"نیا ناول نیا تناظر” (اکیسویں صدی میں) – محمد فرقان عالم
کتاب "نیا ناول نیا تناظر” (اکیسویں صدی میں) موصول ہوئی جس کو پروفیسر کوثر مظہری اور ڈاکٹر امتیاز احمد علیمی نے مرتب کیا ہے اس عملی کاوش اور علمی جد و جہد پر مرتبین کو مبارکباد ساتھ ہی علمی تحفہ کے لیے ڈاکٹر امتیاز علیمی کا بے حد شکریہ
اکیسویں صدی سماجی اتھل پتھل،زندگی کی کشمکش،اقدارکی تبدیلی ،میلانات و رجحانات کے تغیر اورتہذیبوں کے تصادم کی صدی ہے،جس کا اندازہ گذشتہ دو دہائیوں کے غیر معمولی مسائل اور تیسری دہائی کی دہلیز پر کھڑے ہو کر دونوں کے متعلق تجزیہ کرنے سے لگایا جا سکتا ہے،یہی وجہ ہے کہ ان تبدیلیوں کے نمایاں اثرات صنف ناول پر بھی مرتب ہوئے نتیجتاً اکیسویں صدی کی دو دہائیوں میں جتنے ناول تخلیق ہوئے وہ ماقبل میں اتنی کم مدت میں نہیں ہو سکے تھے،جن سے متعلق پروفیسر ابو بکر عباد اور پروفیسر خالد جاوید کےدرج ذیل جملے کافی اہم ہیں” اکیسویں صدی کے اس سولہ سترہ برسوں میں فکشن کی دنیا میں جس تیزی سے تبدیلی آئی ہے اور جس کثرت سے فکشن لکھا گیا ہے شاید انسانی تاریخ کی کسی نسل نے فکشن کی ایسی باڑھ نہیں دیکھی ہوگی” (پروفیسر ابو بکر عباد)” اکیسویں صدی کے روحانی اور اخلاقی مصائب کی ابتدا بیسویں صدی کی آخری دہائیوں سے ہو گئی تھی،نوے کی دہائی میں سرد جنگ کا خاتمہ،سوویت روس کا بکھرنا۔۔۔۔دیواربرلن کا ٹوٹنااور تاریخ کی موت کا اعلان ایسے واقعات ہیں جن کے دہانے پر کھڑے ہو کر ہم اکیسویں صدی کا استقبال کرتے ہیں،اقدار کی شکست و ریخت اور روحانی اور اخلاقی زوال کا ایک منظر نامہ ہمیں اکیسویں صدی میں تحفے میں ملے ہیں۔۔۔۔۔۔اس منظر نامے میں انسانی ذات بطور ایک ‘کل’ کس اندھیرے میں قید ہے؟صرف ناول ہی وہ صنف ہے جو اس کا ادراک کر سکتی ہے”(پروفیسر خالد جاوید)-
مذکورہ دونوں نقادوں کے یہ جملے اکیسویں صدی کے موضوعات اور فکشن کے بدلتے منظر نامے کے تناظر میں کافی اہم ہوجاتے ہیں-چونکہ دیگر ادبی اصناف کے بالمقابل ناول کا کینوس کافی بڑا ہوتا ہے اس لیے اکیسویں میں زندگی کے عناصر کو جزئیہ نگاری کے ساتھ خوبصورت انداز میں ناول کے کینوس پر ابھارنے کی کوشش کی گئی ہے-
پیش نظر کتاب "نیا ناول نیا تناظر”(اکیسویں صدی میں) بھی نئی تکنیک،نئے تجربات اور نئے موضوعات کےپس منظر میں اکیسویں صدی کے فکشن (ناول)کا جائزہ لینے کی ایک اچھی کوشش ہے،یہ دراصل ان مقالات کا مجموعہ ہے جو اکیسویں صدی کی ناول نگاری کے حوالے سے منعقد سیمینار میں پیش کیے گیے تھے،مقالات کے ساتھ کچھ مضامین الگ سے بھی شامل کیے گیے ہیں ،جس میں ڈاکٹر سفینہ بیگم کے ناول "خلش” پر راقم کا بھی ایک بے ربط سا تاثراتی مضمون شامل ہے،عجیب اتفاق ہے کہ یہ مضمون ایم اے کے دوران تخلیق کیے گیے ناول پر ایم اے ہی کے دوران قلمبند بھی کیا گیا ہے،پیش نظر کتاب میں ٣٥ ناولوں پر مضامین/مقالات شامل کیے گیے ہیں،جو اکیسویں صدی کی دوسری دہائی تک منظر عام پر آیے،ان میں پختہ اور منجھے ہوئے ناول نگاروں کے ساتھ کچھ نیے ناول نگاروں کو بھی جگہ دی گئی ہے،جو کہ ایک خوش آئند عمل ہے-
کتاب کی ابتداء میں ناول نگاری کے مسائل و امکانات کے نظری مباحث پر مبنی پروفیسر کوثر مظہری،پروفیسرخالد جاوید،پروفیسرمولا بخش (مرحوم)،پروفیسرابو بکر عباد اور ڈاکٹر امتیاز احمد علیمی کے مضامین بھی شامل ہیں،جن میں پروفیسرمولا بخش کا مضمون/مقالہ "اکیسویں صدی میں اردو ناول "کافی طویل بھی ہے اور قیمتی بھی، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں نظری مباحث کے ساتھ اکیسویں صدی کی دوسری دہائی تک کے تقریباً بیشتر ناولوں پر فکری،فنی اور تکنیکی سطح پر تفصیلی اور سیر حاصل بحث کی گئی ہے،پروفیسرخالد جاوید کا مضمون "ناول اور ہم ” گرچہ بہت طویل نہیں ہے تاہم اس میں ناول کے موضوعات،کینوس اور تکنیک کو لے کر کچھ نئے پہلوؤں پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے،پروفیسرابو بکر عباد کا مضمون "اکیسویں صدی میں ناول کی اہمیت،انکشافات اور امکانات "اکیسویں صدی کی ناول نگاری کے پس منظر اور پیش منظر دونوں کی بہترین توضیح ہے، پروفیسرکوثر مظہری کا مضمون”اردو ناول اکیسویں صدی میں” اکیسویں صدی کے موضوعات، تکنیک،تجربے اور ساخت پر،نظریہ ساز نقادوں اور تخلیق کاروں کو نئے طرز پر سوچنے کی دعوت دیتا ہے،ڈاکٹرامتیاز احمد علیمی نے "مکالمہ اکیسویں صدی کے ناولوں پر” کے عنوان سے کتاب میں پیش کردہ تمام ناولوں کا مختصر اظہار خیال کی شکل میں بہترین تعارف کروایا ہے-
کتاب "نیا ناول نیا تناظر”(اکیسویں صدی میں)- میں جن ٣٥ ناولوں پر مضامین شامل کیے گیے ہیں وہ کچھ اس طرح ہیں،”کئی چاند تھے سرِ آسماں” شمس الرحمن فاروقی،”بنارس والی گلی” فیاض رفعت،”اگر تم لوٹ آتے” آچاریہ شوکت خلیل،”بلھا کیہ جاناں میں کون” ذکیہ مشہدی،”چمرا سر” شموئل احمد،”اماوس میں خواب” حسین الحق،”تلک الایام” نورالحسنین،”خواب سراب” انیس اشفاق،”مرز بوم” صدیق عالم،”اجالوں کی سیاہی ” عبد الصمد،”عزازیل” یعقوب یاور،”مانجھی” غضنفر،”پلیتہ” پیغام آفاقی،”راجدیو کی امرائ” صادقہ نواب سحر،”آخری سواریاں” سید محمد اشرف،”میرے ہونے میں کیا برائی ہے ” رینو بہل،”فائرنگ رینج کشمیر ١٩٩٠” شفق سوپوروی،”اندھیرا پگ” ثروت خان،”نعمت خانہ” خالد جاوید،”برف آشنا پرندے” ترنم ریاض،”اللہ میاں کا کارخانہ” محسن خان،”مرگ انبوہ” مشرف عالم ذوقی،”ہجور آما” شبیر احمد،”صدائے عندلیب بر شاخ شب”شائستہ فاخری،”آسماں سے آگے ” احمد صغیر،”آنکھ جو سوچتی ہے” کوثر مظہری،”لیمی نیٹیڈ گرل” اختر آزاد،”زباں بریدہ” آصف زہری،”تخم خوں” صغیر رحمانی،”میرے نالوں کی گمشدہ آواز” محمد علیم،”روحزن” رحمٰن عباس،”اوڑھنی ” نصرت شمسی،”تعاقب” ممتاز عالم رضوی،”خلش” سفینہ بیگم،”لفظوں کا لہو” سلمان عبدالصمد-
درج بالا فہرست پر یہ اشکال پیدا ہونا فطری ہے کہ کیا اکیسویں صدی کے نمائندہ ناولوں کی یہ فہرست مکمل ہے؟یا پھر اس میں مزید ناولوں کی شمولیت کی گنجائش اب بھی باقی ہے ؟ تو ظاہر ہے اس کا جواب اثبات میں ہی ہوگا،اس لیے راقم کا خیال یہ ہے کہ اگلے ایڈیشن میں اس فہرست کی توسیع ضرور ہونی چاہیے،جہاں تک پیش کردہ ناولوں کی فنی حیثیت،فکری منزلت اور ادبی حدت
کے تعین کا تعلق ہے توناول کی قرات کے بغیر صرف ایک مضمون سے یہ ممکن نہیں،اس لیے کہ ان میں ماضی کی بازیافت کا عمل بھی ہے،حال کی شناخت کا اثر بھی ہے اور مستقبل کی دریافت کا دخل بھی اوریہ الفاظ کی تہوں میں اس طرح پیوست ہیں کہ ان کے پردے میں داخلی کشمکش اور تصادم کی گونج بھی سنائی دے جاتی ہے، خارجی اتھل پتھل اور تغیر و تبدل کی خاموشی بھی ،اس طرح کہنا چاہیے کہ اکیسویں صدی کی ناول نگاری نے فرد کی داخلیت اور سماج کی خارجیت کو ان کے تمام dimensions کے ساتھ اپنے اندر اس طرح سیمٹ لیا ہے کہ قاری ان ناولوں کے متن میں خود کو الجھا کر بہت کچھ سلجھا سکتا ہے-
خلاصہ یہ کہ کتاب "نیا ناول نیا تناظر” (اکیسویں صدی میں) اکیسویں صدی میں تخلیق کئے گئے ناولوں کے میلانات و رجحانات کو بہتر طور پر واضح کرتی ہے،جس کی ورق گردانی پر وقت صرف کیا جا سکتا ہے
مرتبین کو پھر سے مبارکباد-
محمد فرقان عالم
اوکھلا وہار،جامعہ نگر،نئ دہلی
8800514745
02/01/2022
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
عمدہ تبصرہ ہے
مبارکباد قبول ہو.