جماعت اسلامی ہند ، ابو الفضل انکلیو (جنوب) کے امیر مقامی برادر مکرّم ظہور صاحب نے بتایا کہ ہم نے اپنے ایریا کی مساجد کے ائمہ کو دوپہر کے کھانے پر مدعو کیا ہے ، اس کے بعد مختصر پروگرام ہوگا اور خواہش کی کہ میں بھی اس میں شریک ہوں _ میں نے جواب دیا : ان شاء اللہ ضرور حاضر ہوں گا _
برادر جاوید عالم ندوی کی تلاوت سے پروگرام کا آغاز ہوا _ استقبالیہ کلمات جناب نعیم رضا نے پیش کیے _ مولانا انعام اللہ فلاحی ، معاون مرکزی تعلیمی بورڈ جماعت اسلامی ہند و سکریٹری شعبۂ اسلامی معاشرہ حلقہ دہلی نے ائمہ کا استقبال کیا اور مساجد کی اہمیت پر مختصر گفتگو کی _ پھر خواہش کی گئی کہ ائمہ حضرات ‘معاشرہ کی تعمیر و ترقی میں مساجد اور ائمہ کا کردار’ کے عنوان پر کچھ اظہارِ خیال کریں _ چار مینار مسجد کے امام مولانا بلال صاحب ، مسجد شانِ الٰہی کے امام مولانا عبد اللہ صاحب اور بعض دوسرے ائمہ نے اختصار کے ساتھ کچھ باتیں رکھیں ، لیکن پھر سب کہنے لگے کہ ہم تو مولانا رضی الاسلام ندوی صاحب سے سننے آئے ہیں _ یہ سن کر مجھے خوشی ہوئی کہ ائمہ حضرات ، جو مختلف مساجد میں امامت و خطابت کے فرائض انجام دیتے ہیں ، مجھ سے اتنی محبّت کرتے ہیں _ میں نے اپنی گفتگو میں درج ذیل نکات پیش کیے :
(1) مساجد کو اسلامی معاشرہ میں مرکزیت حاصل ہوتی ہے _ یہ مسلمانوں کے روحانی مراکز ہیں _ یہاں سے ان کو انرجی حاصل ہوتی ہے _ جس طرح چھاؤنی میں رہنے والے ہر فوجی کو سائرن بجتے ہی پریڈ کے لیے حاضر ہونا لازمی ہے ، اسی طرح ہر مسلمان کے لیے روزانہ پانچ وقت مسجد میں حاضری ضروری قرار دی گئی ہے _
(2) قرآن مجید میں مساجد کا ذکر کیا گیا ہے ، انہیں آباد کرنے کی تلقین کی گئی ہے اور ان میں اللہ کا ذکر کرنے کا حکم دیا گیا ہے _
(3) اللہ کے رسول ﷺ نے مدینہ ہجرت کی تو پہلا کام مسجدِ نبوی کی تعمیر کا کیا _ اس سے پہلے آپ قبا میں بھی مسجد قائم کرچکے تھے _ اس سنت پر عمل کرتے ہوئے جہاں بھی کچھ مسلمان آباد ہوتے ہیں وہاں وہ مسجد تعمیر کرنے کی ضرور کوشش کرتے ہیں _
(4) بہت سے مسلمان نماز سے غافل ہیں ، لیکن ان کے دل میں مسجد کا احترام پایا جاتا ہے _ انہیں مسجدوں سے جوڑنے کی کوشش کرنی چاہیے _
(5) مسجدوں کا استعمال عام طور پر صرف نماز کی جگہ کے طور پر ہوتا ہے _ اس کے ساتھ انہیں سماجی مراکز کے طور پر بھی استعمال کرنا چاہیے _
(6) عام مسلمان مساجد کے ائمہ کو عزت و احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں _ان کی باتوں کو سنتے ہیں اور انہیں اہمیت دیتے ہیں _ وہ ان کی دینی و اخلاقی تربیت کے لیے مساجد کے پلیٹ فارم کو بہ خوبی استعمال کرسکتے ہیں _
(7) مساجد میں جمعہ کا خطبۂ اولی اردو زبان میں دیا جائے _ جو ائمہ صرف عربی میں خطبہ دینا بہتر سمجھتے ہیں وہ خطبہ سے قبل یا بعد میں اردو میں تقریر کا اہتمام کریں _ اس میں دین کے تمام موضوعات : عقائد ، عبادات ، معاشرت ، معاملات اور اخلاقیات کا احاطہ کریں تو خطباتِ جمعہ کے ذریعے ہی مسلم عوام دین کی بنیادی باتیں جان جائیں گے _ درسِ قرآن اور تذکیر بالحديث کریں _ مسجدوں میں نکاح کو رواج دیں اور اس موقع پر اسلام کے عائلی احکام بیان کریں _ ان تدابیر سے عوام کی دینی و اخلاقی تربیت ہوگی اور دین سے ان کی وابستگی میں اضافہ ہوگا _
(8) مساجد میں مکاتب قائم کیے جائیں ، جن میں اسکول جانے والے چھوٹے بچوں کی بنیادی دینی تعلیم کا انتظام کیا جائے _ تعلیمِ بالغان اور تعلیمِ مستورات کا بھی نظم ہو _ مساجد میں شرعی معاملات میں رہ نمائی اور خانگی تنازعات کے حل کا بھی انتظام کیا جائے _
(9) جماعت اسلامی ہند نے مساجد اور ائمہ کے ذریعے مسلم معاشرہ کی تعمیر و ترقی کا ایک منصوبہ بنایا ہے _ مساجد کی متنوّع سرگرمیوں کے لیے ‘مثالی مسجد’ کا خاکہ تیار کیا گیا ہے _ ہر ہفتہ دینی موضوعات پر ائمہ کو خطباتِ جمعہ بھیجے جاتے ہیں _ علماء اور ائمہ سے روابط استوار کرکے ان کی سرگرمیوں کو اجتماعی رخ دینے کی کوشش کی جاتی ہے _ وقتِ ضرورت دین کی بنیادی تعلیمات پر مشتمل لٹریچر فراہم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے _
(10) کسی بستی میں آگ لگ جائے تو اسے بجھانے کے لیے ہر شخص دوڑ پڑتا ہے ، لیکن اس میں اہم کردار فائر بریگیڈ کا ہوتا ہے ، اس لیے کہ اس کے پاس ماہر اور تجربہ کار عملہ ہوتا ہے ، جسے آگ بجھانے کی خصوصی تربیت حاصل ہوتی ہے _ سماجی برائیوں کے ازالہ میں علماء اور ائمہ کی حیثیت فائر بریگیڈ کے عملہ کی سی ہے ، جو اپنی دینی بصیرت سے اسے فساد اور انتشار سے بچاسکتے ہیں اور اس کو پاکیزگی عطا کرسکتے ہیں _
میری گفتگو کے بعد چار مینار مسجد کے امام مولانا بلال صاحب نے بتایا کہ آپ نے مساجد میں جو کام کیے جانے کا تذکرہ کیا ہے ، الحمد للہ ہم وہ سب کررہے ہیں _ اس علاقے میں تقریباً 40 مکاتب چل رہے ہیں _ جن مساجد میں ابھی مکاتب نہیں ہیں ان میں بھی ان شاء اللہ جلد قائم کیے جائیں گے _
آخر میں امیر مقامی نے اظہارِ تشکر کیا _ انھوں نے جماعت کی کچھ سرگرمیوں کا تعارف کرایا _ آخر میں تمام ائمہ کو نئے سال کے کلینڈر ، ڈائری اور پروفیسر محمد سعود عالم قاسمی کی کتاب ‘خطباتِ جمعہ’ کا تحفہ پیش کیا گیا _
اس طرح کے پروگرام ہر بستی میں ہونے چاہییں _ اس سے قربتیں بڑھتی ہیں اور توسّع پیدا ہوتا ہے _ ایک امام صاحب نے چلتے چلتے میرے کان میں کہا کہ جماعت اسلامی کی دعوت پر پہلے ہم لوگ نہیں آتے تھے ، لیکن اب آپ لوگوں سے ملاقات اور استفادہ کی خواہش میں آجاتے ہیں _
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

