Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
افسانہ کی تفہیم

عالمی گاؤں میں معاصراردو افسانے کی فکری اساس – ڈاکٹر عظیم اللہ ہاشمی

by adbimiras فروری 1, 2022
by adbimiras فروری 1, 2022 0 comment

31 دسمبر 1999 کی رات بارہ بجے ہم نے بیسویں صدی کو نم آنکھوں سے الوداع کہہ کر اکیسویں صدی کو بڑے جوش و خروش کے ساتھ استقبال کیا تھا۔ہم سے رخصت پزیر صدی جہاں بنی نوع کے دامن کو سیکڑوں خوشیوں کے تحفے دیئے وہیں سیکڑوں ایسے زخم بھی دی جس سے انسانیت بلبلا اٹھی۔ان کے بطن سے پنپے مسائل زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کئے جس سے سماجی،معاشی اورمعاشرتی زندگی کے شب وروز متاثر ہوئے۔چونکہ ادب کے پیمانے زندگی کے شب وروز کے مسائل سے ہی بھرتے ہیں، اس لیے دوسری زبانوں کی طرح اردوزبان بھی ان لمحوں کے حسب ونسب کو اپنے دامن میں سمیٹا اورجو فن پارے وجود میں آئے  اس میں زمانہ اپنے عکس کو صاف صاف دیکھ سکتاہے۔ایسے ہی چندفن پارے کو عالمی افسانہ فورم (جرمنی)نے گذشتہ 7جنوری 2022 سے 31جنوری 2022 تک اپنی  پہلی سہ ماہی نشست میں پیش کرکے عالمی سطح پر اردو افسانے کے قاری کی توجہ اس جانب مبزول کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔اس فورم کے روح رواں وحیدقمرصاحب (جرمنی) کے علاوہ مجلس انتظامیہ میں انجم قدوائی (ہندوستان)، صائمہ شاہ (یوکے )، وسیم میر (کوریا)،زبیر سیاف ، مریم ثمر، اسماء حسن (پاکستان)شامل ہیں۔فورم کے اغراض ومقاصدکا ذکر اس کے وال پریوں ہے۔

۔”اس فورم کا مقصد افسانے کی ترویج و اشاعت اور افسانہ نگاروں کو عالمی سطح پر ایک دوسرے سے اور عام قارئین سے متعارف کرنا ہے ۔ اسی طرح یہ افسانوں پر مثبت تنقید ، تجزیوں اور تبصروں کی بھی جگہ ہے ۔ یہاں سینئر افسانہ نگاروں کے ساتھ ساتھ نئے لکھنے والوں کو بھی بھرپور نمائندگی دی جاتی ہے ۔”

اس سے پہلے سال میں ایک بار عالمی سطح پر افسانہ میلہ منعقد ہوتا آیا ہےلیکن اس دفعہ پہلی بارسہ ماہی نشست کا فیصلہ آنے کے بعد پہلی نشست میں ہمارے بزرگ اور نئے افسانہ نگار دونوں کے افسانے پیش کئے گئے جن میں کنول بہزاد کا فسانہ” ادھورا خط” ایک جذباتی افسانہ ہے۔جس میں یہ تاثر دینے کی کوشش ہوئی ہے کہ ماں اور بیٹی کے رشتے بڑے گہرے ہوتے ہیں۔بیٹی اپنی ماں کو کبھی بھی ایسی خبر دینے سے گریز کرتی ہے جس سے ماں کو دکھ ہو۔افسانہ یہ بھی انکشاف کرتاہے مرد اساس معاشرے میں عورتیں محکوم ہیں جہاں مرد کاجبرجب سر اٹھاتاہے تو یہاں تک پہنچتاہے۔

۔”ابا نے گھر کو جہنم بنا کے رکھا ہوا تھا۔۔۔ تم پہ ہاتھ اٹھانا، گالم گلوچ کرنا،خرچے سے تنگ رکھنا اور بیٹیوں کی ماں ہونے کے طعنے دینا۔۔۔ہمارےگھر میں کوئی خوشی دیر پا نہ تھی۔۔۔ایک اداسی اور اضطراب گھر کے درو دیوار سے لپٹے رہتے۔”۔

ایک عورت کبھی نہیں چاہتی ہے کہ اس نے جو زندگی جیاویسی کرب کی زندگی اس کی بیٹی بھی گذارے اس لیے وہ ہمیشہ یہی چاہتی ہے کہ اس کی بیٹی پڑھ لکھ کر خوشحال رہے۔ اس کے لیے افسانےکے کینوس پر ماں نے بیٹی کو زیور بیچ کر پڑھایا لکھایالیکن پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا۔

(1)۔”میں تو بیٹوں کی ماں ہوں۔۔۔ پڑھی لکھی ہوں۔۔۔اپنا بوجھ بھی خو د اٹھاتی ہوں مگر تقدیر بالکل تجھ سی ہے۔۔۔۔میرا دل صحرا اور آنکھ سمندر ہوچکی ہے۔”

(2)۔”میرا پڑھا لکھا شوہر عورت کو حقیر گردانتا ہے۔۔۔مجھے گالیاں دیتا ہے۔۔۔کئی بار ہاتھ بھی اٹھا چکا ہے۔۔۔میں جو آج کی عورت ہوں۔۔۔اپنے حقوق سے مکمل آگاہ ہوں۔۔۔اس کے آگے پسپا ہو چکی ہوں۔۔۔میں بچوں سے دور ی برداشت نہیں کر سکتی ۔۔۔یا شاید بیاہتا عورت کی حیثیت سے مجھے سماج میں جو نام نہاد عزت حاصل ہے اس کی اسیر ہوں یا پھرمجھے بھی تمہاری طرح اس چار حرفی لفظ ” طلاق ” سے ڈر لگتا ہے۔۔۔میں بہت بزدل ہوں ماں۔”

کیااس افسانے کو پڑھ کر کیا ایسامحسوس نہیں ہوتاہے کہ معاصر معاشرے میںکم وبیش نصف فیصدعورت ساری عمرکنیز رہ کربھی اس خوش فہمی میں زندگی گذاردیتی ہےکہ وہ اس گھر کی ملکہ ہے۔ ؟

جاوید انورکا افسانہ” تولا ” کے کینوس پرایک مخصوص خطے کی دیہاتی بول چال غالب ہے۔افسانے کا نصف حصہ گاؤں اورماحول کی جزیات نگاری میں صرف ہواہے۔افسانے میں گائوں کی چمکتی تیکھی دوپہر ،اساڑھ کا حبس،ساون بھادوں کی خاموشی ،جیٹھ کی خشک گرمی اور فصلوں بھرے کھیتوں کی پرسرار خاموشی کی عجیب اداسی اور کوزہ گری پیشے کے گرتے گراف اور پھر کمہاروں کی زندگی کے اٹھتے معیار کا بھی ذکر ہواہےجو کوزہ گری کو چھوڑ کر گدھے اور خچر پال لئے ہیں۔بیٹاجب جوان اور عقلمند ہوجاتاہے تو باپ اس کی پسنداور فیصلے کومان کرچلتاہےورنہ اس کو اس بات کا خوف رہتاہے کہ کہیں وہ بغاوت نہ کردے اس لیے اللہ دتہ نے اپنے بیٹے ریاست کےاس فیصلے کو اہمیت دی کہ جب مارکیٹ کا ریٹ اٹھے گاتب گندم فروخت ہوگا۔لیکن جب پانی سر سے اوپراٹھتاہے تواللہ دتہ کے اندربیٹے سے بغاوت کا تیورکڑاہوجاتاہےاورکہتاہے کہ ربر کو اتناہی کھینچ کہ ٹوٹ نہ جائےاور پھر تیزی کے ساتھ آگے بڑھتاہے اور اونچی آواز میں تحکمانہ لہجے میں بولتاہے۔

۔” اوئے عُمر ! کنک خچروں پر لاد اور سیدھا آڑھت پہنچ ۔ دینے کو اس کی تلائی میں بعد میں دے دونگا ۔چل اللہ بھلا کرے ۔

اس جھلے ریاست کی بات مت سُن ۔ اسے ابھی کیا پتہ۔ نیا لونڈا ہے ۔ ”

افسا نے کا اختتام پر دینے کی مزدوری بروقت یہ کہہ کرادانہیں کی گئی ہے۔

۔”اوئے عُمر ! کنک خچروں پر لاد اور سیدھا آڑھت پہنچ ۔ دینے کو اس کی تلائی میں بعد میں دے دونگا ۔”

یہی وجہ ہے کہ دینے جرے اور گوارے والے کھیت میں حبس اور چُبھتی ہوئی  دوپہر  کے وقت کیکر کے چھدرے سائے میں بیٹھ کر  اپنے دائیں ہاتھ سے غفُورے موچی کے ہاتھ کا سئیا ، بھینس کے چمڑے کا بنا ، بھاری دیسی  جُوتا اُتاا کر بائیں کندھے کے اُوپر سے لہرا لہرا کر پُوری قوت سے کئی جُوتے اپنی پُشت پر مارااورپھرچہرے کو دونوں ہاتھوں سے چھپالیا اور بلبلاکر رونے لگا۔افسانے میں اس کا بھی پردہ چاک ہواہے کہ گاؤں میں غریبوں اور نیچلے طبقے کے لوگوں کااستحصال یہ سوچ کرکیاجاتاہے کہ:

۔”اجرے کے لمبے لمبے ٹانڈوں نے چاروں طرف سے کیکر کے کانٹوں بھرے ،بڑے سے درخت کو گھیر رکھا تھا ۔ایکڑ بھر باجرے کے درمیان اس پرانے درخت نے اپنی جگہ یوں خالی کرا رکھی تھی جیسے گاؤں کے بڑے کسی ایسے ویسے کو پنپنے نہیں دیتے کہ کل کو سر نہ آ جائے۔”

بہر حال افسانہ ایک تاثر چھوڑنے میں کامیاب رہا۔لہذایہ کہنے میں عار نہیں کہ آج بھی منشی پریم چنداور احمدندیم قاسمی کا گائوں افسانے کے کینوس پر موضوع بحث ہے۔

صوفیہ شیریں کا افسانہ فسانہ’’ کہیں پھر تو نہیں ‘‘بظاہرراست بیانیہ اسلوب میں لکھا گیاہے لیکن اس کے باطن میں گہری معنویت ہے جو اپنے عصرکی شدت پسندی،نئی نسل کے بدلتے رجحان کی تشہیرکرتی ہے۔افسانے کو سادہ زبان، چست اور درست مکالمے دلچسپ بناتے ہیں جس میں افسانے کی شعریات سے انحراف دیکھائی نہیں دیتا ہے ۔ افسانہ فرقہ واریت کے بطن سے پنپے متعددمسائل کی نشاندہی کررہا ہے جس کی لپیٹ میں نئی نسل آگئی ہے جس کے پیش نظر ان کے سامنے ہجرت ایک بارپھر زیر غور ہے لیکن صوفیہ شریں کے افسانے کا یہ متن اس ہجر ت کو بڑھاوا دینے کی بجائے نئی نسل کو یہ سمجھانے کی کوشش کرتاہے جس سے اپنی مٹی سے محبت کی خوشبو آتی ہے۔

’’ہم تو جہاں بھی جائیں گے یہ مٹی ہمارے جڑوں سے لپٹی رہے گی۔ہم چاہ کر بھی اس مٹی سے الگ نہیں ہوسکتے ۔ کئی دہائیوں پہلے بھی کچھ لوگوں نے ایسی کوشش کی تھی۔نتیجہ تاریخ کی کتابوں سے کہیں زیادہ روندے ہوئے جسموں اور زخم خوردہ ـذہنوں پر درج ہیں اور پھر ہم کیوں جائیں گے؟ہمارے آبا و اجداد نے فیصلے کی گھڑی میں اسی مٹی کو چنا۔اسی مٹی کی حفاظت میں اپنی جانیں قربان کیں۔‘‘

یقینا آپ کو اس اقتباس میں اپنے اجداد کی مٹی کی بھینی بھینی خوشبو کا احساس ہوا ہوگا۔صوفیہ شیریں اپنے اس افسانے سے اسی خوشبو کو چارسوپھیلانا چاہتیں ہیں تاکہ وطن کی شاخوں پر ہریالی قائم ودائم رہے نیزیہ برگ وبار سے بارآوررہیں۔

صائمہ نفیس کا افسانہ "حمام”کا اسلوب بیانیہ ہے۔افسانہ مومل،ملہار اور سچل کے گرد گھوم رہاہے۔ افسانے میں افسانوی رس کا ذائقہ  ہے۔اس کے کینوس پرایک دو فلسفے بھی سموئے گئے ہیںجوافسانے کو کڑی سے کڑی ملانے میں معاون ہیں۔بابانورالدین کا کردارللہی ہےجومرنے کے بعد مور کے پروں کو نکال کران کو مٹی میں دفن کرتاہے تاکہ گدھ ان  کے جسم کو نہ کھائیں اور ان کے پر وںکی جھاڑو سے مزارشریف کی صفائی کرتاہے۔افسانے کے کینوس پر اس حقیقت کی بازگشت بھی سنائی دیتی ہے کہ گدھ موت کی بو سونگھ لیتے ہیں۔جب موت کے رقص سے سانسوں کی ڈورٹوٹتی ہے اس وقت گدھوں کو اپنی زندگی کی نوید سنائی دیتی ہےاور ان کی آنکھیں اپنی شکم سیری کے تصور سے چمکنے لگتی ہیں۔مومل اورملہار کے خسرکینوس پر گدھ کی علامت بن کرابھرتے ہیں جن کو اپنے آنے والے پوتے کی موت پرنقد رقم کی امید ہوتی ہے۔ان دونوں کی سفاکی کے منہ بولتے یہ دو متن انسانیت کے گرتے گراف کی نشاندہی کرتے ہیں۔:

(1)”بس تو دل چھوٹا نہ کر تجھے نئی موٹر سائیکل مل جائے گی، فیکا نائی بتا رہا تھا کہ اُ سکی دُکان پر ایم این اے کا منشی آیا تھا وہ بتا رہا تھا، کہ گورئمنٹ نے یہ اعلان کیا ہے کہ تھر کے ہسپتال میں سہولیات کی کمی کے باعث اگر زچگی کے دوران کوئی بچہ مر جائے گا تو اُس کے وارثوں کو پچاس ہزار ملیں گے ۔بس تو اپنی بیوی کا نام اُسی ہسپتال میں لکھوا دے ،اور ہاں جب اس کو زچگی کے درد اُٹھیں تو ہسپتال لے جانے میں دیر کر دینا،بچہ پیٹ میں ہی مر جائے گا۔ تو تجھے پچاس ہزار مل جائیں گے، تو اِن پیسوں سے نئی موٹر سائیکل خرید لینا ۔”

(2)” مومل کو اس کے گھر بھیج دو کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ یہاں رک جائے اور ملہارکو ہمیں اُس کے میکے بھیجنا پڑے زچگی کے لئے ۔پھر تو مجھ سے شکوہ نہ کرنا کہ میرا بیٹا شادی کے بعد مجھ سے دور ہو گیا ہے ۔اور میرے ہاتھ سے زمین بھی نکل جائے گی بڑے موقعے کی زمیں مل رہی ہے پھر گورئمنٹ کہاں بار بار یہ اعلان کرتی ہے کہ زچگی کے دوران مرنے والی زچہ اور بچہ کے ورثہ کو کو دو لاکھ ملیں گے ۔”

افسانے کا پیغام یہی ہے معاصر معاشرے میں روپئے کی ہوس سے اشرف المخلوقات گدھ کی طرح مردارکھانے والوں کی صف میں کھڑاہوگیاہے اورزندگی کے حمام میں سب ننگے دکھائی دیتے ہیں۔ان دونوں متون کاعرق نچوڑنے کے بعدجو وش کشیدہوتاہے اس کا نام لالچ ہے۔اس وش کو ویناش کرنابہت ضروری ہے ورنہ انسانیت کی دھرتی پیاسی کی پیاسی رہ جائے گی۔

حسن امام کا افسانہ” روزن”کا اسلوب سادہ بیانیہ ہے۔اس کے اختتام پرجہاں قاری جنس کی تپش محسوس کرتاہے وہیں اس کوایک ناری کے اندر بدلے کے بھائو کا احساس بھی جاگزیں ہوتاہے۔جسیم کی بیوی نے جو کچھ بھی کیاوہ جنس کی تکمیلیت نہیں ہے بلکہ وہ اس کا بدلہ ہے جو جسیم چکلے میں جاکر رنگ رلیاں مناتاہے۔اختتامی متن میں کرداروں کے حرکات وسکنات سے اس حقیقت کاانکشاف ہوتاہے کہ امنگیں ہر طرف جوان ہوتی ہیں۔گویاافسانہ اس حقیقت کی تصدیق کرتاہے کہ ایک عورت جب اپنے خاوندسے بدلہ لینے پر آجائے تو وہ گھر کو بھی چکلے میں تبدیل کرسکتی ہے۔لیکن جس عورت کو معید اپنی چھوٹی ماں کے روپ میں دیکھتاتھااس کے ساتھ اس کی بیوی نے جوکچھ بھی کیا ایک طرح سے اخلاق سوز حرکت ہےاور بدیانتی بھی کیونکہ معید کے والدنےاسی کی نگرانی میں معید کو چھوڑرکھاتھاجس کے Verginکو چپراسی کی بیوی نے صرف تیرہ برس کی عمر میں توڑکرامانت میں خیانت کیا ہے۔ افسانے کے کینوس پر پرنسپل صاحب کی ذاتی زندگی کے کارنامے کو دیکھتے ہوئے ان کے ساتھ کوئی ہمدردی پیدا نہیں ہورہی ہےکیونکہ:

۔”پانچ سال کی مدت میں پہلی بیوی دو بیٹے ان کے حوالے کر کے اللہ کو پیاری ہو گئی ، تب انہوں نے دوسری بہن سے نکاح کر لیا ۔ دوسری بیوی بھی دس سال کے بعد داغ مفارقت دے گئی ۔ اسی طرح ہوتے ہوتے اٹھارہ سالوں میں انہوں نے تین شادیاں کیں ۔ پہلی دو بیویوں سے ان کے چار بیٹے تھے ، بڑا سولہ اور چھوٹا نو سال کا ۔ تیسری شادی کو تین سال ہوئے تھے اور اس بیوی سے ان کی کوئی اولاد نہیں تھی ۔”

ایک طرح سے یہ افسانہ دبے لفظوں میں یہ بھی کہہ رہا ہے کہ پرنسپل صاحب نے بھی جوگلچھڑے اڑائے ہیں وہ ایک پرنسپل کو زیب نہیں دیتاہے  ایسا اس لیے کہ درس گاہیں سماج میں Man making Factory ہوتی ہیں۔اس کے سربراہ کو اس کاخیال رکھناچاہےورنہ قدرت ان کے بچوں سےبھی بھیانک انتقام لیتی ہے۔افسانہ اپنا تاثر چھوڑنے میں کامیاب ہے۔

اقبال حسن آزاد کا افسانہ "جادوگر پر داستانوی اسلوب غالب ہےجو ایک الگ ذائقہ سے قاری کو ہمکنار کرتاہے۔اس کی چندخوبیوں میں سے ایک خوبی یہ ہے کہ آغاز سے ہی تجس دامن گیر ہے کہ آگے کیا ہونے والاہے۔یہ تجس افسانے کی آخری سطر پڑھنے کے لیے  اکساتاہے۔جہاں پہنچ کر یہ انکشاف ہوتاہے:

”اِس شخص کو اونچائی پر پہنچے کا بہت شوق تھا۔اب اسے وہیں رہنے دیں۔زمین سے اس کا رشتہ کٹ چکا ہے۔اب یہ زندگی بھر ہوا میں معلق رہے گا۔”

اس متن میں معاصر ذہنیت کی عکاسی بڑی ہنرمندی سے کی گئی ہے اور یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ جب بلندی پر انسان پہنچ جاتاہے تو اس کا رشتہ زمین سے کٹ جاتاہے۔  کاندھے پر بڑی سی زنبیل رکھنے والے جادوگر نے جب ڈگڈگی بجاکر بھیڑ لگائی اس میں کسی عورت کا نہ ہونا بڑی معنی خیز ہے۔یعنی اکیسویں صدی میں عورتیں مردوں سے زیادہ عقلمند ہوگئی ہیں یا بیوقوف۔!افسانہ یہ ترغیب دے رہا ہے کہ جوش جنوں میں جب انسان کسی کی قصیدہ خوانی اور خوشامد کرے  بلندی کی جانب بڑھ کر مغرور ہوجاتاہے تو اس کا رشتہ اپنی مٹی سے کٹ جاتاہےاور وہ ساری زندگی خلامیں معلق رہتاہے۔لحاظہ اس نفسیات سے پرہیز کرنے کی ضرورت ہےورنہ اس کی حالت یوں ہوجائے گی۔

۔”وہ ہوا میں معلق تھا۔

اوپر آسمان تھا اور نیچے زمین….

لیکن وہ نہ تو آسمان پر تھا نہ زمین پر….

وہ تو بس ہوا میں معلق تھا۔”

شمائلہ عزیزکاافسانہ”نامعتبر کا المیہ”کااسلوب سادہ بیانیہ ہے۔خالقِ افسانہ کا زور اس پر ہے کہ پیسہ اور عورت کا نشہ ہر نشے سے طاقتور ہے۔ویسے بھی مارکس کا نظریہ مادہ کو زندگی کا محور تسلیم کرتاہے  اور رہی بات عورت تو اسی کے لیے اس دھرتی پر بڑی سے بڑی جنگیں ہوئی ہیں۔لیکن اس افسانے کے کینوس پر جس جنگ کو دیکھانے کے لیے تانے بانے بونے گئے ہیں وہ ایک معتبرکو نامعتبر بناکررکھ دیاہے۔حالانکہ اس کردار کو یہ شعور ہے کہ:

۔”اہ ۔۔۔کمبخت جسم  ! تیری اندھی خواہشات۔۔۔۔ پہلے جنت سے نکلوایا۔۔۔۔اب دنیا سے ذلیل ہو کے نکالا جاوں گا۔۔۔۔جہنم میرا مقدر ہو گی….ہاہاہاہاہاہا”

لیکن جب نشیڑی پر حیوانیت کا غلبہ طاری ہوتاہے تو دنیاکی جنت سے نکلنے کا خوف اس کو نہیں رہتاہے  اور وہ سب کچھ کر گزرتاہے جس سے انسانیت شرم شار ہوتی ہے۔افسانے کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ ایک انسان کو حیوان کی راہ جانے میں اس کے اپنے بھی قصوروار ہوتے ہیں۔اگراحمد کے اپنے لوگ اس کو راہ راست پر لانے کی پرخلوص کوشش کرتے تو ممکن تھا کہ احمد معتبر ہی رہتا۔

۔”اہ ایک ناکارہ شخص۔پھر باپ نے فیصلہ سنا دیا۔

۔”سدھرجاو یا گھر چھوڑ دو۔۔”

بہن بھائی کہنے لگے۔

دوستوں میں شرمندگی ہوتی ہے جب سب کہتے آپکا بڑا بھائی نشہ کرتا ہے۔”

ماں بھی رو کر بولی۔

جوان بہنیں ہیں  تیری۔ رشتے نہیں آتے کہ نشئی ہے انکا پتر ”

سب اپنوں کے درمیان وہ اکیلا۔۔۔۔احمد۔”

افسانے میں جنس کی نفسیات کو غالب آجانامرکزی کردارکے نفس پر کمزور گرفت کی نشاندہی کرتاہےجونشے اور نارسائی کے بطن سے اس کے اندرپنپتاہے۔پھراس کے اندر کی رومانوی کیفیت حیوانت کا روپ دھارتی ہے۔اپنے بال کو نوچتا ہےاور اس کے اندریہ شیطنیت سراٹھاتی ہےکہ ہر لڑکی عورت ہوتی ہے۔معصوم بچیوں میں مکمل عورت کے خدوخال نظر آنے لگتے ہیں پھر اس کے جو قدم اٹھتے ہیں وہ اس کو معتبر سے نامعتبر کی ڈگر کا مسافر بنادیتے ہیں۔جہاں انسانیت سسکنے لگتی ہے۔جب افسانے میں خود کی ازم بولنے لگتی ہےتو افسانہ کمزور مانا جاتاہے۔اس کا چھلاواایک یا دوجگہ مجھے محسوس ہوا۔

نعیم بیگ کا افسانہ "بدلے کا بھائو”یہ اشارہ کرہا ہے کہ ترقی کی دوڑ میں فطری ذمہ داریوں پر بھی جبر کے پہرے بیٹھائے جارہے ہیں۔تب ہی بنیلہ نوکری چھوڑکر گھرداری اور بچوں میں الجھنا نہیں چاہتی ہے۔وہ اپنے پروفیشن میں آگے بڑھنا چاہتی ہے جبکہ جعفری کو غم کھائے جارہا ہے کہ شادی کے پانچ برس ہوگئے ابھی تک وہ بچے سے مھروم ہے ایسا اس لیے کہ وہ یہ مانتاہے کہ ایک بچہ بھی جنم لے لینے سے سماجی بندھن مضبوط ہوتاہے اور خاندان کے وجود کا احساس جاگزیں ہوتاہے۔اس دوران بنیلہ کئی مرتبہ حاملہ ہوتی ہے لیکن ہر بار جان چھڑالیتی ہے۔

۔”سر میرا کہنے کا مطلب ہے کہ نبیلہ کا پہلے دن سے ہی اصرار تھا کہ وہ اپنی نوکری ابھی چھوڑنا نہیں چاہتی، سو اگر شادی کر لی، تو اس کے جھمیلوں میں پڑ کر مجھے گھر داری اور بچوں میں الجھنا پڑے گا جو وہ ابھی نہیں چاہتی۔ وہ کہتی ہے، کہ میں اپنے پروفیشن میں آگے بڑھنا چاہتی ہوں۔ میں اس سے وعدہ کر بیٹھا کہ ہاں ایسا ہی ہوگا، جیسا تم چاہو گی۔ اب دیکھئے نا آپ! شادی کو پانچ برس ہونے کو آئے ہیں ہم بچے سے محروم ہیں۔”

افسانے کا اختتام یہی کہتاہے کہ ضدی نبیلہ جعفری کے گھر میں سلکون بیوی کی صورت میں کھڑی ہے۔ اس کی اس خصت سے  جعفری کونجاےدلانے کے لیے صدیقی مسیحاکے روپ میں سامنے آتے ہیں۔جن کو اس نفسیاتی کیس کی بنیادی وجہ فرسودہ ہ روایتی اسٹرکچر قصوروار ہے جو رفتہ رفتہ پوسٹ ماڈرن ازم کا شکار ہورہا ہے جس کی وجہ سے جعفری کا جھکاؤ کسٹومائزڈ سائلینٹ بیوٹی کی طرف ہوئی ہے۔جو نسل آدم کو زوال کی طرف لے جارہی ہے۔

”آپ تو جانتے ہیں۔ ابھی چند برس پہلے ہی شادی کی ہے، نبیلہ نے طے کیا تھا کہ اولاد کا فیصلہ جب بھی ہوگا‘ اس کا ہوگا، کیونکہ بلاوجہ اس مصیبت کو مول نہیں لی سکتی جب تک وہ ذہنی طور پر بچے کو پالنے کے لئے تیار نہ ہو۔“

بہرحال جعفری چاہتاہے کہ صرف ایک بچہ ہو جائے،تاکہ سماجی بندھن مضبوط ہو، اور دوسری طرف اس کو اپنے اندر خاندان کے وجود کا احساس ہو۔اس کی ماں بہنوں اور دوسروں کو یہ احساس ہو کہ وہ ایک ذمہ دار سماجی اکائی ہے۔ مگر وہ نہیں مانتی، جس سے جعفری اپنے اندر کا اعتماد کھو رہا  ہے۔اس کو احساس ہونے لگا کہ جب عورت مالی طور پر خود کفیل ہو اور سماجی رتبہ بھی رکھتی ہو، تو وہ ضد اور انانیت میں الجھ جاتی ہے اور کچھ ذاتی معاملات میں ہٹ دھرمی دکھا کر اپنی موجودگی کا احساس دلاتی ہے۔

َ          قمر مفتی کاافسانہ "مہرو جی ” کے کینوس پر جذبات میں بہے بغیرروح کے کرب کا اظہارہواہے۔افسانے کا دلگیر ہونے کا سبب اس کا پرسوز انداز بیاں ہے جس کے پنہائیوں میں قاری کونہ صرف  ایک آسودگی کا احساس ہوتاہے بلکہ اس کے متون کی موج میں ڈوبتااور ابھرتابھی ہے۔افسانے کی فضامیں ایک خوشبو ہے پیارومحبت کی اس فضامیں آبنوسی آنکھیں سیاہ مزگاں کی اوٹ میں چمکتی نظرآتی ہیں جن کو دیکھ کرایسالگتاہے جیسےوہ کسی حسین لمحے کی منتظر ہوں ۔لیکن جب مذہب کی دیوار حائل ہوتی ہے تو کرب کی ایک گہری لکیر نہ صر ف مہروجی کے دل ودماغ پر ابھرتی ہے بلکہ قاری بھی تھوڑی دیر کے لیے مضطرب ہوجاتاہے کہ کب تک پیار کی راہوں میں اونچ نیچ،ذات پات،امیرغریب،اور مذہب کی لکیریں راستہ کاٹتی رہیں گیں؟:

۔”وہ مجھ سے محبت نہیں کرتا ، کبھی بھی نہیں کر سکتا ہمارے درمیان مذہب کی دیوار تھی ۔ ہمارا گھرانوں کا میل ملاپ ضرور ہے ۔ لیکن دھرم کے نام پر جان دے سکتے ہیں پر مسلم خاندان سے رشتہ داری نہیں بناسکتے ۔ بس ہم۔دوست ہیں مہرو اور ہمیشہ رہیں گے. اچھے دوستوں کی طرح ملیں گے .”

ظاہر ہے ایسی فضامیں آنسو اورکاجل سے جو تصویر بنتی ہے وہ سیاہ وسفید ہی ہوتی ہے رنگین نہیں۔لہذاایسے موسم میں روح کے رشتے کی گہرائیاں کم ہونے لگتی ہیںاور تیورپر بے رخی اپنی جگہ بنانے لگتی ہیں۔جسونت کے انکار سے مہروجی کے تیور پرایسی کھائیاں نمودار ہوتی ہیںلیکن کچھ دیر چل کریہ وادی بن جاتی ہےجب جسونت ایک دن آکر کہتاہے۔:

۔”بھی سیکھا دو جینا ۔۔۔ نہیں جی پا رہا ۔۔۔

تم سے دور ہوکر نہیں”  ہم دونوں ہی سسکنے لگے ۔

میں مسلمان ہو جاؤں گا مجھ سے شادی کرو گی اس نے میرا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے کہا اور میں نے روتے ہوئے اپنا سر اس کی سینے پر ٹکادیا ۔”

لیکن عاشق ومعشوق کی زندگی کا سفر یہیں ختم نہیں ہوتاہے بلکہ حالات کے تپتے ریگ زار میں عشق مجازی سے عشق حقیقی کی جانب اپنے رخ کو موڑ لیتاہے جوتھوڑی دیر کے لیے بہت کچھ سوچنے پر مجبورکرتاہےاور ذہن کے گلیارے میں اس شعر کی بازگشت بہت دیر تک گونجتی رہتی ہے ۔

میں روز اٹھاتا ہوں کسی خواب کی میت

اور آپ یہ کتے ہیں کہ ماتم نہ کروں میں

پروفیسرغضنفرصاحب کاشمارمعتبر فکشن نگاروں میں ہوتاہے۔ افسانہ "سرسوتی اسنان”کے آغاز میں ہی الٰہ باد کے سنگم کا رہسہ،واتاورن اور سسپنس جاننے کے لیے قاری کا دل بے چین ہوجاتاہے۔ جمنا ندی کا مائتھولوجی پڑھ کر معلومات کے خزانے میں اضافہ ہوا۔افسانے سے اپنی مٹی کی خوشبو سے بے انتہا محبت کا احساس بھی جاگزیں ہوتاہے۔ انسانیت کی بوبھی آتی ہے اور زمانے کی  شفاکی کامنظرنامہ بھی دکھائی دینے لگتاہے۔:

۔”اس د ل سوز صورتِ حال میں بھی تجارت کا بازار گرم تھا۔ روٹی کے بدلے مائوں کی آنکھوں کے تارے  اور باپوں کے جگر کے ٹکڑے بیچے اور خریدے جارہے تھے۔ پیٹ کی بھوک مٹانے کے لیے بہوبیٹیوں کے تن کا سودا کیا جارہا تھا ۔”

دبے لفظوں میں استحصالی طبقے کا ذکر بھی ہوتاہے جہاںبھوک مٹانے کے لیے انسان سب کچھ کرسکتاہے۔افسانے میں گنگاجمنی تہذیب کا بہت خوبصورت تذکرہ ہےجہاں دوبڑی قومیں گنگااور جمنا کی طرح ایک ساتھ رہتی ہیں۔ دراصل افسانے میں سرسوتی علامت ہیں فرشتہ صفت انسانوں کے اندرایک انسان سے محبت کے جذبے کاجو اندر ہی اندر سبک روی سے بہتارہتاہے۔افسانے کے اختتام پر من کے اندربہتی سرسوتی کی موجوں میں ہلکورے اٹھنے لگتے ہیں اور زبان سے بے ساختہ یہی نکلتاہے۔ کاش۔! اے۔جے ۔آر کی طرح اس پرتھوی کے ہر انسان کے دلوں میں سرسوتی کے ہلکورے اٹھنے لگے تو یقیناًدنیاشورگ بن جائے گی۔افسانہ اردو اور ہندی لفظوں کا حسین سنگم ہے۔

رضیہ حیدر خان کا افسانہ "اففف”خوف کے سائے میں گذرتی زندگی کا ایک ایسامرثیہ جس کے اوراق پرمایوسیوں کے ابر چھائے ہوئے ہیں۔مرکزی کردار خوف کے سائے میں لاک ڈائون کے بطن سے پنپے مسائل کے گرداب میں ہچکولےکھارہا ہے۔اللہ پر اس کو ایمان ہے لیکن نامساعد حالات میں حوصلے کی ریشمی ڈور اس کے ہاتھوں سے پھسلتی جارہی ہے۔بے روزگاری ،اموات ،بیماری،اور دہشت ذدہ ماحول سے خدشات کی کھائیاں گہری ہوتی جارہی ہیں۔کروناوباسے زیادہ مرکزی کردار کو انسان سے ڈر ہے۔اس گھٹن زدہ ماحول میں زندگی کی ایک ایک سانس لیناگویاہمالیہ پر دس دفعہ چڑھنا اور اترنے کے مترادف ہے لیکن آج کا انسان زندگی کا یہ ستم جھیل رہا ہے۔

”تمہارے چہرے پر ایک خوف سا طاری رہتا ہے ہمیشہ ہر وقت تمہارے چہرے پر بے سکونی اور پریشانی نظر آتی ہے، کیا تمہیں اس بات کا اندازہ ہے کہ تمہیں کُھل کر ہنسے ہوئے اور کچھ دیر کے لئے مسکرائے ہوئے کتنا عرصہ ہو چکا ہے؟ذرا یاد کرنا کہ تم آخری بار سب کے ساتھ بیٹھ کر کب ہنسی تھیں؟“

افسانہ ذات کا غم سنارہا ہے۔جس میں زندگی کی تلخیاں سمٹ آئی ہیں۔اس کے کینوس پر کبھی کبھی حوصلہ مندزندگی جینے کے لیے روشنی کے جھماکے آتے ہیں لیکن ذات خود اس کو تردیدکرتی ہے۔بہرحال افسانے میں کرونا کال کے دوران ذات کا کرب اور اس کے مسائل کو پیش کیاگیاہے ۔ایسے مایوس کن حالات میں ہمیں حوصلے کا دامن نہیں چھوڑنا چاہےکیونکہ:

حوصلہ ہارنا ہم نے سیکھا نہیں

لاکھ کشتی رہی اپنی منجدھار میں

بُش احمد کاافسانہ’’ہائی ہیل  سینڈلز ‘‘ میں فسوں کا تناسب قاری کو اپنی گرفت میں لیتاہے۔ڈائری لکھنے کی تکنیک  میں افسانہ مونولاگ بن گیاہے۔بین المتونی کا استعمال خوب ہواہے۔منٹو اور عصمت کے افسانے مریضہ کے لیے نسخہ کے طور پر استعمال ہوئے ہیںاور نسخہ کامیاب بھی رہاکہ دادی  کی خواہش پوری ہوئی۔یعنی عبوری دور سے گزرتی اذدواجی زندگی میں ادب موثر ہتھیار کے طور پر استعمال ہواہے جس کے باعث شیریں اپنے جیسی ایک خوبصورت گُڑیا  لا نے میں کامیاب ہوجاتی ہے۔افسانے کے اختتامی متن میںجنسی لذت پسندی  لفظوں کاخوبصورت لبادہ زیب تن کرکے قاری کے سامنے آتی ہے۔

۔”تیشۂ فرہاد  چٹانیں کاٹ کاٹ کر  جُوئے شِیر لے کر آتا ہے۔ پتنگوں کاپیچا لمبا ہوتا جا تا ہے۔ بتدریج چڑھتی پینگ  سے  شدّت پذیرہم آہنگ  کلاسیکل موسیقی اپنے   کلائمیکس پر پُہنچتی ہے۔ یکایک ریَزوننس کے   زلزلے سے  پہاڑ کانپتا ہے۔  چوٹی پر جمی دُودھیا برفوں کا ایوالانچ  اڑڑادھم   دھماکے سےآ گرتا ہے۔ کائنات میں رنگ برنگی پُھل جھڑیاں چُھوٹتی ہیں۔دونوں پتنگیں کٹ جاتی ہیں۔”

اس طرح افسانے میں موضوع اور مسائل کی بجائے اسلوب قابل توجہ ہے۔افسانے میں چندذاتی نوعیت کے مشورے بھی ہیں۔

عارف محمود کا افسانہ”  پھانس "نہایت ہی سپاٹ اسلوب میں کہی کئی ایک ایسی روداد زندگی ہے جس میں نصف حصے گذرنے کے بعددلچسپی بڑھتی ہے صرف یہی نہیں بلکہ ایک بے چینی بڑھتی ہے کہ اصل ماجرہ کیاہے۔پچھترفیصد افسانہ پڑھنے کے بعدافسانہ کھل جاتاہے کہ اصل حقیت کیا ہے جب رضیہ کے خسر یہ کہتے ہیں۔

۔”رضیہ بیٹا شائد مُجھے ڈِپریشن ہو رہا ہے اپنی آنٹی سے کہو کہ اگر گُلو کُوز ہو تو ایک بار اور دے دیں – پہلے بھی پی کر بہت سُکون ملا تھا -”

اس کہانی میں ایک دلگدازم ناکام محبت کی کہانی ہے جو فرقہ واریت کی بھینٹ چڑھی ہے۔افسانے میں گائتری آہوجہ کی بے باکی سے قاری کا دل بھی دھک دھک کرنے لگتاہے۔

۔”وہ کبھی کبھی ہمارے گھر آ کر آنند بھیا کے ساتھ جُوائِنٹ اِسٹڈی بھی کرتا تھا – پڑھنے کے علاوہ اُس کو شِعر و شاعِری سے بھی دِلچسپی تھی – وہ اُردو کے شِعر سُنا کر مُجھے اور آنند بھیا کو اُن کے مطلب بھی بتاتا تھا – بس اِسی شِعر و شاعِری  کے درمیان ہم لوگ غیر اِرادی طور پر ایک دُوسرے کے قریب آ گئے – سِلسِلہ بڑھتا رہا اور پھر ایک دِن جب آنند بھیا نہیں تھے تو وہ آ گیا اور کمرے میں بیٹھ کر اُن کے آنے کا اِنتظار کرنے لگا – میں پانی کا گِلاس لے کر گئی تو … خُود کو رُوک نہ پائی – میں نے اُسکے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں لے کر چُوم لیا اور کمرے سے بھاگ گئی – ”

اس شرمیلے لڑکے کو اتنا احساس ہے کہ وہ حرکت صحیح تھی یا غلط لیکن اس کے دل کی آواز تھی۔اس کو یہ بھی احساس ہے کہ  زندگی کے اس سفر میں دھارے کے خلاف تیرکر ندی کو پار کرنا ہوگا۔اس کے لیے وہ اعلٰی تعلیم حاصل کرنا چاہتاہے تاکہ مذہب کی دیواریں مٹ جائیںاور وہ اس کو سب سکھ دے سکے۔افسانے کا یہ کردار میچوردکھائی دے رہاہے۔لیکن بات اس سے آگے بڑھے کہ کہانی میں ایک ٹویسٹ آجاتی ہے اور روایتی انداز میں دوہنسوں کا جوڑابچھڑ جاتاہے۔

۔”مُجھے اُس سے کوئی شِکایت نہیں کِیونکہ جب مُجھے یہ عِلم ہوا کہ اُس کا گھر وغیرہ سب پاپا نے ہی خرید لیا تھا تو میں سب کچھ سمجھ گئی تھی – بہر حال اپنی سَسرال میں ہر طرح کے آرام کے باوجود میں اُس کو بُھول نہیں پائی – آنند بھیا کے ساتھ اُسکی اِیک بہت پُرانی تصویر میرے پرس میں ہر وقت مَوجود رہتی ہے – کاش میں اُس سے ایک بار مِل پاتی -”

افسانے کے اختتام پر رضیہ کے خسر کا پچاس سالہ پھانس اس لیے نکل جاتاہے کہ گائتری آہوجہ محبت میں ناکامی کے باوجوداپنے حال سے   مُطمِئن  ہے۔افسانے میں سب سے زیادہ ہمدردی گائتری آہوجہ سے ہوتی ہے کہ اس کی بے باک محبت فرقہ واریت کی بھینٹ چڑھ گئی لیکن اس نے آج بھی اپنے پیار کو اپنے پرس میں چھپا رکھاہےجس سے یہ پتہ چلتاہے کہ وصل محبت کی معراج نہیں ہے بلکہ ہجر میں بھی لمحے وہ ذائقہ دے جاتے ہیں جو وصل کے بس کی بات نہیں ۔

۔”بےچین شہر کی پُرسکون لڑکی”امین صدرالدین بھایانی کاایک رومانی افسانہ ہے جس میں جزئیات نگاری کافی عمدہ ہے۔ افسانے کا اختتام یہ سبق دے جاتاہے کہ دردہی ہماراسب سے بڑا دوست ہے۔صدف کا جسم درد محسوس کرنے کی حس سے پیدائشی طور پر محروم ہےلیکن ہر کسی کا درد محسو س کرتی ہے۔افسانے میں نہ صرف صدف مرزاکی خصلت سے قاری کو واقفیت ہوتی ہے بلکہ اس کی پرسکون طبیعت سے بھی قاری آگاہ ہوتاہے۔اس کی خوبصورت ناک نقشے کی تصویر دل کش ہے۔دردکی لذت سے عاری یہ لڑکی سیپاکی مریض ہے۔افسانہ جہاں سیپامرض کی علامت کو اجاگر کرتاہے وہیں ایک دردمنددل لڑکی کی داستان بھی بڑی خاموشی سے کہہ جاتاہےکہ صدف کی آنکھوں میںجو چمک راوی دیکھ رہا ہے وہ اس کا اس سے خاموش محبت ہے۔جوجسم کے درد سے محروم ہے لیکن دل کے درد سے آشنا ضرور ہے۔

شاہین کمال کا افسانہ” صدابہ صحرا”میں دو کردار متحرک ہیں۔طلاق شدہ عورت جو بینک سروس سے ریٹائر ڈ ہوکر زندگی کے لمحوں کو موبائل کے اسکرین پر گذارتی ہے۔جس کی اذدواجی زندگی بینک اور گھر کے بیلنس شیٹ کو بیلنس کرتے کرتے ڈس بیلنس ہوگئی ۔حق مہر معاف اورمزید دو لاکھ دے کر بیٹے جبران کی فل کسٹڈی لے لی۔اور ادھر میاںدوبارہ چھیل چھبیلے بن کر زیرو میٹر سے نئے ہمسفر کے ساتھ زندگی شروع کر دی.یعنی وہ کھونٹے سے بندھ گئے اور محترمہ کٹی پتنگ بن گئیں۔جب بیٹے کا تبادلہ ہوتاہے تو ان کے اندر بھی انگڑائی اٹھتی ہے اور دبیر الحسن کے ٹیرس پر یہ پتنگ الجھنے کی تیارکرتی ہے کہ بلی راستہ کاٹ جاتی ہے۔لیکن دبیر الحسن کے اندرپہلی بیوی کا پیار ابھی زندہ ہے۔اس سے پہلے کہ وہ کٹی پتنگ کے دھاگے کو پکڑتے انہیں احساس ہواکہ:

۔” فالج بجائے جسم کے ذہن پر گرتا تو کتنا اچھا ہوتا. میں کم از کم بےبسی اور معذوری کہ اس سفاک اور جان لیوا احساس سے تو عاری ہوتا. آگے کی بےکس و بےبس زندگی کا تصور ہی سوہان۔”

یہ متن اس طرف اشارہ کرتاہے کہ دبیرالحسن کے یہاں پہلی بیوی کی محبت کی چنگاری ابھی بجھی نہیں ہے۔جبکہ کردار ثانی اپنی تنہائی دور کرنے کے لیےکیفے کی طرف بڑھتی ہے۔لیکن دل کے ارماں آنسوں میں بہہ گئے۔نتیجہ یہ ہوتاہے کہ موبائل کا سم ڈسٹ بین میں چلاجاتاہے۔ورچول دنیاسے ناطہ توڑنے کا عہد ہوتاہے۔دل میں تنہائی کا ڈیرا پڑجاتاہےاور آنگن کا املتاس جو خوشی کا پیغامبر لگتاتھااب وہ حسین دوشیزہ کے زردرخسار پر ڈھلکتے آنسو کے مترادف لگتاہے۔اور دنیا کی بے رنگینی پر کف افسوس ملنے کے علاوہ دوسری صورت دکھائی نہیں دیتی ہے۔افسانے میں مردکی دوصورت ابھر کر سامنے آتی ہے۔ایک دبیر الحسن جو بعد از مرگ بھی بیوی کودل میں بسائے رکھتاہے اور دوسرامتعلقہ کا سابق شوہرجس کے نزیک روپے کی اہمیت زیادہ ہے۔جس کے سبب اذدواجی زندگی میں دراڑ پڑتی ہے اور دونوں ایک ندی کے دو پاٹ بن جاتے ہیں۔

کس درجہ دل شکن تھے محبت کے حادثے

ہم زندگی میں پھر کوئی ارماں نہ کر سکے.

اقبال حسن خان کا افسانہ "اعجاز عرف ججی کا گھر”فکرکے اس محور پر گردش کرہاہے کہ اس دنیا میں دوقسم کے لوگ آباد ہیں ۔ایک ماضی کو گلے سے لگائے رکھنا چاہتے ہیں اور دوسراماضی کو جھٹک کرایک نئی زندگی جینے کی راہ تلاش کرتے ہیں۔ذکر اول مادہ پرست نہیں جب کہ ذکر ثانی مادہ پرست ہوتے ہیں جن کے سامنے یادیں،اپنی وراثت سے وابستگی کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی ہے۔ان کے پیش نظر صرف اور صرف روپیہ اور ایک خوشحال زندگی جینے کی للک ہوتی ہے۔ججی کے بھائی بہنوں کا شمار ایسے ہی طبقے میں ہوتاہے۔جبکہ ججی ان یادوں کو سمیٹ کرجینا چاہتاہے۔ججی اپنے والدکے اس گھرکو جوتبادلہ کے دوران ملاتھا،فروخت کرنانہیں چاہتاہےکیونکہ   اس سے اس کی بہت سی یادیں وابستہ ہیں۔یہ گھر اس کے لیے صرف مٹی اور گارے لکٹری کی عمارت نہیں ہے بلکہ یادوں کا تاج محل ہے جس سے وہ دستبردار ہونا نہیں چاہتاہے۔ اس کے  برعکس بھائی بہن اس کو فروخت کرناچاہتے ہیں۔اسی کشمکش  میں اس پر دل کا دورہ پڑتاہے اور وہ ہسپتال چلاجاتاہےجہاں اس دوست یہ مشورہ دیتاہے:

۔”بس اب ہسپتال سے تُو سیدھا بیٹے کے ساتھ اسلام آباد جائے گا۔میں اس معاملے کو خود دیکھوں گا۔میرا بھانجا پراپرٹی کا کاروبار

کرتا ہے۔تیرے گھر کی قیمت لگواتے ہیں۔جو ملتا ہے ، تیرے بھائیوں اور بہنوں میں بانٹ کر قصہ ختم کرتے ہیں۔ابے مر جائے گا اس گھر کے قضیے میں،،۔

بہرحال افسانے میں دواذہان ،مادہ پرست اور روایت پرست کے درمیان تصادم ہے۔اس تصادم میں فتح کس کوملی ؟کا الجھن برقرار رہ جاتاہے کیونکہ افسانے کے اختتام پربیٹے کے گال پر موٹے آنسوکا قطرہ تذبذب کے بھنور میں قاری کو ڈالتاہے کہ کیا یہ قطرے باپ کی حالت زار دیکھ کر ڈھلکے ہیں یاباپ کی اس ضدپر:

۔”تم لوگ کیوں مجھے اس ٹھنڈے میٹھے پانیوں والے نخلستان سے نکال کرصحر ا کی تپتی دھوپ میں بٹھا دینا چاہتے ہو؟”

وحید قمر(برلن) کا افسانہ” پکڑ” رواں بیانیہ کا مظہر ہے۔افسانے کا موضوع عصر کا شعلہ بار موضوع ہے۔افسانے کا ابتدائی متن پرسراریت سے لبریز ہے۔ایسی ہی پرسراریت ابن صفی کے ناولوں میں ملتی ہے۔اسکوٹر والوں کی پرسرار شخصیت سے قاری تذبذب میں پڑتاہے کہ یہ کون ہیں اور آگے کیا ہونے والاہے۔؟اختتام تک آتے آتے گرہ کھلتی ہے کہ آج کل جومسلکی دہشت گری تانڈو مچارکھی ہےاسی کا منظر نامہ ہےجس میں ایک کردارکا ضمیر جاگ اٹھتاہےکہ نہتے معصوموں پر خون بہانا بہادری نہیں بلکہ بزدلی ہے۔اس کے اندر خوف خداجاگ اٹھتاہے:

۔”مجھے ان لوگوں کا خوف نہیں ھے ۔

پھر تمھیں کس بات کا خوف ھے ۔

اللہ کی پکڑ کا ۔”

افسانے کا اختتام یہ اشارہ کررہا ہے کہ مالک کائنات ظلم کا بدلہ اپنی خدائی طاقت سے لیتاہے۔افسانہ سبک روی کے ساتھ آگے پڑھتاہے اور اپنے پیچھے کئی سوالات قاری کے ذہن میں چھوڑجاتاہے۔یہ سوالات انسانیت کے محور پر گردش کررہے ہیں۔افسانے میں رحیم اسم بامسمٰی ہے۔افسانے کے قرات سے یہ بھی انکشاف ہوتاہے کہ آج کل دھوکے بازی سے خون خرابے کا عمل کروایاجاتاہے۔

۔”مجھ سے کہا گیا تھا کہ کچھ لوگ اس جگہ جمع ھو کر ھمارے خلاف مسلح کاروائی کی سازش تیار کر رھے ھیں ۔ مگر حقیقت اس کے بر عکس نکلی ۔”

معاصر زندگی فرقہ واریت،مسلکی جھگڑے ،نفرت ،عداوت،دہشت گردی کے چنگل میں بری طرح تڑپ رہی ہے۔اس سے نجات کی کوئی صورت نظر نہیں آتی ۔زندگی کےاس گھوراندھیرے میں یہ افسانہ ایک چراغ جلانے کی کوشش یہ کہہ کرکرتاہے کہ:

۔”وہ کافر ھیں ، زندیق ہیں ، مرتد ہیں۔ تمھیں ان کے ساتھ ھمدردی نہ ھونی چاھیے ۔

کیا ھر کافر واجب القتل ھوتا ھے ۔؟

جس کا کفر جتنا سنگین ھو گا وہ اتنا ھی سزا کا حق دار ھو گا ۔ اور مرتد تو قطعی واجب القتل ہے۔

سلیم ، بہت سے لوگ ھمیں بھی کافر اور مرتد سمجھتے ھیں ۔ اگر وہ بھی اسی اصول پر عمل کریں کہ کافر اور مرتد واجب القتل ھیں تو پھر یہ دنیا ایک عظیم فساد گاہ بن جا ئے گی ۔”

بہرحال افسانہ معاصر زندگی کا عکاس ہےجو انسانیت کی پاٹھ پڑھاتاہےاور بڑے خاموشی سے یہ بھی کہہ جاتاہے کہ دھرتی پر زلزلے بے سبب نہیں آتے۔!!

اس مطالعہ کے بعد فکر کی سوئی اس نکتے پر آکر ٹھہرتی ہے کہ عالمی گائوں میں معاصر افسانے کے کینوس پر زندگی کے خارجی اور داخلی مسائل موضوع بنے ہیں۔فکری رجحان،معاشرہ،معیثت،تہذیب وثقافت اور سیاست کے عنصر سے عصر کی تخلیق ہوتی ہے۔اس لیے جب عصر کامنظرنامہ کسی تخلیق میں منعکس ہوتاہے تو وہ فن پارہ اپنے عصر کی ترجمانی کرتاہے ۔ایسے فن پارے کی قدر وقیمت اور اہمیت زیادہ ہوتی ہے ۔ایسااس لیے کہ یہ عصری مسائل کواجاگر کرتا ہے لیکن نشان خاطر رہے کہ کوئی بھی فن پارہ مسائل کا حل تلاش نہیں کرتاہے بلکہ عوامی سطح پر وہ مسائل کو قرطاس ادب پر پیش کرتاہےتاکہ قاری جو کہ سماج کی اکائی ہوتاہے وہ مسائل کے منفی ومثبت پہلو پر غوروفکرکرے۔بہرحال زندگی کے کربلا کا منظر نامہ اس نشست میں پیش ہوا۔جس کا اختتامی خطبہ رقم کرتے ہوئے میر وسیم صاحب رقمطراز ہیں۔

ایک عُمر فنا کر کےادائے سخن آئی …….عالمی افسانہ فورم کی جانب سے ایک اور کامیاب نشست اپنے اختتام کو پہنچی …… مگر سلسلہ ٹوٹا نہیں ھے درد کی زنجیر کا …..!!

 

 

 

 (مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کاتذکرہ باعث سعادت – محمد کیف قمر الدین
اگلی پوسٹ

یہ بھی پڑھیں

آج کی اردو کہانی: زبان اور ساخت –...

فروری 2, 2026

شموئل احمد کا افسانہ ’’سنگھار دان‘‘ – طارق...

فروری 1, 2026

منٹو اور نیا افسانہ – پروفیسر شمیم حنفی

اکتوبر 11, 2025

عزیز احمد کی افسانہ نگاری! وارث علوی

اپریل 12, 2025

اکیسویں صدی کی افسانہ نگارخواتین اور عصری مسائل...

مارچ 21, 2025

ہمہ جہت افسانہ نگار: نسیم اشک – یوسف...

جنوری 15, 2025

ڈاکٹر رُوحی قاضی : ایک فراموش کردہ افسانہ...

نومبر 25, 2024

اکیسویں صدی کے افسانے – ڈاکٹر عظیم اللہ...

ستمبر 15, 2024

افسانہ ‘ عید گاہ’ اور ‘عید گاہ سے...

اگست 7, 2024

اندھیری آنکھوں کے سامنے سورج اُگانے والا افسانہ...

اگست 4, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں