بڑے شاعر کی یہی پہچان ہوتی ہے کہ اس کے جانے کے بعد بھی اس کی شاعری کو یاد کیا جاتا ہے اور اس کی شاعرانہ عظمت کے مختلف عناصر پر تبادلہ خیالات ہوتے رہے ہیں۔ غالب کے کلام میں اتنی گہرائی ہے کہ مختلف لوگ اس کو مختلف نظریہ سے دیکھ پاتے ہیں اور اس وسعت کے باعث نئے پہلو سامنے لانے میں کامیاب بھی ہوتے ہیں۔ غالب ؔکی شاعری کی آفاقی حقیقت نے اسے ہر دور میں زندہ رکھا۔
بقول پروفیسر شمس الرحمٰن فاروقی غالب کے کلام میں’’ ایک طلسمی اور اسراری فضا ہے‘‘۔ الفاظ کے انتخاب نے اس فضا کو کامیابی سے تعمیر کیا۔الفاظ میں ایسی دلکشی اور ایسے الفاظ کا کثرت سے استعمال میرؔ اور اقبال ؔکے یہاں بھی نہیںملتا۔ غالب ؔنے ایسی دنیا پیش کی جہاں ’’ہر چیز ایک دوسرے سے اس طرح پیوستہ ہوتی ہے کہ سفید و سیاہ کا فرق مٹ جاتا ہے۔‘‘ الفاظ بیک وقت مختلف بلکہ متضاد مفاہیم کے حامل نظر آتے ہیں۔ مثال
اپنے کو دیکھتا نہیں ذوق ستم تو دیکھ
آئینہ تاکہ دیدئہ نخچیر سے نہ ہو
محبوب کو چشم عاشق کی ضرورت ہوتی ہے جس میں اپنا عکس دیکھ کر محبوب کو اپنی خوبصورتی کا یقین ہوجاتا ہے۔ اگرعاشق کی آنکھ نہ ہو تو معشوق کا حسن بے معنی ہے۔ اس شعر میں آنکھ آئینہ بن جاتا ہے۔
غالبؔ بہت بڑے شاعر تھے لیکن وہ نظریہ ساز یا تحریک ساز نہیں تھے۔ ان کے بعد جن لوگوں نے شاعری کی انہوں نے غالبؔ کی قدر ضرور کی لیکن ان کا لب و لہجہ اختیار نہیں کرپائے۔ غالب ؔہر اعتبار سے اردو کا منفرد شاعر ہے۔ غالبؔ نے تنقیدی فکر کو بہت متاثر کیا۔ غالب کے شاگرد حالیـؔ نے مقدمہ شعر و شاعری میں شعر کی خوبیوں کی ساری بحثیں غالب ؔکے کلام کو سامنے رکھ کر لکھیں جس کے نتیجہ میں جدید شاعری وجود میں آئی۔ اس سے غالبؔ کی شاعری کی عظمت میں اضافہ ہوا اور پرانی شاعری کا وقار کمزور ہوتا گیا۔ غالبؔ کے بعد کے شعرائ میں ناظم اور شیخ محمد اکرام کے کلام میں سطحی مماثلتیں ہیں لیکن غالبؔ جیسا ذہن نہیں۔ عزیز لکھنوی نے غالبؔ کی تقلید کواپنے لئے طرئہ امتیاز جانا اگرچہ لکھنئو کی شاعری غالبؔ کی شاعری کی نفی کرتی ہے۔ یگانہ نے غالبؔ سے ہی کسب فیض کرکے غیر عشقیہ غزل کی بنیاد ڈالی۔
سردار جعفری اپنی نظم ’غالب‘ میں فرماتے ہیں ؎
تیرے گلشن کی بدولت گل بداماں ہم بھی ہیں
تیرے نغموں کے اثر سے نغمہ ساماں ہم بھی ہیں
غالب ؔکے کلام میں خودداری، وقار، رکھ رکھائو اور عظمت انسان کے وہ پہلو نظر آئے جو عام اردو شاعری میں نہیں ملتے تھے۔ غالبؔ نے زمانے کی پرواہ نہیں کی بلکہ اپنے شرطوں کے مطابق جیتے رہے۔یہ ادا نئے ذہن میں زیادہ مرغوب و مقبول ہوا۔ خودداری اور انا پرستی باعث کشش ہے۔
درخورقہر وغضب جب کوئی ہم سانہ ہوا
پھر غلط کیا ہے کہ ہم ساکوئی پیدا نہ ہوا
بندگی میں بھی وہ آزادہ وخودبیں ہیں کہ ہم
الٹے پھر آئے در کعبہ اگر وا نہ ہوا
غالبؔ نے ذہنوں کو اپنی پیچیدہ خیالی اوربلندیٔ اظہار سے متاثر کیا۔ خیالات میں ندرت ہے اور اسلوب میں طنز ہے۔ لہجہ میں خفیف ساتمسخر، احساس برتری اور رفاقت لوگوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔
کی میرے قتل کے بعد، اس نے جفا سے توبہ
ہائے! اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا
ہوا ہے شہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا
وگرنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے
استعارے کی پیچیدگی غالبؔ کے کلام کی بنیادی صفت ہے جس سے شعر کا حسن بڑھ جاتا ہے۔ ترقی پسند نقادوں کو غالبؔ میں احتجاج اور بغاوت کے عناصر نظر آئے۔ غالب ؔنے اپنے معاشرے کی بدحالی کو شاعری کا موضوع بنا کر دکھا دیا کہ شاعر کا کام قوم کا ضمیر بننا ہے۔ اشعار میں فکر کی پیچیدگی ہے اور نازک خیالی ہے۔
جب کہ تجھ بن نہیں کوئی موجود
پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے
یہ پری چہرہ لوگ کیسے ہیں
غمزہ و عشوہ و ادا کیا ہے
شکن زلف عنبریں کیوں ہے
نگہ چشم سرمہ سا کیا ہے
سبزہ و گل کہاں سے آئے ہیں
ابر کیا چیز ہے ہوا کیا ہے
غالبؔ نے جاگیردارانہ ماحول میں آنکھ کھولی۔ ان کے باپ دادا کی زبان اردو نہیں تھی۔ اس لئے انہوں نے اپنی ابتدائی شاعری میںفارسی زبان کو اپنایا اور فارسی روایت کے پروردہ تھے۔ غالبؔ کے اندر کلاسیکی شعور رچا بسا تھا۔ وہ فارسی کی مستحکم روایت سے بخوبی واقف تھے۔ ان کی فکری و تخلیقی رویے فارسی کی شعری روایت سے اثر پذیر ہوئے۔ ان کے یہاں بہت عمدہ فارسی تراکیبیں موجود ہیں ؎
آگہی دام شیندن جس قدر چاہے بچھائے
مدعا عنقا ہے اپنے عالم تقریر کا
جن اشعار کو انہوں نے اپنے انتخاب میں شامل نہیں کیاوہ بھی ناقدیں و محققیں کی توجہ کا مرکز بنے۔
غالبؔ نے ایک پیچیدہ اسلوب اختیار کیا جو اس وقت مقبول نہیں تھا۔ ان کے کلام کی اساس جذبہ سے زیادہ تجربے اور عقلیت پر ہے۔ کلام میں ابہام اور اجمال کی دلکشی ہے۔ اس کے ذریعے اپنے جذبات اور احساسات کی اندرونی تہوںکوبڑی کامیابی اور بلاغت سے نمایاں کیا ہے۔ ؎
میرے ابہام پہ ہوتی ہے تصدیق توضیح
میرے اجمال سے کرتی ہے تراوش تفصیل
غالبؔ کی شاعری اور خطوط میں ان کی شخصیت نظر آتی ہے۔ ان میں انسان دوستی کا پہلو سامنے آتا ہے۔ انہوں نے انسان کا ارفع و اعلیٰ تصور پیش کیا ہے۔ انہوں نے اپنی آنکھوں سے غدر کے بعد دہلی کی تباہی و بربادی دیکھی۔ ان کے دل میں اس وقت ایک ’عالم کا میزبان ‘ بننے کی خواہش ظاہر ہوئی تاکہ جس شہر میں وہ رہ رہے ہیں کم از کم وہاں فاقہ کشی نہ ہو۔ غالبؔ خلوص و محبت کے قدر دان تھے۔ غالبؔ کو اپنی فارسی دانی اور منفرد انداز بیان پر فخر تھا۔ پھر بھی اپنے دستوں سے اپنی شاعری کی اصلاح کراتے تھے۔ مذہبی رواداری ان کا عقیدہ تھا۔ ان کا حلقئہ احباب بہت وسیع تھا جس میں ہندو اور مسلم شامل تھے۔
ہم موحد ہیں ہمارا کیش ہے ترک رسوم
ملتیں جب مٹ گئیں اجزائے ایماں ہوگئیں
اپنے دوست ہرگوپال تفتہ کو خط میں لکھتے ہیں ’’بندہ پرور میں بنی آدم کو، مسلمان ہوں یا ہندو یا نصرانی عزیز رکھتا ہوں اور اپنا بھائی گنتا ہوں۔‘‘
غالبؔ نے اپنے پنشن کے سلسلے میں دہلی سے کلکتہ کا سفر کیا تھا۔ اس دوران وہ بنارس میں مقیم رہے جہاں اپنی شہرئہ آفاق مثنوی ’چراغِ دیر‘ لکھی۔ اس مثنوی میں ہندوستانی مشترکہ تہذیبی شناخت میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس مثنوی میں غالب ؔنے کاشی اور کعبہ جیسے مقدس مقامات کو ملا کر دو تہذیبوں کے اتحاد کی بات کی۔ فارسی میں لکھی گئی اس مثنوی کے لئے کئی زبانوں میں تراجم ہوچکے ہیں۔ سفر کلکتہ کی بدولت انہیں نئی تہذیب کو پاس سے دیکھنے کا موقع ملا۔ کلکتہ شہر کے بارے میں فرماتے ہیں ـ ؎
کلکتے کا جو ذکر کیا تو نے ہم نشیں
اک تیر میرے سینے پہ مارا کہ ہائے ہائے
غالب وقت کے ساتھ چلتے تھے۔ اس لئے انہوں نے اردو زبان اور سہل پسندی کو اپنایا۔ ان کے یہاں مثبت اندازِ فکر ہے۔ وہ قدم قدم پر کائنات کے بارے میں غور کرتے ہیں اور دوسروں کو دعوتِ فکر دیتے ہیں۔
پروفیسر آل احمد سرور فرماتے ہیں ؎
’’غالب نے اردو شاعری کو ایک ذہن دیا اور ایسی زبان جو فجر کی گرمی دے سکے۔ غالب نہ ہوتے تو اقبال بھی نہ ہوتے اور نہ جدید شاعری کی پیچیدگی اور خیال کی تہوں تک پہنچنے کی کوشش۔ غالبؔ ہمارے لئے صرف ایک خاص شخص نہیں ہیں۔ ایک ذہنی فضا ہیں۔‘‘
غالبؔ نے عالم گیر مقبولیت حاصل کی۔ ان پر تنقید مختلف زبانوں میں لکھی گئی۔ غالبؔ کی بدولت ہندوستان کا نام دنیا میں مشہور ہوا۔
اندرا گاندھی نے غالبؔ کے بارے میں کہا ہے:
’’مرزا غالبؔ ہندوستان کے ان شاعروں میں سے تھے جن کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا۔ انہوں نے بڑے پر آشوب زمانے میں زندگی گزاری۔ ان کے کلام اور خطوط کے گوناگوں مسائل پر روشنی پڑتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں زندگی سے بڑی محبت تھی۔ وہ سکھ دکھ میں ہمیشہ شعر و ادب کی تخلیق میں مصروف رہے۔ اس لئے ان کی تخلیقات میں ہر انسان کو اپنی اپنی زندگی کی جھلکیاں دکھائی دیتی ہیں۔ ایک شاعر کی عظمت کو اس سے بڑا خراجِ عقیدت اورکیا پیش کیا جاسکتا ہے کہ ان کے کلام نے ملک و قوم کی تہذیب کی تعمیر و تشکیل میں حصّہ لیا ہے۔‘‘
غالب ؔکے لافانی اشعار ضرب المثل بن چکے ہیں۔ اس طرح غالبؔ کو جو امتیازی مقام حاصل ہے وہ رہتی دنیا تک زندہ رہے گا۔
بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا
غالبؔ کے یہاں عشق کا بنیادی جذبہ مجازی ہے۔ گوپی چند نارنگ فرماتے ہیں کہ غالب ؔکا عشق فرزانہ عشق ہے۔ عشقیہ شاعری میں ایسے لمحے نہ ہونے کے برابر ہیں جہاں دل پر قابو نہ رہے۔ ان کی انانیت انہیں ہر وقت لئے دئے رہتی ہے۔ ان کے ہاں عشق ایک فطری تقاضا ہے جس کی تسکین ضروری ہے۔ غالبؔ کے یہاں عشق کا ایک فطری احساس ہے ؎
زندگی یوں بھی گزر ہی جاتی
کیوں ترا راہ گزر یاد آیا
غالبؔ کی عشقیہ شاعری کی خصوصیت ہوشمندی ہے گمشدگی نہیں۔ وہ اپنی ذات کو زندگی کے مسائل سے جوڑتے ہیں۔ ان کا انداز فلسفیانہ اور مفکرانہ ہے ؎
ہم کو ان سے وفا کی ہے امید
جو نہیں جانتے وفا کیا ہے
غالبؔ کے محبوب کی نفسیات اس کی اپنی ہے۔ محبوب کا ناز و انداز اور وقار دلوں پر اثر کئے بغیر نہیں رہتا۔ اس کی سائستگی اور تمکنت ہند ایرانی ہے لیکن اس کی شوخی، ظرافت اور بانکپن غالب کا اپنا ہے۔
عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہی
میری وحشت تیری شہرت ہی سہی
قطع کیجئے نہ تعلق ہم سے
کچھ نہیں تو عداوت ہی سہی
وہ زندگی کی کامیابیوں اور ناکامیوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ وہ جب غم اور مصیبت سے دوچار ہوتے ہیں تو ہمت آفریں تصورات پیدا کرتے ہیں ؎
محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا
اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے
جی ڈھونڈھتا ہے پھر وہی فرصت کہ رات دن
بیٹھے رہیں تصورِ جاناں کیے ہوئے
احباب و اغزہ کی بے اعتنائی، اولاد کا دکھ، زمانے کی تکلیفیں، مقدمے، اسیری، قرض خواہوں کے تقاضے وہ کون سی مصیبت تھی جس کا انھیں سامنا نہ کرنا پڑا۔ پھر بھی یاسیت کے سمندر میں نہیں ڈوبے۔
۱۹۷۴میں غالب ؔکی غزل کی شرح کرتے ہوئے فیض احمد فیضؔ رقم طراز ہیں:’’ غالب ایک خاص نظام حیات اور طریق زندگی سے واقف تھے۔ انگریزوں کے آنے اور ملک کے غلامی میں چلے جانے کی وجہ سے وہ پرانے نظام زندگی کے طریقے اور پرانے آداب محفل رخصت ہوچکے تھے اور ان کی جگہ ابھی کوئی نیا نظام یا زندگی کے نئے آداب وضع نہیں ہوئے تھے۔ چنانچہ انیسویں صدی میں ۱۸۵۷کے ہنگاموں سے پہلے اور ان ہنگاموں کے بعد کا جو زمانہ ہے اور اس زمانے کے لوگوں کی جو اجتماعی، دماغی اور جذباتی کیفیت ہے اسے ایک طریقہ سے غالب ؔنے شعر میں بیان کیا ہے کہ ؎
مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئے
جوش قدح سے بزم چراغاں کیے ہوئے
غالبؔ کی زندگی میں ان کا دیوان شائع ہوا جو ان کے منتخب اشعار پر مشتمل ہے جسے ان کی بہترین تخلیقی کاوشوں کا حاصل کہا جا سکتا ہے۔ غالبؔ لغات اور قواعد کے معاملے میں اتنے حساس واقع ہوئے تھے کہ بقول مولانا حالیؔ ’’ کوئی لفظ یا محاورا یا ترکیب ایسی نہیں برتتے تھے جس کی سند اہلِ زبان کے کلام سے نہ دے سکتے ہوں۔ ‘‘غالبؔ شاعری اور ادب کے مقاصد، معیاروں اور قدروں کا بہت ہی واضع احساس رکھتے ہیں۔ ؎
آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں
غالبؔ صریر خامہ نوائے سروش ہے
غالبؔ بلا شبہ اردو اور فارسی کے بڑے شاعر ہیں۔ ان کے کلام سے اردو شاعری میں نیا باب کھل گیا۔ غالبؔ کا کلام ہر کسی کے فہم کی دسترس میں ہے اور ہر کوئی اس سے لطف اندوز ہوسکتا ہے۔ وہ فلسفی دل و دماغ کے مالک ہیں۔ غالبؔ زندگی اور مسائل زندگی میںغور و فکر سے کام لیتے ہیں جس سے وہ اپنے ہمعصروں پر سبقت لے گئے۔ غالبؔ کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے علامہ اقبال تسلیم کرتے ہیں کہ غالبؔ دنیا کے عظیم مفکرین میں سے ہیں۔ فرماتے ہیں ؎
دید تیری آنکھ کو اس حسن کی منظور ہے
بن کے سوزِ زندگی ہر شے میں جو مستور ہے
حوالہ
شمس الرحمٰن فاروقی ’’ شعر، غیر شعر اور نثر‘‘ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی، ۲۰۰۵ 415 351
محمد عزیر حسن ’’تصورات غالب‘‘ غالب اکیڈمی نئی دہلی ۱۹۸۷
گوپی چند نارنگ ’’اردو غزل اور ہندوستانی تہذیب‘‘ قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان، نئی دہلی، ۲۰۰۲
ڈاکٹر نفیس بانو ’’ سرحدِ ادراک‘‘ عرشیہ پبلی کیشنز، دہلی، ۲۰۱۵
ضیائ اللہ انور ’’غالب نامہ قاضی عبدالودود نمبر: ایک تبصراتی مکالمہ‘‘ ششماہی دستک ریسرچ جرنل، شعبہ اردو فیکلٹی آف آرٹس، بنارس ہندو یونیورسٹی، ورانسی، جلد ۱ شمارہ ۲، جولائی تا دسمبر ۲۰۱۸
ششماہی دستک ریسرچ جرنل، شعبہ اردو فیکلٹی آف آرٹس، بنارس ہندو یونیورسٹی، ورانسی جلد ۱ شمارہ ۱، جنوری تا جون ۲۰۱۸
آبیناز جان علی
موریشس
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

