شعبہ اردو،مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی کے لکھنؤ کیمپس،سفر نامہ ادب، تاریخ اور تہذیب کے تناظر میں‘کے موضوع پر توسیعی خطبے کا انعقاد
سفرنامہ، نامعلوم کو معلوم بنانے اور معلوم کو دنیا سے روشناس کرانے کا فن ہے۔ ایک اچھا سفر نامہ نگار اپنے مشاہدے کی ندرت اور اسلوب نگارش کی انفرادیت کے اتصال سے اس فن کو حیاتِ ابدی بخشتا ہے۔ان خیالات کا اظہار پروفیسر خالد محمود نے مولانا آزاد نیشنل اردو یو نی ورسٹی کے زیر اہتمام سفر نامہ ادب، تاریخ اور تہذیب کے تناظر میں کے موضوع پر منعقدآن لائن توسیعی خطبہ کے دوران کیا۔کیمپس کے انچارج ڈ اکٹر عبدالقدوس نے اس موقع پر بے حد وقیع خطبہ کے لیے مبارک بادپیش کی۔پروگرام کے آغاز میں ایم اے اردو پہلے سمسٹر کے طالب علم محمد وسیم نے قرآن پاک کی تلاوت اور ترجمہ پیش کیا۔ڈاکٹرعشرت ناہید نے نظامت کا فریضہ انجام دیا جبکہ ڈاکٹرعمیر منظر شکریہ ادا کیا۔توسیعی خطبہ یوٹیوب پر لائیو نشر کیا گیا جس کے ناظرین نے سوالات کیے اور اپنی پسندیدگی کا اظہار بھی کیا۔
پروفیسر خالد محمود نے سلسلہ کلام جاری کہ سفرنامہ نگار کے تاثرات اور محسوسات اس کے جذبات کی وارفتگی اور تمام داخلی کیفیات اور خارجی عوامل ایک سفرنامے کو دلآویز بناتے اور اس کی وسعتوں کا احساس دلاتے ہیں۔ابتدا میں انھوں نے سفرنامے کے فن اور اس کے اسلوب پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سفرنامہ ایک قدیم بیانیہ صنفِ ادب ہے جو انسان کی متلوّن مزاجی کی بدولت ظہور میں آئی۔انھو ں نے یہ بھی کہا کہ فنی اعتبار سے سفر نامہ کسی خاص اسلوب یا مخصوص تکنیک کا پابند نہیں ہوتا۔ سفر نامہ نگارکا تحریری برتاؤ ہی سفرنامے کا اصول، اسلوب اور تکنیک ہے۔ واقعات کی پیشکش میں زبان وبیان کی بڑی اہمیت ہے۔پیش کش اگر فطری اور انداز تخلیقی ہے تو واقعہ اور بیان واقعہ کی فنکارانہ مطابقت کے ادبی حسن سے سفرنامے کے مجموعی تاثر میں اضافہ ہوجاتا ہے۔اس موقع پر انھوں نے ابتدائی سفرنامہ نگاروں میں میگستھنیز، فاہیان، ہینگ سانگ،سلیمان، ابوالحسن مسعودی، حکیم ناصر خسرو،ابن بطوطہ وغیرہ کا ذکر کیا۔
پروفیسر خالد محمودنے کہا کہ پندرھویں صدی عیسوی کے بعد یورپ کے سیاح ہندوستان کی جانب متوجہ ہوئے۔ یورپ میں ا س زمانے تک یہ بات عام ہوچکی تھی کہ ہندوستان سونے کی چڑیا ہے۔ یورپ سے ہندوستان آنے والا اولین سیاح مارکو پولو ہے۔اس کے بعد یورپ سے اور بھی کئی سیاح آئے مگر فرانسیسی سیاح ڈاکٹر برنیر نے زیادہ شہرت حاصل کی۔ پروفیسر خالد محمود نے کہا کہ انیسویں صدی کے سفرناموں نے اگر ایک طرف تاریخ و تہذیب کا قیمتی سرمایہ بہم پہنچایا تو دوسری جانب ان میں سے بیشتر کے اسالیب بیان کی تخلیقی شان بھی چھپائے نہیں چھپتی۔
پروفیسر خالد محمودنے کہا کہ بیسویں صدی کے آغاز سے ہندوستان کی تقسیم تک اردو سفرنامہ قدیم و جدید کی کشمکش میں مبتلا نظر آتا ہے مگر ادبیت کی سطح پر اس میں تنوع اورمزید دلآویزی پیدا ہوگئی اور میدان سفر کی وسعتوں میں بھی قابل لحاظ ضافہ ہوا۔انیسویں صدی کے سفرنامہ نگار یورپ اور مشرقی وسطیٰ تک محدود رہے مگر اب ان کی جولان گاہ میں امریکہ، افریقہ، روس، چین اور برما جیسے ممالک بھی شامل ہوگئے۔ ان کا میدان سفر وسیع سے وسیع تر ہوتا گیا۔
انھوں نے ہندوستان سے بیرون ہند جانے والے سیاحوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں نے سفر نامے لکھ کر اہل ہند کو بیرونی دنیا سے متعارف کرانے کا کام انجام دیا ان سفر نامہ نگاروں میں قباد بیگ، میر محمد حسین لندنی، نوا ب کریم خاں، شیخ اعتصام الدین اور مرزا بواطالب اصفہانی کے نام خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ پروفیسر خالد محمود نے انیسویں صدی کے اہم سفرنامہ نگاروں میں مولوی مسیح الدین کا سفر نامہ ”تاریخ انگلستان“ (مطبوعہ ۶۵۸۱ء) محمد عمر خاں رئیس باسودہ کا ”زاد مغرب“ (۰۸۸۱ء)”نیرنگ چین“ (۳۹۸۱ء) اور آئینہ فرنگ (۵۹۸۱ء) شبلی کا ”سفرنامہ روم و مصر و شام“ (۴۹۸۱ء) سرسید کا”مسافران لندن“ (۱۶۹۱ء) محمد حسین آزاد کا ”سیرایران“ (۶۸۸۱ء) اور مرزا نثار علی بیگ کا ”سفرنامہ یورپ“ و غیرہ شامل ہیں۔
پروفیسر خالد محمود نے توسیعی خطبہ کے دوران کہا کہ انیسویں صدی میں سفرناموں کی تعداد نسبتاً کم جب کہ بیسو یں صدی میں اردو سفرناموں کا سیلاب سا آجاتا ہے۔بیسویں صدی کے نصف اول کے سفرنامہ نگاروں کا مزاج قدیم روایت کی پاسداری کرتاہے۔بیسویں صدی کے صنف آخر خصوصاً ربع آخر کا سفرنامہ نگار اپنی ذات کو سفرنامے سے خارج نہیں ہونے دیتا۔ وہ کسی منظر کو دیکھ کر خاموشی سے علیٰحدہ ہوجانے کاقائل نہیں۔ اسے اپنے وجود کا احساس و ادراک وجود سے زیادہ ہے اور وہ اس پر اصرار بھی کرتا ہے۔ اس کا سفر محض بصری نہیں، جذباتی جذباتی محسوساتی اور تاثراتی بھی ہے۔
ممتاز ادیب اور ناقد پروفیسر خالد محمود نے کہا کہ تقسیم کے زیر اثر جو سفرنامے لکھے گئے ان پر ہجرت کا اثر نمایاں ہے۔ گذشتہ ۵۶ سال میں ہندوستان سے پاکستان اور پاکستان سے ہندوستان آنے جانے والے ادیبوں کے سفرناموں میں جذبات و احساسات کے جو دریا موجزن ہیں ان میں گہری یکسانیت ہے۔
ہندوپاک کے سفرناموں کے مطالعے سے ایک بات اور واضح ہوتی ہے کہ ہردو جانب کے سفرنامہ نگاروں کو اپنے وطن اور خصوصاً آبائی وطن میں بڑی محبتیں ملی ہیں۔ سیاسی اور سماجی تبدیلی کے باوجود دونوں جانب دیدہ و دل فرش راہ کیے گئے ہیں۔
کیمپس کے انچارج ڈاکٹر عبدالقدوس نے کہا کہ ایک اہم موضوع پر اہم خطبہ تھا کیونکہ اس میں سفرنامے کی تہذیب و تاریخ کے علاوہ اس کے ثقافتی پہلو ؤں کو خاص طور پر نشان زد کیا گیا۔انھوں نے بطور خاص اس کے لیے مبارک باد بھی پیش کی۔آن لائن توسیعی خطبے میں ڈاکٹر ہارون رشید،ڈاکٹر خالد مبشر،ڈاکٹر محمد صفوان صفوی،ڈ اکٹر نشاں زیدی،ڈاکٹر مبین الدین قریشی نیز کیمپس کے اساتذہ،ریسرچ اسکالر،طلبہ وطالبات بھی شریک رہے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

