نئی دہلی:قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان اور سندھی کونسل کے ڈائریکٹر پروفیسر شیخ عقیل احمد نے جموں و کشمیر کے نامہ نگاروں سے قومی تعلیمی پالیسی پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ پالیسی ہندوستان کی تقدیر اور تصویر بدل دے گی کیوں کہ اس پالیسی میں ہندوستان کی تمام زبانوں کی ترویج وترقی اور ان کے احیا کی تجویز رکھی گئی ہے۔ ہندوستان کا ہر طالب علم پانچویں کلاس تک لازمی اور آٹھویں کلاس تک اختیاری طور پر مادری زبان میں تعلیم حاصل کرپائے گا۔ اس کے علاوہ کسی بھی تعلیمی سطح پر اپنی مادری زبان کو ایک مضمون کے طور پر وہ اختیار کر سکتا ہےـ،ساتھ ہی اس پالیسی میں یہ تجویز بھی ہے کہ تمام ریاستوں میں اور مرکز میں بھی تمام زبانوں کے فروغ کے لیے اکیڈمیاں قائم کی جائیں گی۔ شیخ عقیل نے کہا کہ دراصل وزیر اعظم عالی جناب نریندر مودی کا خیال ہے کہ کوئی بھی ترقی پسند ملک اگر مادری زبان کا تحفظ نہیں کرے گا تو اس ملک کا زوال لازمی ہےـ کیوں کہ آواز سے شبد اور شبدوں سے بھاشا یا زبان کی تخلیق ہوتی ہے اور آواز ہی اس کائنات کی اصل اور جوہر ہے، اس لیے تمام زبانیں قابل احترام ہیں اور مودی سرکار سبھی زبانوں کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔ پروفیسر عقیل نے کہا کہ قومی تعلیمی پالیسی میں تعلیم میں تنوع پیدا کیا گیا ہے جس سے تعلیمی نظام کی توسیع ہوگی اور نئے نئے کورس اور سبجیکٹ کو متعارف کیا جائے گاـ جس سے روزگار اور ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور ہندوستان میں کوئی بھی نوجوان بے روزگار نہیں رہے گا۔ اس پالیسی کے اندر تمام مضامین کو اسکل ڈیولپمنٹ کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ نوجوان تعلیم حاصل کرکے بیکار نہ رہیں ـ اگر نوجوان برسر روزگار ہوں گے اور سبھی کو ملازمتیں ملیں گی تو یہ ملک ترقی کی نئی بلندیوں تک پہنچے گا۔ انھوں نے کہا کہ قومی تعلیمی پالیسی کی ایک اور خاص خوبی یہ ہے کہ اس میں یہ تجویز پیش کی گئی ہے کہ ہزاروں سال پرانا گروکل کا جوماحول تھا اسے تمام تعلیمی اداروں میں پیدا کیا جائے اور تمام اساتذہ کو ایسی تربیت دی جائے کہ ان کا مقام ماضی کےان نابغۂ روزگار اساتذہ جیسا ہوجن کی شاگرد بڑی تعظیم کرتے تھے۔ شیخ عقیل نے کہا کہ دراصل ہمارے وزیر اعظم عالی جناب نریندر مودی یہ چاہتے ہیں کہ ہندوستان دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں میں سب سے آگے نظر آئے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہندوستان کی جو اخلاقی قدریں اور ہزاروں سال پرانی جو تہذیب ہے وہ ہمیشہ زندہ رہے اور ہندوستان کا ہر شخص اور ہر نوجوان موڈرن ہونے کے ساتھ ساتھ روحانیت سے بھی اپنا رشتہ استوار رکھے، یعنی ترقی اور روحانیت ساتھ ساتھ پروان چڑھیں۔ پروفیسر عقیل نے کہا کہ اگر ہندوستان میں ایسا ہوتا ہے تو پوری دنیا میں ہندوستان انقلاب برپا کردے گا اور ہمارا ملک حقیقی معنوں میں وشو گرو سمجھا جائے گا، اس لیے میں ہندوستان کے تمام تعلیمی اداروں، اساتذہ اور طالب علموں سے اپیل کرتاہوں کہ نئی قومی تعلیمی پالیسی 2020 کو نافذ کرنے کے لیے آگے آئیں اور وزیر اعظم نریندر مودی کے خوابوں کو شرمندۂ تعبیر کریں۔
(رابطہ عامہ سیل)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

