موبائل کی گھنٹی بجی، اسکرین پر قاضی عبدالستار لکھا ہوا آیا۔
’’ہیلو! ابن کنول بول رہے ہو؟‘‘
’’جی! السلام علیکم۔‘‘
’’جیتے رہیے۔ پیغام کی طبیعت کیسی ہے؟‘‘
’’زیادہ بہتر نہیں ہے۔‘‘
’’مجھے بتاتے رہنا۔ اچھا خدا حافظ۔‘‘
پھر ایک دن میں نے قاضی صاحب کو بتایا کہ اب وہ ہمیشہ کے لیے ہجرت کرگئے عالم ارواح میں، بس ہمارے لیے اپنی مسکراہٹیں اور قہقہے چھوڑ گئے۔
بڑا ہی بے باک قلم کار اور نڈر شخص تھا پیغام آفاقی۔ سنہ ۱۹۷۳ میں ہم سب نے ایک ساتھ علی گڑھ میں باقاعدہ کہانیاں لکھنا شروع کی تھیں۔ سید محمد اشرف،شارق ادیب، طارق چھتاری، غضنفر، غیاث الرحمن اور پیغام آفاقی۔ پیغام کا براہ راست اردو یا شعبۂ اردو سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ بی اے انگریزی میں کیا، ایم اے کے لیے تاریخ کا انتخاب کیا اور نوکری کے لیے پولس کی وردی پہنی۔ UPSC کا امتحان پاس کرکے IPS کے لیے انتخاب ہوا۔ قاضی صاحب کے افسانوی شاگردوں کی فہرست میں پیغام کا بھی نام شامل تھا۔ علی گڑھ کی محفلوں میں کبھی ’’پیتل کی بالٹی‘‘ لیے ’’لوہے کے جانور‘‘ پر سوار ہوکر آگئے اور خالی ’’گلاس‘‘ دکھاکر ’’رشید بھائی‘‘ کو ’’ناریل کے پیڑ‘‘ کی ’’بلندی‘‘ پر چڑھادیا۔ علی گڑھ کی ان محفلوں نے مختلف راستے پر چلنے کے باوجود پیغام کو اردو کا ادیب بنادیا اور اسی جرم میں اسے کالاپانی بھیج دیا گیا۔ آٹھویں دہائی کے اختتام تک علی گڑھ کے افسانہ نگاروں کی جماعت بکھر گئی۔ کوئی دہلی، کوئی انڈمان، کوئی گورکھپور، کوئی لکھنؤ اور کوئی رامپور۔ شاید پدم شری قاضی عبدالستار نے کہا میرا کام پورا ہوگیا، میں نے تمھیں قلم پکڑنے کا سلیقہ سکھادیا۔ جائو اب تم قلم کی لڑائی اپنے آپ لڑو۔ یہ حقیقت تھی کہ علی گڑھ سے جو قلم ہم لے کر نکلے تھے آج تک سنبھالے ہوئے ہیں۔
بچھڑنے کے بعد کچھ لوگوں سے رابطے رہے، کچھ سے کم اور کچھ سے بالکل نہیں۔ پھر اچانک ایک دن معلوم ہوا کہ دہلی میں ایک پولس آفیسر ہے جس کا نام اختر علی فاروقی ہے، علیگیرین ہے۔ مزید معلومات حاصل کیں۔ معلوم ہوا کہ یہ تو اپنا پرانا ساتھی افسانہ نگار پیغام آفاقی ہے۔ وہی پیغام آفاقی ’’پیتل کی بالٹی‘‘ والا، جو ’’پرندے‘‘ کی ’’تلاش‘‘ میں ’’قطب مینار‘‘ پر چڑھ جاتا تھا۔ ’’کتوں کے رونے کی آواز‘‘ سے جسے ’’دہشت‘‘ ہوتی تھی۔ اب پولس کا بڑا افسر بن کر دہلی میں موجود ہے۔ میں نے کسی طرح پیغام کا فون نمبر حاصل کیا، فون کیا، پھر کیا تھا، ملاقات طے ہوگئی۔ پیغام کا اس وقت کنگزوے کیمپ پولس لائن میں قیام تھا۔ ملاقات کے لیے ہم پہنچ گئے۔ مدت کے بعد ملاقات ہوئی تھی، کچھ اپنی کہی، کچھ ان کی سنی۔ رضیہ بھابی ساتھ تھیں۔ وہ تو علی گڑھ میں شادی سے پہلے بھی ساتھ تھیں۔ معلوم ہوا کہ علی گڑھ سے جو قلم لے کر نکلے تھے اس کی سیاہی ابھی سوکھی نہیں ہے۔ اس کے بعد ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ دہلی کے ادبی حلقوں میں میں نے پیغام کو خوب متعارف کرایا اور پھر ایسا تعارف ہوا کہ میری کہیں ضرورت ہی نہیں پڑی۔ ادیب یا شاعر اگر بڑا افسر ہو تو سبھی اس سے تعلق بنانے کی کوشش کرتے ہیں، کچھ اس سے شان میں اضافہ ہوجاتا ہے اور یہ بھی توقع ہوتی ہے کہ کب خود یا کسی اور کو رہا کرانے کی ضرورت پڑجائے۔
ہمارے پاس اس وقت کوئی کار نہیں تھی ’’بے کار‘‘ تھے۔ اس بے کاری کی حالت میں پیغام کی کار میں لفٹ مل جاتی تھی اور وہ شریف آدمی پروگرام ختم ہونے کے بعد گھر تک بھی چھوڑ دیتا تھا۔ ایک آدھ بار کسی کی سفارش کردینے سے لوگوں پر کچھ رعب بھی پڑا۔ ایک بار تو یوں ہوا کہ پیغام بحیثیت اے سی پی ایئرپورٹ پر تعینات تھے۔ قمر رئیس صاحب، جوگندر پال، غلام ربانی تاباں، سید محمد عقیل وغیرہ کو ایک کانفرنس میں پاکستان جانا تھا، ہم نے پیغام کو فون کیا۔ اس وقت نیشنل اور انٹرنیشنل پالم ایئرپورٹ ہی تھا۔ پیغام نے کہا پہلے سب کو میرے پاس لے آنا۔ ہمنے ایسا ہی کیا، اس وقت تک پیغام کا ناول ’’مکان‘‘ بھی نہیں چھپا تھا۔ فکشن نگار کی حیثیت سے کوئی شناخت بنی نہیں تھی۔ ہم نے سب سے متعارف کرایا۔ جب فلائٹ کا وقت ہوگیا تو میں اور پیغام ان سب کو جہاز کی سیڑھیوں تک چھوڑنے گئے۔ وہاں مسافروں کی لائن میں ہمارے سسر کے ایک دوست لگے ہوئے تھے، اُن سے سلام دعا ہوئی۔ دہلی واپسی پر انھوں نے ہمارے سسر سے پوچھا کہ یہ آپ کے داماد کیا کرتے ہیں۔ کچھ لوگوں کو جہاز تک چھوڑنے آئے تھے۔ ہم اس وقت مستقل لیکچرر بھی نہیں تھے، لیکن سسرال میں رعب پڑگیا۔ پیغام کی دوستی کا یہ بھی فائدہ تھا۔
بٹلہ ہائوس میں پیغام نے جمنا کے پانی کا ایک بڑا حصہ اس امید پر خرید رکھا تھا کہ کب جمنا سوکھے اور نیچے سے زمین نکل آئے تو اس پر مکان بنائیں۔ اس مکان کے انتظار میں پیغام نے کاغذ پر مکان تیار کرلیا۔ پیغام اور رضیہ بھابی اکثر بٹلہ ہائوس یہ دیکھنے آتے کہ پانی کتنا کم ہوا۔ واپسی میں ہمارے گھر چائے کے ساتھ شامی کباب اور تلی ہوئی مچھلی کھاتے جو ہماری بیوی ان کے آنے کی خبر پر ہی تیار کرکے رکھ لیتی تھیں۔ پیغام نے اپنے ناول ’’مکان‘‘ کی اشاعت کی خواہش ظاہر کی۔ اس زمانے میں کتابت کے لیے کمپیوٹر نہیں تھا، کاتب حضرات کے ہی نخرے اٹھانے پڑتے تھے اور کاتبوں کے کرتبوں کے بارے میں پرانے سب لوگ جانتے ہی ہیں۔ ہمارے پاس اس وقت ایک کاتب بس مکھّی پر مکھّی مارنے والا تھا، ہم نے پیغام کے سپرد کردیا۔ پیغام، قمر رئیس صاحب کی طرح خوش خط نہیںتھے، اوپر سے کاتب علیہ الرحمہ کی علمیت، نہ کاتب نے پیغام کے لکھے کی تصحیح کرنے کی کوشش کی اور نہ پیغام نے کاتب کے لکھے میں کانٹ چھانٹ مناسب سمجھی۔ اب جو ’’مکان‘‘ تیار ہوکر سامنے آیا تو ’’مکان‘‘ کے نقشے کی تو بہت تعریفیں ہوئیں، ہر جگہ، ہر محفل میں سراہا گیا۔ یوں بھی پولس افسر کا تھا، کسی میں کچھ کہنے کی سوائے تعریف کے ہمت نہیں تھی، لیکن ’’مکان‘‘ میں پلاسٹر کی ہمواری اور اینٹوں کی ترتیب میں بڑی خامیاں تھیں۔ یعنی پیغام نے جو لکھا وہ کاتب نے صحیح سمجھا اور کاتب نے جو لکھا وہ پیغام نے بغیر کسی حجت کے قبول کرلیا۔ دراصل دونوں کا وطن آس پاس ہی تھا، اس لیے اخلاق کا تقاضا تھا کہ ایک دوسرے کے لکھے میں کوئی عیب نہ نکالیں۔ عیب پوشی کا نتیجہ یہ نکلا کہ ’’مکان‘‘ کی مرمت کے لیے ازسرنو ایک آدمی بٹھانا پڑا، اس کی ذمہ داری بھی مجھ ناتواں پر آن پڑی۔ لیکن جو بھی ہو، پیغام کے ناول ’’مکان‘‘ نے اس ماحول میں جب ناول کی طرف کم توجہ دی جارہی تھی، ایک بیداری پیدا کردی۔ پیغام پیشہ ور ناول نگار نہیں تھے۔ انگریزی اور تاریخ کے طالب علم رہے۔ عالمی ادب اور تاریخ پر گہری نظر تھی۔ لکھتے کم تھے، سوچتے زیادہ تھے۔ برسوں سوچنے کے بعد ’’مکان‘‘ تعمیر کیا تھا، یہی وجہ ہے کہ ’’مکان‘‘ بڑی شان و شوکت کے ساتھ ناول کی تاریخ میں داخل ہوا۔ بے شمار تبصرے اور مضامین ناقدین نے ’’مکان‘‘ سے متاثر ہوکر تحریر کیے۔ جگہ جگہ مذاکرے ہوئے۔ اس طرح پیغام کی دوبارہ اردو ادب میں واپسی ہوئی اور ایسی دھوم سے ہوئی کہ معاصرین رشک کرنے لگے۔
دہلی میں رہنے کے بڑے فائدے ہیں، ایک تو یہاں تین ایسی ہندوستان کی بڑی سینٹرل یونیورسٹیاں ہیں کہ جن میں اردو کے بڑے شعبے ہیں اور ان میں کچھ نامور ناقدین بھی ہیں، جن کی اردو ادب میں ساکھ ہے۔ پھر یہاں ساہتیہ اکیڈمی، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، غالب انسٹی ٹیوٹ، غالب اکیڈمی، اردو گھر، دہلی اردو اکیڈمی اور چھوٹے موٹے اداروں، انجمنوں اور تنظیموں کا تو شمار ہی نہیں۔ یہاں تیسرے چوتھے درجے کا ادیب بھی پہلے دوسرے درجے کے ادیبوں اور شاعروں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے۔ تدریسی طبقہ غیر تدریسی طبقہ سے پرہیز نہیں کرتا۔ علی گڑھ وغیرہ میں تو کتنا ہی بڑا غیرتدریسی ادیب یا شاعر ہو اُسے منہ نہیں لگاتے۔ دہلی میں یہ طبقاتی تعصب کم ہے، بلکہ یوں بھی ہوا ہے کہ بعض غیرتدریسی علمائ پروفیسروں کو جاہل کہنے میں بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔ ٹھیک ہے سب پروفیسر لکھے پڑھے نہیں ہوتے، لیکن کچھ تو پڑھ لکھ کر ہی پروفیسر بنتے ہیں۔ بات کہاں سے کہاں پہنچ گئی، زیادہ آگے بڑھی تو اپنی بھی عزت بچانا مشکل ہوجائے گی۔ تو ہوا یوں کہ پیغام کے ایک ہی ناول نے انھیں وہ مقام عطا کردیا کہ جو بعض ادیبوں کو بہت سے ناول لکھنے کے بعد بھی نصیب نہیں ہوتا۔ ناول اس کا حقدار بھی تھا۔ بعض ادیبوں کو تو یہ مرتبہ اپنی کتابوں کی تعداد کے بجائے ان کا وزن بتانے کے باوجود بھی نہیں ملتا۔
بہرحال اب پیغام، اختر علی فاروقی کے بجائے پیغام آفاقی کی شکل میں ادبی محفلوں میں زیادہ نظر آنے لگے۔ پیغام کی نوکری ایسے محکمے میں تھی کہ اسکے پاس موضوعات بہت جمع ہوگئے تھے۔ انھوں نے اپنے موضوعات کی پیشکش کے لیے قلم کے علاوہ دوسرے طریقے بھی اختیار کیے، یعنی ٹی وی کے لیے سیریل بنانے لگے۔ امکان انٹرنیشنل کے نام سے ایک کمپنی بنا ڈالی۔ مجھ سے کہا کوئی لڑکا بتائو جسے ٹی وی کے پروگرام بنانے کا شوق ہو۔ اس وقت میں نے رضا حیدر کا نام تجویز کیا جو ہمارے شعبہ کے طالب علم رہ چکے ہیں اور آج کل غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر ہیں۔ میں نے رضا حیدر سے کہا تم پیغام آفاقی سے ملاقات کرلو، تمہارا شوق پورا ہوجائے گا۔ رضا حیدر کی آواز بھی اچھی ہے اور قد کی درازی کے علاوہ ناک نقشہ بھی اچھا ہے۔ رضا حیدر چلے گئے، بات چیت کے بعد رضا حیدر کو اسسٹنٹ ڈائریکٹر بنادیا گیا۔ پیغام کے یہاں اسسٹنٹ تھے۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر بن گئے۔ شاید وہاں کا تجربہ کام آگیا۔ پھر ایک دن یوں ہوا کہ رات کو پیغام کا فون آیا کہ کل تمھیں صبح سات بجے شوٹنگ کے لیے آنا ہے۔ معلوم ہوا ایک سیریل یا ٹیلی فلم کی شوٹنگ شروع ہوگئی ہے۔ خدا جانے پیغام کو کیسے معلوم ہوگیا کہ میں بہت اچھا ایکٹر ہوں۔ پڑھے لکھوں میں نہ آتا تو دنگل میں عامر خاں کی جگہ میں ہی ہوتا۔ میں نے پیغام سے کہا مجھے صبح روہتک ایک سیمینار میں جانا ہے۔ کہنے لگے تم آجائو، تمھیں نو دس بجے تک فری کردیں گے، پھر چلے جانا۔ چھوٹا سا رول ہے۔ پولس والے سے کون حجّت کرتا ہے اور کون انکار کرسکتا ہے۔ منع کریں گے تو اُٹھوالے گا۔ مرتا کیا نہ کرتا، پہنچ گئے۔ دس بجے تو شوٹنگ ہی شروع ہوئی۔ ہمارا رول اتنا سا تھا کہ ایک احتجاجیجلوس کا لیڈر بن کر نعرے لگانے تھے۔ شاید ہماری تھوڑی بہت ترقی پسندی دیکھ کر اس رول کے لیے ہمارا انتخاب کیا تھا۔ بہرحال کھادی کا دھوتی کرتا پہناکر ہمیں کھڑا کردیا۔ اتنے ری ٹیک ہوئے کہ سمینار میں اگلے ہی دن پہنچے۔
پیغام کی ادبی سرگرمیاں بڑھتی رہیں، وہ چمپاپور سیوان سے نکل کر علی گڑھ کے راستے دہلی آنے والا اختر علی فاروقی اب عالمی سطح پر پیغام دے رہا تھا۔ ’’مکان‘‘ کی شہرت ہندوستان پاکستان میں صرف اردو والوں تک محدود نہیں رہی بلکہ سات سمندر پار بھی چلی گئی۔ اس سے پیغام کو اس قدر حوصلہ ملا کہ اس کے اندر فکشن نگار کے ساتھ سویا ہوا شاعر بھی ہڑبڑاکر اُٹھ بیٹھا، جو علی گڑھ سے رخصت ہونے کے بعد پولس کی گرفت میں چلا گیا تھا۔ پیغام نے اپنی شاعری کا مجموعہ بھی ’’درندہ‘‘ کے نام سے شائع کروادیا۔ شاعری صنف نازک کی طرح نازک صنف ہے، لیکن پتہ نہیں کیوں پیغام نے کتاب کا نام اتنا غیرشاعرانہ رکھا کہ نام دیکھ کر ہی آدمی خوف زدہ ہوجائے۔ شاید اس میں پیشے کا کچھ اثر تھا، پولس والوں کو دیکھ کر یوں ہی لوگ ڈر جاتے ہیں اور کوئی نہ ڈرے تو ان کا رویہ ڈرا دیتا ہے۔ ’’درندہ‘‘ کا تو سرورق ہی ڈرانے کے لیے کافی تھا، جب کہ اس میں ایسی شاعری بھی ہے:
اک پردے کو اٹھ جانا تھا اک چہرے کو آنا تھا
کتنی حسیں تھیں، کتنی دلکش شرمائی شرمائی رات
اے میری روح، اے ماہ تاباں، ٹھہرو ٹھہرو کہاں جارہے ہو
تم سے روشن ہے دل کا گلستاں، ٹھہرو ٹھہرو کہاں جارہے ہو
کتنا غمگیں ہے وقت جدائی، ہر خوشی ہورہی ہے پرائی
دل سے آہوں کا اٹھتا ہے طوفاں، ٹھہرو ٹھہرو کہاں جارہے ہو
کانٹوں پہ تڑپتا ہے رہ رہ کے وجود اپنا
پھولوں کے تعاقب میں بھٹکا ہوا راہی ہوں
آندھیوں کی زد میں آکر کس طرح
اُڑنے لگ جاتے ہیں پتھر دیکھنا
اس ’’درندہ‘‘ صفت کتاب کو کھولنے کے بعد ہی معلوم ہوتا ہے کہ اس میں شاعری ہے ورنہ سرورق اور نام دیکھ کر یہی تاثر پیدا ہوتا ہے کہ کالا جادو، نیلی دنیا، تیسری آنکھ، کالی جھیل کا خزانہ، آدم خور انسان، خوفناک جزیرہ قسم کی کوئی کتاب ہے۔ پیغام کو معصوم قارئین کو ڈرانے اور ان کے اندر تجسس پیدا کرنے کا کتنا شوق تھا، افسانے کے مجموعے کا نام ’’مافیا‘‘ رکھ دیا۔ دوسرا ناول ’’پلیتہ‘‘ کے عنوان سے سیاہ و سرخ رنگ کے سرورق کے ساتھ سامنے آیا۔ دراصل پیغام بظاہر جس قدر خوش مزاج، خوش شکل، خوش لباس، خوش حال، خوش گفتار تھا، اندر سے معاشرے کی ناہمواریوں، سماج میں مظلومین پر ہونے والے ظلم و ستم کو دیکھ کر ٹوٹ چکا تھا۔ اس کی تحریر میں اس کے اندر کا کرب ظاہر ہوتا تھا۔ اس نے ہر طرح کی ناانصافیاں دیکھی بھی تھیں اور برداشت بھی کی تھیں۔ پیغام نے کہا:
’’انسان کی سرشت میں موجود ظالمانہ جبلت کس طرح عالمی، ملکی اور مقامی پیمانے پر مختلف سطحوں پر اپنے کمند تیار کرکے دوسرے انسانوں کو اس کا نشانہ بناتی ہے یہ موضوع میری پوری فکر کا محور ہے۔‘‘ (مافیا)
پیغام نے کم لکھا لیکن زندگی اور ادب کی رفتار کے بارے میں سوچا زیادہ۔ دنیا میں پھیلی ہوئی منافقت، مکاری، بے رحمی، بے حسی، دروغ گوئی، تخریب کاری، سچ کی پردہ پوشی، جھوٹ کی جیت، بے شرمی، بے حیائی، سب نے اسے اس قدر اذیت اور تکلیف پہنچائی کہ وہ سوچتے سوچتے ایسا بیمار پڑا کہ پھر اُٹھ نہ سکا۔ اُس نے ان سب سے نجات حاصل کرنے کے لیے دنیا سے ہی نجات پانے کے راستے کو اختیار کیا۔ سب کا درد لے کر وہ چلا گیا۔ سب کی فکروں کو خود لے گیا، اپنی مسکراہٹیں ہمیں دے گیا۔
شعبہ اردو،دہلی یونیورسٹی، دہلی۔ موبائل : 9891455448
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

