پروین شاکر اردو ادب میں ایک توانا نسوانی آواز ہیں۔نسوانی جذبات کی ترجمانی جس موثر لب و لہجہ میں پروین شاکر نے کی ہے اس کی مثال خال خال ہی ملتی ہے۔یہ کہنا مبالغہ نہیں ہوگا کہ پروین شاکر اردو شاعری کی شاہکار تصویر ہیں۔منفرد خیال کو منفرد انداز میں پیش کرنے میں وہ بلا کی قدرت رکھتی ہیں۔شاعری دل کی آواز ہے اور دل کی باتیں کرتے وقت کون کسی فارمیٹ کا پاس رکھتا ہے۔ آزاد نظمیں اور نثری نظمیں بے شمار شاعروں کا محبوب طرز اظہار رہی ہیں۔ پروین شاکر نےبھی خوبصورت نثری نظمیں کہی ہیں۔ انکی خوبصورت نثری نظموں میں ایک نظم” بشیرے کی گھر والی” ہے.پروین شاکر نے” بشیرے کی گھر والی” کو بطور علامت استعمال کرکے ذات عورت کے محسوسات کو موثر طریقے سے پیش کیا ہے۔ متزکرہ نظم پروین شاکر کی احساسات کی سادگی کا بہترین نمونہ ہے جس میں انہوں نے اپنا احتجاج بڑی خاموشی سے کیا ہے۔دل کا حال وہ جانتا ہے جو دل رکھتا ہے کبھی خاموشی کی آواز اتنی تیز ہوتی ہے کہ کان کے ساتھ سارے حواس جاگ اٹھتے ہیں شرط بس اتنی ہوتی ہے کہ ایک دھڑکتا دل ہو۔
شاعری کے بہترے فارمیٹ ہیں اور سب کے سب اپنی جگہ اہمیت رکھتے ہیں شاعر آزاد ہوتا ہے وہ جس صنف کا انتخاب کرے،ساتھ ہی ساتھ یہ بھی قابل غور بات ہے کہ اگر کان کا کام آنکھ سے،ہاتھ کا کام پیر سے ،منھ کا کام پیٹ سے ہو سکتا تو کسی ایک کو ہی اہمیت ہوتی اس سے سارے کام لئے جاسکتے تھے مگر ایسا ممکن نہیں آنکھ کا کام ناک اور ہاتھ کا کام پاؤں نہیں کرتا لہذا جتنے رائج اصناف ہیں سب اپنی جگہ اپنی پہچان اور اہمیت رکھتے ہیں۔میری دانست میں اس لئے سارے رائج اصناف خواہ نثری ہو کہ شعری اہمیت کے حامل ہیں۔متزکرہ نظم کا محور اور بنیادی موضوع ذات عورت ہے۔
عورت کو اس کائنات میں بہت اہم مقام حاصل ہے۔عورت جو صنف نازک سمجھیں جاتی ہیں لیکن بڑی قربانیاں یہی پیش کرتی ہیں۔شائد خالق نے ان کے دل میں محبت کا سمندر بھر دیا ہے۔عورت ہر روپ میں محبت کی مورت ہے۔کبھی ماں بن کر لوری گاتی ہے، کبھی بہن بن کر بھائ پر جان نچھاور کرتی ہیں،کبھی بیوی بن کر، سکھ دکھ کی ساتھی بن کر، زندگی کے پر پیچ راہوں میں ہم قدم ہوتی ہیں تو کبھی بیٹی بن کر رحمت کا سبب بنتی ہیں۔عورت زندگی کے کسی بھی مقام پر عورت ہی ہوتی ہے اور قربانی پیش کرتی ہے پھر اس کے دامن میں دکھ کے کانٹے ہی کیوں بھرتے ہیں؟
ہمارا سماج عورتوں کے حقوق کی حق تلفی کیوں کرتا ہے ؟شاعرہ نے مہذب سماج کو حقیقت کا آئینہ دکھایا ہے۔کیا عزت و احترام کی ساری باتیں سنانے کو ہی ہوتی ہیں ؟کیا انصاف یہی ہے کہ انصاف کے لئے ہاتھ جوڑے کھڑا رہا جائے؟صنف نازک کہی جانے والی ذات عورت کا ہر امتحان بہت سخت ہوتا ہے۔
شاعرہ عورت کو دودھ پلانے والے جاندار میں عورت کو سب سے کم اوقات گردانتی ہے یہاں شاعرہ کا طنز ہے اس مہذب سماج پر جو عورتوں کو دودھ پلانے والے جانور سے بھی کم اہمیت دیتا ہے۔مرد کی پسلی سے جس کا وجود ہوا وہ عورت ہمیشہ مرد کے پیروں میں پڑی رہی۔ عورتیں کم سنی میں تمام ذمہ داریاں سنبھال لیتی ہیں۔گھر کے سارے کام تن دہی سے انجام دیتی ہیں۔پھولوں کے کھلنے اور باغوں میں تتلیوں کی آمد کی انہیں کوئی خوشی نہیں ہوتی ان کے ننھے ننھے ہاتھوں میں تتلیاں نہیں جھاڑو ہوتے ہیں۔ہوش سنبھالتے ہی گھر سنبھالنا پڑتا ہے۔کم عمری سے ہی چھوٹی چھوٹی ذمہ داریاں اپنے سر لے لیتی ہیں پھر بھی مقام حیرت ہے اسے کبھی تازہ اور اچھا کھانے کو نہیں ملتا ۔ایک عورت بہ شکل ماں جب کچھ اچھی کھانے کی چیز ہو تو گھر کے بیٹے کو ہی دیتی ہے،ویسے بہنیں بھی اپنے بھائیوں کو اپنے سے بہتر کھانے کو دیتی ہے حلانکہ اچھا کھانا اچھا پہننا سب کو پسند ہے مگر یہاں وہ اپنی خوشی سے ذیادہ اپنے بھائیوں کی خوشی عزیز رکھتی ہیں اور بغیر شکایت خوشی خوشی روکھا سوکھا کھا لیتی ہیں۔
جب سن بلوغت کو پہنچتی ہے تو گھر کے لوگوں کے لئے باعث فکر بن جاتی ہیں۔ہر قدم سختی بڑھتی جاتی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ دن بھی آتا ہے جب کسی پرائے گھر کسی کی بیوی بن کر چلی جاتی ہیں یہاں امتحان اور سخت ہو جاتا ہے ذمہ داریاں اور بڑھتی ہیں مگر مقدر بالکل نہیں بدلتا۔طئے شدہ زندگی کے شب و روز گزارنا،خاوند کی ہر خدمت کرنا اور بچے کی پرورش کرنا اس کے اہم فرائض بن جاتے ہیں۔شاعرہ سوال پوچھتی ہیں کہ یہ کیسی نوکری ہے جس میں ایک دن کی چھٹی بھی نہیں۔جانوروں کو بھی جیٹھ کی گرمی میں سستانے کی آزادی ملتی ہے مگر ایک عورت کی تقدیر میں یہ بھی نہیں۔ عورت کےجیون کے اس پتھ پر کسی پیڑ کا وجود ہی نہیں۔شاعرہ کی نظر میں یہ کسی ناکردہ گناہ کی سزا ہے۔تن اور من کے بیچ بہت خوبصورت فرق واضح کیا ہے کہ گر تن کا سودا کرے تو سماج بدنامی کا داغ دے اور من کا سودا کرے تو بیوی کا درجہ دے۔شاعرہ ذات عورت پر کف افسوس ملتے ہوئے کہتی ہے کہ ایک نوالہ روٹی اور ایک کٹورے پانی کی خاطر عورتیں کب تک اپمان کی زندگی گزارے گی۔ان کو انسانی حقوق کا مستحق کا سمجھا جائے گا۔
پروین شاکر کی یہ نظم پوری وضاحت سے ایک عام عورت کی کہانی پیش کرتی ہیں۔چھوٹی چھوٹی سطروں میں بڑی بڑی باتیں کہہ ڈالی ہیں۔ کتنی سادگی سے انہوں نے ذات مرد کی خصوصیت کو بھی پیش کیا ہے۔نظم کے یہ سطور دیکھیں۔
"ایک مرد نے اپنے من کا بوجھ/دوسرے مرد کے تن پر اتار دیا/بس گھر اور مالک بدلا/تیری چاکری وہی رہی/بلکہ کچھ اور ذیادہ”
شاعرہ نے ایک لفظ سے ایک کہانی کا کام لیا ہے۔یہ واقعئ قابل تحسین ہے۔پرواز تخیل کی بہترین مثال بھی ہے اور لفظوں کی کیفیت شناسی ہے جو پروین شاکر کا خاصہ رہی ہے۔ نظم کا بیانیہ انداز اسکی دلکشی میں اضافے کے ساتھ،خیال کے مقصد کی بہت آسانی سے قاری کے اذہان تک ترسیل کر رہا ہے۔ نظم میں موجود بلیغ اشارے بالکل واضح ہیں کہیں گنجلک طرز بیان نہیں ملتا،نزاکت و نفاست کی کوئ بو باس نہیں۔
"ماں کا آنچل پکڑے پکڑے/ تجھ کو کتنے کام آجاتے/ اپلے تھاپنا/ لکڑی کاٹنا /گائے کی سانی بنانا/ پھر بھی مکھن کی ٹکیہ/ ماں نے ہمیشہ بھیا کی روٹی پر رکھی۔
نظم بس ایک سوال ہے جو اپنے جواب کا منتظر ہے۔نظم پڑھتے وقت ایسا تاثر قائم ہوتا ہے جیسے ایسے کسی کردار کو ہم روز دیکھتے ہیں۔احساس کے جسم پر، نظم کے الفاظوں کے تازیانے برس رہے ہیں اور مسلسل ضرب سے زندہ ضمیر بے دم ہوا جاتا ہے مگر ضرب رکتا نہیں۔ نظم میں ایک کرب ہے ایسا کرب جس کا اظہار بے حد مشکل ہے۔
پروین شاکر نے اس نظم میں بہت خوبصورت ہندی کے الفاظ استعمال کئے ہیں۔پرش،جنم،من،تن،گابھن،پتی،ریت،بھاگ،جیون،کرموں، پتنی،سمے،اپمان،بلیدان وغیرہ۔ یہ الفاظ رنگوں کا وہ بکس ہے جن میں زندگی کی کئ کہانیاں بند ہیں اور عورت کی تصویر کشی کرتے وقت ان رنگوں کو ہی بھرنا پڑے گا تب ہی عورت اپنے پورے خد و خال کے ساتھ تصور پر ابھرے گی۔
متذکرہ نظم پروین شاکر کی نسوانی خیال کی نہیں بلکہ نسوانی حال کی ترجمانی ہے جو ایک با شعور اور مہذب سماج کو دعوتِ فکر بھی دیتا ہے اور خود احتسابی کا ایک موقع بھی۔پروین شاکر کی اس نظم میں ایک عورت اپنی زندگی کی ایک بے رنگ اور اصل تصویر ہاتھ میں تھامے کھڑی ہے اور سماج سے پوچھتی ہے کیا یہ تصویر آپ کو پسند ہے؟اگر نہیں تو اس تصویر کو بدلئے،اپنے احساسات کو بیدار کیجئے اور ہمیں بھی ایک پر وقار زندگی دیجئے۔ نسوانی کیفیات کی بہترین ترجمان پروین شاکر نے عورت کی ابتدا تا انتہا زندگی کو نظم کی شکل میں نہایت خوبصورتی سے عام فہم انداز میں اور مانوس الفاظ میں پیش کیا ہے۔ کسی خیال کی موثر ترسیل آسان نہیں لیکن شاعرہ نے اپنے کمال ہنر سے آسان لفظوں سے گہرے مفاہیم پیدا کی ہیں جو آسان نہیں یہ نظم شاعرہ کے فکر کی ترسیل کا بہترین نمونہ ہے۔
نسیم اشک
ہولڈنگ نمبر10/9گلی نمبر3
جگتدل 24 پرگنہ مغربی بنگال
فون۔9339966398
e-mail : nasimashk78@gmail.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
بہت عمدہ مضمون۔۔۔۔۔اور اس کا سب سے آخر میں کو باتیں کہی گئی ہیں ۔۔۔۔واقعی دل کو چھو لینے والی ہیں۔۔۔۔اللّٰہ سلامت رکھے آپکو۔