شعبۂ اردو،میرٹھ یونیورسٹی میں ’’ پرسنالٹی ڈیولپمنٹ اور کیرئر کائونسلنگ‘‘پرآن لائن پروگرام کا انعقاد
میرٹھ17؍ فروری2022ء
آئی اے ایس اور پی سی ایس جیسے بڑے امتحانات میں بھی اردو کے طالب علم کامیاب ہو سکتے ہیں۔ ہمارا مقصد بھی یہی ہے کہ دیگر مضامین کے طلبہ و طالبات کی طرح ہمارے طالب علم کسی سے پیچھے نہ رہیں۔ کامیابی ان کے قدم چومے۔یہ الفاظ تھے سابق شیخ الجامعہ خواجہ معین الدین یونیورسٹی،لکھنؤ محترم انیس انصاری(ریٹائرڈآئی اے ایس آفیسر) کے جو شعبۂ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی اور بین الاقوامی نوجوان اردو اسکالرز انجمن(آیوسا) کے زیر اہتمام منعقد’’ پرسنالٹی ڈیولپمنٹ اور کیرئر کائونسلنگ‘‘ موضوع پر اپنی صدارتی تقریر میں آن لائن ادا کررہے تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح دیگر زبانوں کے طالب علم خوب محنت کر کے اس پر وقار امتحان میں کامیابی سے ہم کنار ہوتے ہیں تو اردو مضمون لے کر اردو والے بھی نہ صرف آئی اے ایس،پی سی ایس بلکہ ہر میدان میں کامیابی سے ہمکنار ہو سکتے ہیں بس ضرورت ایمانداری ،محنت اور لگن کی ہے۔سول سروسز تین حصوں میں ہوتا ہے،مین میںنو پیپر ہوتے ہیں جو سبھی ضروری ہوتے ہیں اور اس میں اردو والے بھی شامل ہیں مگر اردو میں پریشا نی یہ ہو تی ہے کہ تمام کورس اردو میں دستیاب نہیں ہو پاتا۔ صرف ایک مضمون کے روپ میں اردو لے لیں تو بہتر ہے۔
اس سے قبل پرو گرام کا آغاز سعید احمد سہارنپوری نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔بعد ازاںطاہرہ پروین نے ہدیۂ نعت پیش کیا ۔اس ادب نما پروگرام کی سر پرستی معروف ادیب عارف نقوی ، جرمنی نے فرمائی ۔مہمان خصوصی کے بطور سابق آئی اے ایس پربھات کمار رائے نے آن لائن شرکت کی۔کائونسلر کے بطور محترم اشفاق عمر(ڈائریکٹر ثمر اکادمی،مہاراشٹر) اور محترمہ سویتا رستوگی (بانی، ماسٹر کلاسز ، میرٹھ)نے کیرئر کائونسلنگ کے تعلق سے پر مغز گفتگو کی اور بچوں کے سوالات کے تسلی بخش جواب دیے۔نظامت کے فرائض ڈاکٹر آصف علی ،استقبالیہ کلمات ڈاکٹر شاداب علیم اور شکریے کی رسم ڈاکٹرارشاد سیانوی نے ادا کی۔
اس موقع پر استقبالیہ کلمات ادا کرتے ہوئے صدر شعبۂ اردو پرو فیسر اسلم جمشید پوری نے کہا کہ آج کا یہ ہفتہ واری ادب نما کا پروگرام نہا یت اہم مو ضوع پرسنالٹی ڈیولپمنٹ اور کیرئیر کائونسلنگ کے تعلق سے ہے اور ہماری یہی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ ایسے مو ضو عات کا انتخاب کریں جن سے ہمارے طالب علم بھر پور فائدہ حاصل کرسکیں۔ ساتھ ہی انہیں ایسی شخصیات سے رو برو کرائیں جنہوں نے اپنے ادب اور خدمات کے ذریعے ملک و قوم کی تعمیر میں حصہ لیاہو اور ساتھ ہی وہ ایسی شخصیت کا مالک ہوجوادیب، مفکر دانشور اور ماہر تعلیم بھی ہو،تاکہ طلبہ ایسی شخصیات سے خوب فائدہ اٹھائیں۔
پر بھات کمار رائے نے کہا کہ اتر پردیش کے مقابلے میں بہار کے بچے اچھے امتحانات میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ طلبہ انٹرویوکی تیاری اسی وقت سے شروع کریں جب سے وہ تحریری امتحانات کی کرتے ہیں۔ بولنے کی مشق خوب ہو نی چاہئے۔ سوا لوں کے مطابق ہی بولنا چاہئے۔تحریری اور زبانی امتحان میں نمایاں کامیابی کے لیے شروع سے ہی تیاری کرنا چاہیے۔ یہ ایک جنون والا امتحان ہو تا ہے۔
ماسٹر کلاسز میرٹھ کی بانی کویتا رستوگی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیرئر کائونسلنگ آج کے وقت میں بہت خاص ہے۔ اگر ہم نوجوانوں کی بات کریں تو آج کے دور میں ایسے پروگراموں کی بہت ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے طالب علموں کے اندر ایسے اسکل پیدا کرنے چاہئیں جو دنیا کے کونے کونے میں جاکر کامیاب اور پر لطف زندگی گذار سکیں۔ پرسنالٹی ڈیولپمنٹ سے کسی بھی ادنیٰ شخص کو خاص بنایا جاسکتا ہے۔یہ اسی کا کمال ہے کہ ایک شخص دوسرے سے جدا نظر آ تا ہے۔بس اس میدان میں طالب علم کی لگن اور توجہ، اس کے پڑھنے، جاننے اور چیزوں کے سمجھنے کا جذبہ اسے دوسروں سے مختلف بنا دیتا ہے۔اسے خاص بنا دیتا ہے۔ آپ بڑی شخصیات کا گہرائی سے مطالعہ کریں تو اسی عمل سے آپ کی پرسنالٹی میں یقینا اضا فہ ہو گا۔
مہاراشٹر سے محترم اشفاق عمر نے کہا کہ ہمارے طالب علم آ خری وقت میں کسی اسکیم کا فارم بھرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ بہت سی باتوں کو بھول جاتے ہیں اور اسی بنا پر ان کا فارم منسوخ کردیا جاتا ہے۔ آج آن لائن کا زمانہ ہے۔ ہر طرح کے فارم بھرے جاتے ہیں۔ اس لیے فارم بھرنے سے قبل ساری معلومات پڑھ لینی چاہئیں اور سبھی طلبہ کو چاہئے کہ اپنے سبھی کا غذات پہلے سے تیار کرلیں، اپنے دستاویزات بھی اچھے ڈھنگ سے اسکین کر کے پہلے سے تیار رکھنے چاہئیں۔ موجودہ وقت میں بہت سی اسکیمیں ہوتی ہیں جن سے بڑی تعداد میں طالب علم فیض حاصل کر سکتے ہیں۔
اس موقع پر محترم عارف نقوی نے بھی اپنے خیالات کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ میں نے آج جن شخصیات کو سنا اگر طالب علمی کے زمانے میں یہ لوگ مجھے میسر آجاتے تو شا ید مجھے جرمنی جانے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی اور یہ سچ ہے کہ اردو میں وہ خاصیت ہے جو دیگر زبانوں میں کم دیکھنے کو ملتی ہے۔پروگرام میں طاہرہ پروین،سیدہ مریم الٰہی اور دلکش نے سوالات بھی کیے ،جن کے ایکسپرٹ نے جواب دیے۔
اس مو قع پر پروگرام میں ڈاکٹر عبد الباری ،ڈاکٹر ریشما پروین ، محمد شمشاد، شا ہانہ، فیضان ظفر،فردوس سلطانہ،فر مان،عبد الواحد وغیرہ آن لائن جڑے رہے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

