Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      جون 6, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      سنت ابراہیمی کی حقیقی روح اور اس کا…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      آبِ زمزم کے طبی ، روحانی اور سائنسی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قربانی صرف رسم نہیں، اللہ کے حکم کی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      جون 6, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      سنت ابراہیمی کی حقیقی روح اور اس کا…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      آبِ زمزم کے طبی ، روحانی اور سائنسی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قربانی صرف رسم نہیں، اللہ کے حکم کی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
کتاب کی بات

by adbimiras مارچ 22, 2022
by adbimiras مارچ 22, 2022 0 comment

نئی پرانی کتابیں : تبصرہ نگاری کا ایک نیا باب – ڈاکٹر محمد ذاکر حسین

 

تبصرہ نگاری کی روایت اتنی ہی پرانی ہے جتنی معیاری ادب کی۔ ادب معیار کے اعتبار سے جتنا مستحکم اور پائیدار ہوتا جاتا ہے، اسی رفتار سے اس کی شاخیں بھی نکلنے لگتی ہیں۔ پھر ان شاخوں میں گل بوٹے بھی کھلنے لگتے ہیں۔ ان گل بوٹوں میں چند ایک پھول ہی ایسے ہوتے ہیں جو اپنے رنگ، اپنے آہنگ، اپنے انداز، اپنی خوشبو اور اپنی جاذبیت کے اعتبار سے سب سے الگ اور نمایاں ہوتے ہیں۔ اس زاویے سے اگر اردو ادب کی تاریخ پر نگاہ ڈالی جائے اور موضوع وار کتابوں کی فہرست بنائی جائے تو چند کتابیں ہی ایسی ملیں گی جنھیں رجحان ساز کتابوں کے زمرے میں رکھی جا سکتی ہیں۔دیوان غالب، مقدمہ شعر و شاعری، خطوط غالب، رسالہ تہذیب الاخلاق، ابن الوقت، آب حیات، باغ و بہار، پودے، نذیر کی کہانی نذیر کی زبانی، قطب مشتری، فسانہ عجائب، الفاروق، غبار خاطر، ارض القرآن، اردو شاعری پر ایک نظر،  دبستان دہلی اور لکھنؤ پر تبصرہ وغیرہ ایسی تحریریں ہیں جو اپنے زمانے کے مروجہ آداب و اصول، چلن اور دھارے کے خلاف لکھی گئیں۔ کیونکہ ہر دور میں چند افراد ہی ایسے ہوتے ہیں جو نفع و نقصان سے بالا تر ہو کر اپنے خیالات و نظریات کی رونمائی کیا کرتے ہیں۔ حالانکہ انھیں اپنے اس ’’ شوق بے مروجہ‘‘ کا خمیازہ بھی بھگتنا پڑتا ہے اور اپنی حقیقت پسندانہ باتوں اور بے لاگ آرا ئ اور تبصروں پر کم علم زمانے کی پھبتیاں بھی سننی پڑتی ہیں۔ جب کہ انھیں ’ دیوانوں‘ کی بدولت ادب نئی چاشنی، نئی تازگی اور نئے رنگ و آہنگ سے لبریز ہو کر مستقبل کی راہ ہموار کرتا ہوا اپنے استحکام کی کہانی لکھتا رہتا ہے۔ تبصرہ نگاری کا فن بھی انھیں حالات کا سامنا کرتا ہوا موجودہ عہد میں داخل ہوا ہے۔

سرسید اور اس کے رفقا نے جن ٹھوس بنیادوں پر تبصرہ نگاری کی روایت قائم کی تھی، وہ روایت سید سلیمان ندوی، عبد الماجد دریابادی، قاضی عبد الودود، رشید حسن خان اور ظ۔ انصاری کے ہاتھوں مزید مستحکم ہوئی۔ ان کے بعد تبصرہ نگاری کے فن کو اس طرح پامال کیا گیا کہ یہ مدح سرائی اور ثنا خوانی کا مترادف ہو گیا۔ موجودہ دور میں فرمائشی تبصروں کی اتنی بھرمار ہو گئی ہے کہ وہ تبصرہ نہ ہو کر تقریظ بن گیا ہے۔ علم کی ارزانی اور قلم کی فراوانی نے اس فن کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ اس دور میں جو بھی تبصرے لکھے جارہے ہیں، اس میں تبصرہ نگاروں کی مصلحت پسندی یا کم علمی کا سب سے زیادہ عمل دخل ہوتا ہے۔ بعض حضرات اپنے دوستوں کو خوش کرنے کے لئے اپنے علم کا گلا گھونٹ کر اور مصلحت کا لبادہ اوڑھ کر اس فرض کو انجام دیتے ہیں اور بعض حضرات اپنی کم علمی کی ستر پوشی کی خاطر اس میدان کے ’شہسوار‘ بن جاتے ہیں۔ ظاہر سی بات ہے ان دونوں صورتوں میں صرف تعریف ہی ہو سکتی ہے۔ اس قسم کے تبصرے اتنے فرسودہ اور پامال ہو چکے ہیں کہ وہ اپنے قاری سے کوسوں دور ہو گئے ہیں۔ ایسے میں جب کوئی تحریراپنے زمانے کی مروجہ لہروں اور دھاروں کے بر عکس ہوتی ہے تو ادب کی منجمد لہریں از خود تحلیل ہونے لگتی ہیں۔ صفدر امام قادری کی تازہ تصنیف ’’ نئی پرانی کتابیں‘‘ اس معنی میںبڑی اہمیت کی حامل ہے کہ وہ تبصرہ نگاری کے باب میں ’ مقدمہ شعر و شاعری‘ بن کر بانگ درا کا کردار نبھارہی ہے۔

صفدر امام قادری اردو کے ایک معتبر اور جینوین نقاد ہیں جو اپنی بے باک رایوں اور بے لاگ تبصروں کی وجہ سے اردو ادب و تنقید میں ایک منفرد شناخت رکھتے ہیں۔ یہی وجہ کہ جب بھی ان کی کوئی تحریر منظر عام پر آتی ہے تو اردو ادب کی خاموش فضا میں زندگی کی لہر دوڑ جاتی ہے اور فکری انجماد میں حرکت پیدا ہو جاتی ہے۔ چونکہ ان کا علم گہرا، فکر عمیق، مطالعہ وسیع اور ذہن غیر معمولی صلاحیت کا حامل ہے اور اخذ نتائج میں انھیں دستگاہ کامل حاصل ہے، اس لئے ان کی تحریریں پورے انہماک اور بڑے شوق و رغبت سے پڑھی اور سنی جاتی ہیں۔ ۱۹۹۴ میں ان کی پہلی کتاب ’’ صلاح الدین پرویز کا آئڈنٹٹی کارڈ‘‘ اردو دنیا سے متعارف ہوئی۔ اس کتاب میں ان کے انداز تحقیق و تنقید اور ان کے تیور کو دیکھ کر اردو کے بہی خواہوں کو اندازہ ہو گیا کہ مستقبل قریب میں اردو ادب کو ایک ایسا بے باک ناقد اور محقق ملے گا جو صحیح معنوں میں قاضی عبد الودود اور کلیم الدین احمد کی روایتوں کا امین اور وارث ہوگا اور جو اپنی تنقیدی بصیرت اور تحقیقی ژرف نگاہی کا ایک ایسا نقش قائم کرے گا جو ’ ضرب کلیمی‘ کا کام دے گا۔یہی نقش ’’ نئی پرانی کتابیں‘‘ میں واضح طور پر دکھائی دے رہا ہے۔ موجودہ دور میں اردو تنقید و تبصرے میں جو بے اعتدالیاں راہ پا گئی ہیں اور جس بے تکے انداز میں تنقید اورتبصرے لکھے جا رہے ہیں، ایسے ماحول میں ایسی تحریر کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی تھی جو آب حیات کا کام دے۔اس لحاظ سے ’ نئی پرانی کتابیں‘ ایک تابناک شعاع بن کر جلوہ گر ہوئی ہے۔ اس کتاب کو پڑھ کر پہلی نظر میں جو تأثر قائم ہوتا ہے، وہ یہ کہ کتابیں کیسی، کس طرح اور کیوں لکھی جائیں۔ اس ضمن میں صفدر امام قادری چند بنیادی باتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’ آج اکثروبیش تر ایسی کتابیں لکھی جاتی ہیں جن کے مصنّفین کے ذہن میں اپنے موضوع کے بارے میں کوئی شفّاف تصوّر نہیں ہوتا اور نہ ہی انھیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے تجزیے کی کشتی کس ساحل پر لگے گی یا کس بھنور میں ہچکولے کھاتی رہے گی۔ انھیں اپنی کامیابیوں اور ناکامیوں کا ٹھیک ٹھیک پتا نہیں ہوتا، صرف غرورِ بے جا کا دھواں اُن کے اِرد گرد پھیلا ہوتا ہے۔‘‘ (ص ۱۴)

صفدر امام قادری نے مذکورہ بالا اقتباس میں جن بنیادی نکتوں کی وضاحت کی ہے، یہ وہ رہنما اصول ہیں جن پر عمل پیرا ہو کرکوئی بھی ادب کا طالب علم اپنی نگارشات کو اعتبار کا درجہ دلا سکتا ہے۔ صفدر صاحب جب بھی کسی حقیقت کی نقاب کشائی کرتے ہیں تو اس کے پس پردہ کچھ شواہد ہوتے ہیں۔ پرفیسر محمد مجیب کی کتاب’ ہندستانی سماج پر اسلامی اثر‘ جب ان کے مطالعے میں آئی تو کسی طرح کی بخالت سے نہ کام لیتے ہوئے یہ اظہار کرنے میں کوئی جھجھک نہیں محسوس کی کہ:

’’ ان پہلوؤں پر محمد مجیب نے کچھ اس انداز سے جملے رقم کیے ہیں کہ مذہبی صحائف یا اقوالِ زرّیں جیسی زبان پیدا ہوگئی ہے۔ یہ ناقابلِ یقین ہے اور حیرت سے آنکھیں پھٹی رہ جاتی ہیں کہ ۸۰۰ سے زیادہ برسوں کی اُتھل پُتھل کی کہانی بارہ چودہ صفحے میں اس طرح سے قید ہوگئی ہے کہ آپ اس کے سیاہ و سفید ہرپہلو کو دیکھ لیتے ہیں۔ موضوع پر حیرت انگیز گرفت ، ذاتی مشاہدے کی صلابت اور فکر کی ایسی اُپج ہے کہ ہمارے بالکل پاس سے ایسی کوئی مثال پیش کردی جائے گی جسے ہم تو ہیچ سمجھ رہے تھے لیکن محمد مجیب نے اسے ہنداسلامی تاریخ کاستونِ نوبنادیا۔‘‘ ( ص ۱۴)

غالب، سرسید، اقبال اور مولانا ابوالکلام آزاد اردو کے ان مایہ ناز ادبا و شعرا میں شمار ہوتے ہیں جن کی حیات اور فکر و فن کے تعلق سے اتنی کثیر تعداد میں کتابیں شائع ہو چکی ہیں کہ یہ اردو ادب کے الگ الگ شعبے بن کر غالبیات، سرسیدیات، اقبالیات اور آزادیات کے نام سے مشہور ہو چکے ہیں۔ ان میں معیاری، غیر معیاری ہر قسم کی کتابیں ہیں۔ ان شخصیات میں سے کسی ایک پر لکھنا اور اسے سند کا درجہ دلوانا، ایک بڑی چنوتی ہوتی ہے۔ اس طرح کی کتابیں جب کسی ناقد اور مبصر کے مطالعے میں آتی ہیں تو کتابوں کے جم غفیر میں اس کتاب کے معیاری اور غیر معیاری ہونے کے ثبوت فراہم کرنا، اس کے لئے سب سے بڑا چیلنج ہوتا ہے۔اس وقت یہ چیلنج اور بڑا ہو جاتا ہے جب وہ کتاب اردو کی بجائے دوسری زبان میں شائع ہوئی ہو۔اس نوع کے معرکہ کو سر کرنا صفدر امام قادری کو بخوبی آتا ہے کیونکہ اسی دریا کی شناوری اور اسی دشت کی سیاحی میں ان کے شب و روز گزرتے ہیں۔ دیکھئے سرسید پر شافع قدوائی کی انگریزی کتاب کا کس انداز میں تجزیہ کرتے ہیں:

’’سر سیّد پر اردو میں صحافت کے حوالے سے جو کتابیں موجود ہیں، ان سے اگر شافع قدوائی کی کتاب کا موازنہ کیا جائے تو کئی دل چسپ نتائج برآمد ہوں گے۔ علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ کے حوالے سے اصغر عباس کی کتاب کی بہت شہرت ہے۔ لیکن اس میں سرسیّد کی تحریروں کو مکمّل یا اقتباس کی صورت میں پیش کرنے میں زیادہ توجّہ دی گئی ہے۔ تحلیل و تجزیہ یا بحث طلب امور سے جوجھنے میں مصنّف کی طبیعت مائل نہیں ہوئی۔ اس کے برعکس شافع قدوائی کی اس کتاب میں حقائق کے متوازی سر سیّد اور ان کے رفقا کی تحریریں اور سر سیّد کے خطوط، اخباری تراشے اور نہ جانے کتنی چیزیں ساتھ ساتھ چلتی رہتی ہیں۔ تحقیق کا یہ انداز بہت دل پذیر اور قلب کو ٹھنڈک پہنچانے والا ہے۔ شافع قدوائی کو کچھ فائدہ انگریزی زبان سے بھی ہوا ہے۔ کیوں کہ اردو اور انگریزی کے علمی مزاج میں جو واضح فرق ہے، اس سے انھوں نے خودکو غیر ضروری صفات اور مبالغہ آمیزی سے دور رکھاہے ۔ اﷲ کرے کہ اس کتاب کا اردو ترجمہ فوری طور پر سامنے آجائے تا کہ اپنے موضوع پر اتنے سلیقے سے لکھی ہوئی یہ کتاب اپنے اصل قارئین تک بھی پہنچ جائے۔ ‘‘ ( ص ۳۹)

’’ نئی پرانی کتابیں‘‘ میں شامل تبصروں سے اندازہ ہوتا ہے کہ صفدر امام قادری جب کسی کتاب کا مطالعہ کرتے ہیں تو اپنے مطالعے کے نچوڑ کو اس پختگی کے ساتھ پیش کرتے ہیں کہ اس کتاب کی ساری خوبیاں اور خامیاں ایک شفاف آئینے کی مانند نظروں کے سامنے آجاتی ہیں۔اردو میں خود نوشت سوانح عمریاں بھی ایک بڑی تعداد میں لکھی گئی ہیں لیکن ان میں چند ہی ایسی ہیں جو قاری کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب ہو سکی ہے۔ ابھی حال میں ریاض الرّحمان شروانی کی بھی ایک خودنوشت منظرعام پر آئی ہے۔ اس خود نوشت کا جس معروضی اور منطقی انداز میں انھوں نے تجزیہ کیا ہے، وہ خاصے کی چیز ہے۔ صفدر صاحب کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ جب وہ کسی کتاب کو فن کی کسوٹی پر پرکھتے ہیں تو اس موضوع پر اس سے قبل لکھی گئی کتابوں میں اس کتاب کا جوازبھی ڈھونڈتے ہیں۔ اگر وہ اس موضوع پر اضافہ کی حیثیت رکھتی ہے تو اس کا برملا اظہار بھی کرتے ہیں۔اس خود نوشت کا اردو کی دیگر خودنوشتوں سے موازنہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’ کسی بھی خودنوشت میں مصنّف ہیروہوتاہے۔ اکثر لوگ اپنی شخصیت کے تاروپودکچھ اس طرح سے گڑھتے ہیں جس سے یہ التباس قایم ہو کہ اگروہ پیدا نہیں ہوتے توقومی زندگی کا نظام بگڑ جاتا۔ ریاض الرّحمان شروانی نے خودنوشت لکھنے کے باوجود خودکو ایسی مرکزیت بخشنے میں دلچسپی نہیں لی۔ اس خود نوشت کا یہ ایسا جمہوری مزاج ہے جس پر دوسرے معاصرین کی ہزار ڈینگیں قربان ہوجائیں ۔‘‘ (ص ۵۸)

اس دعوی کے ثبوت میں انھوں نے اس خود نوشت سے وہ حصہ بطور اقتباس پیش کیا ہے جس میں ریاض الرحمان خان شروانی نے اپنے آباؤ اجداد اور اہل خاندان کے متعلق معلومات فراہم کی ہیں۔ اس خود نوشت کے مجموعی مطالعہ کے بعد انھوں نے بجا طور پر یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ:

’’ ریاض الرّحمان شروانی نے متعدّد علمی کام کیے۔ ’میرکارواں‘ جیسی پُرمغزکتاب تحریر کی لیکن اپنی زندگی کے آٹھ برسوں کو خونِ جگر کے ساتھ پاکیزگی اور ایمان کی بھٹّی میں تپاکر جوخودنوشت لکھّی، وہ روز روز لکھی جانے والی کتابوں جیسی نہیں۔ مختصر سادائرۂ کار ہے، واقعات کی پیش کش میں کوئی طول بیانی بھی نہیں ۔رنگ آمیزی سے تو انھیں دور کا سروکار نہیں ۔کسی پر اتّہام ، بہتان اورالزام تراشی کا بھی شوقِ بے جا انھوں نے نہیں پالالیکن قومی زندگی اوراپنے خوابوں کے زوال کے کچھ مناظر اس طرح سے یہاں جمع ہو گئے ہیں جیسے لگتا ہو کہ یہ خودنوشت نہیں، ہماری قومی زندگی کی شکستِ خواب کاکوئی نوحہ ہے۔ کتاب ختم کرتے کرتے پڑھنے والا’متاعِ بے بہا ہے دردوسوزِآرزومندی‘ کی صبرآزما منزل تک پہنچ جاتاہے۔ خداریاض الرحمان شروانی کی عمر بڑھائے اوراس خود نوشت کے دوسرے اجزابھی انھیں قلم بند کرنے کا موقع عنایت کرے۔آمین۔‘‘ (ص ۷۶)

کچھ برسوں سے اردو میں شخصیت پرستی اور گروپ ازم کی جو مکروہ روایت شروع ہوئی ہے، اس نے اردو ادب کے ماحول کواتنا پراگندا کر دیا ہے کہ صحیح اور مثبت ادب کی رفتار دھیمی پڑ گئی ہے۔ ہر گروپ نے اپنا اپنا بت الگ تراش لیا ہے۔ اس کی ساری کاوشیں اسی بت کے ارد گرد گھومتی ہیں۔اس کی تمام تگ و دو صرف یہ ثابت کرنے کے لئے ہوتی ہے کہ کسی طرح اس بت کو اردو کا ’ بھگوان‘ مان لیا جائے۔ اردو کے صحیح بہی خواہ اور سچے عاشق سے یہ بات کیسے ہضم ہو سکتی ہے کہ ہر رطب و یابس کی پذیرائی کی جائے۔ شمس الرحمن فاروقی اور گوپی چند نارنگ بلا شبہ اردو کا ایک بڑا نام ہے۔ ان کے تنقیدی اور تحقیقی کاموں کا تجزیہ بھی اسی معیار اور سطح پر کیا جانا چاہئے جس کے وہ حامل ہیں۔لیکن اس کے برعکس صرف ان کی مدح سرائی کے قصے ثبت کئے جا رہے ہیں۔ موجودہ دور کے اس ادبی چلن کا بھی صفدر امام قادری نے اپنی کتاب میں حقیقت پسندانہ کا جائزہ لیا ہے۔ چنانچہ احمد محفوظ کی کتاب’’ شمس الرحمن فاروقی: شخصیت اور ادبی خدمات‘‘ کا نچوڑ وہ اس انداز میں پیش کرتے ہیں:

’’ میرا ماننا ہے کہ یہ کتاب فاروقی صاحب کی نگرانی میں مرتّب ہوئی ہے، اسی لیے اس میں اُن کی پسند کے تمام چہرے موجود ہیں۔ فاروقی صاحب اپنی تنقید برداشت نہیں کرتے۔ اُن کے معترضین اُن کے ذاتی دشمن کے شمار میں آتے ہیں۔ ’’شب خوں‘‘ میں ایک معمولی خط پر بھی چھوٹی عمر کے لوگوں تک کو تُرکی بہ تُرکی جواب دینے سے انھوں نے کبھی گریز نہیں کیا۔ احمد محفوظ نے اس مسئلے کو نگاہ میں رکھتے ہوئے اپنا دائرۂ کار طے کیا۔ اپنی پسند کے لوگوں سے اور مَن چاہی گفتگو سننے کے خیال سے یہ کتاب ترتیب دی گئی ہے؛ اس لیے اس کا کوئی اعلا ادبی مقصد نہیں۔ خاص طور سے فاروقی صاحب کے علم وفضل، کمالات اور شخصیت کے پیچ وخم کو سمجھنے کی نیّت سے جو کوئی یہ کتاب پڑھے گا، اُسے مایوسی ہاتھ لگے گی۔ یہ کتاب ایک مثال ہے کہ بڑی ادبی شخصیات پر کیسی کتابیں شائع نہیں ہونی چاہییں۔ مستقبل کے مرتّبین احمد محفوظ کی ترتیب دادہ کتاب کو اسی طور پر یاد کریں گے۔‘‘ (ص ۱۷۴)

اسی طرح گوپی چند نارنگ کو اردو رسالہ’ استعارہ‘  کے مدیر نے بے تکے انداز میں اردو کا مسیحا ثابت کرنے کی کوشش کی تو صفدر امام قادری نے اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہوئے لکھا کہ:

’’ اس رسالے کی اشاعت کا اصل مقصد پروفیسر گوپی چند نارنگ کو اردو تنقید کی سرخیلی عطا کرنا ہے۔ اس کے لیے ایک مدیر جتنے جتن کر سکتا ہے، اس میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی ہے۔ ایسے ایسے کرتب موجود ہیں کہ کوئی پڑھنے والا رسالے کی اشاعت کے ’مقصدِ خاص‘ سے غافل نہیں رہ سکتا۔ شمارۂ اوّل کے اداریے میں  صلاح الدین پرویز بتاتے ہیں : ’’ہمارا عہد ’قاری اساس تنقید‘ کا عہد ہے‘‘۔ نارنگ صاحب کے کتابچے کے نام کو واوین میں محصور کر کے پڑھنے والوں کو اس کا موقع بھی نہیں دیا گیا کہ کسی غفلت کے مرحلے میں وہ اس جملے کا عمومی مفہوم بھی سوچ سکیں۔ یہ عمل قاری اساس تنقید کے اصول کے بھی منافی ہے۔ شروع میں ہی انتظار حسین کی ایک مضمون نما تحریر شائع کی گئی ہے جس میں مابعد جدیدیت کے نظریہ ساز کے بہ طور نارنگ صاحب کی عظمت اور سرداری کا والہانہ انداز میں غیر مشروط اعتراف کیا گیا ہے۔ محمود ہاشمی کے مضمون میں بھی بار بار پروفیسر نارنگ کا وِرد موجود ہے اور اردو تنقید میں اُن کے تاریخی رول کا اقرار ملتا ہے۔ جیسے :  ’نارنگ صاحب کا یہ سوال‘، ’یہ مطالعہ اور یہ تجزیہ بہت صحیح ہے‘، ’جن کے لیے پروفیسر نارنگ ’قاری اساس تنقید‘ لکھ چکے ہیں‘، یا’ پروفیسر گوپی چند نارنگ نے اپنے حالیہ ادبی مباحث میں یہ اہم ترین سوال اٹھایا‘۔ محترمہ زینب علی (؟) نے لکھا : ’حالی کے بعد وہ پہلا شخص گوپی چند نارنگ ہے جسے جدیدیوں نے لہو لہان کردیا، صرف اس لیے کہ ادب کا ’مسیحا‘ وہ نہ بن سکے‘۔(ص۱۸۵۔۱۸۶)

وہاب اشرفی، ابوالکلام قاسمی اور ناوک حمزہ پوری عہد حاضر میں اردو ادب کے وہ نام ہیں جن کے تنقیدی فرمودات اور تحقیقی ارشادات کو سند کا درجہ حاصل ہے۔ لیکن ان کی تحریروں کو آج تک کسی نے اس زاویے سے پرکھا ہی نہیں کہ انہوں نے اپنے جن افکار و نظریات کی رو نمائی کی، وہ ان کی اختراع ہیں یا کہیں سے اخذ شدہ ہیں۔یا انھوں نے اپنے مطالعے کی روشنی میں جو نتائج اخذ کئے ہیں، وہ کہاں تک درست ہیں۔ اخذ نتائج میںکسی طرف داری یا جانب داری کی بو تو نہیں آرہی ہے۔ صفدر امام قادری نے اپنی اس کتاب میں اس نقطہ نظر سے بھی ان اکابرین ادب کی تحریروں کا جائزہ لیا ہے۔ وہاب اشرفی کی جملہ کتابوں کے مطالعے کے بعد انھوں نے ایسے حیرت انگیز نتائج اخذ کئے ہیں جو ہماری آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہیں۔ اس ضمن میں وہ لکھتے ہیں:

’’  پختہ عمری میں وہاب اشرفی کے ہاں ایک اور ادبی بدعت یہ آئی کہ وہ کتابوں سے کتابیں بنانے(Book Making)میں اپنی مہارت کا استعمال کرنے لگے۔ ان کی ساہتیہ اکادمی انعام یافتہ کتاب ’تاریخ ادب اردو‘ (تین جلدیں) ملاحظہ کیجئے جہاں مختلف افراد کی کتابوں کے تراشوں کو ہو بہو کہیں ان کے اقتباس کے طور پراور کہیں بغیر حوالہ کے اپنی کتاب کا حصہ بنانے میں انھیں کوئی دریغ نہیں۔۔ایسی کم از کم ایک سو کتابوں کی نشان دہی کی جاسکتی ہے جن کے صفحات کے صفحات وہاب اشرفی نے ہضم کر لئے ہیں۔(ص ۱۱۹۔۱۲۰)

اسی طرح’’ معاصر تنقیدی رویے‘‘ میں ابوالکلام قاسمی کی تنقیدی جانب داری کا خلاصہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’  ہمارے زمانے کے بزرگ ترنقّادوں کے بعد جو صفِ دوم قائم ہوتی ہے، ان میں ابوالکلام قاسمی اپنی علمی تیّاری کے اعتبار سے سب سے پختہ کارمانے جاتے ہیں۔ زبان اور انشا کے تعلّق سے بھی ان کے احوال چُست درست ہیں۔ لیکن مضامین میں اپنے ادبی مسلک کے تئیں بے جا جھکاو، تحقیقی اعتبار سے حقائق کی پیش کش میں عدم مستعدی، ادبی نمونوں کے انتخاب میں غیر معروضیت یا عدم درجہ بندی اور عملی تنقید سے گریزاں ہونا، ایسی رکاوٹیں ہیں جنھیں پار کیے بغیر اردو کا نیانقّاد سامنے نہیں آسکتا۔ یہ ابوالکلام قاسمی اور ان سے توّقعات رکھنے والے ادب فہموں، دونوں کے لیے ایک چیلنج ہے۔‘‘ (۱۳۷)

ناوک حمزہ پوری کی کتاب’ آوازے ہست‘ کا یہ تجزیہ بھی ہمیں ایک نئی حقیقت سے آگاہ کراتا ہے :

: ’’ناوک حمزہ پوری کی اس کتاب کو کوئی بڑا تنقیدی صحیفہ کہنا مشکل ہے ۔ وہ ادبی متون کے  بطن میں اُتر کر تحلیل وتجزیہ کی خو‘ کم کم اپنا تے ہیں ۔ اس کے بغیر تنقیدی اعتبار سے شاید ہی کوئی بڑا کارنامہ سامنے آسکتا ہے۔ یہ کتاب ایک معّمر ادیب اور مستند استاد شاعر کی خوش گپّی کی طرح ہے۔.حضرت جب ترنگ میں ہوںتو گہرے رموز ہاتھ آجائیں اورجب عمر کی تھکان حاوی ہوجائے تب اِدھر اُدھر کی یادوں کا بے جوڑ سلسلہ سامنے آجائے ۔ اس کتاب میں علمی نکتے اورگانٹھ میں باندھ لینے والے اشارے بہت ہیں ۔ لیکن وہ غیر ضروری رسومیاتِ علمی اور فضولیات کے جنگل میں کھو گئے ہیں ۔ صد حیف، استاذا لاساتذہ ناوک حمزہ پوری کی کتاب سے گزرتے ہوئے خاکسار ان کے  تحسینی رویّے کو قایم نہیں رکھ سکا ۔‘‘ (ص۱۴۳)

صفدر امام قادری کے نقد و تبصرہ کا یہی انداز اس کتاب میں شامل دیگر مضامین:تعلیم جدید کا مثالی منثور، متعلقات احمد جمال پاشا: ایک مثالی دستاویز، بہار کی ادبی تاریخ نویسی اور مظفر اقبال کی تحقیق، حیات اعلا حضرت: فن سوانح نگاری کے آئینے میں، شیخ سعدی، صابر القادری اور افادہ بخش ادب، حبیب تنویر کا رنگ منچ، مولانا آزاد کا قیام رانچی: احوال و آثار، فرہنگ لفظیات غالب، بہت شور سنتے تھے۔۔۔، معلم اردو کا گوشہ احمد جمال پاشا، زبان و ادب کا حفیظ بنارسی نمبر، نگارشات خواتین نمبر، پیروڈی کا فن، مرزا عظیم بیگ چغتائی کی ادبی خدمات،میں بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔وہ زیر مطالعہ کتابوں کا تجزیہ اور اس کا نچوڑ اس ڈھنگ سے پیش کرتے ہیں کہ اس موضوع سے متعلق ساری باتیں بیک نظر سامنے آجاتی ہیں۔ نقد و تبصرہ کا یہ انداز بہت نرالا ہے اور کبھی کبھی رشک کے ساتھ ساتھ حسد بھی ہونے لگتا ہے۔

اردو زبان و ادب کی بہت ساری خوبیوں میں سے ایک خوبی یہ بھی ہے کہ اسے ہر دور اور ہر زمانے میں ایسے افراد میسر ہوئے جنھوں نے اپنے زمانے کی ادبی بے راہ رویوں اور بے اعتدالیوں پر قدغن لگانے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی اور نہ صرف کمیوں اور خامیوں کی نشاندہی کی بلکہ عملی طور پر اس کا عملی نمونہ بھی پیش کیا۔ چنانچہ جب اردو نثر مسجع اور مقفی عبارتوں کے جنجال میں پھنس گئی تو سرسید نے اپنے رسالے ’ تہذیب الاخلاق‘ اور غالب نے اپنے خطوط کے ذریعہ اس کی صفائی اور ستھرائی کا بیڑا اٹھایا، جب شاعری بے راہ روی کے دلدل میں دھنستی نظر آئی تو حالی نے’ مقدمہ شعر و شاعری‘ اور کلیم الدین احمد نے ’اردو شاعری پر ایک نظر‘ کے توسط سے اسے نکھارنے کی کوشش کی اور جب اردو تحقیق و تنقید اپنا اعتبار کھونے لگی تو قاضی عبد الودود اور کلیم الدین احمد نے اپنی تحریروں سے اسے اعتبار بخشا۔ اسی طرح جب آج اردو تبصرہ نگاری اپنے اصل راستے سے دور جا چکی ہے، ایسے میں صفدر امام قادری کی نئی کتاب’’ نئی پرانی کتابیں‘‘ ایک امید کی کرن بن کر سامنے آئی ہے۔ یہ کتاب اردو تبصرہ نگاری کے باب میں ایک ایسا صاف و شفاف آئینہ ہے جس میں شکلوں کو نکھارا اور سنوارا جا سکتا ہے اور اپنی خامیوں کی اصلاح کی جا سکتی ہے۔ اس کتاب میں شامل تبصروں کی روشنی میں صفدر امام قادری کی جو تصویر ابھر کر سامنے آتی ہے، وہ ایک ایسے بے لوث ناقد و محقق کی ہے جو معیاری ادب کو سراہتے ہوئے بے پناہ خوشی کا اظہار کرتا ہے اور جب غیر معیاری ادب سے اس کا سامنا ہوتا ہے تو اس کا اظہار بھی بے لاگ ہوتا ہے۔ پھر وہاں دوست دشمن اور استاد شاگرد کی کوئی تفریق نہیں ہوتی ہے۔ یہ مقام کسی ادیب اور ناقد کو اسی وقت حاصل ہوتا ہے جب وہ اپنے اصول سے سر مو انحراف کرنا نہیں جانتا۔ اصول کی پابندی ہی سے تحریر میں توازن اور اعتدال بر قرار رہ سکتا ہے۔  ان تحریروں میں ہمیں ان ادوار کی جھلک صاف دکھائی دیتی ہے، جن ادوار میں حالی، کلیم الدین احمد اور قاضی عبد الودود نے اپنی بے لاگ رایوں سے اردو دنیا میں ایک انقلاب برپا کیا تھا۔ اس عمل میں ان بزرگوں نے کسی بھی بت کے آگے سجدہ ریز ہونا پسند نہیں کیا بلکہ اپنے اصول کی کسوٹی پر سب کو پرکھتے چلے گئے اور جو بھی اس زد میں آیا، اس پر بلا خوف و خطر ان کا قلم چلا۔ بزرگوں کی اسی روایت کو صفدر امام قادری اپنی تحریروں میں دوبارہ زندہ کر رہے ہیں اور یہ ایک خوش آئند اقدام ہے، جس کی پذیرائی بہر صورت ہم پر لازم ہے۔کوئی تو ہو جو ہمیں جھنجھوڑے، گہری نیند سے جگائے۔

 

 

ڈاکٹر محمد ذاکر حسین

خدا بخش لائبریری، پٹنہ

Email: zakirkbl@gmail.com

Mobile: 09199702756

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
بنگلا نژاد پہلا اردو شاعر: محمد محمود الاسلام – ڈاکٹر صفدر امام قادری
اگلی پوسٹ
حالیہ اسمبلی انتخابات: اندیشے اور امکانات – نثار احمد

یہ بھی پڑھیں

جون 6, 2026

فروری 2, 2026

فروری 1, 2026

دسمبر 14, 2025

ستمبر 29, 2025

جولائی 12, 2025

جولائی 12, 2025

فروری 5, 2025

جنوری 26, 2025

ظ ایک شخص تھا – ڈاکٹر نسیم احمد...

جنوری 23, 2025

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (186)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (120)
  • تخلیقی ادب (599)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (202)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (143)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,050)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (537)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (219)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (19)
    • فکشن (407)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (218)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (478)
  • گوشہ خواتین و اطفال (100)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,136)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (34)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (899)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں