اردوزبان کی تعلیم و ترقی کے لیے بے لوث خدمات انجام دینے والوں کی کوئی فہرست ڈاکٹر سعادت علی صدیقی کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی ۔وہ تھے تو لکھنؤ کے مگر سنبھل میں انھیں درس و تدریس کا فریضہ انجام دینے کا موقع ملا ۔نوکری تو کرنا آسان ہے مگر نوکری کو مشن بنانا اور اٹھتے بیٹھتے اس فکر میں رہنا کہ لوگ نہ صرف تعلیم یافتہ ہوجائیں بلکہ اردو زبان ان کے رگ و پے میں سرایت کر جائے یہ ایک مشکل کام تھا مگریہ کام سعادت علی صدیقی نے نہایت دلجمعی اور حوصلہ کے ساتھ اس طرح انجام دیا کہ اب سنبھل کی ادبی تاریخ ڈاکٹر سعادت علی صدیقی کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی ۔
میری طالب علمی کا زمانہ تھا اور ڈاکٹر سعادت علی صدیقی کے علم و تصنیف کا دور شباب۔ راقم الحروف کے والد ماجد جناب نظیف الرحمٰن سنبھلی کا سعادت علی صدیقی سے شاگرد ی اور دوستی دونوں تعلق تھا۔ والد ماجد اکثر ڈاکٹرسعادت علی صدیقی کے دولت کدہ (اردو گھر) پر حاضر ہوکر ان کی زیارت و صحبت فیض یاب ہوتے ۔کبھی کبھی مجھے بھی اپنے ساتھ لے لیتے۔ اسی زمانہ کے ایک دو تاثرات میرے قلب و ذہن میں آج تک محفوظ ہیں۔ایک ان کی شیریں گفتاری اور شگفتہ بیانی اور دوسرا ان کی شفقت اور محبت۔ان دونوں صفتوں نے مل کر ان کی شخصیت میں عجب دلآویزی اور دلکشی پیدا کردی تھی۔اور اسی وجہ سے وہ اپنے حلقۂ احباب میں بڑے محبوب اور اپنے حلقۂ تلامذہ و مستفیدیں میں بڑے مقبول تھے۔اور جو بھی ان کی صحبت میں ایک مرتبہ بیٹھ جاتا وہ یہ کہتا ہوا اُٹھتا ع
بہت لگتا ہے جی صحبت میں ان کی
سعادت صاحب جوانی کی عمر میں بلڈشوگر کے خطرناک مرض میں مبتلا ہوگئے تھے۔ عرصہ تک لکھنؤ میں علاج ہوتا رہا۔ علالت کا سلسلہ چلتا رہااور ایسے وقفے بھی آتے رہے کہ مرض اپنی انتہا کو پہنچ جاتا اور جسم پر کپڑا پہننا بھی محال ہوجاتا اور کبھی کبھی تو زندگی خطرے میں نظر آتی۔ذرا طبیعت سنبھلی تو لکھنے پڑھنے کا کام شروع کردیتے۔ اپنے دوستوں اور نیازمندوں کی کسی تحریر یا تصنیف سے متاثر ہوتے تو اپنے تاثر کی اطلاع دیتے۔ خوب اچھی طرح یاد ہے ۱۳؍فروری ۱۹۹۴ء کی وہ صبح جب میں اپنی کلاس کرنے کالج کے لیے روانہ ہورہا تھا کہ ہمارے ایک عزیز محمد ناظم ایڈوکیٹ نے یہ اطلاع دی کہ سعادت صاحب کا انتقال ہوگیا ۔
ایک ذہن، مخلص اور غیر معمولی صلاحیتیں رکھنے والی شخصیت ہم سے چھن گئی۔ سعادت صاحب کے انتقال پر پورے ملک کے ادبی حلقوں میں کہرام مچ گیا اور ہر اس شخص نے ان کا ماتم اور سوگ منایا جو ان کی بے ریا زندگی، دلکش شخصیت اور منفرد ادبی حیثیت کا قائل تھا۔’’ہماری زبان‘‘دہلی، ’’جنت نشاں‘‘ مرادآباد اور ماہنامہ ’’فروغ اردو‘‘ لکھنؤ نے بساط بھر اس جواں مرگ ادیب کو اپنے اپنے ’’سعادت علی صدیقی نمبر‘‘ کی صورت میں خراج عقیدت پیش کیا۔’’ہماری زبان ‘‘ کے ایڈیٹر پروفیسر خلیق انجم نے سعادت علی صدیقی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے لکھا تھا:
’’سعادت علی صدیقی مرحوم ان چند لوگوں میں ہیں جنھوں نے خلوص دل سے اردو زبان کی خدمت کی ہے۔وہ انتہائی مخلص، مہذب ، شریف النفس اور منکسرالمزاج انسان تھے۔۔۔ ۔ لاکھوں دلوں میں ان کے لیے جگہ تھی۔ یہ شہرت داؤ پیچ اور سازشوں کے ذریعہ حاصل کی ہوئی نہیں تھی بلکہ نتیجہ تھی سعادت کی لگن، خلوص ، بے لوث اور انتھک خدمات کی۔‘‘
( ’’سعادت علی صدیقی نمبر‘‘، ، ہفت روزہ ہماری زبان، ۸؍مارچ ۱۹۹۴ء)
سید حامد صاحب نے اردو زبان کے فروغ اور اس کی بقا کے سلسلہ میں سعادت علی صدیقی کی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے کچھ اس انداز میں اپنے خیالات کا اظہار کیا:
’’۔۔۔۔۔بے حسی، خود غرضی، بے اعتنائی اور مردہ دلی کی اس فضا میں کیا کوئی باور کرے گا کہ یوپی سے ایک شخص اُٹھا جو بغیر کسی قسم کی طمع کے زندگی بھر اردو کی لڑائی لڑتا رہا ۔ وہ نہ کسی منصب کا خواہاں تھا ، نہ ذاتی وجاہت کا، نہ نام و نمود کا۔ وہ ڈر سے بھی اس طرح ناآشنا تھا جیسے لالچ سے ۔ بے نفس ، بے غرض، پُردم اور ایک عالی حوصلہ انسان ، نہ ایک پل کو رُکا نہ ایک لمحہ کے لیے تھکا۔آخری سانس تک لڑتا رہا۔ہم جیسے کمزور، بزدل، بے حس، بے استقامت، بے لگن ، ڈھل مل یقین، بے اٹکل انسان سعادت علی صدیقی کو خراج دے کر خاموش ہوجائیں گے اور اردو دنیا اسے جلد بھلا دے گی۔‘‘
( ’’سعادت علی صدیقی نمبر‘‘، ، ہفت روزہ ہماری زبان، ۸؍مارچ ۱۹۹۴ء)
ڈاکٹر شجاعت علی سندیلوی کے چھوٹے بھائی اور سعادت علی صدیقی مرحوم کے چچا محترم شفاعت علی صدیقی لکھنؤ کی جانی پہچانی شخصیت تھے۔لکھنؤ کے آل انڈیا ریڈیو کے پروگرام ڈائریکٹر کے عہدے سے سبکدوش ہوئے۔ سعادت صاحب ان کے بڑے چہیتے بھتیجے تھے۔ ماہنامہ فروغ اردو نے جب ’’سعادت علی صدیقی نمبر‘‘ نکالنے کا اعلان کیا تو اس کی ذمہ داری شفاعت صاحب کو دی گئی۔ شفاعت صاحب نے بڑی محنت اور محبت سے اس نمبر کوتیار کیا۔ایک چچا نے اپنے بھتیجے کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے خون میں انگلیا ڈبو کر یہ چند سطریں قلم بند کیں:
۲۸؍جنوری ۱۹۸۷ء کو میری اکلوتی بیٹی کا انتقال ہوا تھا۔ سات سال گذر جانے کے باوجود اس حادثہ کا غم تازہ تھا اور زخم ہرا۔ سعادت کی موجودگی اس زخم کے لئے مرہم کا کام کرتی تھی لیکن مشیّت کے معاملات میں انسان کتنا مجبور ہے کہ میں اور برادرِ مکرم ڈاکٹر شجاعت علی سندیلوی بیٹھے ہی رہ گئے اور موت ہمارے بازو کی قوت، ہماری آنکھوں کے نور،لائق اور باکمال فرزند کو اٹھا لے گئی۔مرنا برحق ہے، جوپیدا ہوا ہے اسے ایک نہ ایک روز تو مرنا ہی ہے مگر سعادت کی وفات ، فرمانبرداری، منکسرالمزاجی، سعادت مندی او رخوش اخلاقی کا مرثیہ ہے۔ اگر ہمیں اللہ تعالیٰ کی ر حمت و مصلحت پر یقین نہ ہوتا اور اللہ صبر و برداشت کی طاقت نہ عطا فرماتا تو اتنا بڑا حادثہ جھیل جانا ہم لوگوں کے لئے ممکن ہی نہ تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
(اداریہ ’’سعادت علی صدیقی نمبر‘‘ ماہنامہ فروغ اردو ،۱۹۹۴ء)
راقم الحروف کے والد ماجد جناب نظیف الرحمٰن سنبھلی اور ڈاکٹر سعادت علی صدیقی کا تعلق خاطر کچھ خاص ہی تھا اور واقعہ یہ ہے کہ والد صاحب کو بھی ان سے جو فکری مناسبت اور قلبی تعلق تھا وہ بالکل ایسا ہی تھا جیسے ایک شفیق استاد اور عزیز دوست سے ہونا چاہئے تھا۔والد ماجد نے اپنے مضمون ’’سعادت علی صدیقی -چند یادیں‘‘میں اپنے اور سعادت صاحب کے تعلق کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے:
۔۔۔۔۔ویسے تو سعادت صاحب سبھی طلبہ میں گھلے ملے رہتے تھے لیکن ہم دونوں (والد ماجد اور ڈاکٹر تنزیل احمد )کا تعلق ان سے کچھ زیادہ ہی تھا۔ ہم لوگوں سے وہ بے تکلف ہوگئے تھے۔ ہم ان کے شاگرد تھے، دوست تھے اور چائے کی حد تک ہم پیالہ بھی۔ جب کبھی موڈ میں ہوتے تو درونِ خانہ تک کی باتیں کرڈالتے، غزل کا ذکر آتا تو زیر لب مسکراہٹ کے ساتھ تشریح غزل کی معنویت کرتے جاتے اور صحبت نیم شبی کے تذکروں کے ساتھ اسے حسن کی عشوہ طرازیوں اور عشق کی سرمستیوں تک پہنچا دیتے۔‘‘
( ’’اعتراف سعادت‘‘مرتبہ اویس سنبھلی ص۱۳۱؍ مطبوعہ ۲۰۰۸ء)
سعادت علی صدیقی کی چھوٹی بہن ڈاکٹر پروین شجاعت نے ’’وہ جن کی یاد سے آباد دل کی بستی ہے‘‘ کے عنوان سے ایک مضمون لکھاتھا۔ اس مضمون میں انھوں نے بھائی صاحب مرحوم کے کارناموں اور اپنی یادوں کو سمیٹتے ہوئے لکھا ہے:
’’۔۔۔۔انگریزی زبان کے مشہور شاعر رابرٹ فراسٹ کی مشہور لائنیں ہیں:
’’The woods are lovely dark and deep but I have promises to ’’keep and miles to go before I Sleep and miles to goـ
یعنی دنیا میں آکر مجھے بہت سے کام پورے کرنے ہیں اور ایک لمبی مسافت طے کرنی ہے، اس سے قبل کہ مجھے ابدی نیند آجائے۔
بھائی صاحب یعنی ڈاکٹر سعادت علی صدیقی کے لئے رابرٹ فراسٹ کی یہ لائنیں لفظ بہ لفظ صحیح معلوم ہوتی ہیں۔ شاید انہیں اس بات کا علم تھا کہ ان کے پاس اپنی مادری زبان اردو کی خدمت کرنے کے لیے وقت بہت کم ہے اور شاید اسی لیے قدرت نے انھیں سچے کوئلے کی طرح سلگتے رہنے کا ہنر دے دیا تھا۔نہایت کم عمری سے ہی وہ اپنی زبان و ادب کی خدمت میں جٹ گئے تھے۔ ۸؍سال کی عمر ہی میں انھوں نے قلم تھام لیا اور کاغذ کو اپنا کھلونا بنا یا۔اس عمر میں انھوں نے ایک ڈرامہ ’’آموں کی دعوت‘‘ لکھا تھا جو ۱۹۵۳ء میں رسالہ ’’روشنی‘‘ میں شائع ہوا تھا۔۔۔۔طالب علمی کے زمانے سے ہی انھوں نے سنجیدہ موضوعات پر مضامین لکھنے شروع کردیئے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔اور اسی زمانے میں انھوں نے احمد ابراہیم علوی کے اشتراک سے ایک قلمی میگزین ’’خوش رنگ‘‘ نکالا تھا۔یہ پوری میگزین انھیں کی تحریر میں ہوتی تھی۔۔۔۔اردو کے حقوق کی بازیابی کے لیے ان کی مخلصانہ جدو جہد کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔۔۔۔جب بھی اردو کی ترقی و بقا کے لیے کی گئی کوششوں سے متعلق کچھ تحریر کیا جائے گا تو اس میں اردو کے اس خدمت گزار کا نام ضرور شامل ہوگا۔
(ایضاً ص ۱۳۷مطبوعہ ۲۰۰۸ء)
سعادت علی صدیقی نے بچوں کے لیے بے شمار کہانیاں لکھیں۔چور کی چالاکی، غرور کا سر نیچا، انوکھی چادر، رحم دلی، سانپ اور مینا، چاند میں خرگوش اور راجہ کا انصاف وغیرہ بچوں کے لیے لکھی گئیں بڑی دلچسپ کہانیاں ہیں۔کہانی راجہ کا انصافی کا کچھ حصہ ملاحظہ فرمائیں:
’’کسی شہر میں ایک سیٹھ جی رہا کرتے تھے، لوگ ان کے پاس اپنی چیزیں امانت کے طور پر رکھا کرتے تھے۔ سیٹھ جی کسی کا مال واپس نہیں کرتے تھے، ایک بار ایک غریب آدمی جب پردیس جانے لگا تو سیٹھ جی کے پاس ایک تھیلی رکھا گیا، جس میں کچھ روپیے تھے۔ پردیس سے واپس آکر جب اس نے سیٹھ جی سے اپنی امانت مانگی تو سیٹھ جی نے تھیلی دینے سے صاف انکار کردیا اور کہا کہ تم نے تھیلی نہیں رکھائی تھی۔‘‘
معاملہ راجہ کے دربار تک پہنچتا ہے اور کہانی اس انداز میں اپنے اختتام کو پہنچتی ہے:
’’راجہ نے اس تھیلی کو کئی تھیلیوں کے بیچ میں رکھ کر اس آدمی کو بلایا اور کہا کہ اپنی تھیلی اُٹھا لو۔ اس نے اپنی تھیلی پہچان کر اُٹھا لی اور باقی تھیلیوں کو ہاتھ بھی نہ لگایا۔۔۔۔۔۔۔۔۔غریب آدمی کو تھیلی مل گئی ۔ وہ راجہ کو دعائیں دیتا ہوا چلتا گیا۔ راجہ نے سیٹھ جی کو بہت سخت سزا دی۔‘‘
(’’راجہ کا انصاف‘‘ از سعادت علی صدیقی مشمولہ ’’چاند میں خرگوش‘‘، نہرو چلڈرن اکیڈمی، نئی دہلی، صفحہ ۲۲؍ ۱۹۹۲ء)
’’چاند میں خرگوش ‘‘ڈاکٹر سعادت علی صدیقی کی کہانیوں کا مختصر مجموعہ ہے۔ یہ کہانیان ان کی علمی و ادبی صلاحیتوں کی غماز ہیں۔’’چاند میں خرگوش‘‘ آسان زبان میں لکھی گئی کہانی ہے ۔بچوں کو یوں بھی جانوروں سے متعلق کہانیاں بہت پسند آتی ہیں۔ یہ کہانی ایثار و قربانی کی بہترین مثال ہے۔ کہانی جب اپنے انجام کو پہنچتی ہے تو خرگوش مہمان سے کہتا ہے:
’’سب نے آپ کی خاطر کی، افسوس میں آپ کے لیے کچھ نہ کرسکا۔ میں آپ کے لیے گھاس بھی نہ لاسکا۔ ا س لیے آپ مجھے ہی بھون کر کھائیے۔ اگر آپ مجھ کو نہ بھونیں گے تو میں خود آگ میں کود پڑوں گا۔۔۔۔۔۔۔یہ کہہ کر خرگوش نے آگ میں چھلانگ لگادی اور جل گیا۔ اس کی روح آسمان میں پرواز کرگئی۔ یونانیوں کا عقیدہ ہے کہ وہ مسافر ایک فرشتہ تھا جو خرگوش کو آسمان پر لے گیا اور اس کو چاند میں لگا دیا اور چاند میں جو داغ ہیں اسی خرگوش کے جس کے ہیں۔‘‘
(سعادت علی صدیقی،’’چاند میں خرگوش‘‘ مشمولہ’’ چاند میں خرگوش‘‘، نہرو چلڈرن اکیڈمی دہلی نومبر ۱۹۹۲ء ؍ص ۱۸)
۱۹۶۵ء میں لکھنؤ سے بچوں کا خوبصورت رسالہ ’’ٹافی‘‘ نکلتا تھا اس کے مدیر جناب معظم جعفری تھے۔ سعادت علی صدیقی اس کی مجلس ادارت میں شامل تھے۔غیر ممالک کی مشہور کہانیوں کو اپنی زبان میں بڑے خوبصورت انداز میں پیش کیا۔ان کہانیوں کو۱۹۷۰ء میں ادارہ ماہنامہ ’’ٹافی‘‘ ’’بچوں کی لوک کہانیاں‘‘ کے نام سے شائع کیا۔
بلا شبہ ہم سعادت علی صدیقی کے تحقیقی ، تخلیقی اور تنقیدی کارناموں اور ادبی مشاغل کو حق و صداقت کے اعلیٰ معیار پر رکھ سکتے ہیں۔ ان کی علمی و ادبی سرگرمیاں اردو زبان و ادب کے سرمائے میں بیش بہا اور مثالی اضافہ ثابت ہوں گی۔معروف تذکرہ نگار اور تذکرہ شعرائے اترپردیش کے خالق عرفان عباسی نے ڈاکٹر سعادت علی صدیقی کی ادبی خدمات کا تعارف پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’سعادت صاحب نے اپنی قابل رشک ذہانت و ذکاوت کی بدولت تقریباً ۱۵؍سال کی عمر میں قلم سنبھال لیا تھااور ان کی تخلیقات اخبارات اور رسائل کی زینت بننے لگی تھیں۔ وہ کئی ادبی جرائد کے ادارہ تحریر سے بھی وابستہ رہے، تصنیفات و تالیفات کے سلسلہ میں وہ برق رفتاری کے ساتھ اپنی مطبوعات میں اضافہ کررہے ہیں۔ گزشتہ چند سالوں میں ان کے تحقیقی مضامین اور تذکرے اخبارات و رسائل میں شائع ہوتے رہے ہیں، جن کے ذریعہ انھوں نے بہت سے ایسے باصلاحیت اور اردو شعراء و ادباء کو اپنی ادبی دنیا سے روشناس کرایا ہے جن کے علمی و ادبی کارناموں تک تاقدین کی نگاہیں نہ پہونچیں تھیں اور نہ کبھی پہونچتیں۔‘‘
(ادبی آئینے از ڈاکٹر سعادت علی صدیقی مطبوعہ۱۹۸۳ء)
سعادت صاحب کی نثری خدمات پر نظر ڈالیں تو واضح ہو جاتا ہے کہ ان کا انداز نگارش جہاں سادہ وپُرکارہے وہیں علمی و ادبی بھی ہے۔مزید وضاحت کے لیے سعادت صاحب کی تحریروں سے چند اقتباسات پیش کرنا یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے۔ پہلا اقتباس اردو کاز کے لیے ان کے عزم ، حوصلے اور بے باکی کا پتا دیتا ہے۔ لکھتے ہیں:
’’ یہ ہماری قوم کی تاریخ کا انتہائی شرمناک اور عبرت انگیز المیہ ہے کہ مادر ہند میں آزادی کا سورج انقلاب و حریت کی نقیب اردو کے لیے گھٹا ٹوپ اندھیرے کا پیامی بن کر نمودار ہوا اور وطن پرستوں کو انقلاب زندہ باد کی روح سے آشنا کرنے اور ان میں سرفروشی کا جذبہ بیدارکرنے والی زبان کو نیست و نابود کرنا ہی سب سے بڑا دھرم ، سب سے بڑا پروپکار، سب سے بڑی دیش بھکتی اور سب سے بڑی قومی خدمت قرار پائی۔ سیکورلزم ، جمہوریت اورترقی پسندی کے علمبرداروں نے اس زبان کے ساتھ انتہائی منافقانہ رویہ اختیار کیا۔ کہنے کو تو اردو کو قومی ورثہ اور مشترکہ تہذیب کی آئینہ دار کی سند بھی دی گئی ، اس کی شیرینی ، شگفتگی اور دلفریبی کے قصیدے بھی پڑے گئے اور اس کی بقا و ترقی کے لیے عملی کوششیں کیے جانے کے دعوے بھی کیے لیکن عملاً اسے ختم کرنے کے ہر ممکن طریقے آزمائے گئے نتیجہ یہ ہوا کہ اسکولوں، کالجوں سے اس کا خراج ہوا، سرکاری و نیم سرکاری دفاتر و محکموں میں اسے اچھوت سمجھا جانے لگا اور کاروبارِ حیات کے ہر شعبہ میں اس کو شجر ممنوعہ قرار دے دیا گیا۔ اردو پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنے اور اس کے ساتھ ناانصافیوں و حق تلفیوں کا سلسلہ جاری رکھنے کی داستانِ الم یہیں پر تمام نہیں ہوئی۔ سیکولرزم، ترقی پسندی اور جمہوریت کے علمبرداروں اور حکمراں جماعت کے رہنمائوں نے اردو کو نیست و نابود کرنے کی سازش رچنے والوں کو نہ صرف کھل کر کھیلنے کی پوری چھوٹ دی بلکہ درپردہ ان کی رہنمائی و سرپرستی بھی کی۔انجام کار گذشتہ ۴۰؍ برسوں میں اردو کے ساتھ وہ سکوک روا رکھا گیا ، جس کی داستان عبرت خیر و شرمناک ہی نہیں مادر ہند کی تاریخ کے ماتھے پر بدنما داغ بھی ہے۔‘‘
( ’’اردو کے مسائل اور اردو والوں کا کردار‘‘از سعادت علی صدیقی مطبوعہ قومی آواز ، نئی دہلی ۱۷؍فروری ۱۹۹۲ء)
اردو محض ایک زبان نہیں بلکہ ایک مکمل تہذیب کا نام ہے ۔ملک کی تقسیم کے بعد اردو سب سے زیادہ تعصب اور تنگ نظری کا شکار ہوئی۔اردو کو اسکول ، کالجوں کے ساتھ ساتھ سرکاری دفاتر سے بھی نکال دیا گیا۔لیکن ڈاکٹر سعادت علی صدیقی کو اردو سے عشق تھا اور یہ عشق انھیں اپنے والد سے وراثت میں ملا تھا۔ لہٰذا انھوں نے اردو زبان و تہذیب کو ہمیشہ اپنے سینے سے لگائے رکھا۔اترپردیش اردو اکادمی نے ’’دستاویز ‘‘ کے نام سے ایک رسالہ شائع کیا تو سعادت علی صدیقی نے اپنے ایک مضمون میں لکھا :
’’آنکھ کھولی تو والد ماجد کو اردو کے عشق میں گرفتار پایا، انھیں روٹی روزی کی فکر سے زیادہ اردو کے مسائل کا غم تھا۔ وہ دن رات اسی دھن میں سرگرداں اور مبتلا رہتے۔ ظاہر ہے ماحول کا اثر پڑنا ضروری تھا۔۔۔۔اس لیے اردو کی عملی خدمت میں مصروف رہتا ہوں۔ مختصر یہ کہ اردو ادب سے میرا رشتہ کچھ ایسا ہے جیسا کسی ملازم کا اس کے دفتر سے ہوتا ہے۔
(’’دستاویز‘‘ اترپردیش اردو اکادمی صفحہ ۲۰۹)
ڈاکٹر سعادت علی صدیقی اردو تحریک سے وابستہ ایک سپاہی تھے ۔ وہ اردو کو فنی اعتبار سے مالامال اور زندہ زبان سمجھتے تھے۔ انھیں اردو کی اہمیت اور اس کی افادیت اور مقبولیت کا اندازہ تھا۔وہ اردو کی ترقی ، تروج و اشاعت کو اپنا مقدس فریضہ جانتے تھے۔اردو زبان کے متعلق ایک مضمون میں لکھتے ہیں:
’’اردو کی ہمہ گیر مقبولیت اور ہمہ جہت محبوبیت اس کے سیکولر کردار اور ترقی پسند افکار ، جمہورنواز نظریات اور ہر دلعزیز مزاج کے باعث ہے۔ اس کا دامن ابتدا ہی سے وسیع تر رہا ہے۔ اس نے سب زبانوں ، سب مذہبوں اور سب طریقوں کا فراخ دلی سے خیر مقد کیا اور ان کے احساسات و جذبات کی ترجمانی خلوص و دل سے کی۔’مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا‘ اس کا ایمان رہا اور ’’یا مسلمان اللہ یا برہمن رام رام‘‘ اس کا کردار۔ اردو شاعر اور ادیب محبت و رواداری کے پیامبر اور پریت مکتی کے علمبردار ہیں۔ وہ اس دھرتی کے باسی ہیں جسے سارے جہاں سے اچھا ہونے کا شرف حاصل ہے، جہاں مختلف مذاہب کے بزرگوں ، پیشوائوں اور مہاتمائوں نے پیا م اتحادم، اخوت اور انسانیت کا درس دیا۔‘‘
(’’ ادبی تحریریں‘‘؍ مجموعہ مضامین’’ اردو شاعری میں نانک کھتا‘‘ از سعادت علی صدیقی صفحہ ۷۱؍مطبوعہ ۱۹۸۹ء)
ڈاکٹر سعادت علی صدیقی سیکولر ذہن رکھتے تھے اور تمام مذاہب کا بھرپور احترام کرتے تھے۔ انھوں نے انسانیت، بھائی چارہ،سماجی اور اردو شاعری میں رام کتھا، اردو شاعری میں نانک کھتا، ہریش چند کی اردو شاعری، اردو شاعری میں کرشن کتھا جیسے کئی مضامین قلم بند کیے۔ مندرجہ ذیل اقتباس سے ان کے سیکولر نظریات کا بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے:
’’ساری جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا، کثرت میں وحدت کا زریں نشان، آج دنیا کا سب سے بڑا جمہوری و سیکولر ملک ہے۔ جہاں مذہبوں و دھرموں کے ماننے والے شیر و شکر ہوکر رہتے ہیں اور اپنے اپنے طریق عبادات و مذہبی رسوم ادا کرتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں ہندوستان ارض چمن کا وہ حسین گلدستہ ہے جس کا ہر پھول سدا بہار اور ہر رنگ پائدار ہے۔ اس کی ایک غیر مذہبی مشترکہ تہذیب ہے جس میں ندرت و جامعیت ہمہ گیری و آفاقیت اور گہرائی و گیرائی کی روح جلوہ گر ہے۔‘‘
(’’ ادبی تحریریں‘‘مجموعہ مضامین’’ اردو شاعری میں رام کھتا‘‘ از سعادت علی صدیقی صفحہ ۶۱؍مطبوعہ۱۹۸۹)
ُُ’’ادبی آئینے‘‘، ڈاکٹر سعادت علی صدیقی کے مضامین کا دوسرا مجموعہ تھاجو ۱۹۸۳ء میں منظر عام پرا ٓیا۔ اس سے قبل ان کے مضامین کا ایک مجموعہ ۱۹۷۵ء میں ’’ادبی جائزے‘‘ کے نام سے شائع ہوچکا تھا۔ ان دونوں ہی مجموعہ مضامین کو اترپردیش اردو اکامی نے اعزاز سے نوازا۔’’ادبی آئینے‘‘ میں شامل دیگر اہم مضامین کے ساتھ ساتھ ’’سنبھل کے چند قدیم شعراء‘‘، ایک باکمال غیر معروف شاعر فرض نگینوی‘‘ اور ’’سیدسرسیوایک باکمال شاعر‘‘ جیسے مضامین شامل ہیں۔آکاش وانی لکھنؤ سے اس زمانے میں کتابوں پر تبصرے نشر کیے جاتے تھے۔ ’’ادبی آئینے ‘‘ پر آکاش وانی سے تبصرہ کرتے ہوئے معروف صحافی جناب صباع الدین عمر نے کہا کہ’’ڈاکٹر سعادت علی صدیقی ایک نوجوان اردو ادیب ہی نہیں بلکہ اردو کے بڑے مبلغ ہیں اور اپنے ضلع میں اردو کی ترقی و ترویج و اشاعت کے لیے بڑے سرگرم رہتے ہیں۔ خوشی کی بات ہے کہ درس و تدریس اور دوسری مصروفیات کے علاوہ لکھنے کے لیے بھی وقت نکال لیتے ہیں۔‘‘ڈاکٹر سعادت علی صدیقی کی ایک کتاب ’’حبسیۂ غالب ‘‘ہے ۔محض ۸۰؍صفحات پر مشتمل ایک مختصر تحقیقی کاوش ہے جس میں غالب کا حادثہ اسیری، حادثہ اسیری کے اسباب، غالب کی قمار بازی ، ہمعصر تصانیف میں حادثہ اسیری کے اثرات ، حبسیۂ غالب کی اہمیت جیسے قیمتی مضامین شامل ہیں۔ سعادت صاحب کی اس ادبی و تحقیقی کاوش پر ڈاکٹر رغیب حسین نے ’’پیش گفتار ‘‘ کے عنوان سے ایک مقدمہ تحریر کیا ہے جس میں ڈاکٹر سعادت علی صدیقی کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے موصوف رقمطراز ہیں:
’’کتاب میں غالب کا فارسی ترکیب بند اور اس کا اردو ترجمہ بھی شامل ہے، ترجمہ کرنا درحقیقت ایک دشوار فن ہے لیکن مجھے خوشی ہے کہ عزیزی سعادت نے اس ترکیب بند کا ترجمہ نہایت ہی خوبصورتی کے ساتھ کیا ہے اور اس ادبی ذمہ داری کو خوش اسلوبی کے ساتھ نبھایا ہے، چونکہ وہ زبان کی نزاکتوں سے خوب واقف ہیں، اس لیے انھوں نے اس بات کا پورا لحاظ رکھا ہے کہ ترجمے سے شعر کی اصل روح مجروح نہ ہونے پائے۔ حبسیۂ غالب کے مطالعہ سے اس ہونہار ادیب کی تحقیقی صلاحیتوں اور ادبی سلیقہ کا بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے۔‘‘
(’’پیش گفتار‘‘۔ حبسیۂ غالب از سعادت علی صدیقی صفحہ ۹؍مطبوعہ۱۹۷۱ء)
ماہنامہ فروغ اردو کے شمارے میں حبسیۂ غالب پر تحریر کرتے ہوئے ڈاکٹر اختر بستوی تحریر کرتے ہیں:
’’حبسیۂ غالب سعادت صاحب کی ایک انتہائی اہم تالیف و تصنیف ہے۔ اسے بے جھجھک ایک ناقابل فراموش کتاب قرار دیا جاسکتا ہے۔‘‘
(ماہنامہ فروغ اردو لکھنؤ جولائی ، صفحہ ۲۷؍مطبوعہ۱۹۷۱ء)
حبسیۂ غالب کے علاوہ ڈاکٹر سعادت علی صدیقی کی دیگر تصانیف ’’ادبی جائزے‘‘، ’’ادبی آئینے‘‘ اور ’’ادبی تحریریں‘‘ ہیں۔ یہ تینوں کتابیں سعادت صاحب کے تحقیقی و تنقیدی اور تعارفی مضامین کے مجموعے ہیں ۔ ’’انیسوی صدی میںاردو کا زندانی ادب‘‘سعادت علی صدیقی کا تحقیقی مقالہ تھا۔
٭٭٭
Mohd. Ovais Sambhli
178/157, Barood Khana, Near Lal Masjid, Golaganj,
Lucknow – 226 018 U.P. (INDIA) Mobile : 9794593055
Email: ovais.sambhli@gmail.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

