Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
کتاب کی بات

by adbimiras فروری 11, 2022
by adbimiras فروری 11, 2022 0 comment

’اردو زبان اور لسانیات‘ /ڈاکٹر گوپی چند نارنگ: تحقیقی وتنقیدی جائزہ – حافظ رضوان

 

مشہور دانش ور ، ادیب، نقاد اور ماہر لسانیات ڈاکٹر گوپی چند نارنگ کی شخصیت اردو زبان کے ساتھ خوب مانوس اور معروف ہے ہمسایہ ملک بھارت میں اردو زبان سے وابستہ مایہ ناز اور عالمی نوعیت کے اداروں کے ساتھ نامور اور وقیع عہدوں پر فائز رہے۔ ساہتہ اکیڈمی کے صدر کی حیثیت سے ان کا تعارف ان کی شخصیت کا ایک شان دار حوالہ ہے۔

زیر جائزہ تصنیف ’’اردو زبان اور لسانیات ‘‘ کا جو نسخہ زیر مشاہدہ ہے۔ ۲۰۰۷ میں نیاز احمد نے سنگ میل پبلی کیشنز لاہور سے شائع کیا۔

کتاب دراصل مصنف کے پچیس مقالہ جات کا مجموعہ ہے۔ جن میں سے آخری دو انگریزی زبان میں ہیں۔ حرف آغاز وقار الحسن صدیقی کی تحریر ہے۔ اس کے بعد دیباچہ میں مصنف گوپی چند نارنگ اردو زبان سے اپنی والہانہ عقیدت اور جذباتی تعلق کا ذکر کرتا ہے۔

کتاب کا پیش لفظ مرزا خلیل احمد بیگ کا تحریر کردہ ہے۔ ابتدائ میں کتاب کی اہمیت و افادیت کا ذکر کرتے ہیں۔ مرزا خلیل احمد بیگ مصنف کے متعلق بھی معلومات قارئین کی نظر کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گوپی چند نارنگ نے امریکہ کی وسیکانس اور انڈیا نایو نیورسٹیوں سے جدید لسانیات کی تعلیم و تربیت حاصل کی۔ مزید فاضل مصنف کی اہم تصانیف میں، اردو  کی تعلیم کے لسانیاتی پہلو ،۔ Dialect of Delhi Urdu, Karkhandari ، املا نامہ، لغت نویسی کے مسائل، ادبی تنقید اور اسلوبیات کی افادیت کا ذکر کرتے ہوئے مصنف کو داد تحسین سے نوازتے ہیں گوپی چند نارنگ نے جن مختلف شعرائ کی شاعری کے تجزیے کئے ان میں میر ،اقبال اور فیض کو خصوصیت کے ساتھ قابل ذکر تصور کرتے ہیں۔ ڈاکٹر گوپی چند کی شخصیت کا ایک پہلو تنقید بھی ہے مرزا خلیل احمد بیگ بطور نقاد انکی خدمات کا ذکر کرتے ہو ئے ادبی تنقید اور لسانی مسائل کے حوالے سے مصنف کی مفید تصانیف کا ذکر کرتے ہیں۔ جدید تنقید کے حوالے سے نارنگ صاحب کو اردو میں اولیت کا مقام بھی مرزا خلیل احمد بیگ دیتے ہیں۔

باب نمبر 1 ’’اردو ہماری اردو‘‘

جیسا کہ آغاز میں بھی ذکر کیا گیا ہے کہ مصنف کا اردو زبان سے جذباتی حد تک تعلق ہے۔ لہذا مضمون مذکورہ میں اردو کی توقیر اور ہمہ گیری کا ذکر کرنے کے بعد اردو کے ماخذ اور اس پر بیرونی زبانوں کے اثرات کا خوبصورتی سے یوں ذکر کرتے ہیں ۔

’’پراکرتوں کی دھرتی سے جب نیا اکھوا پھوٹا اور اس میں عربی، فارسی، ترکی اثرات کا پیوند لگا تو اس کا کوئی بھی نام نہیں تھا۔ ‘‘(۴۷)

اس کے علاوہ ہندوستان میں رائج مختلف زمانوں میں اردو کے ناموں کا ذکر ہے۔ اور ان ناموں کو ہی اردو میں دوریاں اور فاصلے بڑھانے کا سب قرار دیتے ہیں۔ اردو کے اس تاریخی پس منظر میں اردو کی شیرینی اور چاشنی کا ذکر کرتے ہوئے مصنف کا تمثیلی انداز پڑھنے والے کے لئے مزید لطف و دلچسپی کا باعث بنتا ہے۔

اردو کے ارتقائ کے طور پر ایک حوالہ یہ بھی پیش کیا جاتا ہے کہ یہ درباروں سے وابستہ رہی اور درباروں سے ہی اس کو ترقی حاصل ہوئی لیکن یہاں گوپی چند کا بیان معنی خیز اور دلچسپی سے خالی نہیں مصنف کا کہنا ہے۔

’’اردو نے درباروں سے نہیں۔ بلکہ خود درباروں نے اردو سے رشتہ پیدا کیا۔ اردو اصلاً بازاروں، گلیوں، کوچوں، میلوں ٹھیلوں، جوگیوں، سنتوں، فقیروں اور صوفیوں کی زبان ہے۔ ‘‘(۴۸)

حافظ محمود خان شیرانی کی کتاب ’’پنجاب میں اردو ‘‘ اور پھر ڈاکٹر رئوف پاریکھ کی ’’لسانیاتی مباحث‘‘  میںبھی اس بات کا اعتراف کیا گیا ہے، کہ ممکن ہے اردو کی ترویج ترقی اور ہمہ گیری کو دیکھ کر بادشاہوں نے خود اس کو استعمال میں لانے کا آغاز کیا ہو۔ کیوں کہ مغل بادشاہوں کی زبان ترکی اور ان کے ہاں سرکاری زبان کی حیثیت تو فارسی کو حاصل تھی گویا وہ اردو کے مبلغ نہ تھے بلکہ اردو کی شہرت اور ہمہ گیری کے پیش نظر اس کو استعمال میں لانے لگے اور یوں اردو کی ترقی کے ساتھ خود کو جوڑ دیا۔

برصغیر پاک و ہند مختلف تہذیبوں اور مذاہب کی سرزمین ہے ہندو، مسلم، سکھ اور عیسائی یہاں کے قابل ذکر مذاہب ہیں۔ اس تناظر میں ہر شخص اور ہر ملت کا ماننے والا اپنے طریقے سے اپنے مالک و معبو دکے حضور اظہار بندگی کرتا ہے۔ مذہب کسی شخص کو تشدد یا نا انصافی نہیں سیکھاتا لہذا مذہب کے حقیقی مبلغین ہمیشہ احترام انسانیت اور رواداری کے نمائندے ہوتے ہیں۔ یوں احترام انسانیت محبت اور بھائی چارہ ایسی اعلیٰ انسانی اقدار ہیں جن کی طرف لوگوں کا فطری میلان ہوتا ہے خواہ کسی مذہب یا ملت سے تعلق کیوں نہ ہو۔

بر صغیر پاک و ہند مین بھی کچھ ایسا ہی معاملہ دیکھنے میں آیا مذہب کے مبلغین خواہ ان کا تعلق کسی مذہب سے ہو انہوں نے اپنی فکر کو عام کرنے کے لئے جن زبانوں کا استعمال کیا اردو بھی ان میں سے ایک ہے اور ان مذہبی مبلغین جن میں اہل ایمان اولیائ اللہ کے نام قابل ذکر ہیں اور ان کے حلقہ ادارت میں داخل ہو کر کثیر تعداد میں لوگوں نے اپنی اور معاشرے کی اصلاح کی ۔ یقیناً ان کاملین کا زبان کی ترویج میں بڑاکِردار ہے۔ مصنف ڈاکٹر گوپی چند نارنگ بھی نہایت تفصیل سے اس پہلو پراظہار خیال کرتے ہیں اولیا اللہ میں سے جن بابرکت ہستیوں کا ذکر کرتے ہیں۔

ان میں خواجہ خواجگان خواجہ معین الدین چشتی اجمیری، حضرت بابا فرید الدین گنج شکر، حضرت نظام الدین اولیا سرکار، خواجہ بندہ نواز گیسودراز اس کے علاوہ ہندو مذہب کے مبلغین میں سے رامانند، تکارام ، کبیر اور سکھ مذہب کے بانی بابا گرونانک کا ذکر خاص طور پر تحریر کا حصہ بناتے ہیں نیز نامور شعرائ کے کلام سے اشعار کے نمونے بھی  کتا ب کا حصہ ہیں  جن میں شعرائ نے مذہب سے بالا تر ہو کر انسانیت کا پیغام عام کیا۔

اردو اور ہندی کے تعلق کو کبھی معاصر اورکبھی برتری کی بنیاد پر جانچا جا تا رہا اور جانچا جاتا ہے۔ کبھی ان کو الگ زبانوں کا نام دے کر سیاست کی بھینٹ چڑھایا اور ہر ایک یعنی اردویا ہندی کے چاہنے والے اپنی اپنی زبانوں کی برتری کے دعوے دار رہتے ہیں ۔ گوپی چند نارنگ نے بھی اس موضوع پر بات کی ہے۔ گوپی چند کا کہنا ہے۔

’’ہندوستانی زبانوں میں اردو ہندی سے سب سے زیادہ قریب ہے ہندی اور اردو میں میں اٹوٹ رشتہ ہے۔‘‘

مصنف کا مزید کہنا ہے

’’ ایک عام اندازے کے مطابق اردو کے ستر (۷۰) فیصدی الفاظ پراکرتوں کے ذریعے سے آئے ہیں یعنی ہندی ہیں۔ جتنا اشتراک اردو اور ہندی لفظیات (Lexicon) صرفیات (Morphology) اور نحویات (Syntax) میں پایا جاتا ہے شاید ہی دنیا کی کسی دو زبانوں میں پایا جاتا ہو۔ ‘‘(۴۹)

اردو پر مختلف زبانوں کے اثرات ہیں اور اردو کئی زبانوں سے الفاظ مستعار لیتی ہے۔ دخیل الفاظ کے اعتبار سے عربی، فارسی، ترکی اور ہندی زبانوں کے بارے میں گمان کیا جاتا ہے کہ اردو میں سب سے زیادہ الفاظ ان ہی زبانوں سے مستعار ہیں۔ ان زبانوں سے لیے گئے الفاظ کی تعداد کا تناسب کیا ہے اس بارے میں گوپی چند نارنگ کا خیال ہے کہ اردو میں عربی ،فارسی اور ترکی سے لیے گئے الفاظ فقط ایک تہائی ہیں ۔ اس سے قبل گذشتہ موضوع میں مصنف کا دعویٰ ہے کہ ہندی سے اردو میں دخیل الفاظ کی تعداد تقریباً ستر فیصد ہے۔ مذکورہ فکر کا خلاصہ مصنف کے نزدیک یہ ہے۔

"اردو نے عربی فارسی عناصر کی تہنید کی ہے اور انھیں ہندوستانی مزاج کی خراد پر اتار ہے”

اس کے علاوہ گرامر بالخصوص واحد اور جمع کے چند قواعد اور مثالوں کے ذریعے ایسے دعوے کے ثبوت بھی پیش کئے ہیں۔

اردو رسم الخط کی اہمیت کا ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ اردو کی ہمہ گیری کا تذکرہ بھی شامل ہے کہ اردو زندہ زبان ہے تغیر و تبدل، اور روپ و آہنگ کی تبدیلیاں زندہ زبانوں کا مقدر ہیں ۔ لہذا اردو بھی اس سے دو چار رہتی ہے۔ اس ضمن میں اقبال کے مصرعے

’’گیسوئے اردو ابھی منت پذیر شانہ ہے۔ ‘‘

کو عنوان بھی بنایا گیا ہے۔

باب نمبر ۲: اردو کی ہندوستانی بنیاد

اس باب (مضمون) میں مصنف ہندوستانی زبانوں کی مختصر تاریخ بیان کرتا ہے یہ تاریخ اسی اصول پر بیان کی گئی جو ڈاکٹر محیٰ الدین قادری زور نے ہندوستانی لسانیات اور ڈاکٹر سہیل بخاری نے لسانی مقالات جلد سوم میں بیان کی ہے۔         زبانوں کے اس تاریخی سفر میں مصنف ۔ہندی ، اردو اور پنجابی کو شور سینی اپ بھرنش سے ماخوذ قراردیتا ہے۔  اس تمہید سے مصنف یہ ثابت چاہتا ہے کہ اردو اور ہندی سگی بہنیں ہیں اور اس تناظر میں مصنف تاریخی اور لسانیاتی تحقیق کیتقاضے کافی حد تک پورا کرتا ہے۔

باب نمبر ۳: اردو محاوروں اور کہاوتوں کی سماجی توجہیہ :

دور حاضر کے معروف ماہر لسانیات جن کو مسائل املائ اور ہندوستانی زبانوں کی تاریخ اور معاشرتی مباحث پر خاظر خواہ حد تک عبور حاصل ہے۔ پروفیسر غازی علم الدین۔ اپنی تصنیف لسانی مطالعے کے باب اول میں زبان بیان پر ’’معاشرے کے اخلاقی انحطاط کا اثر ‘‘کے عنوان سے ایک طویل بحث دلائل اور مثالوں کے ساتھ پیش کرتے ہیں جس میں وہ ایسی وافر مثالیں بیان کرتے ہیں جن میں اسلامی تہذیب عناصر اور تراکیب کو خاص طور پر ہدف بنا کر تضحیک آمیز رویہ اختیار کیا گیا ہے۔ نیز جیسا کہ اوپر بیان کردہ عنوان سے بھی واضح ہے کہ مصنف اس امر کو معاشرے کے انحطاط کا عکس بھی قرار دیتا ہے۔ گویا اگر ارادتاً اسلامی تہذیب کو اس عمل میں نشانہ نہیں بنایا گیا تو یقینا یہ پورے ہندوستانی معاشرے کی اخلاقی تنزلی کی علامت ضرور ہے۔

اس ضمن میں غازی علم الدین کی رائے ملاحظہ ہو

’’زبان کے اخلاقی تنزل و انحطاط میں بر صغیر کے طبقاتی پس منظر کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ پیٹ کے مسائل نے پیشوں کو جنم دیا اور پیشوں نے عوامی رویہ کے الفاظ جنم دیے انھی الفاظ سے محاورات اور کہاوتیں بنیں جو اس وقت کے معاشرے کی سوچ کی عکاس ہیں۔‘‘ (۵۰)

اس باب ’’اردو محاوروں اور کہاوتوں کی سماجی توجیہہ‘‘ میں مصنف گوپی چند نارنگ بھی ایسی ہی بحث کو خاطر میں لاتے ہیں۔ محاوروں اور کہاوتوں کے معاملے کا ذکر کرنے سے قبل مصنف کا کہنا ہے کہ زبان کا مذہب نہیں ہوتا البتہ زبانوں میں مذہبی اور معاشرتی اثرات سے بعض الفاظ ترویج پا جاتے ہیں جو کہ اس علاقے جہاں وہ زبان بولی جائے ان کے مذہب و ثقافت کی عکاس ہوتی ہے۔ محاوروں اور کہاوتوں کے بارے میں مصنف کا خیال ہے کہ یہ فقط چلن کی بنیاد پرہوتے ہیں مذہبی یا طبقاتی اثرات اس پر کار فرما نہیں ہوتا۔

اس کے بعد تراکیب و محاورات کاایک طویل اور خوبصورت سلسلہ اس مضمون میں شامل ہے جس میں محاوروں کے تاریخی پس منظر پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ تاریخ بذات خود ایک دلچسپ شعبہ علم ہے لہذا روزمرہ اورمحاوروں کے تاریخی پس منظر سے باب میں لطف اور دلچسپی کا پہلو قاری کے لئے حظ سے خالی نہیں ہے۔

باب نمبر ۴: اردو افعالِ مرکبہ پر ایک نظر :

اردو ماہرین لسانیات نے لسانیات کے موضوع پر تصنیف و تالیف کے دوران قواعد (گرائمر) کو بہت کم توجہ دیہے لیکن گوپی چند کے ہاں یہ پہلو بھی خالی نہیں ہے۔ مضمون مذکورہ میں، فعل امدادی فعل، مرکب فعل اور فعل ناقص کی وقیع اور پیچیدہ بحث مضمون مذکورہمیں شامل ہے۔

مولانا محمد حسین آزاد سخن دانِ فارس میں فارسی اور سنسکرت کو بہنیں ثابت کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے اپنے عزم صمیم کا خود یوں ذکر کرتے ہیں۔

’’مجھے اس تحقیق کا شوق نہیں جنون ہے۔ لڑکپن میں بھی لفظوں کے حروف کو ہیر پھیر، ادل بدل کر فارسی اور سنسکرت کے لفظوں کو ملایا کرتا تھا۔ اس زبان میں تھوڑی تھوڑی معلومات بھی پیدا کی۔ بڑی کوشش سے زندہ، پہلوی اور دری کی کتابیں جو مل سکیں بہم پہنچائیں ۔ ان ہی کے لئے بمبئی گیا۔ پھر ایران کا سفر کیا۔ موبدوں اور دستوروں سے ملا۔ ایک برس وہاں رہا لیکن افسوس یہ ہے کہ فائدہ بہت کم حاصل ہوا۔ ‘‘ (۵۱)

’’اردو زبان اور لسانیات میں ‘‘ ڈاکٹر گوپی چند نارنگ بھی ہندی اور اردو کے تعلق کو جذبات کی حد تک ثابت کرنے کے لئے پر عزم ہیں۔

کتاب کا باب پنجم اور ششم بعنوان ’’اردو اور ہندی کا لسانی اشتراک‘‘ بھی اس تسلسل کی کڑی ہے۔

باب نمبر ۷: ’’قصہ اردو زبان کا‘‘

’’اردو زبان اور لسانیات‘‘ کے بعض مضامین ضخامت میں اختصار کے باوجودبھی دلچسپی سے خالی نہیں ہیں باب ہفتم بھی اسی کے مصداق ہے۔

اس میں اردو زبان کی ترقی کے سفر کو مختصر بیان کرتے ہوئے نثر اور نظم کے میدان کا الگ الگ ذکر کیا گیا ہے۔ مصنف کا کہنا ہے کہ عمومی قاعدہ یہ ہے کہ کسی زبان میں نثر پہلے پروان چڑھتی ہے اور شاعری کو بعد میں رواج ملتا ہے۔ لیکن یہاں معاملہ مختلف ہے۔ اردو زبان جو کہ صدیوں سے موجود تھی۔ لیکن منتظر تھی کسی ادبی اعجاز کی کہ اس کے ذریعے عوام الناس میں اپنی بو قلمونی کے باعث داد وصول کر سکے۔ اس منظر نامے میں ولی دکنی نے بارش کے پہلے قطرے کا کام کیا اور اس کے بعد خوشبوئے اردو ہندوستان کے وسیع حصے میں ایسی پھیلی کہ ہر کسی کو متاثر کیا۔ لیکن اس تمام منظر میں نثر کے میدان کو خاصہ نظر انداز کیا گیا ۔ بعدازاں فورٹ ولیم کا لج اور اس کی معاصر شخصیات اور ادروں نے نثر کی ترویج کے لئے میدان فراہم کیا۔ اس ضمن میں ارتقائی منازل طے کرتے نثر کے چند نمونے بھی شامل کتاب ہیں۔

باب نمبر ۸: اردو رسم الخط ۔۔۔ ایک تاریخ حیثیت

ڈاکٹر گوپی چند نارنگ کی تحریروں سے معلوم ہوتا ہے کہ موصوف زبان کے معاملے میں کسی بھی سیاسی یا مذہبی’’اردو زبان اور لسانیات ‘‘ میں مصنف اردو اور ہندی کو دو بہنیں ثابت کرنے میں بھرپور اصرار کرتے ہیں لیکن ساتھ ہی اس حقیقت سے بھی پردہ چاک کرتے ہیں کہ ’’اردو اور ہندی ایک زبان نہیں‘‘۔ اس سلسلے میں مصنف کی رائے ملاحظہ ہو۔

’’واقعہ یہ ہے کہ دونوں زبانیں شور سینی پراکرت کی جانشیں ہیں اور دہلی کے گردو نواح کی کھڑی بولی پر قائم ہیں۔ اردو اور ہندی کو اب دو ملتی جلتی لیکن آزاد اور مستقل زبانیں سمجھنا چاہیے۔‘‘(۵۲)

باب ہشتم کے بعد باب نہم بھی رسم الخط کی اہمیت سے متعلق ہے۔

باب نمبر۰ ۱: اردو املا اور لسانیات (روایت اور اجتہاد کی روشنی ہیں)

اس باب کے آغاز میں مصنف ان لوگوں کا شکوہ کرتا ہے جو لسانیات کی ثقالت کو بار جان سمجھتے ہیں اور عامیان کو بھی اس مغالطے میں مبتلا کرتے ہیں ۔ مصنف کا مزید کہنا ہے کہ املائ کے مسائل میں بھی صوتیات اور دوسرے پہلوئوں سے لسانیات کو بار خاطر ثابت کر کے لوگوں کو بدظن کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

اس مضمون میں مصنف تنقید کا بھی پورا حق استعمال کرتا ہے اور مختلف ماہرین سے کھل کر اختلاف کرتا ہے اور دلائل و امثلہ کو بھی شامل کلام کرتا ہے۔ باب نمبر ۱۱ تا ۲۰ مختلف شخصیات کی لسانی خدمات اور بعض تصانیف کا جائزہ پیش ہے جن میں قابل ذکر نام دتاتر یہ کیفی، احتشام حسین اور فرمان فتح پوری ہیں۔

 

حافظ رضوان(پاکستان)

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

 

0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
ہشت پہلو شخصیت : گوپی چند نارنگ – پروفیسر انیس اشفاق
اگلی پوسٹ
گوپی چند نارنگ بہ طور مرتب –  ایم۔ خالد فیاض

یہ بھی پڑھیں

فروری 2, 2026

فروری 1, 2026

دسمبر 14, 2025

ستمبر 29, 2025

جولائی 12, 2025

جولائی 12, 2025

فروری 5, 2025

جنوری 26, 2025

ظ ایک شخص تھا – ڈاکٹر نسیم احمد...

جنوری 23, 2025

جنوری 18, 2025

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں