عمل و ردّ عمل / محمد یاسین گنائی – رئیس احمد شاہ
ڈاکٹر محمد یاسین صاحب جموں و کشمیر کا ایک ذہین باذوق محنتی خوبصورت اور خوب سیرت نوجوان قلمکار ہے جس نے اپنی کم عمری میں ہی اپنی علمی و ادبی ذہانت کا ٹھوس ثبوت پیش کیا ہے۔ ضلع پلوامہ کے ببہاڈ ہ گاؤں سے تعلق رکھنے والے اس نوجوان قلم کارنے ادبی دنیا میں اپنی ایک الگ پہچان بنائی ہے ۔ آپ نے ابتدائی تعلیم وادی کشمیر کے مختلف تعلیمی اداروں سے حاصل کی ۔ اس کے بعد اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے اندور یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ جہاں سے آپ نے ’’وادی کشمیر کی ادبی و ثقافتی اداروں کی اردو خدمات ‘‘کے عنوان پر ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ڈاکٹر صاحب کی اردو دوستی ،وفا شعاری اور جان نثاری کا ہی ثمرہ ہے کہ انہوں نے’’ مشک زعفران‘‘ اور’’ جامعہ کشمیر کی ادبی خدمات‘‘ جیسی کتاب شائع کی ہیں اور الحمد اللہ اس وقت بھی ان کی کئی ساری کتابیں زیر تب سے آراستہ ہونے جا رہی ہے۔ اس وقت ڈاکٹر صاحب اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے محکمہ تعلیم میں درس وتدریس کے فرائض خوش اسلوبی سے انجام دے رہے ہیں۔ آپ جس موضوع پر بھی قلم اٹھاتے ہیں اس کا بھرپور اس کا پورا حق ادا کرتے ہیں آپ کے مضامین پچھلے کئی سالوں سے ہندوستان کے تقریبا تمام مشہور و مقبول رسائل و جرائد میں شائع ہو رہے ہیں۔ اردو زبان کے تئیں آپ کی خدمات کا دائرہ صرف ہندوستان تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ پاکستان کے معتبر رسائل و جرائد میں آپ کی تخلیقات مسلسل شائع ہوتی رہتی ہیں۔آپ کے مطالعہ کافی وسیع و گہرا ہے۔ عصری تقاضوں اور ضرورتوں کے پیش نظر آپ نے اس کتاب کو ترتیب دے کر جموں و کشمیر کے علمی سرمائے میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا۔
ڈاکٹر صاحب کی زیر مطالعہ کتاب’’ عمل رد عمل‘‘ نوے تبصروں و تجزیوں پر مشتمل ہے۔ کتاب کے پیش لفظ میں ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں’’عمل اور ردعمل دراصل ایک تدبیر ہے جس کی مدد سے دبستان کشمیر سے تعلق رکھنے والے مصنفین کی کتابوں پر تبصرہ تبصروں تجزیوں کا ایک سلسلہ شروع کیا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں یہاں کے مصنفین کی کم و بیش تمام کتابوں کا مختصر تعارف قارئین کے سامنے دستیاب ہو اور وہ جس کتاب کا مطالعہ کرنا چاہیے اس کو حاصل کر سکتے ہیں۔ اہل ذوق قارئین کو پہلے ہی جلد سے محسوس ہو جائے گا کہ ریاست جموں و کشمیر میں کن کن موضوعات پر کتابیں لکھی جا چکی ہے اور ان میں اکثر ہماری نظروں سے اوجھل ہے۔تبصرے کی مدد سے کتاب اور مصنف دونوں کا مختصر تعارف مل جاتا ہے اور اس سے طلبا اور ریسرچ اسکالروں دونوں کو اپنے کام کی چیز مل جاتی ہے‘‘۔
اس کے ابتدا میں مبصرین سے گزارش کے تحت تبصرہ و تجزیہ لکھنے کے اصول و ضوابط کی وضاحت کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اس بات کی بھی وضاحت ملتی ہے کہ تبصرہ شائع ہونے پر کسی بھی قسم کا کوئی رقم نہیں لیا جا یگا۔ اس کتاب کا نام عمل رد عمل ڈاکٹر مشتاق احمد وانی صدر شعبہ اردو بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری کے مشورے پر رکھا گیا ہے جس کا زکریا صاحب نے پیش لفظ میں کیا ہے۔
جموں کشمیر میں یہ کتاب اپنے موضوع اور مواد کے اعتبار سے انفرادیت کے حامل ہے۔ اردو ادب کو فروغ دینے میں یہاں کے قلم کاروں نے شروع سے ہی اپنی خدمات انجام دی ہے لیکن بہت کم لوگ ادبائ و شعرائ کے کلام سے مستفید ہو جاتے ہیں اس کی بہت ساری وجوہات ہے جیسے مصنف نے چار پانچ سو کتابیں چھاپ لیں اور وہ بہت جلد ختم ہوگئی اور یوں متعدد قارئین اس کتاب کا مطالعہ کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں اس طرح کی اور بھی وجوہات کی بنا پرہر مصنف کی تخلیقات تک رسائی حاصل کرنے سے رہ جاتے ہیں۔ اس خلا کو پورا کرنے کے لیے ڈاکٹر محمد یاسین صاحب نے ایک انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے تبصروں اور تجزیوں پر مشتمل کتاب کو مرتب کیا ۔ ان تبصروں میں جہاں سینئر قلمکاروں کے تبصرے شامل کیے گے ہیں وہی وادی کشمیر کے ہونہار نوجوانوں کے تبصرے بھی شاملِ کتاب ہے۔
اس کتاب کی اہمیت و افادیت کی بات کی جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اس کتاب کی حیثیت کسی انسائیکو پیڈیا سے کم نہیں ہے کیونکہ اس کتاب کے ذریعے جموں و کشمیر کے نوے کتابوں کے موضوعات اور مواد ایک جگہ دستیاب ہے۔ آج کے دور میں ریسرچ اسکالرز مقالے کی تکمیل کے لئے مواد کی کمی اور جستجو میں اکثر پریشان اور مایوسی میں مبتلا نظر آتے ہیں جس کی بنیادی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے منتخب موضوع پر کتاب ہونے کے باوجود متعلقہ کتاب حاصل نہیں کر پاتے۔ اس تناظر میں یہ کتاب بڑی اہمیت کی حامل نظر آتی ہے کیونکہ اس ایک کتاب کے مطالئے سے نہ صرف وہ مطلوبہ مواد تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں بلکہ اس بات سے بھی آگاہ ہوجائیں گیں کہ ریاست جموں و کشمیر میں کن موضوعات پر کتابیں لکھی جا چکی ہیں اور ایسے کونسے موضوعات ہیں جن پر ابھی کام ہونا باقی ہے ،اس طرح ان ریسرچ اسکالروں کونئے موضوعات کے انتحاب میں بڑی آسانی ہوجائے گئی۔
کتاب کا سرورق نہایت خوبصورت تصاویر سے مزین ہے ۔ کاغذ نہایت عمدہ اورکتاب کی قیمت صرف ساڑھے تین سو روپے ہے جو اس مہنگائی کے زمانے میں مناسب معلوم ہوتی ہے ۔ کتاب کی اہمیت و افادیت اور مصنف کو خراج تحسین کے الفاظ کتاب کے آخری صفحہ پر ڈاکٹر مشتاق احمد وانی ،ڈاکٹر ریاض توحیدی کشمیری اور ڈاکٹر عبداللہ امتیاز احمد نے تحریر کیے ہیں۔امید ہے کہ یہ کتاب نہ صرف جموں کشمیر کے ادب نوازوں کے لئے مفید ثابت ہوگی بلکہ ریاست سے باہر کے قارئین بھی اس کتاب سے استفادہ کرکے جموں وکشمیر کے علمی و ادبی سرمائے سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ محققین کے لیے تحقیق کی راہ ہموار کرنے میں یہ کتاب کافی اہمیت کی حامل ہوگئی۔
میں سمجھتا ہوں اس کتاب کو اہل علم قدر کی نگاہ سے دیکھیں گے، تین سو صفحات پر مشتمل یہ کتاب جی ۔این۔ کے پبلی کیشنز نے شائع کی ہے
اس کتاب کو حاصل کرنے کے لیے ڈاکٹر صاحب کے موبائل نمبر 7006108572 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے ۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
ادبی میراث ایک بہترین انداز میں اردو زبان و ادب کی خدمت انجام دے رہا ہے. تبصرے، تجزیے، تحقیقی و تنقیدی مضامین غرض ہر لحاظ سے قابل قدر کام ہے.