کرامت حسین گرلس مسلم پی جی کالج (لکھنؤ)کے ز یر اہتمام پروفیسر شمیم حنفی :شخصیت اور خدمات پر سمینار کا انعقاد
لکھنؤ۔۱۹فروری
پروفیسر شمیم حنفی کثیر الجہات شخصیت کے مالک تھے ۔انھوں نے ادب و صحافت پر گہرے نقوش قائم کیے ۔عصر حاضر کے ممتاز دانشوروں میں ان کا شمار ہوتا تھا ۔ان خیالات کا اظہار قومی کونسل کے سابق ڈائریکٹر پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین نے کرامت حسین گرلس مسلم پی جی کالج اور قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے مالی تعاون سے آل انڈیا کیفی اعظمی اکیڈمی کے سمینار ہال میں پروفیسر شمیم حنفی :شخصیت اور خدمات پرمنعقد سمینار میں صدارتی خطاب کے دوران کیا ۔ پرو گرام میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے پروفیسر انیس اشفاق اور مہمان اعزازی کے طور پر جناب اطہار نبی نے شرکت فرمائی ۔کالج کی پرنسپل محترمہ سحر حسین نے شکریہ ادا کیا ۔سمینار کی کوارڈی نیٹر ڈاکٹر نزہت فاطمہ نے مہمانوں اور حاضرین کا خیر مقدم کیا ۔سمینار کی نظامت ڈاکٹر عمیر منظر نے کی ۔
پروگرام کا آغازکالج کی طالبہ حفصہ یاسمین اور ادیبہ علیم نے قرآن پاک کی تلاوت اور ترجمے سے کیا ۔ام ہانی نے کالج کی طرف سے خیرمقدمی نظم پڑھی۔
پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے پروفیسر شمیم حنفی کی مختلف النوع خدمات کا ذکر کیا اور کہا کہ وہ ایک ایسے استاد تھے جن کی اپنے طلبہ کے تئیں فکر مندی قابل رشک تھی ۔انھوں نے اپنے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شمیم حنفی اردو کے ساتھ ساتھ ہندی ادبیات پر گہری نگاہ رکھتے تھے اور دونوں زبانوں کے تاریخی اور تہذیبی روابط پر ان کی گہری نگاہ تھی ۔مہمان خصوصی کی حیثیت سے تقریر کرتے ہوئے پروفیسر انیس اشفاق نے کہا کہ ان کی حیثیت ایک دیدہ ور نقاد کی تھی ۔انھوں نے ایک سرگرم زندگی گذاری اور معاصر ادب پر گہرے نقوش قائم کیے ۔مہمان اعزازی جناب اطہر نبی نے کہا کہ شمیم حنفی کی تحریروں کے ساتھ ساتھ ان کی تقریروں اور خطاب کا اپنا الگ لطف ہے ۔نئی نسل پر ان کے گہرے اثرات ہیں ۔ ڈاکٹر عمیر منظر نے شمیم حنفی پر خاکہ پڑھتے ہوئے کہا کہ شمیم صاحب اپنی ادبی اور تہذیبی روایت پر گہری نگاہ رکھتے تھے ۔ معاصر ادب کے رویوں اور رجحانات سے بھی انھیںغیر معمولی شغف تھا ۔عمیر منظر کے بقول دلی کی ادبی ،تہذیبی اور معاشرتی تاریخ کو وہ اسی طرح جانتے تھے جیسے اپنے آپ کو ۔ الہ آباد،اندور ،علی گڑھ اور آخر میں انھوں نے دلی کو محض ایک شہریااپنی زندگی کے اچھے برے دنوں کی یاد کے طور پر دیکھنے کی کبھی سعی نہیں کی بلکہ ان شہروں کوتعلیم و تعلم اور تاریخ و تہذیب کے تناظر میں دیکھا۔ڈ اکٹر مجاہد الاسلام نے ان کی تخلیقی تنقید پر مقالہ پڑھتے ہوئے پروفیسر شمیم حنفی کے اسلوب ،زبان و بیان کا ذکر کیا ۔ڈاکٹر گلشن مسرت نے شمیم حنفی کی ڈرامہ نگاری پر مقالہ پڑھتے ہوئے کہا کہ فکری اور فنی اعتبار سے ان کے ڈرامے اہمیت کے حامل ہیں ۔حمیرا عالیہ نے شمیم حنفی کی شاعری کا مطالعہ پیش کیا اور کہا کہ ان کے اشعار مضمون اور اسلوب دونوں لحاظ متاثر کن ہیں ۔اس کے علاوہ شاہد حبیب فلاحی اورام ہانی نے بھی مقالہ پڑھا ۔
آخر میں کالج کی پرنسپل محترمہ سحر حسین نے مہمانوں اورحاضرین کا شکریہ ادا کیا ۔اور کہا کہ ہم اسے ایک ادبی فریضہ سمجھتے ہیں کیونکہ شمیم حنفی صاحب نے نصف صدی سے زائد عرصہ اردوشعرو ادب کے لیے گذار اور کئی نسلوں کی تربیت کی
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

