Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
متفرقات

اردو میں خردہ گیری کی چند مثالیں – ڈاکٹر خالد ندیم

by adbimiras جنوری 16, 2022
by adbimiras جنوری 16, 2022 0 comment

’خردہ گیری‘ سے مراد ’حرف گیری‘، نکتہ چینی‘، ’دقیقہ شناسی‘ یا ’تنقید‘ وغیرہ لیا جاتا ہے، البتہ اس کے ایک معنی animadversionکے بھی ہیں، یعنی کسی کتاب کے سختی کے ساتھ عیب نکالنا اور بتانا۔ زیرِ نظر تحریر میں ان تنقیدی تحریروں کو زیرِ بحث لایا جائے گا، جن میں کسی کتاب کا تجزیہ کرتے ہوئے اس  کی ایک ایک کمزوری، ایک ایک خامی اور ایک ایک عیب کی نشاندہی کی گئی ہو اور ثابت ہوتا ہو کہ زیرِ تبصرہ کتاب ساقط الاعتبار ہے یا  یکسر ناقابلِ اعتماد۔

اس طریقِ کار سے مقصود یہ ہے کہ شاہراہِ زبان و ادب کے مسافروں کو گمرہی اور منتشر خیالی سے بچایا جائے۔ ایسی تحریروں کو دیکھنے سے بظاہر یوں محسوس ہوتا ہے کہ کوئی سخت گیر نقاد کسی تخلیق کار کا تعاقب کر رہا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ تنقید کے  اس طریقِ کار نے متعدد معروف کتابوں کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے اور متعدد نامور تخلیق کاروں، ناقدین اور محققین کی علمی حقیقت ظاہر کر دی ہے۔

خردہ گیرنقاد کسی کتاب کی ایک ایک  کمزوری کو واضح کرنے کے لیے پوری کتاب کو کھنگالتے ہیں اور پھر اپنے تمام تر مطالعات کو قاری کے سامنے لا کر اس تحریر کی تمام تر خامیوں پیش کرتے ہیں۔اس تجزیاتی انداز سے جہاں محقق سے متعلق کسی حد تک منفی راے قائم ہوتی ہے، وہیں اس سے تخلیق کار، نقاد اور محقق اپنے کام کو زیادہ احتیاط سے کرنے لگتے ہیں۔ یہاںاردو میں خردہ گیری کی  چند اہم مثالیں پیش کی جاتی ہیں، جن سے اندازہ ہو گا کہ ان ناقدین و محققین نے نہایت جرات مندی  سے اپنے وقت کی بڑی بڑی شخصیات اور بااثر اداروں کی تصانیف و تالیفات کی گرفت کی؛ نتیجتاً بعض کتابوں کی مسلمہ حیثیت باطل ہو گئی اور بعض اداروں کو اپنی مطبوعات واپس لینا پڑیں۔

 

تاریخِ ادبِ اردو میں شبلی  نعمانی کا مقام و مرتبہ مسلّمہ ہے اور اب انھیں کلاسیک  میں شمار کیا جاتا ہے۔ اوّل تو ان کے علمی کارناموں کی فہرست خاصی طویل ہے، اس پر مستزاد ان کی شخصیت اور تصانیف و تالیفات پر تحریروں کا حجم اس قدر بڑھ گیا ہے کہ شبلی صدی کے موقع پر ’کتابیاتِ شبلی‘ مرتب کرنے کی ضرورت محسوس کی گئی۔ یہاں یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ شبلی کی شخصیت اور کارناموں کے حق میں لکھنے والوں کی تعداد بہت ہے تو ان کے شخصی و نظری و علمی مخالفین بھی کم نہیں ہیں،بلکہ بعض حوالوں سے انھیں زندگی اور مابعد حیات مخالفت کا زیادہ سامنا کرنا پڑا ہے۔مثال کے طور پر سید سلیمان ندوی کے مقابلے میں انھیں مولوی عبدالحق، منشی محمد امین زبیری، حافظ محمود شیرانی، ڈاکٹر وحید قریشی اور شیخ محمد اکرام کی تحریروں سے دوچار ہونا پڑا۔

ہر معروف شخصیت اپنی زندگی میں کسی حد تک رقابت کا شکار رہتی ہے، لیکن شبلی کی شخصیت عجب حادثات کا شکار ہوئی۔ ان کی باقاعدہ مخالفت کا آغاز ان کے اپنے شاگرد، مولوی عبدالحق کی مجلسی گفتگو سے شروع ہوا، جس نے اُس وقت سنجیدہ صورت اختیار کر لی، جب ان کے زیرِ ادارت سہ ماہی اردو میں شعر العجم پر حافظ صاحب کی تحریریں شائع ہونے لگیں۔ ایک مصروف عالم کی طرف سے کسی ایک  کتاب پر مسلسل پانچ سال تک لکھتے رہنا ادبی تاریخ کا ایک قابلِ  ذکر واقعہ ہے۔

اردو زبان میں فارسی ادب کی تاریخ پر شبلی کی اس تالیف کو اوّلیت حاصل ہے۔  حافظ شیرانی نے اس موضوع پر فارسی اردو میں موجود تمام کتابوں میں سے اسے بہترین تالیف قرار دیا۔ اپنی اس تنقید کو وہ شبلی کی فضیلتِ علمی کی منقصت نہیں، بلکہ اُس مروّجہ روِش کے خلاف احتجاج قرار دیتے ہیں، جس میں ہمارے مصنّفین تحقیق کی جگہ تقلید سے اور عقل کی جگہ نقل سے کام لیتے ہیں؛[1]تاہم انھوں نے شبلی کو مؤرخانہ و محققانہ فرائض کی نگہداشت سے ایک بڑی حد تک غافل[2] قرار دیا ہے، اس حوالے سے شیرانی صاحب کے ہاں سے نسبتاً طویل اقتباس دیا جاتا ہے، تاکہ ان کے نقطہ نظر کو سمجھنے میں آسانی رہے۔ وہ لکھتے ہیں:

رطب و یابس، جو کچھ اُن کے مطالعے میں آ جاتا ہے، بشرطیکہ دلچسپ ہو، حوالۂ قلم کردیتے ہیں۔ بعض اوقات دیکھا جاتا ہے کہ مولانا اپنے پچھلے بیانات کی، آگے جا کر خود ہی تردید کر جاتے ہیں۔ پہلے کچھ راے قائم کی، بعد میں جا کر کوئی اَور نظریہ قائم کر لیا۔ ممکن ہے کہ شبلی تاریخِ اسلام میں بہتر نظر رکھتے ہوں، لیکن شعراے عجم کے حالات میں اُن کے طاقت ور قلم نے بہت لغزشیں کی ہیں۔ اس خاص دائرے میں اُن کی معلوماتِ تاریخی نہایت محدود ہے اور نہ تمام سلسلۂ شعرا، ان کے دواوین اور مآثر پر کافی عبور ہے؛ سن و تاریخ، جو فنِ تاریخ کا ایک شاندار اور وقیع پہلو ہے، اس پر اوّل تو پوری توجہ نہیں کی اور ضرورتاً کہیں ایسا کیا بھی تو غلطیوں سے خالی نہیں۔ بعض متاخرین کو مقتدمین کا پہلو نشین بنا دیا اور بعض متاخرین کو مقتدمین کا ہم بزم کر دیا ہے۔ بہت سےغیر تاریخی افسانوں نے شعر العجم میں قابلِ عزت جگہ پائی ہے۔ عام اغلاط، جنھیں تذکرہ نگاروں نے اپنی اپنی تصنیف میں دُہرا کر ہماری ادبیات میں عام طور پر زبان زدِ عام کر دیا ہے، شعر العجم کے صفحات پر بھی موجود ہیں۔[3]

اس تنقید، بلکہ  تحقیق کا دائرہ عباس مزوری سے کمال اسماعیل تک ہے اور حافظ  صاحب نے شبلی کے تاریخی بیانات پر تحقیق کی روشنی میں نقد و تبصرہ کیا ہے،جو تنقیدِ شعر العجم کے اوّلین ایڈیشن کے  589 صفحات کو محیط ہے۔ ان کے طرزِ تحقیق کی چند مثالیں پیش کی جاتی ہیں۔ شبلی نے صفحہ 18 پر ابو حفص حکیم سغدی کے متعلق لکھا کہ وہ ‘پہلی صدی ہجر میں موجود تھا’۔ اس موقع پر شیرانی صاحب لکھتے ہیں:

ابو حفص بن احوص سغدی، اسغد سمرقند کا رہنے والا، فنِ موسیقی میں استادِ کامل تھا۔ ابو نصر فارابی نے اپنی تصنیفات میں اس کا ذکر کیا ہے۔ موسیقار سے ملتا جلتا ایک ساز، جس کا نام’شہرود تھا، اس نے ایجاد کیا۔ فارابی نے اس ساز کی شکل اپنی تصنیف میں بیان کی ہے۔  ابو حفص،بقولِ صاحبِ خزانۂ عامرہ و صاحبِ المعجم فی معاییر اشعار العجم 300ھ میں گزرا ہے۔ ابو حفص فارسی فرہنگ نگاروں کا ابوالبشر مانا جا سکتا ہے، اس کی فرہنگ کا ذکر فرہنگِ جہانگیری میں آتا ہے۔ [4]

منوچہری کے حوالے سے شبلی کے دو بیانات کے بعد ان کے تیسرے بیان میں پہلے دو کی تکذیب ہو جاتی ہے، شبلی کے یہ بیانات ذیل میں پیش کیے جاتے ہیں:

محمودی شعرا اگرچہ بے شمار ہیں، لیکن جن ناموروں کو محمود نے ندما میں داخل کر لیا تھا اور جو آسمانِ سخن سبعہ سیارہ تھے، یہ  ہیں: عنصری، فردوسی، اسدی، عسجدی، غضاری،فرخی، منوچہری۔

محمود کے دربار میں چار سو شعرا تھے، جن میں فرخی، عسجدی، غضاری،  منوچہری جیسے قادر الکلام بھی شامل ہیں۔

لیکن منوچہری کے دیوان میں سلطان محمود کی شان میں کوئی قصیدہ نہیں۔ اس سے قیاس ہوتا ہے کہ وہ سلطان محمود کے مرنے کے بعد  غزنین میں آیا اور اس لیے فردوسی کا ہم بزم نہیں  ہو سکتا۔ [5]

شیرانی صاحب ایک محقق کا اوّلین فرض یہ سمجھتے ہیں کہ وہ،  جو واقعہ بیان کرے، اس کی پوری پوری تحقیق اور تفتیش کرنے کے بعد ایک راے قائم کر لے اور ہمیشہ کے لیے اسی پر قائم ہو جائے’۔[6]

شیخ فریدالدین عطّار کے نام کے حوالے سے شیرانی  صاحب نے شبلی کی گرفت بھی کی اور اصلاح بھی، لکھتے ہیں:

مَیں رفعِ تشکیک کی غرض سے ابتدا ہی میں گزارش کیے دیتا ہوں کہ علامہ  شبلی شیخ عطّار کو بار بار خواجہ لکھ رہے ہیں۔ ہم خواجہ کا لفظ آج کل بھی  ہر شخص کے ساتھ استعمال نہیں کر سکتے، چہ جائیکہ اُن ایّام میں۔ قدما میں خواجہ کے واسطے کسی قسم کی تعمیم نہیں مانی گئی، وہ خاص خاص طبقے کے لوگوں کے ساتھ ملتا ہے، مثلاً اربابِ مناصب و دبیرانِ سلطانی کے ناموں کے ساتھ۔ علاوہ بریں ‘خواجہ عطّار ‘ کے لقب سے ایک اَور بزرگ، جو نویں صدی ہجری میں وفات پاتے ہیں، ممتاز ہیں۔ ان کا پورا نام خواجہ علاء الدین عطّار ہے۔[7]

یوں دیکھا جائے تو شیرانی صاحب نے تنقید کے دَوران میں شبلی کی خامیوں پر ہی نظر نہیں رکھی، بلکہ جہاں  کسی غلطی کی نشاندہی کی، اس کی اصلاح میں بھی محققانہ انداز اختیار کیا ہے۔

اس سلسلے کی دوسری تنقید کا تعلق آبِ حیات سے ہے، جس پر شیرانی صاحب کے مضامین دو حصوں میں تقسیم ہیں۔ اوّل، جب انھوں نے آغا محمد باقر کی درخواست پر آبِ حیات پر تنقید لکھنا شروع کی تو اس کی تین قسطیں اورینٹل کالج میگزین میں اگست 1941ء، نومبر 1941ء اور فروری 1942ء میں شائع ہوئیں۔ یہ سلسلہ آغا محمد باقر کی ناخوشی کے باعث جاری نہ رہ سکا۔

حافظ صاحب نے آغاز میں آبِ حیات کی اسلوب کی خصوصیات، اس کے لیے معلومات کی فراہم کرنے والوں کے اسما  اور موصولہ معلومات کی مکمل یا جزوی شمولیت، اس پر ہونے والی تنقید اور اس کے خوشہ چینوں کا ذکر کیا  ہے۔ شیرانی صاحب باغ و بہار میں زبان اور محاورے کے لطف کی نشاندہی کے بعد لکھتے ہیں:

آبِ حیات ان  خوبیوں کے علاوہ طرزِ ادا میں بانکپن، سلاست کے ساتھ رنگینی، بیان کی شیرینی، ترکیب و بندش کی خوشنمائی، زبان کے لطف اور نزاکتِ مضمون کی خصوصیات سے ممتاز ہے۔ مولانا آزاد صاحبِ طرز ہیں۔ ان کی طرز نہ ان سے پہلے وجود میں آئی اور نہ ان کے بعد کوئی اس کی تقلید کر سکا۔ [8]

قارئین کی دلچسپی کے لیے یہاں  رشید حسن خاں کے ایک مضمون ’حافظ محمود شیرانی کی تاریخی اہمیت‘ سے ایک مختصر سا اقتباس پیش کیا جاتا ہے:

مجھے کچھ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اگرچہ انھوں  نے آزاد اور شبلی کی کتابوں کا تحقیق کی روشنی میں جائزہ لیا، لیکن وہ اُن دونوں اساطین کے اسالیب سے متاثر تھے اور بے ساختگی کے عالم میں بعض اوقات وہ اثر پذیری اپنے آپ کو نمایاں کر لیتی تھی، اس سے شیرانی صاحب کی اثر پذیری سے زیادہ اُس دَور میں شبلی و آزاد کے اثرات کی ہمہ گیری کا بھی اندازہ کیا جا سکتا ہے۔[9]

پندرہ سولہ صفحات کی اس تمہید کے بعد حافظ صاحب نے دو اعتراضات کی بنیاد رکھی ہے، جس کی روشنی میں آئندہ صفحات میں آبِ حیات کے متعلق ’اعتراض یا حاشیہ آرائی‘ کی گئی ہے،  یعنی شعرا کے تذکرے میں حضرت مولانا نے رقابت اور مقابلے کے پہلو کو زیادہ نمایاں کیا ہے اور دورِ اوّل و دوم و سوم کے شعرا میں تقدیم و تاخیرواوقع ہوئی ہے۔[10] اس سلسلے میں انھوں نے آبِ حیات کے کم و بیش تیس مقامات پر تحقیقی و تنقیدی تبصرہ کیا ہے۔ طریقِ کار یہ اپنایا ہے کہ اصل عبارت ’قولہ‘ کی ذیل میں تحریر کر کے بعد ازاں پر اس کا تجزیہ کیا ہے۔ یہ تجزیہ آزاد کے تنقیدی بیانات کی نسبت ان کے تحقیقی نقطہ نظر سے زیادہ تعلق رکھتا ہے۔آبِ حیات کی پہلی اشاعت کے بعد اس پر جو تنقید ہوئی، اس کا تعلق بالعموم فراہم شدہ معلومات کے استعمال، ادوار میں شمولیت کے اعتبار سے غلط تقدیم و تاخیر اور بعض اہم شعرا کو نظر انداز کرنے سے تھا، البتہ حافظ صاحب کے تجزیاتی مطالعے کا تعلق خالصتاً تحقیقی نوعیت سے ہے۔ یہاں چند مثالیں پیش کی جاتی ہیں، تاکہ صورتِ حال کا اندازہ ہو سکے:

‘ولی، احمد آباد گجرات کے رہنے والے تھے’ اور حاشیے میں اضافہ کیا ہے،’دیکھو تذکرۂ حکیم قدرت اللّٰہ خاں قاسم، مگر تعجب ہے کہ میر تقی میر نے اپنے تذکرے میں اورنگ آبادی لکھا ہے’۔ سند میں تذکرۂ حکیم قدرت اللّٰہ خاں قاسم، یعنی مجموعۂ نغز کا حوالہ دیا ہے، لیکن اس موقع پر مولانا کو سہو ہوا ہے، کیونکہ مجموعۂ نغز میں ولی کو دکنی لکھا گیا ہے۔ [11]

مرزا مظہر (جانِ جاناں) کے  متعلق یہ عذر نہیں کیا جا سکتا کہ ‘پھول ہاتھ نہ آئے، جو لڑی پروتا’، بلکہ برعکس کثرتِ مواد کی شکایت ہو سکتی ہے، نہ قلتِ  مواد کی؛ مگر حضرت مولانا نے تمام تذکروں اور تاریخوں کو پسِ پشت ڈال کر چند بے سروپا اور بے سند باتوں کو لے کر اور نمک مرچ لگا کر آبِ حیات کی نقل محفل بنا دیا ہے . . . حضرت مولانا اس موقع پر جادۂ مستقیم  سے ہٹ کر ایسے میدانوں میں نکل  گئے ہیں، جن کا  ادب سے کوئی تعلق نہیں۔ اوّل سے آخر تک ان کا قلم بے چارے مرزا کی ہجوِ ملیح میں مصروف ہے۔ ان کی حسن پسندی اور میرزا منشی پر چھینٹے اڑآئے ہیں۔ لطیفوں کی آڑ میں ان کو تند خُو اور بدمزاج ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔[12]

آبِ حیات پر حافظ صاحب کی تنقید ایسی سخت سمجھی گئی  کہ خود اس کے محرکِ اوّل نبیرۂ آزاد، آغا محمدباقر ہی اس سے ناخوش ہو گئے، چنانچہ حافظ صاحب نے یہ سلسلہ روک دیا۔ بظاہر محسوس ہوتا ہے کہ اس تنقید کے بعد آبِ حیات کی شہرت اور مقبولیت معدوم ہو گئی، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ انتین اقساط کی اشاعت سے اب تک حافظ صاحب کے نقطہ نظر کو تسلیم اور اس کا احترام کیے جانے کے باوجود آبِ حیات کی اشاعت مسلسل جاری رہی ہے، گویا آبِ حیات اور تنقید بر آبِ حیات، دونوں تاریخِ ادبِ اردو میں مستقل جگہ بنانے میں کامیاب رہیں۔آبِ حیات اپنے شگفتہ  اسلوب  کے باعث زندہ رہی اور یہ غیر معمولی بات ہے کہ کوئی تصنیف  اپنے نفسِ مضمون سے الگ صرف اسلوب کی وجہ سے زندہ جاوید رہ جائے۔

’شمس العلما مولانا محمد حسین آزاد اور دیوانِ ذوق‘ کے نام سے حافظ صاحب کی تنقید اکتوبر 1944ء سے جنوری و اپریل 1947ء تک سات اقساط میں ہندوستانی الٰہ آباد میں شائع ہوئی،جنھیںحافظ صاحب نے دیوانِ ذوق پر تنقید کو آبِ حیات پر تنقیدی اقساط میں شمار کیا ہے۔[13]

سات اقساط پر مشتمل یہ تنقید بنیادی طور پر تین حصوں میں منقسم ہیں، (1) تنقید دیوانِ ذوق مرتبہ آزاد، (2) دیوانِ ذوق پر آزاد کی اصلاحات، (3) دیوانِ ذوق میں آزاد کے مغالطے۔

آزاد نے ذوق کے ساڑھے سات سو دواوین دیکھنے اور ان کے خلاصے لکھنے کی اطلاع دی ہے، جس پر شیرانی صاحب نے خوب گرفت کی ہے، لکھتے ہیں:

یہ بیان صریحاًمبالغہ معلوم ہوتا ہے۔  دہلی میں اُن ایّام میں کوئی ایسا کتب خانہ نہ  تھا، جس میں ساڑھے سات سو یا اُس کی نصف تعداد کے دواوینِ شعرا یکجا موجود ہوں۔ یورپ کے عظیم الشان کتب خانوں میں آج بھی اساتذۂ سلف کے دواوین کی اتنی بڑی تعداد کہیں نظر نہیں  آتی، چہ جائیکہ تاراج شدہ دہلی میں، جو بارہویں صدی ہجری میں دس بارہ مرتبہ لٹ چکی ہے، باقی رہے ہوں۔[14]

آزاد نے بتایا کہ ‘استاد جب حضور کی غزل مشاعرے کے لیے کہتے تھے تو اپنی غزل اُس طرح میں نہ کہتے تھے اور کبھی کہنی بھی پڑتی تو اپنی غزل کے ایسے شعر پڑھتے کہ حضور کی غزل پھیکی نہ پڑ جائے’۔[15] آزاد کے اس بیان پر  شیرانی صاحب نے دلچسپ تبصرہ کیا ہے:

اللّٰہ اللّٰہ! استاد ذوق کو اپنے شاگرد ظفر کی خاطر داشت کس قدر منظور تھی کہ لحاظ کے مارے اپنی غزل کے بہتر اشعار مشاعروں میں پڑھنے سے احتراز کرتے تھے، لیکن مولانا کے دعوے کے مطابق شاہی غزل بھی تو استاد ہی کو تیار کرنی پڑتی تھی۔  اس سے یہ منطقی نتیجہ برآمد ہوتا ہے کہ ذوق اچھے اچھے ابیات اپنے لیے محفوظ رکھتے اور خراب اور بھرتی کے اشعار حضور کی غزل کے واسطے چھوڑ دیتے۔ جاے حیرت ہے کہ مولانا نے یہ راز از خود طشت از بام کر دیا۔ طبیعتوں کا اختلاف ملاحظہ ہو کہ مصحفی،جیسا کہ آبِ حیات میں مذکور ہے، بہترین اشعار اپنے سالے کو لینے دیتے اور کوئی چرچا نہ کرتے، اِدھر ذوق ہیں کہ روکھے پھیکے اور بے لطف اشعار ظفر کے حوالے کرتے ہیں اور اس ذلیل قسم کے احسان کا ذکر اپنے شاگردوں سے کرتے ہیں۔ اُن کو پروا نہیں کہ بادشاہ بدنام ہوتے ہیں۔ وہی بادشاہ، جس نے انھیں  خاک سے پاک کیا، پانچ سے سو تک  تنخواہ دی، گاؤں جاگیر میں دیا،  انعام و اکرام سے مالامال کیا، خلعت و خطاب سے سربلند کیا، استادِ شاہی کا منصب بخشا، ہم چشموں میں سرفراز کیا۔ ایسے بادشاہِ والا جاہ کے ساتھ ذوق کا یہ رُسوا کن سلوک لائقِ نفرت، بلکہ موجبِ عبرت ہے۔[16]

مقالاتِ حافظ محمود شیرانی کی جلد سوم کے صفحہ 27 سے 306 تک پھیلی ہوئی آبِ حیات اور دیوانِ ذوق پر شیرانی صاحب کی تنقید کے بعد آزاد کاادبی مقام اور ادبی پایہ ایک انشاپرداز کا رہ گیا، البتہ ان کی تحقیق، تنقید اور ترتیب و تدوین کی حیثیت پر سوالیہ نشان  ثبت ہو گئے۔

 

خردہ گیری کی روایت میں ایک نہایت اہم نام قاضی عبدالودود کا ہے۔ اس وقت ان کا مجموعہ غالب بحیثیت محقق پیشِ نظر ہے۔  عابد رضا بیدار نے بجا طور پر ’غالب کی راست گفتاری‘ کو اس طویل تنقیدی مطالعہ کا نقطہ آغاز‘ قرار دیا ہے؛ چنانچہ انھوں نے اس مضمون کوغالب بحیثیت محققکا مقدمہ اور اس موضوع پر دیگر مضامین کو اس کے ضمائم قرار دے کر غالب کی تحقیقی حیثیت کو ایک کتاب میں متعین کرنے کی کوشش کی ہے۔ فی الوقت بحث کا دائرہ ’غالب بحیثیت محقق‘ تک محدود رہے گا۔

قاضی صاحب نے غالب نے اس بیان کو اپنے مقالے کی بنیاد بنایا ہے کہ ’مَیں جھوٹ سے بیزار ہوں اور جھوٹے کو ملعون جانتا ہوں، کبھی جھوٹ نہیں بولتا‘۔[17]اس سلسلے میں انھوں نے الطاف حسین حالی، غلام رسول مہر اور امتیاز علی خاں عرشی کے تائیدی بیانات کا بھی ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ ’میری غرض صرف یہ دِکھانا ہے کہ غالب کا دعویٰ کہ کبھی جھوٹ نہیں بولتا، کہاں تک صحیح ہے‘[18]اور پھر ’صرف یہ دِکھانا‘ 198؍ صفحات تک پھیل گیا۔ غالب کی ’راست گفتاری‘ کی تردید کے لیے قاضی صاحب نے ایرانِ قدیم اور فرہنگیں، فارسی ادب پر ان کے بیانات کے تجزیے کے بعد فارسی زبان کی ذیل میں برہانِ قاطع پر غالب کے 100؍ اعتراضات کا محاکمہ کیا اور فارسی شعر و ادب سے مثالیں دیتے ہوئے غالب کی تصحیحات پر گرفت کی ہے۔ عربی زبان پر غالب کی دسترس سے متعلق اگرچہ قاضی صاحب کہنا ہے کہ ’انھوں  نے کہیں صراحتاً عربی اچھی جاننے کا دعویٰ نہیں کیا‘، لیکن وہ ان کے مداحوں کے اس خیال پر  کہ’خاصی عربی جانتے تھے‘ انھوں نے 20؍ مقامات پر غالب سے اختلاف کیا ہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے غالب کی اردو، ترکی و مغلی، توافقِ لسانین اور فنونِ ادبیہ پر بحث کی ہے۔ آخر میں انھوں نے یہ دِکھانے کی کوشش کی ہے کہ ’غالب ان قوانینِ اخلاق کے پابند ہیں یا نہیں، جن کی خلاف ورزی ایک جویاے حقیقت کے لیے ممنوع ہے‘۔[19]

قاضی صاحب نے غالب کے بیانات اور ان کے تحقیقی نکات پر جامع بحث اور مثالیں پیش کر کے تردید کی ہےاور اس سلسلے میں تمام تر صورتِ حال واضح کر دی ہے۔

محمد حسین آزاد  کی تحقیقات پر قاضی صاحب کی تحریروں کوآزاد بحیثیت محقق میں یکجا کر دیا گیا ہے۔ سب سے پہلے آبِ حیات کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ قاضی صاحب کے خیال میں (1)اکثریت آزاد کی نثّاری کی معترف ہے، مگر یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ وہ تحقیق کے مردِ میدان تھے اور(2)اقلیت مصر ہے کہ وہ صرف ایک بڑے انشاپردار ہی نہیں، ایک بڑے محقق بھی تھے؛[20]چنانچہ قاضی صاحب نے مذکورہدونوں بیانات کو پیشِ نظر رکھ کر ان کے بعض کاموں کا جائزہ لیا ہے۔اس ضمن میں انھوں نے 300؍ بیانات پر گرفت کی ہے، جن میں سے 100؍ کا  تعلقآبِ حیات اور 200؍کا دیوانِ ذوق سے ہے۔قاضی صاحب کا اندازِ  تحقیق ملاحظہ کیجیے:

خالق باری کو  امیر خسرو سے منسوب کیا ہے اور بی چمو (ساقن) کی زبان سے کیا ہے۔ ’بھٹیاری کے لڑکے لیے لیے خالق باری لکھ دی، ذرا لونڈی کے نام پر بھی کچھ لکھ دو گے تو کیا ہو گا‘؟ (الف 76) خالق باری، جیسا کہ شیرانی کی تحقیقات نے قطعی طور پر ثابت کر دیا ہے، امیر خسرو سے کچھ تعلق نہیں رکھتی۔ آزاد کے زمانے میں  یہ  بات کہ امیر خسرو اس کے مصنف  ہیں، شہرتِ عام رکھی تھی، اس لیے آزاد اسے باور کرنے کے لیے زیادہ قابلِ الزام نہیں، لیکن بھٹیاری والی حکایت خود ان کی بنائی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔

خسرو بی چمو  کے یہاں حقہ پیا کرتے تھے۔ (الف 76) تنباکو خسرو کے زمانے میں ہندوستان میں نہ تھا اور یہ بات عام طور پر معلوم ہے۔ حقے سے کچھ اَور مراد ہے تو آزاد کو اس کی وضاحت کرنی تھی۔[21]

قاضی صاحب نے آزاد کے بیانات پر تبصرہ کر کے نتائج بتا دیے ہیں۔ ان نتائج کو مختصر تو کہا جا سکتا ہے، جامع نہیں؛ کیونکہ ان نتائج سے فیصلہ کن راے سامنے آتی ہے، البتہ ان نکات کے لیے اگر شیرانی صاحب کے ہاں دیکھا جائے تو وہاں اختصار اور جامعیت کی عمدہ مثالیں ملتی ہیں۔ مذکورہ بالا نکتہ 2 سے متعلق حافظ صاحب کا کہنا ہے کہ ’قصے کا ناقابلِ قبول حصہ وہ ہے، جس میں چمو ساقن حقہ بھر کر امیر کی خدمت میں لاتی ہے‘۔ وہ سوال کرتے ہیں کہ ’کیا ایسے قدیم زمانے میں، جیسا کہ امیر خسرو کا ہے، حقہ موجود تھا‘، ساتھ ہی بتاتے ہیں کہ ’حقے کا وجود تمباکو کا تابع ہے‘، جو بقول آزاد کے، ’امریکا کا لفظ ہے، یورپ کے راستے ہو اکبر کے عہد میں یہاں پہنچا‘۔ یہاں تک تو وہ آزاد کے دیگر بیان سے اُن کے پہلے بیان کی تردید کرتے ہیں، پھر پرتگالیوں کے ذریعے امریکا سے اس کی یورپ  اور پھر جزائز ہند اور دکن میں تمباکو کی آمد کی اطلاع دے کر اکبر کے رتن ابوالفضل کے ملازم اسد بیگ کے وقائع سے جنوبی ہند سے دربارِ اکبری میں تمباکو کے سفر کی رُوداد بیان کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں وہ احمد آباد گجرات میں مقیم نظیری نیشاپوری کے ایک فارسی غزل پیش کرتے ہیں، جس میں اوّل اوّل تنباکو کی تعریف ملتی ہے۔[22]

حافظ صاحب آبِ حیات پر تین اقساط سے زیادہ نہ لکھ پائے، چنانچہ یہ تنقید پایۂ تکمیل کو نہ پہنچ سکی؛ اس کے برعکس قاضی صاحب نے آبِ حیات کے جملہ مندرجات پر بحث کی ہے، اس لیے انھیں اختصار سے کام لینا پڑا۔ علاوہ ازیں اس حوالے سے دونوں محقق کے مزاج اور طریقۂ تحقیق کے فرق کو بھی پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔

mmm

عہدِ حاضر میں اردو تحقیق میں سنجیدگی اورمتانت کا تعلق رشید حسن خاں کی ذات اور ان کے کام  سے رہا ہے۔ عہدہ و منصب، نام و نمود،خوف یا دباؤ ان کی زندگی کی لغت میں کہیں جگہ نہ پا سکے۔ انھوں نے جو کچھ حق سمجھا، لکھ دیا اور اس سلسلے میں ناموروں یا نامور اداروں کے زیرِ اثر اپنے فیصلوں سے رجوع نہ کیا،بالخصوص علی گڑھ یونیورسٹی اور اردو لغت بورڈ کراچی جیسے معروف اداروں کے تحقیقی کاموں پر ان کی گرفت کے خاطر خواہ نتائج برآمد ہوئے۔وہ اردو زبان میں جدید اصولِ لغت نویسی کی روشنی میں مرتب کیے گئے لغت، جزئی و کُلی مسائل پر حاوی قواعد کی مبسوط کتاب اور ادب کے ارتقا کی آئینہ دار مستند تاریخ کی کمی محسوس کرتے تھے۔ [23]

ان میں سے ذاتی طور پر وہ صرف قواعد پر کام کر سکے اور حقیقت یہ ہے کہ اس کا حق ادا کر دیا، البتہ لغت اور تاریخ کے لیے انھیں وقت نہیں ملا۔ علی گڑھ تاریخِ ادبِ اردو اور تاریخِ ادبِ اردو چھپیں تو انھوں  نے ان دونوں کے تجزیاتی مطالعے پیش کیے،جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ خود ان کےپیشِ نظر کس قسم  کی تاریخ  کا منصوبہ تھا۔

1962ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی طرف سے تاریخِ ادبِ اردوشائع ہوئی تو رشید حسن خاں کا پہلا تاثر یہ تھا کہ ‘ غالباً غلط نگاری کے کسی مقابلے میں حصہ لینے کے لیے اس کو مرتب کیا گیا ہے’۔[24]مرتبین کا دعویٰ ہے کہ ‘یہ کتاب مغربی تاریخوں کے انداز و میعار کو ملحوظ رکھ کر، اُسی طرز پر مرتب کی گئی ہے’،[25]جب کہ رشید حسن خان کے خیال میں، اس  تاریخ کو ایسے مضامین کا مجموعہ قرار دیتے ہیں، ‘جن میں نہ باہم ربط ہے، نہ تناسب و توافق۔ اس کے بجاے متضاد بیانات، غیر متعلق تفصیلات، غلط سنین، غلط انتسابات، مفروضات اور غیر معتبر اقتباسات کی فراوانی ہے’۔[26]محقق نے کتاب کے متعدد مقامات پر سنین کے غلط اندراجات کی  نشاندہی کی ہے۔ صرف ایک مثال سے انداز ہو جائے کہ کتاب میں تاریخی و تحقیقی انتشار کی کیا صورتِ حال ہے:

ص 38 پر شیخ باجن کا سالِ وفات 1506ء لکھا ہوا ہے۔ دوسرے مقالہ نگار نے ص 105 پر آپ کا سنہِ ولادت 790ھ، 1388ء لکھ کر وفات کے متعلق لکھا ہے کہ ‘121 سال کی عمر میں وفات پائی’۔ سالِ ولادت 1388ء میں 121 جوڑے جائیں تو سالِ وفات 1509ء ہو گا۔ تیسرے مقالہ نگار نے ص 259 پر سالِ ولادت 702ھ، 1303ء اور سالِ وفات 790ھ، 1388ء لکھا ہے۔ گویا جو سنہ ایک مقالہ نگار کی تحقیق کے مطابق سالِ وفات ہے، وہ دوسرے کی تحقیق کے مطابق سالِ ولادت ہے۔ خامہ انگشت بہ دنداں کہ اسے کیا لکھیے۔[27]

اسی طرح ہجری و عیسوی تقویم کے سلسلے میں بھی بے احتیاطی کی  مثالیں ملتی ہیں اور مادۂ سنین کے تعینات میں بھی بے اصولی اور غلط انتسابات کا سلسلہ جاری رہا۔ مسلمان حکمرانوں اور صوفیہ کے بارے میں غیر متعلقہ، غیر ضروری اور ناروا بیانات سے متعلق  محقق نے سوال کیا ہے کہ اس کا اصل موضوع سے کیا تعلق ہے؟ وہ لکھتے ہیں کہ ‘اس میں ایسی بحثیں آ  گئی ہیں اور اُن کو اس طرح لکھا گیا ہے کہ وہ کسی پس منظر کو نمایاں کرنے کے بجاے ایک خاص اندازِ نظر کی ترجمانی کرتی ہیں، جن کو تاریخِ ادب سے کچھ تعلق نہیں’۔[28]

علاوہ ازیں  اشعار کے غلط انتساب، تاریخی حقائق اور عہد بہ عہد ارتقاے زبان سے متعلق مرتبین کی کمزور معلومات، سنین کے اندرج میں غیر یکسانیت، ضروری حوالوں سے بے نیازی، کتابوں کے غلط نام اور کتابوں کے غلط انتسابات اور سب سے بڑھ کر اشاریے کی شترگربگی پر انھوں  نے بڑی تفصیل سے مدلل گفتگو کی ہے۔

زبان و بیان کے اعتبار سے رشید حسن خاں نے اس کتاب کی حالت ناگفتہ بہ قرار دی ہے۔ غیر مناسب اندازِ بیان اور غلط جملوں کی بہتات کے پیشِ نظر ‘بعض نئے لکھنے والوں کی کتابیں مل کر بھی اس کی برابری کا دعویٰ بہ مشکل کر سکتی ہیں’۔اس سلسلے میں انھوں نے نگرانِ اعلیٰ کے لکھے ہوئے چند جملے پیش کر کے کتاب کے زبان و بیان کا نقشہ کھینچ دیا ہے:

(1)اس تاریخ کی  پہلی جلد میں ایک لسانیاتی مقدمہ دیا گیا ہے …(2)جدید اصولوں کی روشنی میں کام کر کے ہماری تاریخ کے کئی تاریک گوشوں سے نقاب اٹھایا تھا … (3)تذکروں میں شعرا عام طور پر حروفِ تہجی کے اعتبار سے لیے گئے تھے … (4)خام مواد کو تاریخی پس منظر میں دیکھنا ضروری ہے، ورنہ یک طرفہ ہو جانے کا امکان ہے۔[29]

اس کے بعد انھوں  نے کتاب کے مختلف ابواب سے متعدد مثالیں پیش کی ہیں اور پھر کتاب کی مذکورہ کمزوریوں کے پیشِ نظر اس کتاب کے مصرف پر سوال اٹھایا ہے اوراپنا فیصلہ سنایا ہے:

ابھی اس کی باقی جلدیں نہیں چھپی ہیں، مَیں اربابِ اختیار سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ طلبہ کی بے چارگی اور اردو کی بے مایگی پر رحم کھا کر اُن جلدوں کو طومارِ اغلاط اور متضاد بیانات کا مجموعہ نہ بننے دیں۔ اس کی صورت صرف یہ ہے کہ کسی  ایسے شخص کو نظرثانی کے لیے آمادہ کیا جائے، جو واقعی اس کا اہل ہو۔[30]

رشید حسن خاں کے اس تبصرے کا یہ اثر ہوا کہ اس تاریخ کی جلد کو واپس لے گیا تھا۔ یوں ایک طرف قومی سرمایہ ضائع ہونے سے بچ گیا تو دوسری جانب طالبانِ علم و آگہی گمرہی سے اور امامانِ ادب بدمزگی سے محفوظ رہے۔

اردو کی ادبی تاریخ نویسی میں ڈاکٹر جمیل جالبی کی حیثیت بنیاد گزار کی ہے۔ ان کی مصنفہ تاریخِ ادبِ اردو (مطبوعہ 1977ء)ادبی تاریخ نویسی میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اب تک اس کی چار جلدیں شائع ہو چکی ہیں۔ اب چونکہ جمیل جالبی ہی دنیا میں نہیں  رہے،لہٰذا اس کی پانچویں جلد کا امکان نہیں رہا۔

رشید حسن خاں مؤلف کی محنت کے قائل ہیں اور نقطہ نظر کے ممکنہ اختلاف کے باوجود سمجھتے ہیں کہ انھوں نے تعلقِ خاطر کے ساتھ یہ کام کیا ہے، لیکن اس تالیف میں در آنے والی فروگذاشتوں اور تسامحات کی نشاندہی بھی کرتے ہے، تاکہ اس تاریخ کی اگلی جلدوں ان  کمزوریوں سے بچا جا سکے۔ رشید حسن خاں نے درج ذیل امور کی طرف توجہ دِلائی ہے:

  • ثانوی یا اس سے بھی کم درجہ حوالوں پر استدلال کی بنیاد رکھی ہے اور بہت سے مقامات پر سرے سے حوالہ ہی نہیں دیا۔
  • تحقیق کے نقطہ نظر سے قابلِ قبول اور ناقابلِ قبول مآخذ میں امتیاز نہیں کیا اور دونوں طرح کے مآخذ سے ایک ہی انداز سے استفادہ کیا ہے۔
  • سنین کے ذیل میں عام طور پر حوالہ نہیں دیا۔
  • بہت سے مقامات پر یہ نہیں معلوم ہوتا کہ انھوں نے کتاب کے کس اڈیشن سے کام لیا ہے اور یہ کہ وہ کتاب یا وہ اڈیشن بجاے خود بھی قابلِ اعتماد ہے؟
  • قبولِ روایت کے آداب کو اکثر مقامات پر نظرانداز کیا ہے اور غیر معتبر راویوں کی روایتوں کو جانچے پرکھے بغیر قبول کر لیا ہے۔
  • نثر اور نظم کے جو اقتباسات پیش کیے گئے ہیں، اُن کے ذیل میں یہ صراحت نہیں ملتی کہ صحتِ متن کے لحاظ سے کیا وہ واقعتاً قابلِ اعتماد ہیں؟
  • تنقیدی بیانات بعض جگہ تاریخ نگاری کے پیمانے سے نکل گئے ہیں اور اس طول بیانی نے تاریخ کے دائرے کو نقصان پہنچایا ہے۔
  • زبان اور ادب، جو دو مستقل موضوع ہیں، اُن کو مؤلف نے اس طرح ایک دوسرے میں الجھا دیا ہے کہ زبان کی تاریخ کا مسئلہ، پریشاں خیالی کا شکار ہو کر رہ گیا۔[31]

اس سلسلے میں انھوں نے مضمون کے آئندہ پچاس صفحات میں متعدد مثالیں پیش کی ہیں اور اپنی آرا کو دلائل سے ثابت کیا ہے۔ بظاہر اتنے اعتراضات کے بعد اس تاریخِ ادب کا بھی وہی حال ہونا چاہیے تھا، جو علی گڑھ تاریخِ ادبِ اردو کا ہوا تھا، لیکن چونکہ ان اعتراضات کا تعلق تالیف کے کلیات کے بجاے جزئیات سے تھا اور پھر یہ بھی مؤلف نے یہ کتاب کسی ادارے کی طرف سے شائع نہیں کی  تھی، چنانچہ مذکورہ کمزوریوں کے باوجود تاریخِ ادبِ اردو کی دوسری، تیسری اور چوتھی جلد شائع ہو گئی۔ مرحوم مؤلف نے مبصر کے سنجیدہ اعتراضات کو یقیناً پیشِ نظر رکھا ہو گا اور بقیہ جلدوں میں ان سے استفادہ بھی کیا ہو گا، یہی وجہ ہے کہ آج اردو ادب  کی تواریخ میں ڈاکٹر جمیل جالبی کی یہ تاریخ اپنی قدر و قیمت میں سب سے نمایاں ہے۔ اس میں در آنے والی بعض خامیوں کی نشاندہی درست ہے، لیکن جب تک اس سے بہتر اورجامع تاریخ نہ لکھی جائے گی، اس کی یہ حیثیت باقی رہے گی۔

رشید حسن خاں کی طرف سے خردہ گیری کی تیسری مثال اردو لغت بورڈ کی پہلی جلد پر ان کے بھرپور تبصرے سے دی جا سکتی ہے۔بڑے سائز کے 1172 صفحات کی یہ جلد الف مقصورہ پر مشتمل ہے۔ اس جلد کے مطالعے سے مبصر کا پہلا تاثر یہ تھا کہ ‘لغت کی حد تک غلط اندیشی اور غلط نویسی کی شاید ہی کوئی ایسی مثال ہو، جو اس کتاب کے صفحات میں محفوظ  نہ ہو اور طرح طرح کی غلطیوں کی اس قدر بہتات ہے کہ بآسانی اس کو پُشتارۂ اغلاط کہا جا سکتا ہے’۔[32] رشید حسن خاں نے دیباچۂ لغت میں مدیرِ اعلیٰ کے بیانات پر سخت گرفت  کی ہے اور ان کے ہر دعوے کو باطل ثابت کیا ہے۔ انھوں نے لغت میں درج ذیل کمزوریوں کی نشاندہی کی ہے:

  • جو اسناد فراہم کی گئی ہیں، اُن پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔
  • یہ التزام نہیں کیا گیا کہ صرف معتبر مطبوعہ یا خطی نسخوں سے کارڈ تیار کیے جائیں۔
  • دوسرے لغات سے جو اسناد نقل کی گئی ہیں، اُن کا اصل تصانیف سے مقابلہ نہیں کیا گیا۔
  • بعض معروف کلاسکی کتابوں کے بھی سب الفاظ شاملِ لغت نہیں ہو سکے۔
  • امیر اللغات، فرہنگِ آصفیہ، سرمایۂ زبانِ اردو، نفائس اللغات اور نُور اللغات کے اندراجات سے اگر اِس لغت کے اندراجات کا مقالہ کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ اُن لغات میں جو نہایت کارآمد معلومات درج ہیں اور جن کی اہمیت اور ضرورت سے کسی طرح انکار نہیں کیا جا سکتا، اُن کا اس لغت میں  نام و نشان نہیں  پایا جاتا۔
  • سب سے بڑھ کر یہ کہ بلحاظِ لغت الفاظ کی غیر حقیقی صورتوں کو حقیقی فرض کر کے شاملِ کتاب کیا گیا ہے۔
  • صحتِ املا کا التزام ملحوظ نہیں رکھا گیا۔[33]

اس سلسلے میں تفہیم کے صفحہ 181 سے 207 پر متعدد مثالیں پیش کی گئی ہیں اور اس لغت کو ناقابلِ اعتنا اور ناقابلِ اعتبار قرار دیا ہے۔ رشید حسن خاں کا کہنا ہے کہ اس کے سب غلط اندراجات کا احاطہ کیا جائے تو اس سے بھی ضخیم کتاب تیار ہو جائے۔ انھوں  نے اس تبصرے میں چند مقامات کا جائزہ لیا ہے، جس سے ان کےتفصیل کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے،چنانچہ ان کے خیال میں تفصیل اور استیعاب کی نہ گنجائش ہے، نہ ضرورت۔[34]

حافظ محمود شیرانی نے شبلی نعمانی کی شعرالعجم اور محمد حسین آزاد کی آبِ حیات پر تنقید لکھی اور یقیناً سخت گرفت کی اور اس کے لیے انھوں  نے دلائل سے ان کی کمزوریوں اور خامیوں کی نشاندہی کی،نتیجتاً آبِ حیات کی تحقیقی اور شعر العجم کی تاریخی قدر و قیمت بہت حد تک متاثر ہو گئی، البتہآبِ حیات کی انشاپردازی اور شعرالعجم کی تنقیدی مقبولیت میں فرق نہیں آیا۔ قاضی عبدالودود نےمرزا غالب کی تحقیق کا محاسبہ کیا اور مثالوں کا انبار لگا دیا، لیکن کون کہہ سکتا ہے کہ ان کی اس تحقیق کے نتیجے میں غالب کی عظمت میں کوئی کمی واقع ہوئی ہے؛ البتہ جب رشید حسن خاں نے آلِ احمد سرور کی مرتبہ علی گڑھ تاریخِ ادبِ اردو کا تنقیدی جائزہ لیا تو یہ کتاب چَھپنے کے بعد چُھپ کر رہ گئی، پھر جب انھوں نے اردو لغت بورڈ کی پہلی جلد پر تبصرہ کر کے اس کی قلعی کھول کر رکھ دی۔

سطورِ بالا سے اندازہ ہوتا ہے کہ اگر کتاب میں جان ہو تو وہ سخت سے سخت تنقید کو بھی برداشت کر جاتی ہے، جب کہ  کمزور کام تنقید کا ایک وار نہیں سہہ سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ خردہ گیری میں محقق ایک طرف نام نہاد علما کی نظر میں ناپسندیدہ قرار پاتا ہے، جو سہل انگاری سے علم کی راہیں کھوٹی کرتے ہیں اور دوسری جانب عام قارئین سے بھی داد وصول نہیں کر پاتا، کیونکہ انھیں ان حقیقتوں سے کم ہی سروکار ہوتا ہے؛ چنانچہ خردہ گیری کے  عمل میں مبصر کو اپنی ذات  کی  نفی کرنا پڑتی ہے۔ خردہ گیر نقااد اپنی ہستی کی قیمت پر دنیاے علم و ادب کی تاریکیوں کو دُور کرتا ہے اور تاریخِ زبان و ادبِ اردو کو غلط اور گمراہ کن نتائج سے بچاتا ہے۔چونکہ اس کے ثمرات بالعموم تلخ ہوتے ہیں، اس لیے بہت کم محققین اس کوہ پیمائی کی ہمت کر پاتے ہیں۔آج اگر حافظ محمودشیرانی، قاضی عبدالودود اور رشید حسن خاں نہیں ہیں تو ڈاکٹر تحسین فراقی، ڈاکٹر رؤف پاریکھ اور  ڈاکٹر رفاقت علی شاہد کے بعض تجزیات سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اس سلسلے کو فروغ دیں گے۔ امید ہے کہ چراغ سے چراغ جلتا رہے گا اور اردو زبان و ادب کی تاریک راہوں کو روشن کرنے والے ہمیشہ موجود رہیں گے۔

qqq

[1]    تنقیدِ شعر العجم، دہلی: انجمن ترقی اردو (ہند)، 1942ء، ص الف ب

[2]    ایضاً، ص2

[3]     ایضاً، ص 2 – 3

[4]    ایضاً، ص6

[5]    شعر العجم، ص60، 61، 187

[6]    تنقیدِ شعر العجم، دہلی: انجمن ترقی اردو (ہند)، 1942ء، ص62

[7]    ایضاً، ص383

[8]    تنقید بر آبِ حیات مشمولہمقالاتِ حافظ محمود شیرانی، جلد سوم، لاہور: مجلس ترقی ادب، 2000ء، ص 27

[9]    تدوین، تحقیق، روایت، دہلی: ایس اے پبلشرز، 1999ء، ص200-201

[10]   مقالاتِ حافظ محمود شیرانی، جلد سوم، لاہور: مجلس ترقی ادب، 2000ء، ص42

[11]   ایضاً، ص 67-68

[12]   ایضاً، ص 77-78

[13]   ایضاً، ص 117-118

[14]   ایضاً، ص 138

[15]   آبِ حیات، ص125، لاہور: سنگ میل پبلی کیشنز، ؟؟؟؟ء، ص؟؟

[16]   مقالاتِ حافظ محمود شیرانی، جلد سوم، لاہور: مجلس ترقی ادب، 2000ء، ص161-162

[17]غالب بحیثیت محقق، پٹنہ: خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری، 1995ء، ص نو

[18]ایضاً، ص دس

[19]ایضاً، ص 189

[20]محمد حسین آزاد بحیثیت محقق، پٹنہ: ادارۂ تحقیقاتِ اردو، 1984ء، ص1

[21]ایضاً، ص1

[22]مقالاتِ حافظ محمود شیرانی ، جلد سوم، لاہور: مجلس ترقی ادب، 2000ء،ص 66

[23]ادبی تحقیق، مسائل اور تجزیہ، علی گڑھ: ایجوکیشنل بُک ہاؤس ، 1978ء، ص258

[24]ایضاً، ص258

[25]ایضاً، ص258

[26]ایضاً، ص259

[27]ایضاً، ص263

[28]ایضاً، ص271

[29]ایضاً، ص286

[30]ایضاً، ص287-288

[31]ایضاً، ص291-292

[32]تفہیم، نئی دہلی: مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، 1993ء، ص 176

[33]ایضاً، ص 175

[34]ایضاً، ص180

 

ڈاکٹر خالد ندیم

صدرِ شعبہ اردو اور مشرقی زبانیں،

سرگودھا یونیورسٹی

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
نظم کے ارتقا میں سر زمین میرٹھ کا اہم کردار رہا ہے۔ پروفیسرخالد محمود
اگلی پوسٹ
عمان میں مقیم نوجوان شاعر شاز خان کے اعزاز میں ’پرواز‘ کے زیرِ اہتمام شعری نشست کا انعقاد

یہ بھی پڑھیں

میں پٹاخے سے ہی مر جاؤں گا بم...

دسمبر 14, 2024

شبلی کا مشن اور یوم شبلی کی معنویت – محمد...

نومبر 24, 2024

تھوک بھی ایک نعمت ہے!! – عبدالودود انصاری

نومبر 19, 2024

اردو میں غیر زبانوں کے الفاظ  – شمس...

نومبر 9, 2024

غربت  و معاشی پسماندگی کا علاج اسلامی نقطہ...

مئی 6, 2024

اقبال ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

نومبر 7, 2023

طائر بامِ فکر و فن : ڈاکٹر دبیر...

نومبر 3, 2023

جدید معاشرے اور طلباء کے لیے ادب (...

ستمبر 28, 2023

موبائل فون ایڈکشن اور بچوں کا مستقبل –...

اگست 30, 2023

نیرنگِ خیال کی جلوہ نمائی شعر و ادب...

اگست 29, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں