تنقیدی جہات(مضامین کا مجموعہ) / ڈاکٹر شہزاد انجم – ڈاکٹر نوشاد منظر
پروفیسر شہزاد انجم ایک استاد اور ایک نقاد کی حیثیت سے ادبی دنیا میں اپنی شناخت رکھتے ہیں۔ان کی خوبی یہ ہے کہ وہ فن پارے کے مختلف پہلوؤں کا دقت نظری سے مطالعہ کرتے ہیں۔ بحیثیت استاد بھی ان کے مزاج میں ایک ٹھہراؤ ہے، چونکہ میں نے کلاس روم میں ان سے تعلیم حاصل کی ہے ، اس دوران میں نے انھیں بے حد سلجھا ہوا اور طالب علموں کے لیے ایک مثبت فکر کا حامی پایا۔جہاں تک ان کی ادبی خدمات کا دائرہ ہے تو اب تک ان کی کئی اہم کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ میرے یش نظر ان کی اہم کتاب ” تنقیدی جہات” ہے۔ اس کتاب کو شہزاد انجم نے چھ حصوں میں تقسیم کیا ہے۔مجموعی طور پر اس کتاب میں بیس مضامین شامل ہیں، یہ تمام مضامین مختلف رسائل و جرائد میں شائع ہوتے رہے ہیں۔
زیر نظر کتاب کا پہلا حصہ”افکار و نظریات” ہے ۔ اس عنوان کے تحت پانچ مضامین شامل کیے گئے ہیں۔کتاب کا پہلا مضمون ”مولانا ابو الکلام آزاد کے افکار’: ہے ۔مولانا آزاد کی شخصیت کسی بھی رسمی تعارف کی محتاج نہیں، انہوں نے ہندوستان کی آزادی میں جو رول ادا کیا وہ تاریخی ہے ساتھ ہی ان کی ادبی خدمات کا دائرہ بھی کافی وسیع ہے۔ ایک ادیب اور صحافی کی حیثیت سے ان کے کارناموں پر ر اب تک کئی تحقیقی کام ہوچکے ہیں۔ شہزاد انجم نے اپنے مضمون میں مولانا آزادکے سیاسی افکار کو ہندو مسلم اتحادکی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کی ہے۔مولانا آزاد نےہندو مسلم اتحاد کی اہمیت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے خطبات آزاد میں ایک جگہ لکھا ہے کہ ہندو مسلم اتحاد ’ہماری تعمیرات کی وہ پہلی بنیاد ہے جس کے بغیر نہ صرف ہندوستان کی آزادی بلکہ وہ تمام باتیں جو کسی ملک کے زندہ رہنے اور ترقی کرنے کے لیے ہوسکتی ہیں محض خواب و خیال ہے، بلکہ انہیں یہ اتحاد اتنا ضروری معلوم ہوتا تھا کہ ان کا خیال تھا کہ اگر سوراج اس شرط کے ساتھ ملے کہ وہ اس اتحاد سے دستبردار ہوجائیں تو وہ غلامی کو پسند کریں گے۔ اس خیال کی روشنی میں مولانا آزاد کے فکر کو آسانی کے ساتھ سمجھا جاسکتا ہے۔شہزاد انجم نے مولانا آزاد کی فکر ی جہات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’مولانا آزاد نے مذہبی تعلیم کو ہمیشہ ملک و قوم کے حق کے لیے استعمال کیا، ہندوستان کی سیکولرازم کی جو بنیاد قائم ہے اس میں ہرگز الحاد اور خدا بیزاری نہیں ہے، انہوں نے مزید لکھا ہے کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ مولانا آزاد کی تحریروں کونہ صرف پڑھا جائے بلکہ نئی نسل کو اس سے آگاہ بھی کیا جائے۔شہزاد انجم نے مولانا آزاد کے کئی اقتباس یش کیے ہیں جن میں قومی وحدت اور اتحاد کے فروغ کی بات کی گئی ہے۔
کتاب میں شامل ایک مضمون”سجاد ظہیر کے افکار کی عصری معنویت” ہے۔ ترقی پسند ادب اور تنقید کے علم بردار سجاد ظہیر کا شمار ایک نظریہ ساز ادیب کی حیثیت سے مسلم ہے۔جب انگارے کی اشاعت عمل میں آئی تو ادبی اور سیاسی میدان میں ایک بھونچال سا آگیا، اس مجموعے میں ان کے پانچ افسانے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے معاصرمسائل اور موضوعات پر کھل کر اظہار خیال کیا۔ شہزاد انجم نے سجاد ظہیر کی سیاسی بصیرت اور ان کے ادبی کارناموں کا مختصر مگرمفصل جائزہ لیا ہے۔
مضمون ’’احتشام حسین کے تنقیدی نظریات”بھی اس کتاب میں شامل ہے۔احتشام حسین نہ صرف ترقی پسند تاریخ بلکہ تنقید کی تاریخ میں ان گنے چنے لوگوں میں شمار کیے جاتے ہیں جنہوں نے نظریاتی طور پر مارکسی نظریے سے قربت کے ساتھ ساتھ صحت مند ادب کی ترویج و اشاعت میں کلیدی رول ادا کیا۔ پروفیسر شہزاد انجم نے لکھا ہے کہ مذہبی ہونے کے باوجود وہ مارکسی نظریات کے حامی ہوگئے، انہوں نے ترقی پسند ادب کا گہرائی سے مطالعہ کیا، وہ مارکس کے اس خیال سے متاثر تھے جس میں حکمراں کی جگہ عوام کو اہمیت دی گئی تھی۔ احتشام حسین کی تنقیدی نظریات پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے لکھا ہے کہ احتشام حسین ہئیتی اور اساطیری تنقید کے قائل نہیں تھے، اور نہ ہی ایسی تنقید کو پسند کرتے تھے جس میں فن پارے کی محض تعریف و توصیف بیان کی جاتی ہو۔ان کا خیال تھا کہ ادب کا زندگی کے ساتھ ایک گہرا تعلق ہے لہذا تنقید کو بھی زندگی کے مسائل سے سروکار رکھنا چاہیے۔پروفیسر شہزاد انجم نے احتشام حسین کی تنقیدی خیالات و نظریات کا اس تفصیل سے جائزہ لیا ہے کہ احتشام حسین کی شخصیت اور ادب کے حوالے سے ان کی بصیرت کا اندازہ ہوتا ہے۔
پروفسیر شہزاد انجم نے عہد ساز نقادگوپی چند نارنگ کے تنقیدی تصورات پر بھی خامہ فرسائی کی ہے۔ان کا مضمون ”گوپی چند نارنگ کے تنقیدی تصورات ” کے عنوان سے شامل ہے۔گوپی چند نارنگ نے اردو میں مابعد جدید رجحان کو متعارف کیا ہے۔گوپی ہپچند نارنگ اردو کے ان معدودے چند نقادوں میں سے ایک ہیں جن کے علم و کارنامے کااعتراف اردو کے ساتھ دیگر زبان و ادب والے بھی کرتے ہیں۔ انہوں نے تنقید کے ساتھ ساتھ لسانیات کی جانب بھی توجہ کی ہے۔ انہوں نے ایک موقع پر اس جانب توجہ دلائی تھی کہ کسی ایک نظریے کی پابندی سے فکر کی نئی راہیں مسدود ہوتی ہیں ، وہ ادب میں نت نئے رجحان کے قائل تھے ۔ یہ بالکل درست ہے کہ اگر ہم کسی بھی چیز کو ایک نظر سے دیکھنے کے عادی ہوجاتے ہیں تو ہمارے ذہن میں نئے خیالات و رجحانات بہ مشکل ہی آتے ہیں۔گوپی چند نارنگ کی تنقید پر گفتگو کرتے ہوئے شہزدا انجم لکھتے ہیں کہ اسلوبیاتی تنقید کے رجحان کو عام کرنے میں گوپی چند نارنگ نے کلیدی رول ادا کیا ہے۔یہی نہیں گوپی چند نارنگ نے جس طرح اسلوبیاتی تنقید کی اہمیت اور انفرادیت کو وسیع کینوس میں دیکھا ہے اس کا جائزہ بھی اس مضمون میں نظر آتا ہے۔شہزاد انجم نے گوپی چند نارنگ کی فکشن تنقید کا جائزہ بھی لیا ہے۔ انہوں نے گوپی چند نارنگ کے مضامین بالخصوص ’بیدی کے فن کی اساطیری اور استعاراتی جڑیں، منٹو کا متن، انتظار حسین کا فن۔متحرک ذہن کا سیال سفر،اردو میں علامتی اور تجریدی افسانہ،وغیرہ کا جائزہ یش کیا ہے۔ان مضامین کی روشنی میں شہزاد انجم لکھتے ہیں کہ گوپی چند نارنگ اردو تنقید میں نہ صرف نظریات و تصورات پیش کرکے ایک ناقد، مفکر، فلسفی کی حیثیت سے ہمارے سامنے آتے ہیں بلکہ مختلف فن پاروں کا تجزیہ کرکے وہ ہمارے لیے تفہیم و تجزیہ کی راہ بھی آسان کرتے ہیں۔
کتاب کا دوسرا حصہ ’صحافت و ترجمہ’ ہے۔ اس ذیلی عنوان کے تحت پروفیسر شہزاد انجم نے ’محمد علی جوہر کی صحافتی خدمات’،’کلام حیدری کی صحافتی خدمات،’ترجمہ نگاری اور جامعہ کے ارکان ثلاثہ’ اور ’ نثری اور منظوم تراجم ’ کے عنوانات سے اپنے خیالات و نظریات پیش کیے ہیں۔ان مضامین میں جہاں ایک طرف جامعہ اور بانیان جامعہ سے ان کے جذباتی رشتے کا علم ہوتا ہے وہیں ان اکابرین جامعہ اور صحافت کے میدان کا اہم نام کلام حیدری کی خدمات کا بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے.
زیر نظر کتاب کے تیسرے حصے ” فکشن ” کے ذیل میں تلاش نئے افسانے کی، معاصر افسانے کا منظر نامہ اور معاصر اردو ناول ایک جائزہ کے عنوانات سے فکزن کی سمت و رفتار کا جائزہ لیا ہے. یوں تو یہ عنوانات فکشن کی موجودہ صورتحال کی جانب اشارہ کرتے ہیں مگر مضمون نگار نے فن افسانہ کا عہد بہ عہد جائزہ لیا ہے. انہوں نے ان نظریات کا بھی ذکر کیا ہے جس نے افسانہ نگاری کے فن کو متاثر کرنے کی کوشش کی. معاصر افسانہ نگاری پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے لکھا ہے کہ آج کا افسانہ نگار نہ صرف انسانی زندگی اور ان کے مسائل کو پیش کرتا ہے بلکہ فن اور تکنیک کے قیود سے بالاتر ہوکر بھی عصری آگہی اور مسائل سے وابستہ ہوکر سماج کی سچی تصویر پیش کرتا ہے. ان کا خیال ہے کہ آج کا افسانہ گنجلک اور پیچیدہ نہیں ہے بلکہ یہ کہانیاں بیانیہ، اور راست انداز میں لکھی گئی ہیں. معاصر اردو ناول پر گفتگو کرتے ہوئے شہزاد انجم نے لکھا ہے کہ ان ناولوں نے فکشن کے دامن کو مالا مال کیا ہے. ان ناولوں میں ہندوستان کی جیتی جاگتی تصویر یہاں کی تہذیب اور مختلف حقائق کو دیکھا جاسکتا ہے. انہوں نے معاصر ناول کا عمومی جائزہ لیتے ہوئے لکھا ہے کہ آج کے ناول نگار ہجرت، فساد اور ذات پات جیسے موضوعات کے ساتھ ایک محقق کی طرح سماج کی حقیقتوں، تعصب اور برائیوں کو بے نقاب کرنے کی کوشش کر رہا ہے.
ان مضامین کے علاوہ غزل کہ قدیم و جدید روایت، اردو نظم کے اہم نشانات، فراق کی رباعیاں مولانا امتیاز علی خاں عرشی، پروفیسر محمد حسنین، ڈاکٹر محمد مثنی رضوی اور پروفیسر خالد محمود اپنے اشعار کے روشنی میں جیسے عنوانات قائم کر مذکورہ موضوعات پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے.
پروفیسر شہزاد انجم صاحب کی کتاب تنقیدی جہات اس لیے بھی اہم ہے کہ ہم اس ایک کتاب کے مطالعے سے مختلف اصناف اور موضوعات کا مطالعہ کرسکتے ہیں. شہزاد انجم صاحب قاری پر اپنا نظریہ تھوپتے نہیں بلکہ ایک روانی سے اپنی بات کہہ دیتے ہیں. آپ ان کے خیالات سے متفق ہوں یا نہ ہوں مگر آسانی سے اسے رد نہیں کرسکتے.
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

