‘انداز نظر میرا’ اور خورشید اکرم کا تنقیدی اسلوب – مالک اشتر
ریاضی کے بعد مجھ طالب علم کو جو چیز پڑھنے سے سب سے زیادہ خوف آتا ہے وہ ہے ادبی تنقید۔ ایسا نہیں ہے کہ ادب سے شغف نہ ہو۔ شاعری تو شروع سے ہی کمزوری سی بن گئی تھی سو کسی بھی درجہ کا کلام جہاں ملا چاٹ لیا۔ فکشن میں بھی جو کچھ میسر ہو پڑھ ہی لیتا ہوں چاہے وہ ‘ہما’ والا ہو یا پھر ‘شب خون’ ٹائپ۔۔لیکن ادبی تنقید؟ نہ جانے کیوں اسے پڑھنے کی جب بھی کوشش کی اپنی ناسمجھی کے احساس کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلے دنوں خورشید اکرم کی کتاب ‘انداز نظر میرا’ کھولتے ہوئے ذہن ایسی ہی ناکامی کے خدشے میں مبتلا تھا۔ یہ کتاب ادبی تحریروں کا مجموعہ ہے اور خود مصنف نے یہیں سے بات شروع کی ہے۔
"۔۔ان میں سے بعض تحریروں نے نسبتا کم درجہ کی ہی سہی، مجھے تخلیقی سرشاری دی ہے۔ گو یہ کسی نہ کسی طور پر تنقید کے زمرے میں ہی رکھے جا سکتے ہیں۔” (‘عرض مصنف’ ص 9)
تنقید کا نام پڑھتے ہی ذہن کو بہت سے شبہات نے آ گھیرا۔ بھاری بھرکم اصطلاحات ہوں گی، ہر دوسری سطر میں کسی مغربی مفکر کا نام آئے گا، ہر دسویں سطر میں کسی بڑے بدیسی مصنف کے اقوال ملیں گے اور جابجا مغربی فکشن کے کرداروں کا (بلاوجہ) ذکر پایا جائے گا۔۔۔لیکن واقعہ یہ ہے کہ اس کتاب نے نہ صرف میرے اندیشے غلط ثابت کئے بلکہ یہ بھی ظاہر کیا کہ خورشید اکرم کے فکشن کے ساتھ ساتھ ان کا تنقیدی اسلوب بھی خلاقی اور انفرادیت لئے ہوئے ہے۔ یہاں نقاد اپنی الگ بوطیقا کھول کر ‘انوکھی بصیرت’ کی دھاک جمانے نہیں بیٹھتا بلکہ فن پارے کی گرہیں کھولنے میں قاری کی مدد کرنے والا بن کر وارد ہوتا ہے اور اس کا بنیادی سروکار فن پارے کا ایماندارانہ احتساب ہے۔ گویا یہاں ‘دل رکھنے’ جیسے تکلفات کا آپشن ہی نہیں ہے۔ ویسے خورشید اکرم سے شناسائی رکھنے والے جانتے ہیں کہ وہ دل بڑھانے میں وشواس رکھتے ہیں لیکن اپنی تنقید نگاری کے عمل میں وہ بے رحمی کی حد تک بے باک ہو جاتے ہیں۔ اس کا انہیں خود بھی خیال ہے لیکن ملال ہرگز نہیں۔
"میں جان بوجھ کر کسی کو آزار پہنچانے کا قائل نہیں۔ اس کے باوجود اگر ایسا ہوتا ہے تو میں اپنے لکھے ہوئے لفظ، بالخصوص جب کہ وہ سوچ سمجھ کر لکھے گئے ہوں، واپس نہیں لے سکتا۔” (‘عرض مصنف’ ص 10)
یہ کتاب تقریبا دو درجن مضامین سمیٹے ہوئے ہے۔ کتاب کے پہلے دو مضمون ظفر اوگانوی اور عرفان صدیقی کے بارے میں ہیں۔ ان میں شخصیات کی صلاحیت کا کھلے دل سے اعتراف تو ہے لیکن جہاں ضرورت پڑی کمزوریوں کی نشاندہی کرنے میں تکلف بھی نہیں برتا گیا۔ شائد یہی وجہ ہے کہ ان مضامین پر نرم و گرم ہر طرح کا ردعمل خوب آیا۔ ان دونوں ہی مضامین کو بیان کے قرینے نے اس قدر دلچسپ بنا دیا ہے کہ قاری تحریر کے اثر میں جکڑ جاتا ہے۔ خصوصا ظفر اوگانوی پر لکھا گیا مضمون سیاسی اور دنیاوی مصلحتوں کے سبب ایک فن کار کے ذہن میں برپا نظریاتی انقلاب کا نوحہ معلوم ہوتا ہے۔ مضمون میں ایک خاص منزل پر پہنچ کر فلیش بیک کا سہارا لے کر گویا بیانیہ کو کلائیمیکس پر پہنچا دیا گیا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے یہ ایک بڑے فنکار کی طبعی موت سے پہلے اس کی نظریاتی موت کا قصہ ہے۔ اس اہتمام کی داد دیجئے کہ پورے مضمون میں ظفر اوگانوی کا ذکر کمال احترام سے کیا گیا لیکن ان کے یہاں فکر و فن میں جو کچھ اچھا برا برپا ہوا اس کا تذکرہ بھی کر دیا گیا۔
ایسی ہی ندرت عرفان صدیقی کے بارے میں لکھے گئے مضمون کا زیور ہے۔ وہی احترام وہی علمیت کا اعتراف۔۔لیکن جب بات آئی تو ان کے شاعرانہ معیار میں آئی نقاہت کا ذکر بھی کر ڈالا۔ چھوٹی چھوٹی یادوں کو بڑے سلیقے سے مضمون میں پرویا گیا ہے۔ مثال کے طور پر تین دوستوں کی ان سے آخری ملاقات کا قصہ ایسا جذباتی ہے کہ دل بھر آتا ہے۔
اس کتاب میں فکشن کی تنقید کو جتنے مفصل انداز میں جگہ ملی ہے وہ اس لئے بھی فطری ہے کہ خود خورشید اکرم کا بنیادی سروکار فکشن ہی رہا ہے۔ حق یہ ہے کہ اردو فکشن کا ذوق رکھنے والوں کے لئے یہ بڑے کام کی کتاب ہے۔ اس میں فکشن کی تاریخ اور جدید منظر نامے کا احاطہ تو ہے ہی زمانے کے ساتھ ساتھ اس میں برپا تغیرات کی خوبیوں اور خامیوں کو بھی بڑے جامع ڈھنگ سے واضح کیا گیا ہے۔ اس عمل میں جہاں ضرورت پڑی سخت محاکمہ بھی کر دیا گیا۔ مثال کے طور پر جدیدیت کی تحریک کے زور میں فروغ پائے علامتی اور تجریدی کہانیوں کے رواج پر یہ تبصرہ دیکھئے۔
"افسانہ نگار ذات کے اندھے کنویں میں اتر گیا۔ اس نے کہانی کو ہی نہیں قاری کو بھی بالکل رد کر دیا۔ صنعتی اور شہری تہذیب کے بھوت کو ان افسانہ نگاروں نے اپنے سر پر اس طرح مسلط کر لیا کہ قاری افسانے سے بیزار ہو گیا۔ اردو افسانے کو ان کے دم سے سب سے بڑا نقصان یہ پہنچا کہ قاری غائب ہو گیا۔ ایسا نہیں کہ ان افسانہ نگاروں کے یہاں ٹیلینٹ کی کمی تھی۔ دراصل ان کے سامنے اپنے پیش روؤں کا اتنا بڑا متنوع اور وقیع افسانوی سرمایہ موجود تھا کہ ان کی ڈگر پر چل کر اپنی شناخت بنانا انتہائی دشوار تھا۔ اس لئے انہوں نے، کہا جا سکتا ہے کہ اسٹنٹ کی راہ اپنائی۔” (‘اردو افسانے کا سفر’ ص 50-51)
خورشید اکرم کا یہ تبصرہ 1960 کی دہائی سے متعلق ہے لیکن واقعہ یہ ہے کہ آج بھی ہمارے بہت سے فکشن نگاروں کے تجرید اور علامت کے انتہاپسندانہ رویوں سے یہی کچھ اسٹنٹ بازی چل رہی ہے۔ بطور قاری آپ کے سامنے دو راستے ہیں۔ یا تو جو کچھ لایعنی مواد (بنام فکشن) آپ کے سامنے ہے، اس سے اپنے مرغ تخیل کے پروں کی رسائی کے اعتبار سے عمدہ عمدہ مطالب کشید کیجئے اور سارا کریڈٹ تخلیق کار کو دے کر اپنی ادب شناسی کی سند لے لیجئے۔ دوسرا راستہ یہ ہے کہ آپ اس کو سمجھنے سے معذوری ظاہر کر دیں بدلے میں یہ پروانہ وصول کر لیجئے کہ ‘یہ شخص تو مہکتا آنچل ٹائپ کہانیوں کے ہی لائق ہے۔’ یہ واردات قاری کو ادب سے غائب کرنے جیسی ہی ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ میری اس رائے سے خورشید اکرم اتفاق کریں گے یا نہیں لیکن خود انہوں نے علامت اور تجرید کے نام پر افسانوں میں ہوئیں کچھ اور واردات کی بڑی جائز گرفت کی ہے۔ ان کی کتاب سے ایک اور اقتباس ملاحظہ ہو۔
"شاعری میں ایک اکیلا لفظ علامت بن سکتا ہے۔ افسانہ میں مجرد لفظ علامت نہیں بنتا۔ ایک پورا سچویشن، ایک پورا واقعہ اپنے پورے سیاق و سباق کے ساتھ بھلے ہی علامت بن سکتا ہے۔ علامتی عہد کے افسانہ نگاروں کی ناکامی کا غالبا ایک سبب یہ بھی رہا کہ وہ افسانہ میں لفظ کو اسی طرح علامتی مفہوم پہنانے کی کوشش کرتے تھے جس طرح شاعری میں ہوتا تھا یہ نہ ہو سکا اور ان کا افسانہ چیستاں بن گیا۔” (‘شوکت حیات کا افسانہ: گنبد کے کبوتر ایک مطالعہ’ ص 89)
خورشید اکرم نے جس مضمون میں یہ تبصرہ کیا وہ شوکت حیات کے سب سے مقبول افسانے کے بارے میں ہے۔ جب کوئی تخلیق ایسی غیر معمولی قبولیت حاصل کر لے تو پھر اس کا تنقیدی جائزہ مشکل ہو جاتا ہے لیکن خورشید اکرم کی دیانتداری اور حوصلہ کہئے کہ اس کہانی کے بعض کمزور پہلوؤں پر عمدہ گرفت کی ہے۔ اسی ضمن میں ذوقی کی کہانی ‘کاجو’ پر ان کا تنقیدی مضمون بھی مطالعے کی چیز ہے۔ ہرچند کہ ذوقی ان کے قریب ترین دوستوں میں تھے لیکن جب نقاد خورشید اکرم نے قلم سنبھالا تو دوستی کے تکلفات اور تقاضے نبھانے پر ادبی دیانتداری کو ترجیح دی۔ کہانی کے کئی حصوں میں پائے جانے والے سقم بیان کرنے کے بعد انہوں نے کہانی کے اختتام کو خاص طور پر موضوع بنایا اور اس پر تنقید کی۔ دیکھئے انہوں نے اس سلسلہ میں کتنی اہم بات کی نشاندہی کی۔
"سوچنا یہ ہے کہ کیا کہانی قاری کو مطمئن کرنے کے لئے لکھی جاتی ہے۔ میری ناقص دانست میں کہانی اپنے قاری کو پریشان کرنے کے لئے، اسے بے چین کرنے کے لئے لکھی جاتی ہے۔ مطمئن کرنے کے لئے گووندا اور متھن چکرورتی کی فلمیں کافی ہیں۔” (‘مشرف عالم ذوقی کا افسانہ : کاجو ایک تجزیہ’ ص 96)
فکشن کی تنقید کے باب میں خورشید اکرم نے غضنفر کے ناول ‘دویہ بانی’ پر بھی بات کی ہے۔ انہوں نے ناول کی خوبیوں کا مفصل ذکر کیا لیکن جہاں ضرورت ہوئی کوتاہیوں کی طرف اشارہ بھی کر دیا۔ مثلا لکھتے ہیں۔
"اردو میں دلت لٹریچر تقریبا نہ کے برابر لکھا گیا ہے۔ اس ناول کو پڑھتے ہوئے مجھے محسوس ہوا کہ یہ اردو کا پہلا دلت ناول ہو سکتا ہے لیکن مصنف شاید اپنا منشا بیان کرنے میں چوک گیا۔” (‘دویہ بانی (غضنفر کا ناول)’ ص 79)
تنقیدی مضامین کی اپنی کتاب میں غضنفر کے ناول کا تنقیدی مطالعہ کرتے ہوئے خورشید اکرم نے اس امر کی طرف اشارہ کیا کہ اردو تنقید میں ناول سے زیادہ افسانے چھائے رہے۔ انہوں نے یہ مضمون 2002 میں لکھا تھا اور اس کے بعد کے برسوں میں شائد صورتحال کچھ بہتر بھی ہوئی ہو لیکن اس وقت کے تنقیدی منظرنامے پر ناول کو نظر انداز سا کر دیا گیا تھا۔ خورشید اکرم نے اس مسئلہ کی نشاندہی بڑی بے تکلفی سے کی ہے۔
"وارث علوی جنہیں دنیا جہان کے بڑے ناولوں کے مطالعے کا دعوی ہے اپنی ساری استعداد منٹو اور بیدی پر صرف کئے بیٹھے ہیں۔ بچی کھچی توانائی عصمت چغتائی اور کرشن چندر پر لٹا دیتے ہیں، ناول پر لکھنے کا اگر انہیں کبھی خیال بھی آتا ہے تو وہ ‘راجہ گدھ’ کی مصنفہ بانو قدسیہ کی عصبیت زدہ مذہبی فکر پر اپنے لبرل افکار کا بخار اتار کر خاموش ہو جاتے ہیں۔” (ص 80-81)
‘انداز نظر میرا’ میں شاعری پر بھی آدھا درجن سے زیادہ تنقیدی مضامین ہیں۔ غزلوں کے روایتی تجزیے کے بجائے یہ مضامین شاعری سے متعلق کچھ باریک بحثوں کو آگے بڑھانے والے معلوم ہوتے ہیں مثلا ہندی شاعری کے بارے میں اردو شعری حلقے کے تعصبات کا جتنی مہارت سے جواب خورشید اکرم نے دیا ہے ویسا استدلال خود ہندی والوں نے بھی شائد کم ہی کیا ہوگا۔ خورشید اکرم کی خوبی ہے کہ ہندی شاعری کے بارے میں لکھتے ہوئے اردو کے اس مشہور ادیب کے یہاں لسانی انا کے بجائے فنکارانہ ایمانداری نمایاں ہے۔ جہاں لازم آیا انہوں نے ہندی شاعری کی عظمت کا اعتراف کیا اور اس پر ہونے والے بے جا الزامات کا بھرپور جواب دیا۔ معیار، زبان اور مضمون سے متعلق اردو شعری حلقوں کی ہندی کے بارے میں سخت آرا کے مدلل جوابات مضمون میں بھرے پڑے ہیں۔ ایک جگہ لکھتے ہیں۔
"اردو شاعری کا خمیر شہری تہذیب سے اٹھا ہے، یہ شاعری محلوں، درباروں سے لے کر امرا و شرفا تک میں پھلی پھولی۔ سماج کے ایک Polished طبقے میں جو شاعری پروان چڑھی ہو وہ شاعری لازما اتنی ہی Polished ہوگی، جتنی کہ اردو شاعری ہے۔ اس کے برعکس ہندی شاعری کا خمیر دیہی اور قصباتی تہذیب سے اٹھا ہے۔ یہ شاعری عوام الناس کے درمیان پلی بڑھی ہے جس کے پاس احساس و جذبات تھے، جسے اپنے دکھ سکھ کو اظہار دینے کی تڑپ تھی لیکن جس کے پاس اپنے اظہار کے لئے اتنی ترشی ترشائی زبان نہیں تھی۔” (‘نئی ہندی شاعری جام سفال اچھا ہے’ ص 100)
اس کتاب میں ہندی شاعری کے علاوہ نثری نظم کا مقدمہ بھی بڑی مضبوطی سے لڑا گیا ہے۔ ہر چند کہ میرے جیسے بہت سے لوگوں کے نثری نظم کے بارے میں بہت سے تحفظات ہیں جو شائد جلد رفع نہ ہوں لیکن خورشید اکرم کے استدلال کی خوبی یہ ہے کہ وہ ہم جیسے معترضین کو سوچنے پر تو مجبور کر ہی دیتے ہیں۔ ایک جگہ کہتے ہیں۔
"شاعری میں عروض و بحور کو اس درجہ اہمیت دینا کہ ایک اس کی عدم موجودگی کی بنا پر کسی متن کی تخلیقی قوت کا ہی انکار کر دینا گویا علم (عروض) کو فکر اور جذبے پر فوقیت دینا ہے۔۔۔۔یہ سمجھنے کی بات ہے کہ اردو جیسی ایک زبان جس میں غزل کو گوا کر سنتے اور محظوظ ہوتے ہیں، اس زبان میں ایسی شاعری یقینا مشکل سے قبول کی جائے گی جو گائی نہ جا سکے، سنائی نہ جا سکے بلکہ نظم اپنی سنجیدہ قرأت پر اصرار کرے۔” (‘نثری نظم کا جواز’ ص 120)
میں خود بھی اس اعتراض کو بے جا سمجھتا ہوں کہ نثری نظم لکھنے والے عروض و بحور کی پابندیوں کے ساتھ بات کہنے پر قادر نہیں ہیں۔ میرے سامنے پروین شاکر کی مثال موجود ہے جس نے پابند شاعری پر بلا کی قدرت رکھتے ہوئے بھی نثری نظمیں لکھیں۔ اس لئے میں نثری نظم کے پیرائے میں ہونے والے اظہار کو تخلیق کار کی نا اہلی نہیں بلکہ فارمیٹ کے چناؤ کے جمہوری حق کے طور پر دیکھتا ہوں۔ ان سب کے بعد بھی میں اس بات کو نظر انداز نہیں کر سکتا کہ اوزان کی قیود میں رہ کر بات کہنا آزاد گوئی سے بہرحال زیادہ مشکل ہے۔ خورشید اکرم نے اس مضمون میں ایسے نام گنوائے جو عروض کی پابندیوں میں بات کہنے پر قادر ہیں لیکن ان کے یہاں گہرائی نہیں (گویا عروض کی پابندی کو معیار پر اہمیت دینا بے جا ہے)۔ میں نثری نظم کا یکسر انکاری نہیں لیکن ایک سوال تو ضرور بنتا ہے کہ اگر دو شعرا ایک جیسی معیاری بات کہیں لیکن ان میں سے ایک نثری نظم ہو اور دوسری پابند تو کیا آپ عروض و بحور کی پابندیوں کے ساتھ بات کہنے والے کو ایک نمبر اضافی نہیں دینا چاہیں گے کہ اس نے قوائد کے فولڈ میں رہ کر وہی بات کہ دی جسے دوسرے نے کسی شعری پابندی کے بغیر کہا ہے؟۔ خیر یہ بحث لمبی ہے۔
‘انداز نظر میرا’ پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ جس طرح فکشن نگار اور شاعر خورشید اکرم کا تخلیقی انداز منفرد ہے ویسے ہی ان کا تنقیدی اسلوب بھی انفرادیت رکھتا ہے۔ ان کی تنقید نگاری نہ تو قصیدہ گوئی ہے اور نہ ہجو نگاری بلکہ یہ ایک ایسا عمل ہے جس میں تخلیق اور قاری کو ایک پیج پر لاکر ایماندارانہ اصول سے اس بات کی کھوج کی جاتی ہے کہ فن پارے کی زمین کے اندر کہاں خزانہ چھپا ہے اور کہاں صرف خاک کہ چاہے جتنا پھاؤرا چلاؤ گڑھا گہرا ہونے کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آنے والا۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
بہت بہت شکریہ اڈیٹر محترم صاحب، بہت ہی قیمتی مضامین ہمیں پڑھنے کو ملتے ادبی میراث پر۔
بہت شکریہ جزاک اللہ خیرا