اگرحیات وکائنات کی بات کی جائے تو اردوشاعری میں بیشتر شعرانے اس کی ناپائیداری اور بے ثباتی کواپنی غزلوں اور نظموں میں خوبصورتی کے ساتھ پیش کیا ہے ۔زندگی کی بے ثباتی ،دنیا کے فنا ہونے کا تذکرہ خواجہ میر درد اور میر تقی میر سے لے کر نظیراکبرآبادی،غالب ‘ــــــعلامہ اقبال‘ فانی بدایونی‘ شاد عظیم آبادی وغیرہ کی شا عری میں جا بجا ملتا ہے۔
جب ہم نظم کے کینوس پر نظر ڈالتے ہیں تو جس شاعر سے ہماری ملاقات ہوتی ہے ،وہ نظیر اکبر آبادی ہیں‘جنھوں نے حیات وکائنات کی بے ثباتی کو اپنی متعدد نظموں اور مسلسل غزلوں میں برتا ہے۔اس سلسلے کی ان کی ایک اہم نظم ’’فنانامہ‘‘ہے‘ جس کے دوبند ملاحظہ ہوں:
کتنے دنوں یہ غل تھا نواب ہیں یہ خاں ہیں
یہ ابن پنچ ہزاری یہ عالی خانداں ہیں
جاگیر ومال ومنصب سب آج ان کے ہاں ہیں
دیکھا تو اک گھڑی میں نے نام نے نشاں ہیں
دودن کا شور چرچا گھر گھر ہوا تو پھر کیا
کہتا تھا کوئی یہ لشکر ہے طرّہ باز خاں کا
یہ خیمہ شامیانہ ہے شہنواز خاں کا
آیا کٹک اجل کے جب یکہ تارخاں کا
سر بھی کہیں نہ پایا پھر سرفراز خاں کا
سردار میر بخشی بڑھ کر ہوا تو پھر کیا
بتیس ۳۲ بند کی اس نظم میں نظیر اکبر آبادی نے دنیاکی مختلف چیزوں کا تذکرہ کرنے کے بعد یہ نتیجہ اخذکیا ہے کہ سب لا حاصل ہے ،ساری چیز یں موہوم او ر کالعدم ہیں۔یہ دنیا فانی ہے اورایک دن سب کچھ فنا ہو جا ئے گا۔زندگی خوشی وغم سے عبارت ہے‘ لیکن غور کریںتو خوشی کم اور غم زیادہ ہیں ‘ اسی طرح سے جس طرح سے حقیقت و مجازسے مملو اس دنیا میں حقیقت کم ہی نظر آتی ہے۔بقول میرـ:
شہاں،کہ کحل جواہر تھی خاکِ پاجن کی
انھیںکی آنکھوں میں پھرتے سلائیاں دیکھیں
مذکورہ بالا سطور میں جن امور پر گفتگو کی گئی ہے ،اس کے برعکس علامہؔ اقبال نے بھی اپنی نظموں میں حیات وکائنات کے بے شمار مضامین بیان کیے ہیں ۔انھوں نے بھی اس دنیا ئے فانی کو مختلف رنگ وروپ میں پیش کیا ہے اور زندگی کی حقیقت سے روشناس کرایا ہے ۔دوسرے لفظوں میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ حیات وکائنات کا تصور سب سے زیادہ ہمیں اقبال کی نظموں میںہی ملتاہے ،لیکن اقبال کا وصف یہ ہے کہ انھوں نے زندگی کو منفی کے بجائے مثبت انداز میں پیش کیا ہے اور یہ نظریہ انھیں کے ساتھ مخصوص ہے ۔اقبال کے نزدیک’ زندگی ،سانس کے بدن میں آتے جاتے رہنے کا نام نہیں ہے ، بلکہ زندگی کسی عظیم مقصد کے لیے اپنے آپ کو متحرک اور باعمل بنانے کا نام ہے ۔‘اپنے مقصد کے حصول کے لیے مسلسل جد وجہد کرتے رہنے کا نام زندگی ہے،چاہے مقصد میں کامیابی ملے یانہ ملے ۔اقبال کا یہ تصور فلسفۂ حرکت وعمل سے موسوم ہے۔
علامہ ؔاقبال اپنی مشہور نظم ’’خضرراہ ‘‘ میں حضرت خضرکی زبانی یہ بتاتے ہیں کہ زندگی اگر ایک جام ہے تواس میں خوبصورتی گردشِ پیہم سے آتی ہے ؛کیونکہ جام سے گردش کا تصور ہے ۔زندگی کی قدروقیمت اور اہمیت وافادیت حرکت وعمل میں ہے اوریہی زندگی کا دوام ہے ۔بعض اشعار پیش خدمت ہیں:
برتر از اندیشۂ سودوزیاں ہے زندگی
ہے کبھی جاں اورکبھی تسلیمِ جاں ہے زندگی!
تو اسے پیمانۂ امروزوفردا سے نہ ناپ
جاوداں پیہم دواں، ہردم جواں ہے زندگی!
اپنی دنیا آپ پیداکر اگر زندوں میں ہے
سّر آدم ہے ضمیر کن فکاں ہے زندگی!
نظم ’’ساقی نامہ‘‘ کے یہ اشعار ملاحظہ ہوں:
سمجھتا ہے تو راز ہے زندگی
فقط ذوق پرواز ہے زندگی
سفرزندگی کے لیے برگ وساز
سفرہے حقیقت ،حضر ہے مجاز
ہواجب اسے سامنا موت کا
کٹھن تھا بڑا تھامنا موت کا
اس تفصیلی گفتگو کے بعد جب ہم موجودہ اردونظم نگاری پرنگاہ ڈالتے ہیں تو شہپررسول کانام اس لیے بہت اہم معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے اردو نظم کی رسومیات کو نہ صرف اپنی نظموں میں برتاہے‘بلکہ بعض وہ تجربے بھی نظر سے گزرے ہیں ٗجہاں جدت کے ساتھ ساتھ کلاسیکل کی چھاپ واضح طور پردکھائی دیتی ہے۔شہپر رسول کی نظموں کا مطالعہ اس بات کی غمازی کرتاہے کہ ان کے یہاں بھی بیشتر نظموں میں انسانی زندگی کے نشیب وفراز اور زندگی کی بے ثباتی کی منظر کشی بہت خوبصور ت انداز میں ملتی ہے۔ انھوں نے اپنی ایک نظم ’’بہت دور کہیں‘‘ میں زندگی کے اسرار ورموز سمجھائے ہیں اور مختلف مثالوں کے ذریعے زندگی کی حقیقت کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے ۔نظم ملاحظہ ہو:
زندگی پھول ہے
کھلتی ہے ہنسا کرتی ہے
ماہیِ آب جفاکارہے
ہاتھوں سے پھسل جاتی ہے
سست اور سنگ ہیں
تجربے رنگ ہے
آنکھوں سے گزرجاتے ہیں
تجربے لمس ہیں
لمحوں سے لپٹ جا تے ہیں
برسوں میں سمٹ جاتے ہیں
انفاس میں بٹ جاتے ہیں
مضطرب روح ہے
شعلوں میں بسر کرتی ہے
صدیوں میں گزرکرتی ہے
ادراک میں درکرتی ہے
سانسوں میں حذرکرتی ہے
لہروں پہ سفر کرتی ہے
دوربس دور
کہیں دور
بہت دور کہیں
مذکورہ نظم میں شہپر رسول نے روز مرہ کی زندگی میں ہونے والے تجربات ومشاہدات کے مختلف رنگ کو پیش کیا ہے۔انھوں نے جوتجربے کیے ہیں اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ تجربے کبھی لمحوں کا احساس دلاتے ہیں اور کبھی برسوں پر محیط ہوتے ہیں۔آفاقی شاعری وہ ہوتی ہے جو ذاتی احساس کے بجائے سماجی احساس کی ترجمان بن جائے اور ایسی ہی شاعری ہمیشہ زندہ رہنے والی ہوتی ہے اور قارئین کو تازگی بخشتی ہے۔ اس نظم میں تین چیزوں کا بطور خاص ذکر ہوا ہے ،وہ زندگی ،تجربہ اور روح ہیں۔ ان سب کا تعلق حقیقی زندگی سے ہے۔
شہپر رسول کی دوسری نظم ’’ اک یہی تو رستہ ہے ‘‘ میں زمانے کی نیرنگیوں میں موجود یکسانیت کی تلاش کی بات کی گئی ہے ۔زمانے کے اندر جتنی بھی چیزیں ہیں سب تنزلی کی طرف جا رہی ہیں،اس با ت کا یقین ہونے کے باوجود انسان زندگی سے بہت ساری توقعات وابستہ کرلیتا ہے ۔معلوم ہے کہ تمام چیزیں زوال پذیر ہیں ،اور ایک دن سب کچھ فنا ہوجائے گا ،پھر بھی انسان کی آرزوئیں اور تمنائیں بڑھتی رہتی ہیں اور وہ دنیا سے تعلق اختیار کرنے کے لیے اپنے آپ کو مجبور پاتا ہے ۔دنیا کی نمائش اور اس کی چمک دمک انسا ن کو پوری طرح سے اپنی گرفت میں لے لیتی ہیں۔انسان ہر روز تلاش وجستجو میں لگا رہتا ہے اور ہر لمحہ کچھ نیا ہونے کی امید پر آگے بڑھتا رہتا ہے ،لیکن گھوم پھر کر وہی ساری چیزیں آتی ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کچھ بھی نیا نہیں ہے بلکہ سب کچھ پرانا ہے ۔ اسی پرانے حصے کو نئے طرز و آہنگ سے آراستہ و پیراستہ کیا جاتا ہے‘جہاں زندگی اور متعلقات زندگی کچھ نئی ضرور نظر آتی ہے۔ نظم کا یہ حصہ ملاحظہ ہو:
سب تنزل آمادہ
کیا تنزل آمادہ؟
سب زوال آسا ہے
کیا زوال آساہے؟
زندگی تماشاہے
وہ تو سچ تماشا ہے
ایک نسل جاتی ہے ایک نسل آتی ہے
کچھ نیا ساہوتاہے
کیانیا ساہوتا ہے؟
شاعر کو اس بات کا احساس ہے کہ ساری چیزیں تنزل پذیرہیں‘ پھر تجاہل عارفانہ کے طورپر کہتاہے کہ کیا تنزل پذیر ہے،ساری چیزیں زوال آساہیں پھرسوال کرتا ہے کہ کیا زوال آسا ہے ،یعنی زمانے کے اندر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کچھ نیا ہورہا ہے‘ لیکن جب غور کیاجاتا ہے توا یسا لگتا ہے کہ کچھ بھی نیا نہیں ہے بلکہ ساری چیزیں پرانی ہیں ۔یہ دنیا کا دستور بھی ہے ،اور تماشابھی۔آنے جانے کا سلسلہ ازل سے ہی قائم ہے اورقیامت تک جاری رہے گا،لیکن انسان دنیا کی نیرنگیوں میں محوہوکر زندگی گزارتا ہے۔
’’اک یہی تو رستہ ہے‘‘ شہپر رسول کی بہت طویل نظم ہے ۔اس نظم میں انھوں نے جدیدیت کے تعلق سے بھی بعض امور کی طرف اشارہ کیاہے ۔اس ضمن میں نظم کا یہ حصہ ملاحظہ کیا جاسکتا ہے:
آ ج ادب کے مرنے کی بات پھر سے نکلی ہے
آدھی اک صدی پہلے
جب ادب کے مرنے کے سانحے کی صورت میں
اک سکوت چھا یا تھا
حرف کسمسائے تھے
لفظ ٹوٹ بکھرے تھے
پر نیاہوا تھا کچھ
کیا نیا ہواتھا کچھ؟
یعنی نصف صدی پہلے اک نیا شعور ابھر ا تھا‘ جسے عوام کے سامنے پیش کیاگیا تھا ۔پہلے کے رجحانات یعنی ترقی پسندیت ختم ہوتی محسوس ہورہی تھی ،ہر طرف سکوت کاعالم تھا ۔نئے نئے الفاظ اور ترکیبیں جنم لے رہی تھیں ،لیکن جب ان کا بغور مطالعہ کیاگیا تومعلوم ہوا کہ صرف لہجہ بدلا ہوا تھا اور باقی سبھی پرانی باتیں ہی تھیں‘ مطلب یہ کہ کچھ بھی نہیں بدلا تھا ،کچھ بھی نیا نہیں تھا ۔
نظم کا یہ حصہ بھی قابل غور ہے۔ملاحظہ ہو:
ہاں نئی صدائوں کو ‘ سر پھری ہواؤں کو
سیڑھیوں پہ چڑھنا ہے
رنگ کو نکھرنا ہے
روشنی کو بڑھنا ہے
کچھ تو وقت گزرے گا
اور پھر سماعت کے بے قرار پر دے پر
کچھ نقوش ابھریں گے
پھر وہی پرانی سی باز گشت آئے گی
اس دنیائے فانی میں زمانے کی نیرنگیوں میں سب کچھ نیا دیکھنے کی کوشش میں ،خوب سے خوب تر کی تلاش میں انسان زندگی گزارتا ہے۔یہی وہ چیزہے‘ جس کی وجہ سے د نیا آج کہاں سے کہاں پہنچ گئی‘ یہ الگ بات ہے کہ اس کا اطلاق ادب پر نہیں کیا جا سکتا۔ انسان زمانے سے بہت ساری امیدیں وابستہ کرلیتا ہے، ایسا کرنے پروہ مجبوربھی ہے ۔ بقول شہپر:
زندگی تماشا ہے
وہ تو سچ تماشا ہے
پھر بھی۔۔ آگے بڑھنے کا اک یہی تو راستہ ہے۔
یعنی امیدوں کے سہارے انسان کی زندگی بسر ہوتی ہے اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ بھی نہیں ہے۔
شہپر رسول نے اپنی شاعری میں ایسے لوگوں پر کاری ضرب لگا ئی ہے‘ جو کاہلی اور کام چوری کی زندگی گزارتے ہیں ،یعنی ان کی زندگی ساکت وجامدہے ،صرف سانس لیتے رہنے کو ہی زندگی سمجھ بیٹھتے ہیں،دنیا میں بہت سارے انسان آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں،کچھ ناموری اور عزت وشہرت کی زندگی گزارتے ہیں کچھ گمنا م چلے جاتے ہیں ۔ دوسرے لفظوں میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ سارے انسانوں کی قسمت میں کامیابی وکامرانی نہیں ہوتی ہے‘ بعض چنندہ لوگ ہیں جو اپنی زندگی کو عظیم مقاصد کے لیے صرف کر تے ہیں‘ جس کی طرف علامہؔ اقبال نے بھی اشارہ کیا ہے:
سمجھتا ہے توراز ہے زندگی
فقط ذوقِ پرواز ہے زندگی
بعض لوگ کاہلی اور بے سمتی کی زندگی گزارتے ہیں جن کا کوئی نصب العین نہیں ہوتا ہے‘ ان کی زندگی بے مقصد اور فضول ہوتی ہے ۔اس ضمن میں شہپر رسول کی نظم ’’بس سانس لیتے رہیں‘‘ اہمیت کی حامل ہے ۔نظم پیش خدمت ہے:
سانس لیتے ہیں
بس سانس لیتے رہیں
مر گ آغوش ہے اور گھنی چھاؤ ں ہے
زیست کا کوہسار اورکڑی دھوپ ہے
زہر کو تھوک دیں گے کہ پی جائیں گے
مرتے مرتے بھی اک عمر جی جائیں گے
زیست اور موت کی کشمش
ایک عرفان ہے
نوبہ نوزندگی یوں تو ہرآن ہے
موت آسان ہے
سب تو جیتے نہیں
سب کو جینے سے کیا
سانس لیتے ہیں بس
سانس لیتے رہیں
غالب نے بھی زندگی کا فلسفہ بیان کرتے ہوئے اپنے شعر میں کہاہے کہ دنیا میں آنے والے تما م انسان اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوتے۔جس طرح سمند رکا ہر قطرہ موتی نہیں بنتا‘ ٹھیک اسی طرح دنیا میں آنے والا ہر انسان کامیا ب نہیں ہوتا ۔کامیا بی کی منزل طے کرنے کا مرحلہ بڑ اپر پیچ ہے،جن کی زندگی میں جہدوعمل ہوتا ہے ،جو لوگ مستقل تگ ودَو کرتے رہتے ہیں ‘ انھی کو حق ہے کہ وہ روشن مستقبل کا خواب دیکھیں ۔اب جو لوگ کامیاب ہوگئے ان کی زندگی سے سبق لینے کی ضرورت ہے کہ وہ کس طرح کامیاب ہوئے ،انھوں نے کتنی جدوجہدکی،کن کن مسائل سے دوچارہوئے اور کتنی پریشانیاں جھیلیں وغیرہ۔غالب کا شعر ملاحظہ ہو:
دام ہر موج میں ہے حلقۂ صد کام نہنگ
دیکھیں کیا گزرے ہے قطرہ پہ گۡہر ہونے تک
مذکورہ بالااشعار کامطالعہ کرنے کے بعد یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ بعض شعرانے زندگی کو فضول ،لغوا ور بے معنی بتایاہے‘ یعنی ہستی کی کوئی ہستی نہیں ہے وہ ایک دن فنا اور برباد ہوجائے گی ،بعض دوسرے شعرا نے اسے بامقصد او ر سودمند بتانے کی کوشش کی ہے ،یعنی اسی فانی زندگی کو اگر ہم نے کار آمد اور بامقصد بنا لیا ،اسے کسی عظیم مقصد کے لیے وقف کردیا تو وہی زندگی انسان کے لیے بہت بڑی نعمت کی شکل میں سامنے آئے گی،ورنہ فضول اور بکواس ہے۔
حیات وکائنات کے علاوہ شہپر رسول کے مجموعۂ کلام میں بعض دوسرے موضوعات پر بھی نظمیں ملتی ہیں ۔ان موضوعات میں ایک اہم موضوع قومی یکجہتی بھی ہے ۔عصر حاضر میں قومی یکجہتی کی معنویت زیادہ بڑھ گئی ہے ،ہر طرف اس پر زور دیا جارہا ہے اور اسے مستحکم کرنے کی بات کی جارہی ہے ۔اس موضوع پر شہپر رسول کی بہت عمدہ نظم’’ چلو ان پانیوں کو پھر سے یکجا کردیا جائے‘‘ہے ۔اس نظم میں انھوں نے ہندوستان کی مشترکہ تہذیب ومعاشرت اور قومی یکجہتی کی بات کی ہے ،آج جس کا ہر طرف فقدان نظر آتاہے۔
اس نظم میں شہپر رسول نے بہت خوبصورت تشبیہات واستعارات کے ذریعے اپنی بات کہی ہے ۔جس طرح مختلف دریاؤں کے اپنے اپنے علاقے ہیں ،ان کی سمت ورفتا ر میں فرق بھی ہے۔جس طرح ہر مٹی کا رنگ اور ان کے ذائقے الگ ہوتے ہیں ۔جس طرح غز ل کے اشعار بے ربط اور غیر مر بوط ہوتے ہیں ،مثلاً مطلع ہوتا ہے ،مقطع ہوتا ہے‘ لیکن تمام اشعار مل کر ایک غزل کا روپ اختیا ر کرتے ہیں۔اسی طرح دریاؤں کی سمت ورفتار کو اور مٹی کے مختلف رنگ وذائقے کے بے معنی تفاوت کو گوارا کر لینا چاہیے ،کیونکہ سب کاکہیں نہ کہیں کوئی تعلق ضرور ہوتا ہے۔نظم کے آخر میں شاعر یہ پیغام دیتا ہے کہ مختلف مذاہب ،قوم ،ذات اور نسل کے لوگ جب آپس میں مل کر زندگی گزارتے ہیں تو ایک نیا کلچر اورنئی تہذیب جنم لیتی ہے ‘کیونکہ سارے انسان ہی ہیں بھلے ہی کس مذہب ،قوم،ذات یا رنگ ونسل کے ہوں‘ ان میں فرق کرنا عقل مندی نہیں ہے،نظم کا آخری جملہ معنی خیز ہے کہ’’چلو! ان پانیوں کو پھر سے یکجا کر دیاجائے ‘‘۔ نظم ملاحظہ ہو:
چلو! ان پانیوں کوپھر سے یکجا کر دیا جائے
یہ مانا مختلف دریاؤں کے اپنے علاقے ہیں
یہ مانا مختلف دریاؤں کی سمتوں میں اور رفتا ر میں فرق کا امکان وافرہے
یہ مانا مٹیوں کا لمس ان کے ذائقے اور رنگ میں بھی فرق کرتا ہے
مگر۔۔ان پانیوں کے اول وآخر پہ بھی کچھ غور کرلیجیے
وہی مطلع ،وہی مقطع
غزل کے شعروں کے اس ربط ِبے مربوط کے مانند
بظاہر جو ہے نادیدہ مگر باطن میں رقصاں ہے
اگر اس راز سے پردہ اٹھا نا ہے
دماغ ودل کی آنکھوں کو اگر دیدار کے قابل بنانا ہے
تو پھر۔۔رفتا ر اورسمتوں ،اچھوتے ذائقوں،رنگوں کے
بے معنی تفاوت کو
گوارا کر لیا جائے
چلو! ان پانیوں کو پھر سے یکجا کر دیا جائے
زمانے کے اندر بہت سارے واقعات رونماہوتے رہتے ہیں‘ ان میں کچھ اچھے بھی ہوتے ہیں اور برے بھی ، بہتر بھی اور کم تر بھی۔قدم قدم پر رکاوٹیں بھی نظر آتی ہیں ۔ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش میں قدروں کے درمیان بے ادبی کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے ۔اس پس منظر میں جب ہم اپنی ادبی اور تعلیمی دنیا کا جائز ہ لیتے ہیں تو وہاں بھی بے ادبی کی فضا محسوس ہوتی ہے یہاں بھانت بھانت کے لوگ نظر آتے ہیں ۔اگر کوئی انسان آگے بڑھنے کی کوشش کرتا ہے تواس کا حوصلہ پست کردیاجاتا ہے ،اسے روک دیاجاتا ہے۔ اس تعلق سے شہپر رسول کی ایک نظم ’’ نہیں دیکھنا ہے بہتر ‘‘ ملاحظہ کی جاسکتی ہے ،جس میں انھوں نے بہت عمدہ طریقے سے ادبی اور تعلیمی دنیا میں موجود بے ادبی کی فضا کا بھر پور نقشہ کھینچاہے ۔نظم یہ ہے :
اے گداگرا ن جلوہ
ذرابند کر لو آنکھیں
یہ ادب کا ماجراہے
جو سفید ہیں کبوتر
سو ہیں کالی بلیاں بھی
کئی مسند یں ہیں خالی
کئی حوصلے ہیں جعلی
کئی نام ہیں سوالی
کئی حوصلوں کے پیچھے
کئی ہاتھ ہیں مقدس
کئی جام ہیں مثالی
کئی شعر کہنے والے
کئی شعر گانے والے
کئی لفظ لکھنے والے
کئی لفظ ڈھونے والے
چلو چھوڑتے ہیں سب کو
اس ادائے بے ادب کو
کبھی بھول جائیں شاید
نہیں بھول پائیں شاید
اے گدا گر ان جلوہ
ذرابندکرآنکھیں
کہیں دیکھنے سے بہتر
نہیں دیکھنا ہے شہپر
اس نظم کے مطالعے سے اندازہ ہوتاہے کہ ہماری ادبی دنیا میں کیسے کیسے لوگ نظر آتے ہیں ،جو باصلاحیت اور ہنرمند ہیں انھیں خاطرمیں نہیں لایا جاتا ،یا خاطرخواہ نہیں سمجھا جاتا ۔چاپلوسی ،خوشامد کرنے والے ،ضمیر فروش اور ضمیر کا سوداکرنے والوں کو سر آنکھوں پر بٹھایا جاتا ہے اور انھیں مسند عطاکی جاتی ہے۔ نظم کی چند سطریں قابل توجہ ہیں:
یہ ادب کا ماجرا ہے
جو سفید ہیں کبوتر
سوہیں کالی بلیاں بھی
۔۔۔۔۔
کئی شعر کہنے والے
کئی شعر گانے والے
کئی لفظ لکھنے والے
کئی لفظ ڈھونے والے
۔۔۔۔۔
اس ادائے بے ادب کو
کبھی بھول جائیں شاید
نہیں بھول پائیں شاید
وغیرہ
اس نظم میں شہپر رسول نے موجودہ ادبی صورت حال پر گہری چوٹ کی ہے اور اس کی عمدہ منظر نگاری پیش کی ہے۔ خاص طور پر اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تقرری کے معاملات کو دیکھا جا سکتا ہے کہ کیسے کیسے لوگ مثلاً ’’جو سفید ہیں کبوتر ‘‘ ’’سوہیں کالی بلیاں بھی ‘‘ ’’ کئی حوصلے ہیں جعلی‘‘ کئی حوصلوں کے پیچھے ‘‘ ’’کئی ہاتھ ہیں مقدس ‘‘ وغیر ہ نظر آتے ہیں۔
حاصل کلام یہ کہ شہپر رسول کی شاعری میں زندگی اور دنیاکی بے ثباتی کا تذکرہ مختلف صورتوں میں ہمارے سامنے آتا ہے اور انھوں نے اسے بہت خوبی سے برتا بھی ہے۔دوسری اہم بات یہ کہ ان کی شاعری کے موضوعات میں تنوع پایا جاتا ہے ۔یعنی ان کی شاعری صرف حیات وکائنات جیسے موضوعات تک محدود نہیں ہے ؛بلکہ ان کے یہاں قومی یکجہتی اور دیگر ،سماجی‘ سیاسی،معاشرتی ،تہذیبی اور تعلیمی وادبی موضوعا ت پر بھی نظمیں ملتی ہیں ۔
شہپررسول کی جن نظموں کی معنویت موجودہ عہد میں بہت زیادہ ہو جاتی ہے‘ ان میںــــــــــ’’نہیں دیکھنا ہے بہتر‘‘ ’’چلو ان پانیوںکو پھر سے یکجا کر دیا جائے‘‘ اک یہی تو رستہ ہے‘‘وغیرہ اہمیت کی حامل ہیں۔مثلاً ’’نہیں دیکھناہے بہتر‘‘ میں جن مسائل کو موضوع بحث بنایا گیا ہے‘ وہ آج بیشتر کمپنیوں‘ اداروں خصوصاً تعلیمی اداروں میں دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ان امور کو انجام دینے میں وہ لوگ بھی ملوث ہوتے ہیںجو بظاہر صاف ستھری شبیہ کے نظر آتے ہیں۔ان کا بھی کہیں نہ کہیں کسی صورت میں اہم کردار ضرور ہوتا ہے ۔دور حاضر میں قومی یکجہتی بھی ایک اہم مسئلہ ہے‘ اور بطور خاص ہندوستانی سماج میںجس طرح قومی یکجہتی کافقدان ہوتا جا رہا ہے‘ اس کو دیکھتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ شہپر رسول نے اپنی نظموں کے ذریعے موجودہ سما ج کے بکھرتے ہوئے تانے بانے کو سہارا دینے کی کوشش کی ہے اورزمانے کی پکار پرلبیک کہا ہے۔ اس لحاظ سے شہپر رسول کی نظم’’چلو ان پانیوں کو پھر سے یکجا کر دیا جائے‘‘ غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے۔بحیثیت مجموعی ہم کہہ سکتے ہیں کہ شہپر رسول کی اکثروبیشتر نظمیں دور حاضر کی ترجمانی کرتی ہیں اور ان کا اطلاق موجودہ سماج پر کیا جا سکتا ہے۔
داکٹر مشیراحمد
‘ شعبۂ اردو‘
جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی25
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

