شدّت/ معراج نقوی -ام ماریہ حق
"شدّت” معراج نقوی کی غزلوں کا پہلا مجموعہ ہے۔ اس کتاب کا انتساب انھوں نے اپنے والد ماجد سید شان حیدر نقوی اور استاد ڈاکٹر کیفی سنبھلی کے نام کیا ہے۔ ۱۲۵ صفحات پر مشتمل اس مجموعہ میں انھوں نے غزلیں، نظمیں، قطعات اور متفرق اشعار کو شامل کیا ہے۔ شاعری جیسا کہ مانا جاتا ہے احساسات کو زبان دینے کا نام ہے۔ اپنی شاعری میں معراج نے بھی اپنے تجربوں کو زبان دینے کی کوشش کی ہے، انکی شاعری میں احساسات کی گہرائیوں اور تجربوں کی سچائیوں کے تمام رنگ نظر آتے ہیں۔
تنگ دستی میں بھی مہمان نوازی کا چلن
بو نہیں جاتی میرے گھر سے زمینداری کی
نا دانیوں کی لزّتیں بھی چھین لی گئی
یعنی ہمیں زمانے نے چالاک کر دیا
مت لکھو لفظ عشق اس پہ ابھی
دل کا کاغذ بڑا ہی گیلا ہے
وسعتوں بھی ہیں تلاطم ہے بھنور ہیں مجھ میں
میں سمندر ہوں بڑے لعل و گہر ہیں مجھ میں
"شدّت” میں معراج نقوی کی ۷ نظمیں بھی
شامل ہیں۔
شام، انجام، عیادت، ندامت، ہوا کا جھونکا، صداۓ دل اور کون ہوں میں۔ ایک مختصر نظم جس کا عنوان شام ہے پیش خدمت ہے۔
اس نے انبر کو ڈس لیا ہے ابھی
نیلا نیلا ہے سب بدن اس کا
اب وہ زہریلی اک سیہ ناگن
بڑھ رہی ہے
جو آفتاب کی سمت
زرد ہے خوف سے بدن اس کا
کتاب کے آخری حصے میں قطعات اور متفرق اشعار کو جگہ دی گئی ہے ایک قطعہ پیش نظر ہے۔
مقام ایسے بھی آئے ہیں زندگانی میں
کہ جان دے کے بھی عزت بچانی پڑتی ہے
یہی مزاج ہے معراج اس زمانے کا
شریف ہونے کی قیمت چکانی پڑتی ہے
کہ سکتے ہیں کہ "شدّت ” کے شاعر معراج نقوی زندگی کی تمام تر تلخیوں کو سمیٹنا چاہتے ہیں ان کی شاعری میں امید، عشق، خوشی کے ساتھ ساتھ غم اور محرومی کی موجودگی تجسّس اور تفکر کو راہ دیتی ہے۔ مجھے امید ہے کہ مجموعہ کلام شدّت قبول عام کی سند حاصل کرے گا۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
محترمہ امہ ماریہ حق کا تبصرہ اچھا ہے لیکن تشنگی کا احساس ہوتا ہے۔