’’ایک عورت کی نوٹ بک‘‘ کا تنقیدی جائزہ – ڈاکٹرابراہیم افسر
ادب میں تانیثیت(Feminism) کی بحث مغرب کی مرہون منّت ہے۔نئی عورت کے وجود اور اس کے تشخص پر جتنی تحریکات و تصنیفات وجود میں آئیں وہ سب مغربی مفکرین کے اور سوشل ریفارمرس کی جد و جہداور کاوشوں کا نتیجہ ہیں۔جوں جوں تانیثی ادب تخلیق کیا گیا ویسے ویسے تانیثی تنقید(Feminism Critics) بھی وجود میں آئی۔ ورجینا وولف اور سیمون دبوارنے اپنی تحریروں میں عورتوں کی ثقافتی شناخت اور معاشرے میں عورت کے مخصوص اور محدود کردار، مسائل اور ان کے حل پر باقاعدہ بحث کی ۔ دیگر مصنفین نے نسوانی جنسیت اور خانگی تشددکو موضوعِ بحث بنایا ۔ مغربی مفکرین کی نظر میں عورت اپنے جسم،ساخت اور جسم کی بدلتی حالتوں کے سبب مرد سے مختلف ہے ۔جس کی رو سے عورت جنسی، جسمانی اور نفسیاتی طور پر مرد سے مکمل طور پر علاحدہ شناخت رکھتی ہے۔اس لیے تانیثیت کے علم برداروں،مصنفین اور مفکرین نے مذکرہ بالا باتوں کو خواب بینی ،رومانیت ،مثالیت،باغیانہ اور مفاہمانہ رویے سے تعبیر کیا۔بیسویں صدی کے تیسرے دہے کے بعد ہندوستان میں تانیثی ادب پر خاص زوردیا جانے لگاتھا۔لیکن تقسیمِ وطن کے بعد اس میدان میں خوب کار ہائے نمایاں انجام دیے گئے۔
ہندی اور اُردو ادب میں عورتوں کے مسائل پرجو بحث و مباحثہ ہوا اس کے برآمد شدہ نتائج ہمیں یہی بتا رہے ہیں کہ عورتوں پر ظلم و تشدّد کرنا مردوں کا پیدایشی حق ہے۔ایسا نہیں ہے کہ تمام مرد،عورتوں پر ظلم و تشدد کرتے ہیں۔کہیں کہیں خلافِ توقع دیکھنے میں یہ بھی آتا ہے کہ عورتیں بھی مردوں کا استحصال کرتی ہیں۔حالاں کہ ایسے معاملے معاشرے میں خال خال رو نما ہوتے ہیں۔البتہ روزانہ اخبارات و رسائل اور ٹی۔ وی خبروں میں عورتوں پر ہونے والے ظلم و ستم کی کہانیاں پڑھنے ،سننے اور دیکھنے کو ملتی ہیں۔انھیں واقعا ت کو جب کوئی ادیب با ضابطہ طورپرتحریر یا کتابی صورت میں پیش کرتا ہے تو اس کا اثر دیر پاہوتا ہے۔ آزادی کے بعد ہمارے ملک میں ایسے کئی قانون بنائے گئے جن میں عورتوں کے اوپر کیے تشدد کو جرم قرار دیا۔ہندوستان میں خواتین کمیشن کو اسی غرض سے بنایا گیا کہ عورتوں کے اوپر ہونے والے ہر طرح کے تشدد کی روک تھام کی جائے اور مجرمین کو ان کے کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔لیکن حقیقت اس کے بر عکس ہے۔خانگی اور معاشرتی تشدد کی روک تھام کے لیے مرکزی حکومت نے 2006 میں قانون پاس کیاتاکہ معاشعرے میں خانگی تشدد کی شرح میں کمی آئے لیکن نتیجہ صفر کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔عالمی سطح پر بھی عورتوں کی آزادی کا نعرہ بلند کیا گیا۔اس کے لیے عالمی پیمانے پر سمینار اور سمپوزیم کا انعقاد کیا جاتا ہے۔نسائیت کی آزادی کے نام پر ’’میرا جسم میری مرضی‘‘کے فلک شغاف نعرے اور ہاتھوں میں تختیاں لے کر سڑکوں پر جوہنگامہ کیا جاتا ہے یہ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ہمارے ملک میں بھی ایسی تنظیمیں سرگرم ہیں جن کا مقصد صرف اور صرف نسائی آزادی کو فروغ دلانا ہے۔ادیبوں کی بھی کئی تنظیمیں اس میدان میں سرگرم ہیں ۔لیکن اس کے باوجود معاشعرے میں مردوں کی بالا دستی قائم و دائم ہے۔اسی کے سبب مرد کو عورت کا نگہ بان تسلیم کیا گیاہے ۔یہاں یہ سوال بھی قائم کیا جا سکتا ہے کہ کیا مرد کی نگہ بان عورت کیوں نہیں ہو سکتی؟اس سوال پر کئی لوگ خفگی کا اظہار بھی کر سکتے ہیں۔اس موقع پر مجھے پطرس بخاری کی کی وہ تحریر یاد آ رہی ہے جس میں انھوں نے لکھا تھا کہ عورت مرد نہیں بن سکتی ،مرد عورت نہیں بن سکتا۔‘‘لیکن جدید میڈیکل سائنس نے اس کارنامے کو بھی کر دکھایا ۔اب عورتیں اپنے جسم کی ساخت بدلواکر مرد بن رہی ہیں اور مرد اپنے جسم کے خاص حصے کو تبدیل کر انے کے بعد عورتوں کی زندگی جی رہے ہیں۔ہمارا مقصد اس بحث کا رُخ تبدیل کرنا نہیں ہے۔بنیادی بات یہی ہے کہ عورت کو ہی کیوں بار بار اگنی پریکشا سے گزرنا پڑتا ہے مرد کو کیوں نہیں؟ان چھبتے ہوئے اور تیکھے سوالوں کو سُدھا اروڈا نے زیر نظر کتاب میں بار بار قارئین سے معلوم کیا ہے۔انھوں نے اپنے تجربات اور عملی قواعد سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ معاشعرے میں جتنا حق ایک مرد کا ہے اس سے کہیں زیادہ حق عورت کا ہے۔محترمہ نے اس کتاب میں کوئی بناوٹی یا خیالی دنیاکی باتیں تحریرنہیں کیں بلکہ انھوں ذاتی مشاہدات کے سہارے اُن سوالات کا جواب تلاش کرنے کی کوشش جن کا تعلق نسائی ادب یا تانیثی اصول و نظریات سے ہے۔موصوفہ نے ایسے سمیناروں اور ورکشاپوں کا تذکرہ کیا جن میں وہ محض اس لیے گئی تھیں کہ وہاں پر عورتوں کے حقوق کی باتیں عورتوں کی زبانی ہو رہی تھیں۔لیکن جب مصنفہ نے عورتوں پر ہونے والے جسمانی ،معاشی اور نفسیاتی تشدد کے بارے میں منتظمین اور مقررین سے سوالات معلوم کیے تو انھیں کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا گیا۔
مصنفہ پولس اسٹیشنوں ،فیملی کورٹ کے علاوہ پارکوں،کارخانوں،اسکولوں ،مزدروں کی رہایش گاہوں پر بھی گئیں تاکہ عورتوں پر ہونے والے تشدد کی باریکیوں سے روبرو ہو سکیں۔وہ اُن عورتوں سے بھی ملیں جن کی شادی ہوئے ایک زمانہ ہو گیا لیکن انھیں آج بھی ذہنی تشدد کا شکار بنایا جا رہا ہے۔انھوں ایسے گھروں کی عورتوں سے بھی ملاقاتیں کیںجو صاحبِ اولاد تھیں، جن کے پاس بنگلہ،بینک بیلنس، کاریں ،مہنگے موبائل،مہنگے کپڑے ،نوکر چاکر الغرض زندگی کی عیش و عشرت کا ہر سامان موجود تھا۔اس کے باوجود ان کے شوہروں کا برتاؤ ان کے تئیں ناقابل احترام تھا۔کیوں کہ ان کے شوہر جسمانی،قلبی،نفسیاتی اور ذہنی آسودگی کے لیے رات رات بھر گھر سے دور رہتے تھے۔سُدھا اروڑا نے مہذب معاشرے کی ان غیر مہذب حرکتوں کا نفسیاتی تجزیہ پیش کرتے ہوئے عورتوں کی داخلی کیفیت کو طشت از بام کیا ہے۔مصنفہ نے ایسی عورتوں سے بھی ہمیں متعارف کرایا ہے جنھوں نے اپنے بیمار شوہروں اور گھریلوں ذمہ داریوں کا باراپنے شانوں پر اٹھایا ہوا ہے۔ان کی نظر میں ایسی ہی عورتیں معاشرے میں تبدیلی لانے کی محرک ہوتی ہیںبھلے ہی ان کی تعداد قلیل ہی کیوں نہ ہو۔اس بارے میں سُدھا اروڑا رقم طراز ہیں:
’’اگر خواتین کی قلیل تعداد سماج میں اعلا مقام حاصل کر نے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ تسلیم کر لیا جا تا ہے کہ اب عورتیں دوسرے درجے سے باہر نکل گئی ہیں اور اپنے حق کی آواز بلندکر نے لگی ہیں ۔لیکن سچ تو یہ ہے خواتین کی یہ تعداد ایک یا دو فیصدسے زیادہ نہیں ہوتی ہے اور آج بھی معاشرے میں عورتوں کا ایک بڑا طبقہ مشکلات سے دوچار ہے ۔ جو بھی دو فیصدخواتین نسوانی معاشرے میں تبدیلی لانا چاہتی ہیں ،چاہے ان کی وابستگی سیاست سے ہو ،پولس سے یا عدالتی امور سے ہی کیوں نہ ہو انھیں ہمیشہ پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ ا ن کے فیصلے کو ہمیشہ غیر ضروری سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے ۔‘‘
سُدھا اروڑا نے اپنی کتاب میں انگریزی اخبارات و رسائل کے اُن رپورٹوں کا بھی حوالہ پیش کیا جن میں عورتوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی روداد اور اعداد و شمارپیش کیے گئے ہیں۔ہندوستان کے میٹروپولیٹن شہروں میں مقیم اعلا عہدوں پر فائز عورتوں کی کہانی بھی انھوں نے اس کتاب میں شامل کی۔بالخصوص ان کی محبوب ترین مصنفہ منّو بھنڈاری (و:15نومبر2021) سے جب انھوں نے یہ سوال معلوم کیا کہ کیا بات ہے کہ آپ کے نسوانی کرادر اذیت سے گزرنے کے باوجود مفاہمت اختیار کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ زندگی کی تلخیوں کو محسوس کرنے کے بعد بھی بغاوت نہیں کرتیں ۔انھوں نے برجستہ کہا تھا ’’یہ بتائو سماج میں کتنی عورتیں ہیں جو اپنے حقوق کے لیے باغیانہ تیور کے ساتھ نکل آتی ہیں ؟جب اصل زندگی میں ایسانہیں ہوتا توہم کہانی میں کیسے دکھا سکتے ہیں ۔‘‘خود منّو بھنڈاری پچپن میں اپنے گھر پر خانگی تشدد کی شکار رہی ہیں۔انھوں نے لکھا ہے کہ ان کے والد ان سے صرف اس وجہ سے محبت نہیں کرتے تھے کہ ان کا رنگ کالا تھا جب کہ ان کی بڑی بہن سے سب لوگ اس وجہ سے دلار کرتے تھے کہ اس کا رنگ گورا تھا۔لیکن ان کی والدہ نے ان کی شخصیت اور کردار سازی یہاں تک کہ ان کے مصنفہ بننے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
سُدھا اروڑا نے عورتوں کو اپنے گھروں میں عزّت سے جینے کی تلقین کی ہے۔ان کا ماننا ہے کہ ہر عورت کو یہ حق ہے کہ شادی کے بعد اس کے شوہر کا گھر ہی اس کا اصل گھر ہوتا ہے۔لیکن موصوفہ نے اپنے تجربے اور پولس اسٹیشنوں میں درج ہونے والے مقدمات کی بنا پر یہ ثابت کیا کہ ہندوستانی معاشرے میں ابھی بھی ایسے افراد موجود ہیں جو عورتوں کو صرف اس وجہ سے اپنے گھروں سے نکال باہر کرتے ہیں کہ انھوں نے ان کی مرضی کا کھانا نہیں بنایا،یا چائے میں چینی کم ڈالی یا عورت نے اپنے شوہر کی پسند کا کھانا شام کے وقت نہیں بنایایاعورتوں کو اس وجہ سے بھی گھر سے نکال دیا گیا کہ انھیں صرف لڑکیاں پیدا ہوئیں لڑکا پیدا کیوں نہیںہوا۔کبھی کبھی تو معمولی نوک جھونک بھی طلاق کا سبب بن جاتی ہے۔موصوفہ چاہتی ہیں کہ ہمیں مذکورہ بالا رویوں کو بدلنا ہوگا۔ان کی نظر میں مردکے مقابلے عورت کی پسندکا خیال رکھا جانا بے حد ضروری ہے۔کیوں کہ وہی معاشرے کے نظام میں ریڑھ کی ہڈی کا کام کرتی ہے۔کیا کسی معاشرے کا وجود اور استحکام کا تصورکسی عورت کے بغیرممکن ہے۔ہر گز نہیں؟سُدھا اروڑا لکھتی ہیں کبھی کبھی مردوں کو بھی عورتوں کی پسند کا خیال رکھنا چاہیے۔موصوفہ اس ضمن میں رقم طراز ہیں کہ گھر میں چھوٹی چھوٹی باتوں پر عورتوں کی بے عزتی کرنا خانگی تشدد کی انتہا ہے۔بار بار دل شکن باتوں سے عورت کے وقاراور تشخص کو مجروح توکیا جاتا ہی ہے ساتھ ہی اسے جو ذہنی و نفسیاتی اذیت سے دو چار ہونا پڑتا ہے وہ صورت ناقابل برداشت ہوتی ہے۔مصنفہ کا اس بارے میں زور دے کر کہتی ہیں کہ عورت اور مرد کی خانگی زندگی میں اگر ایک بار درار آ گئی تو اسے بھرنا ای مشکل امر ہے۔وہ تا عمر اس بات کا خیال رکھتی ہے کہ کہیں سبزی میں نمک زیادہ تو نہیں ڈالا گیا یا چائے میں چینی کم تو نہیں یا آج شام کے کھانے میں صاحب کی پسندیدہ سبزی کے ذائقے میں کوئی کمی بیشی تو نہیں آئی ہے۔
بہر نوع!ڈاکٹر ظفر عالم نے سُدھا اروڑا کی کتاب’’ایک عورت کی نوٹ بُک‘‘کااُردو ترجمہ بڑی جاں سوزی کے ساتھ کیا ہے۔انھوں نے اس ترجمے میں نفسِ مضمون اور منشائے مصنف کا خاص خیال رکھا ہے۔ہندی اصطلاحوں کا ترجمہ انھوں نے اُردو زبان و ادب کی اصطلاحوں کے ساتھ سلیقگی کے ساتھ کیا ہے۔موصوف نے ہندی زبان کے مشکل الفاظ کو سہل اور آسان زبان میں پیش کرنے کی کامیاب سعی کی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ڈاکٹر ظفر عالم نے اپنی محنت شاقہ سے ’’ایک عورت کی نوٹ بُک‘‘کو اُردو میں منتقل کیا ہے وہ قابل ستائش اور قابل رشک ہے۔موصوف نے سُدھا اروڑا کی اجازت کے بعد ہی کتاب کا ترجمہ کیا ہے۔ڈاکٹر ظفر عالم نے اپنے لیے ترجمے کے میدان کا انتخاب کیا جو اس بات کی دلیل ہے کہ وہ ہندی اور اُردو ادب کی فنی باریکیوں سے بہ خوبی واقف ہیں۔اس کتاب کے منصہ شہود پر لانے کے لیے میں موصوف کو بہ صمیم قلب مبارک باد پیش کرتا ہوں اور اُمید کرتا ہوں کہ ڈاکٹر ظفر عالم مستقبل میں اپنا ادبی سفر یوں ہی رواں دواں رکھیں گے۔
ڈاکٹرابراہیم افسر
نگر پنچایت سِوال خاص،میرٹھ(یو۔پی)
18/11/2021
===
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

