میرٹھ یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں’’ اقبال فکرو فن کے آئینے میں ‘‘موضوع پرآن لائن پروگرام کا انعقاد
میرٹھ7؍ جنوری2022ء
’’غالبؔ کے طرز کلام سے اقبال بہت متاثر تھے۔غالبؔ کےTraditionکو اقبال نے استعمال کیا۔ساتھ ہی نو جوانوں کے لیے روحانی تصورات اور تصوف کو عام کرنے میں بھی ان کی شاعری نے نمایاں کردار ادا کیا۔ اقبال نے مذہب کی روایت کو بھی آ گے بڑھایا۔ اقبال کے فکرو فن پر رومی کے اثرات واضح طور پر نظر آتے ہیں۔ یہ الفاظ تھے سابق صدر شعبۂ اردو،جامعہ ملیہ اسلامیہ،نئی دلّی کے پرو فیسرقاضی عبید الرحمن ہاشمی کے جو شعبۂ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی اور بین الاقوامی نوجوان اردو اسکالرز انجمن(آیوسا) کے زیر اہتمام منعقد ’’اقبال فکرو فن کے آئینے میں‘‘ موضوع پر اپنی تقریر میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے آن لائن ادا کررہے تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ علامہ اقبال کا بڑا کار نامہ یہ ہے کہ انہوں نے زندگی کے ایسے حقائق کو جو کوئی دوسرا شاعر پیش نہیں کرسکا وہ اقبال نے کر دکھایا۔ زندگی کے جذبات کو اپنے کلام کے ذریعے پیش کیا اور یہی اقبال کا بڑا معجزہ ہے۔انہوں نے نہ صرف ماضی، حال کی مثالیں پیش کیں بلکہ مستقبل کی مثالیں بھی پیش کیں جو ہر آنے والے عہد میں بھی مشعل راہ بنتی رہیں گی۔ ساتھ ہی انہوں’’شعر اقبال کا مرکزی استعارہ رومی‘‘ کے عنوان سے ایک خطبہ بھی پیش کیا جسے بہت سرا ہا گیا۔
اس سے قبل پرو گرام کا آغازایم ۔اے کے طالب علم محمد فاروق شیروانی نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔بعد ازاں سعید احمد سہارنپوری نے علامہ اقبال کی غزل مترنم آواز میں پیش کی ۔اس ادب نما پروگرام کی صدارت کے فرائض معروف ادیب عارف نقوی ، جرمنی نیانجام دیے ۔ استقبالیہ کلمات ڈاکٹر آصف علی ،نظامت کے فرائض ڈاکٹر شاداب علیم اور شکریے کی رسم سیدہ مریم الٰہی نے انجام دی۔
ڈاکٹر ارشاد سیانوی نے پروفیسر قاضی عبد الرحمن ہاشمی کا تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ شعبۂ تعلیم کے ماہرین میں جن چند اور اہم علمی شخصیات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ان میں قاضی عبد الرحمن ہاشمی کا نام اہمیت کا حامل ہے۔ آپ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں تقریباً36برس تک تدریسی خدمات انجام دیتے رہے۔آپ تین بار صدر شعبہ رہے اور متعدد مرتبہ ڈین فیکلٹی آف آرٹس کے عہدے پر بھی فائز رہے۔آپ کی آدھا درجن کتابیں منظر عام پر آکر مقبول ہو چکی ہیں۔ آج آپ کے طالب علم پوری دنیا میں جہالت کی تاریکی مٹاکر علم کے نور سے ضیاء باری کررہے ہیں۔
اس ادبی اجلاس کی میز بانی کے فرائض انجام دیتے ہوئے صدر شعبۂ اردو پرو فیسر اسلم جمشید پوری نے کہا کہ آج کا یہ ادبی پروگرام ایسی شخصیت پر ہے جنہوں نے اپنے دب کے ذریعے ملک و قوم کی تعمیر میں حصہ لیاہے اور جب کوئی ادیب مفکر دانشور اور ماہر تعلیم بھی ہوتا ہے تو اس کے ادب کے آ فاق بدل جاتے ہیں۔ علامہ اقبال اپنے زمانے میں بھی رہے اور بعد میں بھی مقبولیت کے نئے آسمان سر کیے اور یہ سب مقصدیت کی شاعری کے سبب ہوا۔ان کے فن، اسلوب ،شاعری اور افکار سے پوری قوم متاثر ہوئی ہے۔ ان کے حکیمانہ خیالات اور فلسفیانہ نظریات نے شاعری کی نئی راہیں روشن کی ہیں۔انہوں نے جہاںسماج کے ہر فرد کے لیے شاعری کی وہیں بچوں کی نفسیات کے عین مطابق شاعری کی جو نہایت ہی مشکل عمل ہے ۔مجھے لگتا ہے کہ پوری اردو دنیا اور دیگر زبانوں میں حب الوطنی پر جنہوں نے سب سے زیادہ لکھا ہے وہ اقبال ہے۔ اس طرح ان کا کلام بچوں سے لے کر پوری دنیا تک پھیل جاتا ہے۔
اپنی صدارتی تقریر میں آ یو سا کے سر پرست اعلیٰ عارف نقوی نے کہاکہ اقبال کا اہم کا رنامہ یہ ہے کہ انہوں نے مغرب کی قوت عمل کو مشرق کی روحانیت سے ملا کر پیش کیا ہے۔یوں تو اقبال کی شاعری کے ہزارہا گوشوں کو منظر عام پر لایا جاچکا ہے ۔ان کی شاعری کو اسلام کی تشریح ، قرآن کی تفسیراور فکر و فلسفوں کی تعبیر بھی کہا گیا ہے۔لیکن علامہ اقبال کے نزدیک ترقی کا راز یہ ہے کہ قومیں اپنی زندگی کو سنوارنے کے لیے مسلسل جدو دجہد کرتی رہیں ساتھ ہی اپنے اعمال کا بھی احتساب کرتی رہیں اور زمانے کے مطابق اپنے اعمال کو ڈھالتی رہیں۔یہی ترقی کا راستہ ہے۔
اس مو قع پر پروگرام میںمحمد شمشاد، شا ہانہ، فیضان ظفر،عبد الواحد اور دیگر طلبہ وطالبات آن لائن جڑے رہے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

