اخبارات اور سوشل میڈیا پر روزانہ اردو کے بیس پچیس سے می نار منعقد ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں مگر اُن سے اردو کی ترقی کا کون سا راستہ کھُل رہا ہے، یہ سمجھنا محال ہے۔
سرکاری محکموں میں اورسکریٹریٹ کے گلیاروں میں مارچ کا مہینہ بجٹ میں مختص رقومات کے خرچ کے لیے پہچانا جاتا ہے۔جب آن لائن اور کمپیوٹرائی زیشن نہیں ہوا تھا، اُس زمانے میں مارچ کے آخری ہفتے کی شان ہی الگ ہوتی تھی۔ سرکاری دفتروں میں دس بجے اور بارہ بجے رات تک حساب کتاب ملائے جاتے تھے۔سب کے لیے یہی نشانہ ہوتا کہ رقم کسی طرح ٹریزری کے اُس محکمے یا ادارے یا فرم کے کھاتے میں ٹرانسفر ہو جائے۔کئی بار یہی سنا گیا کہ ٹریزری میں کوئی ایسی رُکاوٹ پیدا ہو گئی کہ ۳۱؍ مارچ میں بارہ بجے رات تک اکاونٹ ٹرانسفر کی منظوری نہ ملی اور حکومت کا فرمان اُس مالی سال کے لیے ضایع ہو گیا۔اِسے سرکاری اصطلاح میں مارچ لُوٹ کہتے تھے اور اِسے سنتے ہی نوکر شاہوں سے لے کر ٹھیکے داروں تک کے چہرے چمکنے لگتے تھے۔
فروری اور مارچ مہینوں میں اردو میں اتنے سے می نار منعقد ہوتے ہیں کہ اگر اُن کے بینروں اوررپوسٹروں کی بنیاد پر ہندستان سے باہر بیٹھا کوئی آدمی یہ نتیجہ اخذ کر لے کہ ملک میں سب سے زیادہ فعال اور سر گرم کوئی زبان ہے تو وہ اردو ہی ہے۔ہندی اور انگریزی زبانوں میں بھی ایسی ہمہ ہمی اور جوشِ تقریب نہیں مگر اِس کے مقابل جب اردو تدریس ، اسکول سے لے کر یو نی ور سٹیوں تک یا اردو داں آبادیوں کی ملازمت کے سوالوں کو معیار بنا کر غور و فکر کرنے کے لیے ہم آپ بیٹھتے ہیں تو اردو ایک مظلوم زبان نظر آتی ہے اور حکومت سے لے کر اردو آبادی تک ہم سب سے شکوہ سنج ہوتے ہیں۔آخر اردو تقریبات کی ریل پیل اور اسکول اور کالج میں طلبا سے خالی کلاس روم ؛ اِس کھائی کو کیسے پاٹا جائے؟سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اِن میں سے حقیقت کون ہے اور حقیقت کا چھلاوا کون ہے؟
معاملہ یہ ہے کہ جو کام پورے سال میں تیّاریوں کے ساتھ ہو سکتے تھے، ہم اُنھیں ایک یا دو مہینے میں نمٹا کر فایدہ یا نقصان اپنی جھولی میں ڈال کر پھر نئے سِرے سے خوابِ غفلت میںمبتلا ہونے کے عادی ہو چکے ہیں۔مشکل یہ ہے کہ سرکاری اداروں کو کچھ لاکھ یا ایک دو کروڑ روپے دِکھاوے کے طور پر تقسیم کرنے ہیں۔اُن کے ذہن میں ایسا کوئی تصوّر نہیں کہ جلسے کن موضوعات پر ہوں اور کن شعرا و ادبا اور دانش وروں کی خدمات کے حوالے سے بڑے یا چھوٹے جلسے منعقد کیے جانے چاہیے۔وہ کیوں اِس کھکھیڑ میں پڑیں۔ اُن کے لیے آسانی یہ ہے کہ لوگ تجویزات بھیجیں، اُس پر پچاس ساٹھ ہزار روپے وہ دے لیں اور اِس کے عوض میں منظور کرنے والی کمیٹی یا اُس ادارے کے چند حاشیہ نشیں اُس بجٹ کا ایک تہائی اپنے علمی قد یا دنیاوی منصب کے عوض میں بہ موقعِ سے می نارحاصل کر لیں۔
ایک مہینے میں اردو اخبارات اور سوشل میڈیاپر اگر سو سے می ناروں کی تصویروں تلاش کر لیجیے تو آپ حیرت میں پڑ جائیں گے۔ تاریخ وار گوشوارہ بنا لیں تو یہ حیرت آسمان چھونے لگے گی کہ کیسے کوئی شخص نصف اوّل میں ایک جگہ غالب پر تقریر کر رہا ہے اور دوسرے نصف میں کسی دوسری جگہ لسانیات پر بولتے ہوئے نظر آ رہا ہے۔ کبھی کبھی اسٹیج پر بیٹھنے والے اصحاب کچھ ایسے چہرے ہوتے ہیں کہ دو دن پہلے کسی دوسرے موضوع پر سے می نار ہوا، اُ س میں وہی سارے چہرے بیٹھے ہوئے تھے ۔ ایک میں کسی دوسرے صاحب کی صدارت تھی تو دوسرے میں یہ ذمّہ داری کسی اور شخص کو عطا ہوئی۔ ایک جگہ کا مہمانِ خصوصی دوسری جگہ کا مہمانِ اعزازی ہو گیا۔ مقالہ خواں بھی دونوں جگہ اگر دس دس تھے تو پانچ سات تو وہی چہرے تھے جو دونوں جگہ نظر آ رہے تھے۔یہ صورتِ حال پھر ایک التباس پیدا کرتی ہے کہ یا تو ملک کے کسی ایک گوشے میں یا کسی ایک گانو میںعلم کی دیوی آ کر بیٹھ گئی ہے، باقی سب بے مول اور بے مطلب زندگی گزار رہے ہیں۔
ایسے سے می ناروں میں سب سے زیادہ ماراماری کلیدی خطبہ کے سلسلے سے چل رہی ہے۔زندہ ناموں کے لکھنے کی قباحتیں بہت ہیں مگر ہمارے ملک ہندستان میں اردو میں ایسے ایسے ماہرین ہیں جو دنیا کے کسی بھی موضو ع پر مقالہ تو چھوڑیے، کلیدی خطبہ دینے کے لیے ہمہ وقت تیّاراور ہمہ تن مصروف ہیں۔ایک بار ممتاز شاعرہ کشور ناہید نے کسی ایسے موضوع پربولنے کا فیصلہ کیا تھا جس کے سلسلے سے اُن کی معلومات واجبی تھیں۔ اُس جلسے کے بعد مشفق خواجہ نے اپنے کالم میں لکھا تھا کہ وہ تو اٹامِک پاور پلانٹ پر بھی اُسی اعتماد سے تقریر کرسکتی ہیں۔ایک شخص افسانے پر بولنے کے لیے کھڑا ہو، اگلے روز اُسے ڈرما نگاری پر کلیدی خطبہ پیش کرنا ہے، تیسرے دن مثنویوںپر گفتگو کرنی ہے؛کمال یہ ہے کہ وہ شخص ہر بزم میں حاضر ہوگا، اپنی اُجرت وصول کرے گا اور رسمی گفتگو اور استقبالیہ شان کے ساتھ رُخصت ہو جائے گا۔
جب ہمارے بزرگ اساتذہ یا نقّاد یا علما محفلوں میں آتے تھے تو اُن کا کلیدی خطبہ مکمّل طور سے تحریر شدہ ہوتا تھا۔رواج یہ تھا کی مجلس میں وہ کلیدی خطبہ پڑھنے سے پہلے چھپی ہوئی شکل میں کتابچہ کے طور پر تقسیم کر دیا جائے۔آج اگر اِسے اصول کے طور پر لازم کر دیا جائے تو سارے کلیدی خطبہ خواں اپنے کمروں میں بند ہو جائیں۔ پچا س نہیں تو پچیس صفحات تو لکھنے ہی ہوں گے۔دس پندرہ ہزار الفاظ کے مقالوں کو جب دنیا دیکھے گی تو اس کا جائزہ بھی لے گی اور آپ کے علم کی آزمایش شروع ہو جائے گی۔ اِسی کی کاٹ کے طور پر زبانی گفتگو کا شور برپا ہوا ہے۔مجلس میں آپ آ گئے، آپ سے پہلے کسی نے تعارفی کلمات ادا کر دیے۔کلیدی خطبہ خواں کو کچھ مواد حاصل ہو گیا اور پھر لوگوں کا استقبال، اردو کی عظمت، ہند و پاک اور عالمی طور پر ہماری زبان کی مقبولیت اور آخر آخر وقت کی تنگی اور دوسری میٹنگ یا سے می نار میں جانے کی عجلت؛ کام انجام تک پہنچ گیا۔ کہیں کہیں تو وہ موضوع بھی نہیں آ پاتا اور خطبہ خواں اپنا وقت اور سامعین کا وقت ضایع کرکے رُخصت ہو جاتا ہے۔
بد نصیبی یہ بھی ہے کہ اب ہم کہاں سے سر سید اور شبلی یا نذیر احمد کی طرح کے مقررین لے آئیں، سیّد سلیمان ندوی، عبد الماجد دریابادی، ظ۔انصاری، خواجہ احمد فاروقی بھی ہمارے پاس نہیں۔ آخری مقرر گوپی چند نارنگ بھی چراغِ سحری ہیں۔ باقی جو ہیں، اُن کے پاس علم مختصر، بیان محدود اور الفاظ و محاورات کا دامن تنگ؛ مگر کام چل رہا ہے اور ہزاروں اور لاکھوں سرکاری روپے ہڑپ کیے جا رہے ہیں۔
اِن سے می ناروں میں صدارت اور مجلسِ صدارت کی بھی عجیب و غریب وبا ہے۔بڑی بڑی یونی ور سٹیوں کے صدور اور نامور اساتذہ بھلا مجلس میں صرف مقالہ پڑھنے کے لیے کیوں جائیں گے۔مقالے میں پریشانی یہ ہے کہ کوئی معمولی موضوع بھی چُنا جائے تو اُس پر چار پانچ صفحات تو لکھنے ہی ہوں گے۔بعض کے پاس اِس کی فرصت نہیں اور بہت سارے ایسے ہیں جن کو اللہ نے ایسی صلاحیت ہی نہیں بخشی۔ کچھ کا تو دَم اُن کے لایق شاگردوں کی وجہ سے چل رہا ہے۔اِس میں صدارت یا مجلسِ صدارت کا رُکن ہونے کا فایدہ یہ ہے کہ اُنھیں علمی طور پر سے می نار سے پہلے تک ایک لمحے کے لیے بھی کوئی مشقت نہیں کرنی ہے۔اچھے سوٹ بوٹ یا بنڈی میں آکر اسٹیج پر جلوہ فرما ہو جایئے، بینر کے ساتھ تصویر ہو جائے گی،سوشل میڈیا اور اخباری نمایندوں کے لیے یہی کام کی چیز ہے۔اگر دس لوگوں نے مقالے پیش کیے، تو ایک ایک جملہ بھی انھوں نے وہاں سے اُٹھا لیا تو سمجھیے کہ اُن کی تقریر کے لیے مکمّل مواد تیّار ہو گیا۔ کھانے سے پہلے کا جلسہ ہے تو یہ یاد رہے کہ صدارتی تقریر اور جوشِ طعام میں ایک مقابلہ ہوتا ہے۔صدر کی بھی جان اِسی میں بچتی ہے کہ وہ چند رسمی جملوں کو ادا کرکے لوگوں کو کھانے کے لیے خود ہی مدعو کر دے۔ اُس کی بھی جان چھوٹی اور سامعین بھی اُس کی نا اہلی سے محفوظ رہے۔کبھی کبھی تو مجلسِ صدارت میں تین یا چار یا پانچ افراد نظر آئے، اُن میں سے سب کی جگہ ایک آدمی بولنے کے لیے آ گیا ور فرض ادایگی ہو گی ۔باقی اصحاب فوٹو کھنچانے اور اُجرت لینے اور خوش خوش گھر لوٹنے کے لیے تیّار ہوتے ہیں۔
ایسے سے می ناروں میں مقالہ نویسوں کی تو شان ہی الگ ہے۔بزرگ افراد اور عالم فاضل اساتذہ کلیدی خطبہ دینے ، افتتاح کرنے یا صدارت فرمانے میں ضایع ہو چکے ہیں۔ اب نو عمر نقّاد اور ریسرچ اسکالرز بچ گئے ہیں۔ اُن ہی کے کندھوں پر ایسے سے می ناروں کا علمی زور قایم ہے مگر وہ ذہین ہیںاور بزرگوں سے دنیا داری کے سارے گُرسیکھ کر آئے ہیں۔ اُن کے لیے تو کسی موضوع کی کوئی قید ہی نہیں ہے۔ آپ سے می نار کریں، اُنھیں ہزار، دو ہزار معاوضہ پیش کریں، وہ شریک ہو جائیں گے۔ آپ کے کچھ انتظامی کاموں میں بھی ہاتھ بٹا دیں گے۔ایک دو صفحے کا مقالہ لکھ لیا، تھوڑی رسمی گفتگو، ذرا سی تحریر ،پھر وقت کی تنگی کا شکوہ اور اختتامی تقریر ۔اردو زبان و ادب کی خدمت کا کام مکمّل ہوا۔ افسوس اِس کا ہے کہ نہ ایسے مقالے کہیں شایع ہوتے ہیں اور نہ اُن حضرات کی کتابوں میں کہیں وہ دو چار صفحات دکھائی دیتے ہیں۔اساتذہ سے لے کر نو عمر اسکالرز کا یہی حال ہے ۔ پرانے زمانے میں کٹ پیسٹ کی اصطلاح رایج ہوئی تھی ،اب تو کتابوں سے سیدھے دو چار صفحات نقل کرکے پیش کر دیے جانے کی علّت عام ہو گئی ہے۔جب تک وہ مقالے چھپیں نہیں، اُن کا محاسبہ کو ئی کیاکرے۔
آئیے چند الفاظ سامعین کے لیے بھی ۔ اسرار جامعی مرحوم نے ایک قطعہ میں اردو کے سے می ناروں میں شرکا کی تعداد کو موضوعِ بحث بنا کر کہا تھا کہ کھانے سے پہلے اور کھانے کے بعد اجلاسوں میں موجودافراد کی تعداد گِن لیجیے، حقیقت سمجھ میں آ جائے گی۔ اب تو یہ حال ہے کہ سوشل میڈیا پر مقررین کی درجنوں تصویریں پیش کی جاتی ہیں مگر غلطی سے بھی سامعین کی تصویریں نہ دی جاتی ہیں ورنہ پول کھُل جائے گا۔ابھی ایک بڑے صحافی نے دہلی کے ایک عالمی مشاعرے میں سامعین کی جو تصویریں پیش کیںوہاں دونوں ہاتھ کی انگلیاں بھی شاید پوری ہو سکیںسامعین کی تعداد گننے کے لیے مگر اِس کے پردے میں دس بیس لاکھ کہاں چلے جاتے ہیں، یہ کسی کو معلوم نہیں۔سچائی یہ ہے کہ کسی سے می نار کا موضوع معقول ہو، اُس میں اُس موضوع کے ماہرین کو مقالہ خوانی کی دعوت دی گئی ہو تو ایسا نہیں ہے کہ سامعین بہ شوق نہیں آئیں گے مگر بے غرض سامعین بھی اپنے وقت کو کیوں ضایع کریں گے۔
آج ضرورت اِس بات کی ہے کہ عوام کے ٹیکس سے جمع ہوئی رقم جو سرکار ہمارے لیے خرچ کرتی ہے ،اُسے اِس طرح بے دریغ اور بے مصرف نہ لُٹایا جائے۔تعلیم و تدریس، زبان کے علمی معیار کے تعین کے لیے یہ سے می نار قطب نما ہوتے تھے مگر دو کوڑی کے ہمارے دوستوں نے چند سکّوں اور ذاتی مفادات کے عوض اُسے وہا ںتک پہنچا دیا جہاں سے اُسے نکالنا مشکل تر ہے۔ خوابِ غفلت سے ہمیں جلد از جلد بے دار ہونا چاہیے۔
[مقالہ نگار کالج آف کامرس، آرٹس اینڈ سائنس، پٹنہ میں اردو کے استاد ہیں]
safdarimamquadri@gmail.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

