شعبۂ اردو سی سی ایس یومیں’’انفارمیشن ٹیکنا لوجی :اہمیت وافادیت‘‘ پر آن لائن پرو گرام کا انعقاد
میرٹھ20؍ نومبر2021ء
ڈیجیٹل لا ئبریریز ہوں، بزنس ہوں یا پڑھنے اور پڑھا نے کا کام ہو بغیر ٹیکنا لوجی کے ہم کامیاب نہیں ہو سکتے۔ انفارمیشن کی وجہ سے آج چودھری چرن سنگھ یو نیورسٹی میںE-Content دیگر یو نیورسٹیز کے مقابلے میں بہت آگے ہے یعنی پانچویں نمبر ہے۔ یہ الفاظ تھے صدر شعبۂ لائبریری سائنس اور چودھری چرن سنگھ یو نیورسٹی کے ڈپٹی لائبریرین پروفیسر جمال احمد صدیقی کے جو شعبۂ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی اور بین الاقوامی نوجوان اردو اسکالرز انجمن(آیوسا) کے زیر اہتمام منعقد ’’انفارمیشن ٹیکنا لوجی:اہمیت و افادیت‘‘ موضوع پر خصوصی مقرر کی حیثیت سے اپنی تقریر میں آن لائن ادا کررہے تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ آج ٹیکنا لوجی کی ہی مہربانی ہے کہ اساتذہ اور طلبا کی سبھی علمی دشواریوں کو بڑی آ سانی سے حل کررہا ہے خواہ وہ گوگل ہو،زوم ہو،فیس بک ہو، انسٹا گرام ،وہاٹس ایپ ہو یا دیگر ویب سائٹس سبھی نے انسانی زندگی کے لیے کامیابی کی نئی نئی راہیں کھول دی ہیں۔
اس سے قبل پرو گرام کا آغازفاروق شیروانی نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔اس ادب نما پروگرام کی سر پرستی معروف ادیب عارف نقوی ، جرمنی اور صدر شعبۂ اردو،چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی،میرٹھ پروفیسر اسلم جمشید پوری نے فرمائی اور صدارت کے فرائض سابق پرنسپل ڈی این ڈگری کالج ڈاکٹر بی ایس یادو نے فرمائی۔نظامت کے فرائض ڈاکٹر ارشاد سیانوی اور شکریے کی رسم سیدہ مریم الٰہی نے ادا کی۔
اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے آیو سا کے سر پرست محترم عارف نقوی نے کہا کہ’’ آج وقت کی ضرورت ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی طرف مائل ہو ۔آج ہمارے پاس یو ٹیوب،فیس بک،میسینجر وغیرہ بہت کچھ ہے اور ہم ان تمام چیزوںسے بڑی حد تک کامیاب ہو سکتے ہیں۔ ایک طرف ہم اس سے بڑا فائدہ اٹھا سکتے ہیں اگر یہ ٹیکنالوجی غلط ہا تھوں میں چلی گئی تو پو ری دنیا اس سے متاثر ہو سکتی ہے۔
اپنے صدارتی خطبے میں ڈا کٹر بی ایس یادو نے کہا کہ آج کے زمانے میں جس طرح انسان کو جینے کے آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح انسانی زندگی کو سنوارنے کے لیے، کامیابی کے راستے پر چلنے کے لیے انفارمیشن کی ضرورت ہو تی ہے۔ آج چھوٹے چھوٹے بچے انفارمیشن ٹیکنا لوجی کے ذریعے بڑی بڑی معلومات حاصل کررہے ہیں جس چیز کو ہم حاصل کر نے کے لیے ایک ایک ماہ خرچ کر دیتے تھے اب بچے اسی چیز کو منٹو میں حاصل کر لیتے ہیں۔ اپنے رزلٹ، بزنس، جنرل یوز کی چیزوں میں انفارمیشن ٹیکنالوجی نے یہ ثا بت کردیا ہے کہ اس کے بغیر زندگی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔
اس مو قع پرڈاکٹر آصف علی،محمد شمشاد،عبد الواحدگلناز، فرح ناز وغیرہ آن لائن جڑے رہے۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

