شعبۂ انگریزی،مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی کے لکھنؤ کیمپس میں’شاعری کا ترجمہ اور طریقۂ کار:ایک ذاتی جستجو ‘کے موضوع پر توسیعی خطبے کا انعقاد
لکھنؤ ۔۱۱،فروری
فن پارے کے ساتھ مترجم کی مکمل آہنگی ضروری ہے ۔کام یاب مترجم فن پارہ کی صنف ،اس کے متن ،انتخاب اور منشائے مصنف کو اہمیت کا حامل قرار دیتا ہے ۔ان خیالات کا اظہار جامعہ ملیہ میں شعبۂ انگریزی کے سابق صدر پروفیسر انیس الرحمن نے،مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی کے لکھنؤ کیمپس میںشاعری کا ترجمہ اور طریقۂ کار:ایک ذاتی جستجو موضوع پرآن لائن توسیعی خطبے کے دوران کیا ۔پروگرام کے آغاز میں ایم اے اردو پہلے سمسٹر کے طالب علم محمد عاصم نے قرآن پاک کی تلاوت اور ترجمہ پیش کیا۔توسیعی خطبے کی نظامت اور خیر مقدمی کلمات ڈاکٹر شاہ محمد فائز نے انجام دیے ۔توسیعی خطبہ کی کوارڈی نیٹر ڈاکٹر ہما یعقوب نے خطبے کے اختتام پر یوٹیوب اور گوگل میٹ پر جوسوالات پوچھے گئے تھے انھیں پیش کیا۔ کہا ڈاکٹر بشری تزئین نے شکریہ ادا کیا ۔واضح رہے کہ کیمپس کے یوٹیوب چینل سے یہ خطبہ براہ راست نشر کیا گیا۔
پروفیسر انیس الرحمن نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے کہا کہ شاعری ایک اہم تخلیقی اظہار ہے جس میں زبان و بیان کی مختلف النوع صورتیں کارفرما ہوتی ہیں ۔کام یاب مترجم کے لیے ان باتوں کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے ۔انھوں نے کہا کہ مترجم کے لیے ضروری ہے کہ وہ فن پارہ کے عہد سے بے نیاز نہ ہو ۔
پروفیسر انیس الرحمن نے اپنے توسیعی خطبے میں اس بات پر زور دیا کہ جس ز بان سے ترجمہ کیا جار ہا ہے اس کے مختلف ابعاد اور نکات کو سمجھنا ضروری ہے تاکہ ترجمہ کرتے وقت انھیں سامنے رکھا جاسکے ۔ترجمہ کی مشکلات پر گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر انیس الرحمن نے کہا کہ تخلیقی زبان کی اپنی اخلاقیات ہوتی ہے اسے کسی دوسری زبان بالخصوص اردو سے انگریزی زبان میں منتقل کرنا ایک بہت دشوار کام ہے ۔انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ اردو شاعری کا ترجمہ دراصل اردو کی نغمگی کا ترجمہ کرنے کے مترادف ہے۔
پروفیسر انیس الرحمن نے اس بات پر زور دیا کہ بعض صو رتوں میں ترجمہ تخلیق سے بھی مشکل ہوجاتا ہے۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ ترجمہ محض لفظی نہیں ہوتا بلکہ ان الفاظ کی ایک تہذیب بھی ہوتی ہے جو اس زبان کے عمومی مزاج کااشاریہ ہوتی ہے اس لیے مترجم کو اس پر خاص توجہ دینی ہوتی ہے ۔اسی ذیل میں انھوں نے کہا کہ اچھے ترجمے کے لیے ضروری ہے مترجم اس کے سیاق سے بھی کماحقہ واقف ہو ۔
پروفیسر انیس الرحمن نے شاعری کے ترجمے کی مختلف دشواریوں کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شاعری کا ترجمہ علامت اور استعارے کے ترجمے بغیر ادھورا ہے ۔
نھوں نے ترجمے کے سلسلے میںاپنے ذاتی تجربوں کا ذکر بھی کیا ۔ پروفیسر انیس الرحمن نے اپنی کتاب ’ہزاروں خواہشیں ایسی‘کا ذکر بھی کیا جو قلی قطب شاہ سے لے کر عہد جدید کی منتخب غزلوں کا انگریزی ترجمہ ہے ۔اپنے ذاتی تجربوں اور شاعری کو دوسری زبان میں منتقل کرنے کی دشواریوں کے عملی اظہار کے بارے میں بھی بتایا ۔
اس موقع پر کیمپس کے انچارج ڈاکٹر عبدالقدوس نے ایک اہم توسیعی خطبے کے لیے مبارک باد پیش کی اور کہا کہ ترجمہ ایک چیلنج بھرا کام ہے ،جو لسانی مہارت کے بغیر ممکن نہیں ہوسکتا ۔اس موقع پر انھوں کہا کہ فی زمانہ ترجمہ کی سرگرمی کچھ زیادہ ہے البتہ علمی ترجمے کی افادیت ہر زمانہ میں اہمیت کی حامل رہی ہے ۔
توسیعی خطبہ کے بعد ریسرچ اسکالراور طلبہ نے سوالات بھی کیے ۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

