ہمارے بچپن میں بیشتر جوان سال شاعر اپنے شعروں میں صرف عشق کیا کرتے تھے اور جواں سال ہی کیوں اچھی خاصی پختہ عمر کے شعر ابھی لب و رخسار کے مضامین کو سو سو رنگ سے باندھنے کو کمال فن سمجھتے تھے۔ یہ کمال فن بھی ان کا اپنا نہ تھا۔ ان کے بزرگوں کا تھا جس کی نقل میں ہر شخص ’’فکر ہرکس بقدر ہمت اوست‘‘ کے مصداق اپنا دامن شعر بھرنے کی کوشش کرتا رہتا ۔ مگر آج کے نوجوان اور جوان شعرا کا انداز شعر یکسر مختلف ہے۔ ان کے سوچنے سمجھنے اور کہنے کے ڈھنگ میں زیادہ حقیقت پسندی اور کل کی بہ نسبت زیادہ دردمندی ہے۔ کل کی شاعری تصوراتی اور رومانی زیادہ تھی۔ آج کی سچی، فطری اور حقیقی زیادہ ہے۔ آج کا شاعر جب عصری مسائل کی بات کرتا ہے تو محسوس ہوتا ہے کہ وہ صرف اپنی ذات کے حصار میں قید نہیں بلکہ ذات سے باہر بھی دیکھنا ،سننا اور سوچنا چاہتا ہے۔ وہ خارجی دنیا کے بارے میں زیادہ جانتا ہے ۔ اس کے تجربات و مشاہدات ، اس کی عمر سے زیادہ وسیع ہیں۔ وہ صائب الرائے ہے اور معلوم دنیا کے بارے میں اپنی ایک رائے بھی رکھتا ہے ۔ آج کا جوان شاعر اگر وہ معاشی طور پر آسودہ اور خود کفیل بھی ہے، یہ نہیں سوچتا کہ باقی دنیا سے میرا کوئی سروکار نہیں۔ اب دنیا جانے اور اس کا کام جانے۔ یہ تمام باتیں عصر حاضر کے جن جوان العمر شعرا کے کلام کے مطالعے سے اخذ کی گئی ہیں ان میں ایک اہم نام پرویز مظفر کا ہے۔ پرویز مظفر جو برمنگھم میں اپنی اہلیہ (نسرین اختر) اور بیٹی (مدیحہ سحر) کے ساتھ خوش و خرم زندگی گزار رہے ہیں کچھ اسی ڈھب کے شاعر ہیں۔ ابھی جب میں ان کے کچھ اشعار آپ کے سامنے پیش کروں گا تو میری ہر بات کی تصدیق ہوجائے گی ۔ فی الحال ان کا بظاہر ایک سادہ اور سلیس مگر پر اثر شعر ملاحظہ کیجیے جس میں بے روزگار نوجوان کی نفسیاتی الجھن کو موضوع سخن بنایا گیا ہے ؎
سایہ ہو کہ بستر ہو آرام نہیں ملتا
مجبور جوانوں کو جب کام نہیں ملتا
سایہ اور بستر دونوں آرام دہ چیزیں ہیں مگر حساس نوجوان کے لیے جو ابھی بے کام یا بے کار ہے ان آرام دہ مقامات پر بھی گویا کانٹے بچھے ہیں۔ حساس نوجوانوں کے احساسات کو حساس نوجوان ہی سمجھ سکتے ہیں۔ اس شعر سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ شاعر کی نجی زندگی آسودہ سہی، اس کی ذہنی زندگی مظلوموں کی فکر مندی کی تابع ہے۔ وہ ہر اس شخص کے بارے میں سوچتا ہے جو کسی بھی جبر کا شکار ہے۔ وہ ایک انسان دوست اور انسانیت نواز شاعر ہے جو اپنے اشعار کے توسط سے ہر کس و ناکس کے غم میں شریک ہونے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر اسی پر بس نہیں کرتا۔ کم حوصلہ افراد کو حوصلے کی اہمیت اور اپنے وجود کی عظمت کا احساس ولا کر آگے بڑھنے کی ترغیب دیتا ہے۔ پرویز مظفر کا یہ شعر اسی خیال کی ترجمانی کرتا ہے:
ادھوری چھوڑ کے میں اپنی داستاں نکلا
ستارہ ٹوٹ کے بھی فخر آسماں نکلا
پرویز مظفر کے یکسانیت سے گریزاں اشعار میں فکر و اظہار کی سطح پر خاصا تنوع ہے۔ اس لیے ان کی قرأت میں تازگی نظر آتی ہے۔ ایک ایسی فرحت بخش تازگی جو افسردگی اور ملال کو بھی خوش دلی سے انگیز کرنے کا حوصلہ رکھتی ہے:
ڈوب جائوں گا، پھر بھی سورج کو
مجھ ستارے کی بھی دعا کہنا
آسماں کچھ قریب لگتا ہے
ہم اسے دیکھتے ہیں جب چھت سے
میںہی پاس اپنے پھٹکنے نہیں دیتا ورنہ
کب سے دنیائے دنی دام ہوا چاہتی ہے
پل بھر کے لیے شاخوں پہ لہرائے تھے پرویز
پھر ہم نے انھیں پھولوں کو گلدان میں دیکھا
راتیں گزارنے کا ہنر ہم سے سیکھ لو
تارے بنانا دیدۂ بینا سکھائیں گے
جانے کیا باتیں کرتے رہتے ہیں
چار درویش اک الائو کے ساتھ
تجھ سے بڑھ کر مانا کب ہے اوروں کو
ویسے آزو بازو دنیا ساری تھی
دیکھتا کیا ہوں کہ میں ضائع ہوا
غیر کے سانچے میں خود کو ڈھال کر
تیری دنیا سے ہمیں کیا لینا
آگئے پائوں ندی میں دھو کر
یہ تو سچ ہے اپنے بس میں رہنے میں عافیت ہے
لیکن اپنے بس میں رہنا اپنے بس کی بات نہیں
ظلم کا حوصلہ بڑھاتی ہے
یہ روایت خموش رہنے کی
لیکن معاملہ جب منافقت ، ریاکاری ، مجبوری ، لاچاری اور مکر و فریب کا ہو تو بیان میں طنز پیدا ہوجاتا ہے جو ایک فطری عمل ہے۔ یہ فطری عمل پرویز کے اشعار کو دھاردار بناتا ہے تاہم ان کا طنز ، طنز بلیغ سے عبارت ہے جو درد مندی اور شائستگی کے اتصال سے پیدا ہوتا ہے۔ یہ اشعار دیکھیے ؎
اپنی گردن بھی رکھ دیجیے دھار پر
صرف تلوار تلوار مت کیجیے
جب دیکھا ہمیں حال پریشان میں دیکھا
کیا تم نے کبھی اپنے گریبان میں دیکھا
دو چار کیا ہزار نئے زخم دل پہ ہیں
پھر کیسے کہہ رہے ہو کہ قسمت خراب ہے
جو میرے گناہوں پہ نظر رکھتے ہیں
البم میں وہی تتلی کے پر رکھتے ہیں
تم ہی جانو قصور کس کا تھا
ہم بھنور میں تھے تم کنارے تھے
تیری بندوق میرے شانے پر
اور میں ہی ترے نشانے پر
خود نمائی میں سبھی ہیں مصروف
آئینہ کوئی ہمارا ہی نہیں
ہم سے ہنس کر ملیں گے وہ پرویزؔ
اور بیٹھک عدو کے گھر ہوگی
پرویز کے کلام میں رومانی اشعار کی دلکشی بھی دیکھنے کے قابل ہے۔ شعر کیا ہیں لطیف و خوش رنگ پھولوں کی شگفتگی اشعار میں ڈھل گئی ہے۔ ملاحظہ ہوں:
میاں وہ خوشبو ہی خوشبو ہے سر سے پائوں تک
کہ اس کی یاد بھی آئی ہے عطر ملتے ہوئے
اچھی صورت پائی ہے نا
کچھ نیندیں برباد کروگے
تمھاری بزم اگر ہم سجانے لگ جاتے
تمام چاند ستارے ٹھکانے لگ جاتے
خدا کرے کہ کسی روز وہ بھی اے پرویز
ہمارے ساتھ ہی آکر گزارے ہجر کی رات
ایسے برجستہ ، بے محابا اور رواں دواں شعر کہنے والے جواں سال شاعر سے جتنی زیادہ امیدیں وابستہ کی جائیں، کم ہیں۔ ان کے اشعار تازہ ہوا کے جھونکوں کی مانند ذوق سلیم کے لیے راحت بخش اور جاں فزا ہیں۔ ان کے اشعار روایت سے بغاوت کا اعلان نہیں کرتے، روایت کو تازہ دم کرنے اور اپنے زمانے سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کا حصہ ہیں۔ ان کی اٹھان کہتی ہے کہ جب وہ اڑان بھریں گے تو ساتوں آسمانوں کی خبر لائیں گے اور ایسا جلد ہوگا۔ بہت جلد۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

