رات کے 12 بج کر 16 منٹ ہوئے ہیں – میں نے رحمان عباس کے ناول "زندیق” کا مطالعہ ابھی ابھی مکمل کیا ہے – بطور قاری اس ناول کی یہ پہلی قرأت ہے جو مکمل ہوئی ہے-اس سے پہلے میں نے اس ناول کے ڈرافٹ کو ایڈٹ کرنے کی غرض سے تین سے چار مرتبہ پڑھا تھا – اس دوران بھی ادبی حظ اٹھایا ضرور تھا لیکن اس مرتبہ ایک قاری کے طور پہ اسے پڑھنے کا جو لطف اٹھایا وہ اپنی جگہ ایک الگ اور پُرکیف تجربہ تھا- آج موسم نے اس کی قرأت کا لطف دوبالا کردیا- میں برآمدے میں بیٹھ کر اسے پڑھ رہا تھا اور برآمدہ میرا ٹین کی چھت کا ہے – بارش اس دوران مسلسل ہورہی تھی – ٹین کی چھت پہ بارش کی بوندیں لگاتار پڑ رہی تھیں اور اُن کی ٹَن ٹَن سے اپنی ایک موسیقی پیدا ہورہی تھی – رات کے اس پہر دور کہیں سے چوکیداروں کی وسل بجانے کی آوازیں بھی اس ماحول میں شامل تھیں – وقفے وقفے سے بسوں اور کاروں کے گزرنے کی آوازیں بھی سُنائی دیتی رہیں – میرے گھر کے سامنے سبزی منڈی ہے تو رات کے اس پہر سامان سے لدھے پھندے ٹرک اور ہائی ایس مزدے گزرنے کی آوازیں بھی شامل ہورہی تھیں – تھوڑے سے فاصلے پہ ریل کی پٹری گزر رہی ہے جس پہ ریل کے گزرنے کی آواز بھی تھوڑے طویل وقفوں کے بعد آتی رہی – ہلکی ہلکی سی سرد ترین ہوا موٹےپردوں اور لگی چق کے درمیان خلا سے گزرکر برآمدے میں آتی رہی اور میرے ہاتھوں اور پیروں کی انگلیوں کو تھوڑا تھوڑا شَل بھی کرتی رہی – میں نے اس رات ناول کے باب "دورہ یورپ” سے قرأت شروع کی تھی اور ہالوکاسٹ کی تفصیلات پڑھنے کے دوران جب ناول کامرکزی کردار آدمی کی درندگی اور بربریت کے بارے میں سوچنے لگتا ہے،تو اس کے خیالات میں نے پڑھنا شروع کیےـ میرے ذہن میں صہیونیوں کی جانب سے فلسطینیوں پہ ڈھائے جانے والے مظالم کی داستان گردش کرنے لگی تھی اور میں سوچ رہا تھا کہ ثناء اللہ نے بالکل ٹھیک نتیجہ اخذ کیا تھا کہ ہالوکاسٹ آدمی کی درندگی اور بربریت کا اظہار تھے، کیونکہ ارض فلسطین میں یہ صہیونی یہودی تھے اور ہیں جنھوں نے نسل پرستی اور مذہبی جنونیت میں فلسطینیوں کے ساتھ وہی کرنے کی کوشش کی جو اُن کے ساتھ نازی جرمن نے کرنے کی کوشش کی تھی – صہیونی آدمی کی یہودی شناخت بھی اسے درندگی کا کھیل رچانے سے روک نہ سکی – ہرشیل گیرنیز پان کی کہانی سُن کر خاص طور پہ اُس کا جرمن سفارت خانے میں ایک اعلیٰ سفارتی عہدے دار کو قتل کرنے سے پہلے اپنے والدین کو خط لکھنے کے تذکرے کے وقت ثناءاللہ کو وہ نوجوان کشمیری یاد آئے جو بھارتی فوج سے لڑنے کے لیے جانے سے پہلے ایسے ہی جذباتی خط لکھا کرتے تھے لیکن مجھے ہرشیل گرینز پان کا قصہ سُن کر بھگت سنگھ کے گرفتاری کے بعد جیل کی کوٹھڑی میں بیٹھ کر لکھے خطوط اور اُن کا متن بہت یاد آیا- مجھے بنگال کے وہ سب دہشت پسند فریڈم فائٹر یاد آئے جو انگریز سامراج کی نسل پرستانہ نوآبادیاتی جبر و ظلم کے خلاف تشدد کے راستے کی طرف نکل گئے تھے – مجھے تلک کی یاد آئی – جب ثناء اللہ دلی میں اینٹی مسلم فسادات کو "فرقہ وارانہ فسادات” کہہ کر تشدد کا ذمہ دار ہندوتوا اور مسلمانوں دونوں کو قرار دیتا ہے تو ایسے میں جرمنی کے انٹیلی جنس کے میزبان افسران ثناء اللہ سے سوال کرتے ہیں کہ دلی میں مساجد کے مقابلے میں کتنے مندر تباہ ہوئے، کتنے ہندو مارے گئے؟ اس کا جواب ظاہر ہے ثناء اللہ کے پاس نہیں تھا – جن دنوں پاکستان میں "شیعہ نسل کشی” اپنے عروج پہ تھی تو ہم سے کہا جاتا تھا کہ اسے شیعہ نسل کُشی مت کہیں بلکہ یہ "شیعہ – سُنی” فرقہ وارانہ لڑائی ہے – اس موقعے پہ جب ہم یہ سوال رکھتے کہ ہمیں بتائیں پاکستان میں ہونے والی شناخت کی ٹارگٹ کلنگ میں کتنی وارداتیں شیعہ مسلمانوں نے کی ہیں تو اکا دکا مثالیں دی جاتیں یا پھر نوے کی دہائی میں اینٹی شیعہ دہشت گرد تنظیموں سے نبرد آزما رہنے والی سپاہ محمد کی مثال دی جاتی تو ہم پوچھا کرتے تھے کہ پھر اس حساب سے تو ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف ہندوتوا کے لوگوں کے حملوں کو بھی ردعمل قرار دے کر ہندوستان میں مسلمانوں کو مارجنلائز کرنے کا انکار کیا جاسکتا ہے کیونکہ وہاں بھی کئی مسلم دہشت پسند تنظیمیں سامنے آئیں اور انہوں نے بھی مندروں اور ہندؤوں کے مقدس تیوہاروں پہ ہونے والے اجتماعات کو نشانہ بنایا تھا اور ایسے ہی فلسطینوں کے ساتھ جو ہورہا ہے اسے لیکر فلسطینیوں کی مظلومیت اور مارجنلائزیشن کا انکار کیا جاسکتا ہے – جیسے بھارت سرکار اور ریاست کشمیری، ناگالینڈ، تری پورہ، چھتیس گڑھ، تلنگانہ کے قومی سوالوں اور وہاں کی اقوام کی مظلومیت، محکومیت اور جبر کے وجود کا انکار کرنے کے لیے دلیل ان اقوام کے اندر سے جوابی نسل پرستانہ تشدد کو بناتی ہے یا پاکستان میں ایک بڑا سیکشن بلوچ عسکریت پسندوں میں سے بعض کی جانب سے پنجابی مزدوروں اور دیگر سیکشن پہ ہلاکت انگیز حملوں کے ردعمل میں بلوچ مظلومیت اور محکومیت کا انکار کردیا جاتا ہے – وہ فوج کے جرنیل اور انٹیلی جنس کے نظریہ ساز جو ہندو راشٹر سینا کی نسل پرستانہ مذہبی بنیاد پرستانہ نفرت کے تحت اینٹی مسلم، کرسچن، دلت فسادات پہ دل گیر ہوتے ہیں وہی کشمیر سے ناگالینڈ تک سیکورٹی مشینری کے جبر، تشدد، وسائل کی لوٹ مار کو جائز خیال کرتے پائے جاتے ہیں – کسی بھی ریاستی بندوبست میں اقوام میں سے مہاقوم اور اُس مہا قوم کی فوج کی ذہنیت چھوٹی اقوام کے لیے فسطائی ہوا کرتی ہے – رحمان عباس اپنے اکثر کرداروں سے ہندوستان کی تہذیب کے جس پہلو کو نمایاں کرکے دکھاتا ہے وہ اس کا تکثیریت اور سارے مذاہب و نسلوں کو اپنے اندر سمولینے کا وصف ہے جس کے بارے میں اُن کا یقین تھا کہ یہی وصف ہندوتوا کو شکست دے ڈالے گا – مجھے اس وصف کے بارے پڑھ کر خیال آیا کہ اسلام کے ماننے والوں کے ہندوستانی صوفیا کے ایک بڑے حصے نے شاید اسی تہذیبی وصف کو "صلح کلیت” اور وحدت الوجودیت کے نام پہ اسلام کے اندر تلاش کیا اور ہندوستان کی تکثیریت پسند تہذیب کو بمطابق اسلام قرار دے ڈالا – بنیاد پرست سیاسی اسلام کے ماننے والے گروہوں کی طرف سے اس پہ شدید ردعمل آیا اور وہ اسے کمیونل نظر سے دیکھنے اور دکھانے کی کوشش کرتے رہے – اس ناول میں ہندو اساطیر کی روشنی میں جدید دور کے مرد و عورت کے جنسی رجحانات کو اس ناول کے کرداروں کی زندگی سے جوڑا گیا ہے وہ شاید رحمان عباس کے ناولوں کا ہی خاصا تھا – روحزن میں ہم نے اس کا ذرا کم پیمانے پہ استعمال دیکھا جبکہ اس ناول میں یہ شدت کے ساتھ استعمال ہوا ہے – کوئیرازم، ہم جنس پرستی کو جیسے مہابھارت کے اساطیری کرداروں اور واقعات کے ساتھ جوڑا گیا وہ اپنی نوعیت کے فکشن میں پہلی بار استعمال ہے – بادوشا اور ثناء اللہ کے درمیان ہم جنس پرستانہ تعلق کو جیسے موہنی اور کرشنا کے اساطیری کرداروں کے درمیان تعلق کے ساتھ بیان کیا گیا وہ زبردست تخلیقی وفور کا فکشن میں اظہار ہے- زبان کا اس ناول میں جس بلند تخلیقی سطح پہ جاکر اظہار ہوا ہے اُس نے کم از کم کہانی، پلاٹ، کرداروں کو تھوڑی یا بالکل بھی اہمیت نہ دینے والے فاروقی اور اس کے چیلے فکشن نگاروں کو زبردست جواب دیا ہے – اس ناول کے متن میں معانی کی تہہ داری آہستہ آہستہ نقادوں اور فکشن کے سنجیدہ قارئین کے ذہنوں پہ کھلے گی اور یہ ناول بار بار فکشن کے باب میں زیر بحث آئے گا- بہت سارے ٹیبوز کو اس ناول کے کرداروں نے اپنے تئیں زوردار طریقے سے چیلنج کیا ہے – ایک چیز جو مجھے اس ناول کے نسائی اور بادوشا جیسے کرداروں کی جنسی زندگی میں نظر آئی وہ ثناء اللہ کے ذریعے اُن کا اظہار ہے جو ان کرداروں کی فعالیت کو کم بلکہ اُن کی انفعالیت کو ظاہر کرتا ہے اور وہ ثناء اللہ کے سامنے دبے دبے نظر آتے ہیں اور ایک مرد کی فاعلیت کا تاثر گہرا ہوجاتا ہے – جیسے انیتا اور عارفہ میجک مشروم کے زیر اثر جنسی اختلاط کے عروج پہ فاعل سے کہیں زیادہ اُس وقت مفعول نظر آتی ہیں جب ثناءاللہ کی زبان سے یہ جملے ادا ہوتے ہیں کہ آؤ میری داسیو اپنے اندر راجا کی آغوش میں سما جاؤ، یہاں تک کہ ثناءاللہ ابتداء میں پرسنّا کے آگے دبا ہوا دکھائی دیتا ہے لیکن آخر میں وہی پرسنّا پہ غالب نظر آتا ہے، امبا کے کردار میں بھی یہی ہوتا ہے اور جرمن فوجی خاتون افسر روزا کے باب میں بھی ثناءاللہ ہی غالب نظر آتا ہے اور وہ خواتین کردار خود کتنی آزاد ہیں وہ خود بتانے کی بجاۂے ثناءاللہ کی زبانی ہمیں زیادہ پتا چلتا ہے کہ وہ کیا ہیں – بطور مرد ثناءاللہ کیا ہے؟ اس ناول کے نسائی کردار اُس پہ زیادہ روشنی ڈالتی نظر نہیں آتے – ثنااللہ ہمیں ان عورتوں اور بادوشا کے جسمانی خدوخال اور جنس کو انگیخت کرنے والے اعضا کا بیانیہ مرتب کرتا نظر آتا ہے لیکن نسائی کردار اور بادوشا کی زبانی ہمیں اپنے پارٹنر کے بارے میں وہ کچھ پڑھنے کو نہیں ملتا جو ثناء اللہ کی زبانی جنسی فعل سے حظ اٹھانے والے اور والیوں کی حالت کے بارے سُننے کو ملتا ہے – ہوسکتا ہے میرا یہ تاثر غلط ہو اور میرے دیکھنے کا یہ انداز درست نہ ہو – سامی مذاہب کے بارے میں کمنٹری بمقابلہ ہندو مت کے بھی یک طرفہ سی لگتی ہے کیونکہ یہاں ہمیں سامی مذہب کے کردار دبے دبے سے نطر آتے ہیں – زندیق ایک بہت بڑے کینویس کا ناول ہے جس کو ایک یا دو قرأت میں اپنے قابو میں لانا آسان بات نہیں ہے اور نہ ہی اردو فکشن میں اس طرح کے کینویس کا حامل کوئی اور ناول میری نظر سے گزرا ہے – رحمان عباس کی ہمت کی داد دینا بنتی ہے اُس نے اتنے بڑے کینویس پہ کہانی کو بے ربط ہونے نہیں دیا اور اس میں کسی باب میں جزئیات نگاری "زائد” معلوم نہیں ہوتی ـ رحمان عباس نے اپنے سٹیمنا اور ہمت کو بھی ٹوٹنے نہیں دیا تب ہی اردو فکشن کا یہ اہم ناول ہمیں پڑھنے کو ملا ہےـ
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

