلی کی کتابوں کا جائزہ لیں توپھر ہر کوئی ان کے کاموں کی داد دے گا۔ انسان کو علمی کاموں میں تعصب سے نہیں دیانتداری سے کام لینا چاہیے۔ البتہ تنقید کے حوالے سے لکھتے ہوئے انھوں نے لکھا ہے:

’’شبلی کے یہاں اصول تنقید تفصیل کے ساتھ سامنے آتے ہیں اور ’’عملی تنقید‘‘ میں مذاق سخن اس طرح نمایاں ہوتا ہے کہ شعروادب کا ایسا ستھرا ذوق کہیں اور مشکل سے دکھائی دیتا ہے۔ شعرالعجم کی جلد چہارم و جلد پنجم کی مدد سے شبلی کا ’’فن شاعری‘‘ (بوطیقا) مرتب کیا جاسکتا ہے۔ ان کی ادبی تنقید میں فکری عناصر بھی نمایاں ہیں اور کلام میں مزاج کے باوجودتنگ دلی اور شدت کا پتا نہیںچلتا۔‘‘(۲)

مندرجہ بالااقتباس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جمیل جالبی نے شبلی کے اصول تنقید سے کافی متاثر ہیں، لیکن انھوں نے اس کی وجہ ان جملوں میں بیان کی ہے ’’عاشق مزاجی‘‘ نے ان کے ادبی رنگ میں ایک گھلاوٹ وشیرینی پیدا کردی ہے۔‘‘ (صفحہ:۱۰۹۰) یہاں جمیل جالبی پھر اپنے طے شدہ نتیجے کے اعتبار سے وہیں پہنچ گئے، جس کا حقیقت سے دور کا بھی رشتہ نہیں ہے۔

جمیل جالبی نے شبلی کی تنقید،تحقیق اور تاریخ نگاری کے حوالے سے اہم گفتگو کی ہے۔ موازنہ انیس ودبیر پر اردو کے بہت سے ناقدین نے اعتراض کیا ہے، لیکن جمیل جالبی کی رائے اس سلسلے میں لوگوں سے مختلف ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’شبلی فصاحت و بلاغت کے اصولوں سے مراثی انیس کا مطالعہ کر کے پہلی بار انیس کی عظمت کو ابھارتے ہیں۔ ’’موازنہ‘‘ سے پہلے انیس کی شاعری کا اس طور پر اور اس انداز نظر سے مطالعہ نہیں ہوا تھا۔ جدید اصول تنقید سے روایتی معیار شاعری پر کسی شاعر کے کلام کو پرکھنا، اردو تنقید میں یہ شبلی کی اولیت ہے۔ شبلی نے کثرت سے مثالیں دی ہیں اور ان مثالوں سے، مختلف عنوانات کے تحت مراثی میر انیس لا بہترین انتخاب سامنے آجاتا ہے۔ اس سے بہتر انتخاب کلام انیس کا ا سسے پہلے کبھی نہیں ہوا۔ یہی وہ تصنیف ہے جس نے بیسویں صدی میں میر انیس کی شاعرانہ عظمتوں کو نزدیک ودور تک پہنچایاہے۔‘‘(۳)

موازنہ انیس ودبیر کے تعلق سے حامد حسن قادری کا نظریہ ملاحظہ فرمائیں:

’’ہم نے اپنی تالیف ’’تاریخ مرثیہ گوئی‘‘ میں مرزا دبیر کے مختلف مرثیوں سے طویل ومسلسل اقتباسات لکھ دیے ہیں، جن میں وہ ’’فصاحت وبلاغت‘‘ جس کو علامہ ممدوح کہتے ہیں کہ دبیر کے کلام کو چھو بھی نہیں گئی۔ ایسی اعلی ہے کہ اگران بندوں کو میر انیس کے کلام میں ملادیا جائے تو پہچان مشکل ہے۔ موازنہ کا فن یہ تھاکہ علامہ مرزا صاحب کے کلام کا بالاستیعاب مطالعہ کرنے کے بجائے ایک دو واقعات یا چند اشعار کے وہ تمام یا اکثر حصے پیش کرتے، جہاں دبیر انیس سے بڑھ کر یا برابر کامیاب ہوئے ہیں، یہ ہوتا تو پھر ان سے کوئی شکایت نہ ہوتی اور ’’ترجیح انیس‘‘ کے متعلق ان کی رائے پھربھی درست ہی رہتی۔‘‘(۴)

یہاں حامد حسن قادری بالکل صحیح بات کی طرف اشارہ کررہے ہیں ،لیکن وہ بھی انیس کو ہی دبیر پر ترجیح دے رہے ہیں، ورنہ یہ کہنا کہ دبیر کے کچھ کلام کو انیس کے بندوں میں ملادیں تو فرق کرنا مشکل ہوگا، یہاں ان کی ان باتوں سے دو صاف مطالب نکالے جاسکتے ہیں، ایک تو یہ کہ انیس کے مقابلے میں دبیر کے فصیح وبلیغ کلام بہت کم ہیں اور دوسرے یہ کہ انیس کے کلام کا زیادہ تر حصہ فصیح وبلیغ ہے۔ اگر اس کی طرف حامد حسن قادری اشارہ کررہے ہیں تو پھر وہ بھی وہی کہہ رہے ہیں،جو شبلی نعمانی نے اپنی کتاب میں کہا ہے۔جمیل جالبی نے موازنہ کا مطاعہ مرثیہ تنقید کی تاریخ کے حوالے سے کیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ موازنہ کی وجہ سے انیس ودبیر کے کلام کا لوگوں نے جائزہ لیا۔ ایک طرح سے موازنہ کے ذریعے شبلی نعمانی نے موضوع فراہم کر دیا، بعد کے لوگوں نے اس کی توسیع کی۔ جمیل جالبی نے ایک نئے زاویے سے موازنہ کا مطالعہ پیش کیا اور اپنے معروضات پیش کیے ہیں۔

جمیل جالبی نے شبلی نعمانی کے تعلق سے اہم گفتگو کی ہے۔ ان کے کارناموں کا مختصراً جائزہ بھی لیا ہے۔ تاریخ ادب اردو میں مختصراً ہی جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ اس میں تاریخی حوالے گفتگو ہوتی ہے۔ تفصیل کی گنجائش نہ کے برابر ہوتی ہے۔ باوجود اس کے جمیل جالبی نے شبلی ، متعلقات شبلی اور کارنامۂ شبلی کے حوالے سے اپنی گرانقدر رائے کا اظہار کیا ہے۔ شبلی کی اولیات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے:

’’شبلی نعمانی اپنے وقت کے جید عالم تھے اور جدید محقق کی حیثیت سے بھی ان کا درجہ بلند تھا۔ علم تحقیق ان کی تنقید کا بنیادی مزاج ہے جس میں وہ تاریخی رنگ کو اجاگر کرکے اپنی ادبی تنقید کو ایک نئی صورت دے دیتے ہیں۔ اس لحاظ سے وہ ایزرا پاؤنڈ کی اصطلاح  میں اردو کے پہلے’’محقق نقاد‘‘(Scholar Critic)ہیں۔ ‘‘  (۵)

آگے لکھتے ہیں:

’’شبلی واضح کرتے ہیں کہ فارسی میں عربی کی اصل شاعری کی تقلید نہیں کی گئی اور پھر وہ موضوعات سامنے لاتے ہیں جو اردو تنقید میں نئے باب کھولتے ہیں جیسے نظام حکومت کا شاعری پر اثر، فوجی زندگی کا اثر، اختلافِ معاشرت کا شاعری پر اثر وغیرہ۔ یہاں بھی وہ یورپ کی سماجی تنقید(sicial Criticism)سے واقف نہ ہونے کے باعث اپنی ہی روایت کا سہارا لیتے ہیں مگر اہم بات یہ ہے کہ شبلی سے پہلے اس راستے پر اردو کا کوئی نقاد نہیں چلا اور یہی اردو تنقید میں ان کی غیر معمولی اہمیت ہے۔ قابل توجہ بات یہ بھی ہے کہ جن مشترک موضوعات پر شبلی بحث کرتے ہیں وہ اسے حالی سے بہت آگے لے جاتے ہیں۔‘ ‘  (۶)

شبلی نعمانی کے مضامین یا ان کی دوسری تحریروں پر نظر ڈالیں تو اس کا واضح ثبوت ملے گا کہ ان کا مذاق سخن بہت اعلی تھا، ان کا نقطۂ نظر عالمانہ ہونے کے ساتھ ہمہ گیر بھی تھا۔ اس کا اظہار بھی جمیل جالبی نے بہت خوبی سے کیا ہے۔

جمیل جالبی نے شبلی کی تصانیف پر اپنی رائے کا اظہار جس طرح سے کیا ہے، اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ شبلی کی تنقید اور تحقیق سے بے حد متاثر ہیں۔ انھوں نے شبلی کی تحریروں پر اپنی رائے کا اظہار کچھ اسی انداز میں کیا ہے۔

جمیل جالبی نے موازنۂ انیس و دبیر پر تنقید کرتے ہوئے اس بات کا اظہار کیا ہے کہ شبلی نعمانی موازنہ کی حد تک کامیاب نہیں ہیں، لیکن انھوں نے عملی تنقید کا بہترین نمونہ پیش کیا ہے۔ جمیل جالبی نے شبلی کو انیس کی پسندیدگی کا بھی اظہار کیا ہے۔ان کے نزدیک شبلی کا یہ کارنامہ(موازنۂ انیس ودبیر)اردو تنقید میں سنگ میل کا درجہ رکھتا ہے اور یہ ہمیشہ باقی رہے گا۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ اردو کے دوسرے نقادوں نے موازنۂ انیس و دبیر کو اپنی تنقید کا نشانہ بنایا، اس نشانے میں اچھی باتیں بھی منفی بن کر رہ گئیں۔ جب کہ جمیل جالبی نے بہترین تنقید کا نمونہ پیش کیا۔ جو باتیں قابل اعتراض ہیں، اس پر اعتراض بھی کیا، لیکن اس میں انھوں نے بہت سی ایسی چیزیں بھی تلاش کیں، جو یقیناً اردو تنقید کی اس روایت کو مزید مستحکم کرتی ہے۔ جمیل جالبی حالی اور شبلی کی تنقید کے مابین فرق کو اس طرح سے نمایاں کیا ہے:

’’الطاف حسین حالی کی طرح شبلی نعمانی بھی اس دور کے اہم ادبی نقاد ہیں جنھوں نے اردو ادب کے رنگ ومزاج کو بدلنے کا کام کیا ہے اور جدید ادبی تنقید کو تذکرہ نویسی کی روایت کی جگہ لا کھڑا کیا ہے۔ ان دونوں نقادوں کی تعلیم مشرقی انداز پر ہوئی تھی۔دونوں فارسی وعربی زبانوں سے تو واقف تھے لیکن انگریزی زبان نہیں جانتے تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مغربی اثرات ساری تہذیبی وفکری سطح پر تیزی سے چھا رہے تھے۔ان دونوں نے اردو ادب کے مستقبل کی آنکھیں روشن کرنے کی خدمت انجام دی۔ حالی اور شبلی کے انداز نظر میں بنیادی فرق یہ ہے کہ حالی انگریزی معیار ادب کو اپنا کر اس میں مشرقی طرز تنقید کا ملاتے ہیں۔ ان کے بر خلاف شبلی مشرقی معیار تنقید کو بنیاد بناکر اس میں اس میں مگربی فکر کا امتزاج کرتے ہیں۔ اس طرح امتزاج تو حالی اور شبلی دونوں کرتے ہیں لیکن دونوں کے امتزاج کی نوعیت ورنگ میں اسی لیے فرق ہے کہ دونوں کے طرز تنقید کی بنیادیں الگ الگ ہیں۔‘‘(۷)

اس بات میں کو شک نہیں کہ حالی و شبلی نے اردو تنقید کو بام عروج عطا کیا۔ دونوں کا نقطۂ نظر کچھ بھی رہا ہو، لیکن انھوںنے زبان و ادب کی غیر معمولی خدمات انجام دیں۔ تنقید کو معیار کے ساتھ ساتھ حسن بھی عطا کیا۔

شبلی نعمانی کی اہم تنقیدی تصنیف’’شعر العجم‘‘ہے۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے حافظ محمود شیرانے نے بہت سی غلطیوں کی نشاندہی کی ہے۔ لیکن غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے انھوں نے جس طرح سے شبلی کو ’مورخانہ اور محققانہ فرائض کی نگہداشت ‘سے غافل بتایا ہے، وہ کسی طور بھی درست نہیں ہے۔جمیل جالبی نے بھی کچھ اسی طرح کا اظہار کیا ہے، وہ لکھتے ہیں:

’’شبلی کی دوسری اہم تنقیدی تصنیف’’شعر العجم‘‘ہے جو پانچ جلدوں پر مشتمل ہے۔ حالات سوانح کے تعلق سے اس میں تحقیق کی بہت سی غلطیاں ہیں۔ شبلی نے دلچسپ واقعات اور روایات کو خاص پر، بغیر چھان پھٹک کے، شعر العجم میں شامل کر دیا ہے۔‘‘(۸)

یہاں جمیل جالبی نے شعرالعجم سے زیادہ تنقید شعر العجم سے استفادہ کیا ہے، اسی لیے انھوں نے وہی باتیں کہی ہیں، جو محمود شیرانی نے کہی تھیں۔ شبلی کے مزاج کے خلاف تھا کہ وہ کسی بات کو بغیر چھان بین کے لکھ دیں۔ انھوں نے تنقید کے ساتھ ساتھ تحقیق کو بھی معیار عطا کیا۔ اس لیے یہ کہنا کہ شبلی نے غیر ذمہ داری کا ثبوت دیا، یہ شبلی کے مزاج کے خلاف ہے۔ غلطی کا امکان ہوتا ہے، لیکن اس غلطی میں کسی کو غیر ذمہ دار ٹھہرانا، یہ مناسب نہیں۔

یہاں ان اسباب کا بھی ذکر لازمی ہے، جس کی وجہ سے وہ ادبی مورخین جن کا تعلق پاکستان سے ہے، انھوں نے شبلی نعمانی کو عطیہ فیضی کے ساتھ اس طرح سے پیش کیا ہے، جیسے شبلی کے اس متعلق پہلے پہل وہی لکھ رہے ہیں۔ ایسے میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ آخر وہ کون سے ایسے اسباب ہیں جسے موجودہ زمانے کے محققین بھی شبلی نعمانی کواسی طرح سے پیش کر رہے ہیں جس طرح سے آزادی سے پہلے اور آزادی کے معاً بعد پیش کیا گیا تھا۔ ایسے میں شبلی نعمانی کے سیاسی رجحان کو بھی سمجھنا ضروری ہے۔ اس تعلق سے شبلی شناسی کے امین ڈاکٹر الیاس الاعظمی نے بہت اہم نکتہ کی طرف اشارہ کیا ہے۔ بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ انھوں نے اپنے اس مضمون میں شبلی اور عطیہ فیضی کے تعلقات کی حقیقت کو نہ صرف واضح کیا ہے، بلکہ انھوں نے ایسے لوگوں کی گرفت بھی کی ہے جو ان دونوں کے تعلقات کو الگ ہی نام دینے کی کوشش کرتے تھے یا کر رہے ہیں۔ الیاس الاعظمی کا اقتباس ملاحظہ فرمائیں:

’’چونکہ شبلی کے بارے میں عام رائے یہی ہے کہ وہ کانگریس کے حامی اور مسلم لیگ کے سخت مخالف تھے اس لیے دو قومی نظریہ کے ایک مخالف کے لیے اس کی داستان معاشقہ بیان کرنے سے زیادہ لطف ولذت کی اور کیا چیز ہو سکتی تھی چنانچہ پاکستان کے چند ایک سنجیدہ اہل قلم کے سوا بیشتر اہل قلم نے شبلی کو ایسا ہی سمجھا اور لکھا جیسا کہ مولوی عبد الحق، منشی امین زبیری اور ڈاکٹر وحید قریشی نے سمجھا تھا۔ حتی کی ڈاکٹر جمیل جالبی جیسے نامور اہل قلم نے بھی تاریخ ادب اردو میں شبلی کے ذکر میں پہلے عطیہ کا ذکر کیا ہے بعد ازاں ان کی خدمات کا بیان ہے۔‘‘(۹)

بحیثیت مجموعی کہا جاسکتا ہے کہ ادبی مورخین نے شبلی کو اپنی اپنی تاریخی کتابوں میں بڑے منظم طریقے سے پیش کیاہے۔ اپنے دائرہ کے حساب سے اختصار واستفسار سے کام لیا ہے۔ اگر موضوعاتی اعتبار سے کسی نے تاریخ ادب اردو لکھی ہے تو اس میں کئی حصوں میں شبلی کے تعلق سے لکھا گیا ہے۔ کسی نے سفرنامے کے حوالے سے لکھا تو کسی نے تنقید اور شاعر کی حیثیت سے، علامہ شبلی نعمانی کی مقبولیت کااندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ رام بابو سکسینہ سے لے کر جمیل جالبی تک تقریباً نوے سال پر محیط عرصہ، شبلی کی مقبولیت کی دلیل ہے۔ ان تاریخی کتابوں کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ تھوڑے اختلاف کے ساتھ سبھی لوگوں نے تقریباً وہی رائے دی ہے۔ البتہ کہیں کہیں اختلاف بھی نظر آتا ہے، کسی نے تاریخ نویسی کے حوالے سے اہم نام وکام میں شمار کیا ہے، تو کسی نے ان کے کام کی تنقید کی ہے اور یہی کسی بھی شخص کی مقبولیت کی سب سے بڑی پہچان ہے۔ اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ شبلی اور تاریخ ادب اردو لازم وملزوم کی حیثیت رکھتے ہیں۔جمیل جالبی کے کے تعلق سے یہ بات کہی جا سکتی ہے وہ شبلی کے مطالعے میں کہیں کہیں جانب دار بھی ہو گئے ہیں۔ جس سے شبلی کی ذاتی زندگی کے تعلق سے وہی باتیں دہرا دی گئی ہیں، جو پچھلے تقریباً سوسال سے کہی جا رہی ہیں۔ باوجود اس کے یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ انھوں نے تاریخی جائزہ لیتے ہوئے بھی بہت تفصیل سے اپنے معروضات پیش کیے ہیں۔

 

حواشی

(۱)(تاریخ ادب اردو، جلد چہارم (حصہ دوم) جمیل جالبی ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی، ۲۰۱۳، صفحہ:۱۰۶۵)

(۲) (ایضاً، صفحہ:۱۰۹۰)

(۳)(ایضاً۔ص، ۱۰۹۲)

(۴)(داستان تاریخ اردو، حامد حسن قادری، اشاعت سوم،۲۰۰۷، آفسٹ پریس دہلی، صفحہ:۷۴۷)

(۵)(تاریخ ادب اردو، جلد چہارم (حصہ دوم)۔ص،۱۰۹۰)

(۶)(ایضاً۔ ص،۱۰۹۵)

(۷) (ایضاً۔ ص، ۱۰۸۹)

(۸)(ایضاً۔ص، ۱۰۹۲)

(۹)(شبلی و عطیہ: چند حقائق…….ڈاکٹر محمدالیاس الاعظمی۔ایوان اردو،دہلی۔جون،۲۰۱۹۔ص،۶)

 

 

    Dr.Shahnewaz Faiyaz

sanjujmi@gmail.com-

9891438766

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

 

 

0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
اگر اللہ کے رسولﷺآج کی عورتوں کو دیکھ لیتے – ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی
اگلی پوسٹ
خواہش – ملائکہ اعوان

یہ بھی پڑھیں

گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

جولائی 26, 2025

نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا...

فروری 1, 2025

لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا...

جنوری 21, 2025

بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست...

جنوری 21, 2025

بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو –...

جنوری 21, 2025

اردو کی زبوں حالی – ماریہ غزال

جنوری 18, 2025

مظفر فہمی “پر ایک طائرانہ نظر- ڈاکٹر منصور...

جنوری 6, 2025

دار المصنفین – ڈاکٹر ظفرالاسلام خان

اکتوبر 8, 2024

دارالمصنفین کی مالیات کا مسئلہ : کیا کوئی...

اکتوبر 7, 2024

سچ، عدم تشدد اور مہاتما گاندھی – سید...

اکتوبر 3, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں