ہم عصر خواتین افسانہ نگار: ایک جائزہ /ڈاکٹر شاذیہ کمال – ڈاکٹر نوشاد منظر
اردو زبان و ادب کی ترویج میں مرد کے ساتھ خواتین نے بھی اہم رول ادا کیا ہے۔ انہوں نے مرد سے شانہ بشانہ اور قدم سے قدم ملا کر بہترین ادب تخلیق کرنے کا کام انجام دیا۔یہ الگ بات ہے کہ ابتدائی زمانے بلکہ بیسویں صدی کے ابتدائی دہائیوں تک خواتین کی تخلیقات شائع تو ہوتی تھی مگر ان کے اصل نام سے نہیں بلکہ ان کے خاوند یا بیٹے سے منسوب کرکے یعنی زوجہ فلاں، والدہ فلاں۔یہ اس زمانے کا عام رجحان تھا اور ایسا سمجھا جاتا تھا کہ عورتیں کہانیاں پڑھیں گی تو خراب ہوجائیں گی۔اتنی پابندیوں کے باوجود خواتین نے نہ صرف ادب کا مطالعہ جاری رکھا بلکہ ادب اور بالخصوص فکشن نگاری پر توجہ بھی دیا ۔اگر ہم صرف بیسویں صدی سے اب تک کی خواتین فکشن نگار کی کوئی فہرست تیار کریں تو ہمیں اندازہ ہوگا کہ خواتین نے فکشن کو کس طرح اختیار کیا۔ ادھر چند برسوں میں خواتین کی خدمات کا جائزہ لینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس سلسلے کی اہم کتاب”ہم عصر خواتین افسانہ نگار: ایک جائزہ“ ہے۔ اس کتاب کی مصنفہ شعبہ اردو، پٹنہ یونیورسٹی کی سابقہ ریسرچ اسکالر ڈاکٹر شاذیہ کمال ہیں ۔مصنفہ نے اس کتاب کو تین ابواب میں تقسیم کیا ہے۔ کتاب کا پہلا حصہ ”اردو کی خواتین افسانہ نگار“ ہے۔اس باب کو مصنفہ نے چار ذیلی عنوانات میں تقسیم کیا ہے۔پہلے ذیلی حصّے کا عنوان ”ابتدائی دور کی اہم خواتین افسانہ نگار“ہے، اس میں مصنفہ نے عباسی بیگم، نذر سجاد حیدر، آصف جہاں، انجمن آرا، امت الوحی، حجاب امتیاز علی، آمنہ نازلی وغیرہ کی افسانہ نگاری کا مختصر جائزہ لیا ہے۔ابتدائی دور کے افسانوں کا جائزہ لیتے ہوئے شاذیہ کمال نے لکھا ہے کہ ابتدا میں خواتین نے معاشرتی اور سماجی رسوم و رواج کو بنیاد بنا کر افسانے لکھے۔ حالانکہ انہوں نے چند ایسے افسانوں کا ذکر بھی کیا ہے جس میں رومانی کیفیت اور مافوق الفطری عناصر بھی موجود ہیں۔شاذیہ کمال نے دوسرے دور کو ”ترقی پسند افسانہ“ عنوان دیا ہے۔ اس حصے میں انہوں نے ترقی پسند تحریک کے عروج و زوال پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر رشید جہاں،عصمت چغتائی، رضیہ سجاد ظہیر، ہاجرہ مسرور،شکیلہ اختر، خدیجہ مستور، صدیقہ بیگم کی افسانہ نگاری کا جائزہ لیا ہے۔ترقی پسند عہد میں افسانہ نگاری کو جو عروج ملا وہ تاریخ کا حصہ ہے۔مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین نے بھی اس تحریک کو جلا بخشنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔خواتین نے ایک طرف جہاں سماجی مسائل کو اپنے افسانے کا موضوع بنایا وہیں عورتوں کی نفسیات، ان کے مسائل اور ان پر کیے جانے والے استحصال اور آزادی نسواں کے لیے بھی آواز بلند کیں۔یہی نہیں جنسیت پر مبنی افسانے بھی اس دور میں لکھے گئے۔ شاذیہ کمال نے مذکورہ عوامل کا ذکر بھی اپنی کتاب میں کیا ہے۔تیسرا دور جدیدیت کا ہے۔ جس میں جدید دور کی خواتین افسانہ نگاروں ممتاز شیریں،قرۃ العین حیدر، جیلانی بانو،صالحہ عابد حسین، واجدہ تبسم اور مسرور جہاں کے فن پر گفتگو کی گئی ہے۔ مصنفہ نے جدیدیت کے دور میں لکھے گئے افسانوں اور افسانہ نگاروں کا جائزہ لیا ہے۔حالانکہ یہ دلچسپ موضوع ہوگا کہ کیا مذکورہ تمام خواتین افسانہ نگار نظریاتی طور پر بھی جدیدیت سے متاثر تھیں یا صرف اس بنیاد پر انھیں جدیدیت کا ہمنوا مان لیا جائے کیونکہ ان کے افسانے 1960 کے بعد منظر عام پر آئے۔افسانے کا چوتھا دور ”مابعد جدیدیت سے اب تک“ کے ذیل میں ذکیہ مشہدی،ترنم ریاض، نگار عظیم، غزال ضیغم،ثروت خان، اشرف جہاں، قمر جہاں کا تعارف پیش کیا گیا ہے۔مصنفہ نے مذکورہ افسانہ نگاروں کے افسانوی مجموعات، ان کی تعلیم، پیدائش اور مشغولیت وغیرہ کا ذکر کیا ہے۔
زیر نظر کتاب کا دوسرا باب”ہم عصر خواتین افسانہ نگار: ایک جائزہ“ہے۔ اس باب میں ذکیہ مشہدی،ترنم ریاض، نگار عظیم، غزال ضیغم،ثروت خان، اشرف جہاں، قمر جہاں وغیرہ کے حوالے سے معاصر اردو افسانے کے مسائل، موضوعات، کردار نگاری اور زبان و بیان کا جائزہ لیا گیا ہے۔ان کا خیال ہے کہ معاصر خواتین افسانہ نگاروں کے یہاں موضوعات کی سطح پر یکسانیت پائی جاتی ہے مگر چونکہ افسانہ نگاروں کے تجربات اور مشاہدات عموماً ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں لہذا ان کی پیش کش میں بھی انفرادیت نظر آتی ہے۔
کتاب کے تیسرے باب میں نتائج کے طور پر پوری کتاب کی تلخیص پیش کی گئی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ خواتین کے یہاں افسانہ نگاری کی جانب ایک رجحان ملتا ہے اور موجودہ دور میں صادقہ نواب سحر، تبسم فاطمہ، شائستہ فاخری وغیرہ اچھا افسانہ لکھ رہی ہیں۔ مجموعی طور پر اس عہد کے افسانوں میں عورت کے جذبات و احساسات کے ساتھ ساتھ عصری حسیت کو پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
اس کتاب کا تعارف پروفیسر علیم اللہ حالی نے تحریر کیا ہے جب کہ معروف فکشن نگار پروفیسر عبد الصمد نے اس کتاب کا مختصر جائزہ لیا ہے۔ ان کے علاوہ ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی کی تحریر کو فلیپ کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ ان تحریروں میں جہاں کتاب کا تعارف ہے وہیں مصنفہ کی شخصیت اور ان کے کارناموں کو بھی اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
کتاب کی طباعت اچھی اور دیدہ زیب ہے۔خواتین افسانہ نگاروں کے فن اور موضوع کو سمجھنے میں یہ کتاب معاون ثابت ہوگی
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

