اردو تنقید پر مغربی تنقید کے اثرات / سید تنویر حسین – ڈاکٹر نوشاد منظر
زیر نظر کتاب’’اردو تنقید میں مغربی تنقید کے اثرات‘‘ سید تنویر حسین کی اہم کتاب ہے۔ ان کے فراہم کردہ معلومات کے مطابق یہ ان کی پی ایچ ڈی کا مقالہ ہے جسے بعض اہم تبدیلیوں کے ساتھ کتابی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔اس کتاب کا پہلا ایڈیش ۱۹۹۸ میں منظر عام پر آیا تھا۔میرے پیش نظر اس کا ترمیم شدہ دوسرا ایڈیشن ہے۔سید تنویر حسین ان دنوں شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ میں استاد کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔جہاں تک مذکورہ کتاب کا تعلق ہے تو مصنف نے اس کتاب کو دس ابواب میں تقسیم کیاہے۔
کتاب کا پہلا باب’’اردو میں تذکروں کی روایت ‘‘ ہے۔اردو میں تذکرہ نگاری کی ایک قابل ذکر روایت رہی ہے۔الطاف حسین حالی کی کتاب’’مقدمہ شعر و شاعری ‘‘کی اشاعت سے قبل ادب بالخصوص شاعری اور اس کی تنقید کا جائزہ لینے میں یہ تذکرے کافی اہم ثابت ہوئے ہیں۔دوسرے لفظوں میں ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ اردو میں تنقید کے لیے راہ ہموار کرنے میں تذکرہ نگاری کا کلیدی رول رہا ہے۔حالانکہ تذکرے میں تذکرہ نگار کی ذاتی پسند کو بڑا دخل حاصل تھا، اور اس کے لئے کوئی اصول بھی مقرر نہ تھا، باوجود اس کے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ تذکرہ نگاروں نے اپنے دور کے شعرا کے کلام کے انتخاب کا جو نمونہ پیش کیا ہے وہ مجموعی طور پرشاعرکی شناخت مقرر کرنے میں کامیاب رہا ہے۔
کتاب کا دوسرا باب’’تذکروں میں تنقید کی بصیرت‘‘ ہے۔تذکرہ بنیادی طور پر تنقید کی ابتدائی شکل ہے۔ تذکرہ نگاروں کے پیش نظر کوئی اصول مقرر نہ تھا، لہذا انہوں نے اپنی پسند کے پیش نظر شعرا کے کلام کا انتخاب کیا اور ان کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔کلیم الدین احمد نے لکھا ہے کہ’تذکرہ نگاروں کی ماہیت، مقصد اور اسلوب سے ناواقف سہی مگر ان میں تنقیدی شعور اور تنقیدی بصیرت ضرور تھا۔‘کلیم الدین احمد نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے اس سے اختلاف مشکل ہے۔سید تنویر حسین کا خیال ہے کہ تذکرہ نگاروں نے زبان کو متروکات اور غیر فصیح الفاظ سے پاک کیا،جس کا اثر یہ ہوا کہ آج ہم اپنے جذبات و خیالات و احساسات کو آسانی سے پیش کر پاتے ہیں۔
زیر نظر کتاب کا تیسرا باب’’افادی اور اصلاحی ادب کے دور کی تنقید‘‘ ہے۔اس باب میں مصنف نے حالی، شبلی اور امداد امام اثر کے خیالات و نظریات کا جائزہ لیا ہے۔اردو تنقید کے بنیاد گزاروں میں مذکورہ تینوں اشخاص کا ذکرآتا ہے۔بعض لوگوں نے حالی اور دیگر ناقد سے اختلافات بھی کیے ہیں، باوجود اس کے ان کی علمی بصیرت کا کسی نے انکار نہیں کیا۔سید تنویر حسین نے اردو کے ان تین اہم نقاد کوافادی اور اصلاحی فکر کا نقاد کہا ہے۔ سید تنویر حسین نے حالی کے متعلق لکھا ہے کہ حالی کا مقصد تنقید کی کتاب لکھنا نہیں تھا بلکہ وہ تو اپنی شاعری کا جواز مقدمہ میں پیش کررہے تھے۔یہ الگ بات ہے کہ حالی نے ’’مقدمہ شعر و شاعری کا ڈھانچہ‘‘ مغرب کے بعض تنقیدی خیالات و نظریات سے ’ تیار کیا ہے، مگر اس میں بھی انہوں نے پہلے ان خیالات و نظریات کو پوری طرح اپنے اندر جذب کیا ، اسے اپنے خیالات سے ہم آہنگ کیا اور پھر اس کو اپنے احساسات و فکریات کے ساتھ پیش کیا ہے۔تنویر حسین نے کتاب کے اس باب میں شبلی نعمانی کے تنقیدی نظریات پر بھی گفتگو کی گئی ہے۔ خلیل الرحمن اعظمی نے ایک موقع پر شبلی کی تنقید کو حالی کی تنقید کا رد عمل بتاتے ہوئے شعر العجم کو بالواسطہ ’مقدمہ شعر و شاعری‘ کا جواب بتایا تھا۔اس ضمن میں سید تنویر حسین کا خیال ہے کہ خلیل الرحمن اعظمی کی باتوں میں صداقت ہے ، مصنف کا اس ضمن میں یہ خیال ہے کہ حالی نے مغربی افکار سے اپنا تنقیدی جہاں بسایا تو وہیں شبلی نے مشرقی شعریات پر اپنی تنقیدی عمارت تیار کی ہے، حالانکہ تنویر احمد نے لکھا ہے کہ چونکہ اس دور میں مغرب سے استفادہ کی لہر چل رہی تھی ایسے میں شبلی بھی مغربی فکر کو پوری طرح نظر انداز نہیں کرسکے۔بلکہ انہوں نے مغرب اور مشرق دونوں سے استفادہ کیا ہے۔سید تنویر احمد نے کتاب کے اس حصے میں امداد امام اثر کا بھی ذکر کیا ہے، بالخصوص ان کی شہرہ آفاق تصنیف’کاشف الحقائق‘ پر جامعیت کے ساتھ گفتگو کی ہے۔
زیر نظر کتاب میں مصنف نے مختلف تنقیدی نظریات مثلاََ ’جمالیاتی تنقید‘،’تحقیقی تنقید‘،’ترقی پسند تنقید‘،’معروضیت پسندانہ تجزیاتی مطالعہ، اور تنقید عصر کے عنوانات سے اردو کے اہم نظریہ ساز اور ناقدین کی تنقید پر گفتگو کی ہے۔اس ضمن میں جن ناقدین کا انہوں نے ذکر کیا ہے وہ کافی اہم ہے۔ممکن ہے بعض لوگ اس فہرست پر اعتراض کریں مگر میرا خیال ہے کہ کسی بھی چیز کے انتخاب میں مصنف کو تھوڑی آزادی تو ملنی ہی چاہیے۔ تنویر حسین نے ناقدین کا جو انتخاب کیا ہے اس میں اختصار تو ضرور ہے مگر یہ تمام نام اردو تنقید کے اہم اور معتبر ہیں، اور ان کی تحریریں معتبر تسلیم کی جاتی ہیں۔
’’جمالیاتی تنقید‘‘ کے حوالے سے انہوں نے عبد الرحمن بجنوری،نیاز فتح پوری اور فراق گورکھ پوری کو شامل کرتے ہوئے یہ وضاحت بھی کی ہے کہ ان ناقدین کی تحریروں میں تاثراتی عناصر نمایاں ہیں اس لیے ان کو جمالاتی تنقید کے زمرے میں رکھا جانا چاہیے۔مصنف نے اس باب میں ’ جمالیاتی تنقید‘ کا مختصر تعارف پیش کیا ہے۔ان کا خیال ہے کہ جمالیاتی تنقید کا اصل مقصد فن پارے میں حسن و مسرت کی تلاش اہم ہے۔تنویر حسین نے قدرے جامعیت کے ساتھ مذکورہ ناقدین کی تنقیدی بصیرت پر گفتگو کی ہے اور ان کی تحریروں میں موجود جمالیاتی اور تاثراتی حوالوں کا نشان زد کیا ہے۔
’اردو تنقید میں مغربی تنقید کے اثرات‘ کے آٹھویں باب’تنقید عصر‘ میں سید تنویر حسین نے آل احمد سرور، محمد حسن عسکری، شمس الرحمن فاروقی ، وزیر آغا اور گوپی چند نارنگ کی تنقیدی بصیرت کا جائزہ پیش کیا ہے۔مذکورہ ناقدین کا شمار اردو کے اہم ترین نقاد کے طور پر کیا جاتا ہے۔ان میں سے بعض نظریہ ساز نقاد ہیں ۔ان ہی نقاد میں ایک اہم نام شمس الرحمن فاروقی کا ہے۔ شمس الرحمن فاروقی اردو کے ان معدودے چند نقاد میں سے ہیں جن کا مطالعہ وسیع ہے، انہوں نے مغربی افکار و نظریات کا مطالعہ کرتے ہوئے اس کا اطلاق اردو تنقید پر کیا ہے۔شمس الرحمن فاروقی کی تنقید کا جائزہ لیتے ہوئے سید تنویر حسین نے لکھا ہے کہ فاروقی نے کوئی نیا اسول تنقید تو پیش نہیں کیا مگر مغربی اصولوں کو بڑے ہی ڈھنگ سے اردو شاعری پر منطبق کیا ہے۔یہی نہیں ترسیل و ابلاغ کے مسئلے اور شعر وادب کے بنیادی مسئلے پر جس جامعیت اور قطعیت کے ساتھ گفتگو کی ہے اس کی مثال کم ملتی ہے۔سید تنویر احمد نے لکھا ہے کہ شمس الرحمن فاروقی نے اردو تنقید میں ایک نیا شعور بیدار کیا اور نئی ذہنی فضا تیار کی۔
سید تنویر احمد نے معاصر تنقید کے اہم ستون گوپی چند نارنگ کی تنقید کا جائزہ بھی اپنی مذکوہ کتاب میں لیا ہے۔مصنف نے گوپی چند نارنگ کا لسانیاتی تنقید کا بنیاد گزار بتایا ہے، چونکہ گوپی چند نارنگ نے لسانیات اور ساختیات کے حوالے سے کئی اہم کام کئے ہیں شاید یہی وجہ ہے کہ مصنف نے گوپی چند نارنگ کے انداز کو’ جامع لسانیات‘ کہا ہے۔سید تنویر احمد نے گوپی چند نارنگ کا مطالعہ ساختیات اور اسلوبیات کے خاص حوالے سے کیا ہے۔ مصنف نے لکھا ہے کہ گوپی چند نارنگ کے یہاں اسلوبیاتی تنقید کے جتنے عملی نمونے ملتے ہیں اتنے عملی نمونے ساکتیاتی تنقید کے نہیں ملتے، مصنف کے اس خیال سے اتفاق کیا جاسکتا ہے کہ گوپی چند نارنگ نے اسلوبیات اور ساختیات کی شکل میں اردو تنقید کو’پرکھ ‘کی ایک عملی کسوٹی اور معیار دیا ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ڈاکٹر تنویر حسین نے نہایت تفصیل کے ساتھ تنقیدی نظریات و افکار اور اشخاص پر روشنی ڈالی ہے۔ انہوں نے بعض ناقدین کے خیالات سے نہ صرف اختلاف کیا ہے بلکہ کئی اہم سوالات بھی قائم کیے ہیں۔جس سے بحث و مباحثہ کے نئے راستے کھلتے ہیں۔اس کتاب کو پڑھتے ہوئے یہ محسوس ہوتا ہے کہ تنویر احمد نے تنقید کے ایک وسیع میدان پر ایک بھرپور اور عمدہ کتاب لکھی ہے۔ میرے پیش نظر اس کتاب کا ’ترمیم و اضافہ شدہ‘ ایڈیشن ہے، جس میں گوپی چند نارنگ اور شمس الرحمن فاروقی کے علاوہ حامدی کاشمیری جیسے ناقدین کا تبصرہ بھی شامل ہے۔ان تبصرے کو پڑھ کراندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کتاب کے پہلے ایڈیشن کو کیا مقبولیت حاصل رہی ہوگی۔ مجھے امید ہے کہ یہ کتاب طلبا اور اساتذہ دونوں کے لیے کار آمد اور مفید ثابت ہوگی۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

