پروفیسر احمد شاندار کے انگریزی غزلیہ مجموعے کا اجرا اور شعری نشست کا انعقاد
(نئی دہلی): پروفیسر احمد شاندار بنیادی طور پر بایو انفارمیٹکس کے ایک ممتاز سائنس داں ہیں۔ اس میدان میں ان کے چار ہزار سائٹیشن ان کا ایک غیرمعمولی کارنامہ ہے۔ اس کے باوجود وہ شعر و ادب، موسیقی اور دیگر فنونِ لطیفہ کے علاوہ مختلف علوم و فنون سے بے پناہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ اس حوالے سے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ مستقبل کی دنیا میں شعر و ادب کے امکانات روشن ہیں۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر احمد شاندار کی انگریزی غزلوں کے مجموعے کا اجرا کرتے ہوئے عہدِ حاضر کے ممتاز شاعر پروفیسر شہپر رسول نے کیا۔ اس موقع پر پروفیسر احمد شاندار کی رہائش گاہ لوٹس اسپیسیا، نوئیڈا میں شعری نشست کا بھی انعقاد کیا گیا۔ جس میں صدرِ محفل پروفیسر شہپر رسول کے علاوہ پروفیسر احمد شاندار، ڈاکٹر احمد نصیب خان، معین شاداب، ڈاکٹر رحمان مصور، ڈاکٹر خالد مبشر اور سفیر صدیقی نے اپنا معیاری کلام پیش کیا

۔ ذیل میں نمونۂ کلام ملاحظہ ہو:
اپنے مزاج ہی میں کہاں تھا قیام و نام
سب یہ سمجھ رہے تھے کہ دنیا کریں گے ہم
(شہپر رسول)
افق کو بانٹ کے بیٹھے ہیں تارے سیارے
ہوا ہے عرش بھی اب تنگ بستیوں کی طرح
(احمد شاندار)
ناخنوں میں ہاتھوں کے
پھانس کی چبھن ہوگی
ہاتھیوں کے پیروں میں
آبلے پڑے ہوں گے
ایندھنوں میں چولہوں کے
دیمکیں لگی ہوں گی
پانیوں کی رانی کو
جنگلوں کے راجہ کو
اک سیہ مرض ہوگا
(احمد نصیب خان)
ان سے ملنے کی خوشی بعد میں دکھ دیتی ہے
جشن کے بعد کا سناٹا بہت کھلتا ہے
(معین شاداب)
کہاں تھا جنگ کا میدان اور کہاں دشمن
ہم ایسی جنگ میں ہارے ہیں جو لڑی ہی نہیں
(رحمان مصور)
بھٹک رہا ہے مِرے سر کا بوجھ اٹھائے ہوئے
مِرا جنون کسی سنگ کی تلاش میں ہے
(خالد مبشر)
بے خودی میں رفتہ رفتہ کھینچ لائی اپنے ساتھ
ایک رسّی پیڑ کے جھولے سے پنکھے تک مجھے
(سفیر صدیقی)
نشست کی نظامت کے فرائض معین شاداب نے انجام دیے اور اختتام میزبان پروفیسر احمد شاندار کے اظہارِ تشکر پر ہوا۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

