ہندوستانی میں رائج درسی کتابوں میں سب سے اہم این سی ای آر ٹی یعنی نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ کی کتابیں ہیں۔ بنیادی طور پر یہ سرکاری ادارہ ہے جو حکومت ہند کے زیر نگرانی کام کرتا ہے۔ 2005 کے قومی درسیات خاکہ میں یہ سفارش کی گئی ہے کہ بچوں کی اسکولی زندگی اور ان کی باہری زندگی میں ہم آہنگی اور ربط ہونا چاہیے۔این سی آر ٹی کی کوشش رہتی ہے کہ وہ قومی درسیات کے خاکے پر سختی کے ساتھ عمل کرے اور ایسا نصاب تیار کرے جس میں طلبا کی زندگی کے ہر پہلو کو بہتر بنایا جاسکے۔ان کے اندر تخلیقی صلاحیت کو فروغ دینے کے ساتھ ان کی ذہنی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی بھی کی جائے۔ماہرین کا خیال ہے کہ اگر بچوں کوموقع، وقت اور آزادی دی جائے تو وہ بڑوں سے حاصل کی گئی معلومات سے نئی معلومات مرتب کرسکتا ہے۔
جہاں تک این سی ای آر ٹی میں شامل مواد کا تعلق ہے تو اس ضمن میں ایک بات پورے وثوق سے کہی جاسکتی ہےکہ نصاب تیار کرتے وقت کمیٹی نے اس بات کا پورا خیال رکھا ہے کہ اردو کے تقریباً تمام اصناف کو اس میں شامل کیا جائے اور یہی سبب ہے کہ جب ہم نصابی کتاب کو دیکھتے ہیں تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ ماہرین اور کمیٹی اپنے مقصد میں پوری طرح کامیاب ہے۔ میں نے اپنے اس مضمون میں صرف ایک حصے کو شامل کیا ہے۔ میری اس تحریر کا مقصد صرف اتنا ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ اسکولی نصاب میں این سی ای آر ٹی نصاب کمیٹی نے کن کن افسانوں کو شامل کیا ہے۔ ظاہر ہے اردو افسانے کی ایک تابناک تاریخ ہے اور ان میں سے پانچ دس افسانوں کا انتخاب کرنا نہایت ہی مشکل امر ہے۔ایسے میں کمیٹی کے سامنے طلبا کی ذہنی عمر کا خیال رکھنا بھی ضروری تھا ۔ اس مختصر سے مضمون میں ، میں نے این سی ای آر ٹی میں شامل افسانوں کا مختصر جائزہ لینے کی کوشش کی ہے۔
منٹو کا افسانہ ’’ جی آیا صاحب‘‘ بھی کتاب میں شامل ہے۔ سعادت حسن مٹو اردو کے اہم افسانہ نگار ہیں۔ ان کی کہانیوں پر لگائے گئے الزامات اپنی جگہ مگر ان کہانیوں کو پڑھتے ہوئے ہم اس سماج کی قبیح شکل دیکھ سکتے ہیں جس میں منٹو نے اپنی زندگی گزاری تھی۔ جہاں تک نصاب میں شامل کہانی’’جی آیا صاحب ‘‘ کا تعلق ہے تو یہ ایک لڑکے اور اس کے مالک کی کہانی ہے۔ قاسم اس کہانی کا مرکزی کردار ہے۔ وہ نو عمر ہے مگر حالات نے اسے ایسے موڑ پر لاکر کھڑا کردیا ہے کہ وہ دوسرے کے گھر کام کرنے کو مجبور ہے۔ اس کا مالک ایک پولیس انسپیکٹر ہے۔ قاسم کا مالک پولیس انسپیکٹر اور اس کی بیوی اس سے بہت کام لیتے ہیں ، انہیں قاسم کی فکر بالکل بھی نہیں ۔ وہ یہ بھی نہیں سوچتے کہ قاسم کی عمر کم ہے اور وہ کام کے دباؤ کی وجہ سے ڈھنگ سے آرام بھی نہیں کرپاتا۔ ایک دن جب کچھ مہمان آنے والے تھے انسپیکٹر نے پورے گھر کی صفائی کی ذمہ داری اس کے سر ڈال دی ۔ وہ کام کرکے تھک گیا۔ اچانک اسے چاقو نظر آیا اور وہ اندر ہی اندر خوش ہوگیا۔ اس نے چاقو سے اپنی انگلی کاٹ لی تاکہ کچھ وقت کے لیے اسے کام کے بوجھ سے نجات مل جائے اور ہوا بھی ایسا ہی۔ ایک بار کامیابی ملنے پر قاسم نے یہ حرکت دہرائی ۔ دو تین بار ایسی حرکت کرنے کی وجہ سے انسپیکٹر اور اس کی بیوی نے اس کی حرکت کو بھانپ لیا اور اسے نوکری سے نکال دیا۔ کہانی کا اختتام ایک ہاسپیٹل کے منظر پر ہوتا ہے ۔ جہاں دو ڈاکٹر آپس میں بات کررہے ہیں کہ انفیکشن بہت بڑھ گیا ہے اب اس کے ہاتھ کاٹنے ہوں گے۔ یہ دراصل قاسم ہی تھا جس کے بار بار انگلی کاٹنے کی وجہ سے اسے انفیکشن ہوگیا، زہر اتنا پھیل گیا کہ اس کے ہاتھ کاٹنے کی نوبت آگئی۔ اس کہانی کے دو رخ ہیں ایک تو یہ کہ چھوٹے بچوں سے کام کرانا قانوناً جرم ہے، دوسری بات ہمیں اپنے ملازمین کا بھی خیال رکھنا چاہیے ، ملازم ہونے کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ وہ تھکتا نہیں ہوگا ، ہمیں اس کے آرام کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔دوسرا پہلو یہ ہے کہ پریشانیوں کا سامنا کرنا بہادری ہے ۔ اس سے بچنے کے لیے کوئی ایسی حرکت یا خود کو جسمانی تکلیف پہنچانا عقلمندی نہیں ہے۔
نویں جماعت میں پریم چند اور صالحہ عابد حسین کا ایک ایک افسانہ شامل ہے۔ ابتدا میں افسانے کا مختصر تعارف پیش کیا گیا ہے۔ پھر پریم چند کا تعارف پیش کیا گیا ہے اور اس کے بعد پریم چند کا افسانہ ’’حج اکبر‘‘ کا متن دیا گیا ہے۔پریم چند نے اردو افسانہ نگاری کو بام عروج پر پہنچایا، ان کے معترضین لاکھ خامیوں کی نشاندہی کریں مگر پریم چند کے بارے میں ایک بات پورے یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ پریم چند نے اردو افسانے کی جو بنیاد رکھی آج اردو افسانہ اس پر ٹکا ہے۔جہاں تک افسانہ ’’حج اکبر‘‘ کا تعلق ہے تو یہ افسانہ ایک مسلم متوسط گھرانے سے متعلق ہے۔ اس کہانی میں عورتوں اوربچوں کی نفسیات کو نہایت سلیقے سے پیش کیا گیا ہے۔ اس کہانی میں یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ انسان ثواب کی نیت سے جو عمل کرتا ہے اس کی اپنی اہمیت ضرور ہے مگر کئی بار حالات ایسے بن جاتے ہیں جب انسان مذہبی فرائض کی جگہ حقوق العباد پر توجہ دیتا ہے۔بعض لوگوں کا خیال ہے کہ حقوق العباد بھی عبادت کا درجہ رکھتے ہیں۔اس کہانی کا آخری حصہ دیکھیے:
’’آخر صابر حسین کا مکان آ پہنچا۔ عباسی نے ڈرتے ڈرے دروازے کی طرف تاکا۔ جیسے کوئی گھر سے بھاگا ہوا یتیم لڑکا شام کو بھوکا پیا سا گھر آئے۔ اور دروازے کی طرف سہمی ہوئی نگاہ سے دیکھے کہ کوئی بیٹھا تو نہیں ہے۔ دروازہ پرسناٹا چھایا ہوا تھا۔ باورچی بیٹھا حقہ پی رہا تھا۔ عباسی کو ذرا ڈھارس ہوئی۔ گھر میں داخل ہوئی تو دیکھا کہ نئی دایہ بیٹھی پولٹس پکا رہی ہے۔ کلیجہ مضبوط ہوا۔ شاکرہ کے کمرے میں گئی تو اس کا دل گرما کی دوپہری دھوپ کی طرح کانپ رہا تھا۔ شاکرہ نصیر کو گود میں لیے دروازے کی طرف ٹکٹکی لگائے تاک رہی تھی۔ غم اور یاس کی زندہ تصویر۔
عباسی نے شاکرہ سے کچھ نہیں پوچھا۔ نصیر کو اس کی گود سے لے لیا۔ اور اس کے منہ کی طرف چشم پرنم سے دیکھ کر کہا، ’’بیٹا! نصیر آنکھیں کھولو۔‘‘
نصیر نے آنکھیں کھولیں۔ ایک لمحہ تک دایہ کو خاموش دیکھتا رہا۔ تب یکا یک دایہ کے گلے سے لپٹ گیا اور بولا، ’’انا آئی۔ انا آئی۔‘‘ نصیر کا زرد مرجھایا ہوا چہرہ روشن ہو گیا۔ جیسے بجھتے ہوئے چراغ میں تیل جائے۔ ایسا معلوم ہوا گویا وہ کچھ بڑھ گیا ہے۔
ایک ہفتہ گزر گیا۔ صبح کا وقت تھا۔ نصیر آنگن میں کھیل رہا تھا۔ صابر حسین نے آکر اسے گود میں اٹھالیا اور پیار کر کے بولے۔’’تمھاری انا کو مار کر بھگا دیں؟‘‘
نصیر نے منہ بنا کر کہا، ’’نہیں روئے گی۔‘‘
عباسی بولی، ’’کیوں بیٹا! مجھے تو تو نے کعبہ شریف نہ جانے دیا۔ میرے حج کا ثواب کون دے گا؟‘‘
صابر حسین نے مسکرا کر کہا، ’’تمھیں اس سے کہیں زیادہ ثواب ہو گیا۔ اس حج کا نام حج اکبر ہے۔‘‘
اس کہانی کے مطالعہ سے ہمیں خدمت خلق کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ ہمیں حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد دونوں پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے۔ہمیں اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہیے کہ انسان کی شناخت اس کے کام سے ہوتی ہے، کسی کو کمتر اور حقیر سمجھناانسانیت کے خلاف ہے۔
صالحہ عابد حسین کا افسانہ ’’ مگر وہ ٹوٹ گئی‘‘ ہے۔اس کہانی کا مرکزی خیال عورت ہے۔ خاص طور پر وہ عورت جو سماجی بندشوں کا سامنا کرتی ہے اور مصیبت کا ڈٹ کر مقابلہ کرتی ہے۔ عورت کی زندگی کے کئی پہلو ہوتے ہیں۔ کئی مرتبہ وہ ان مظالم کے خلاف آواز بلند بھی کرتی ہے۔ مگر جس زمانے میں یہ افسانہ لکھا گیا تھا اس وقت عموماً عورتیں مصیبت کے ان لمحات کو اکیلی ہی جھیلتی تھیں بلکہ صحیح معنوں میں عورتیں مجبور تھیں۔ صالحہ عابد حسین نے اپنے افسانے میں عورتوں کی اسی کہانی کو پیش کیا ہے۔
سعادت حسن منٹو کا افسانہ ’’ نیا قانون ‘‘ دسویں کے نصاب میں شامل ہے۔ منٹو کا شمار اردو کے صف اول کے افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے، حالانکہ منٹو کے معترضین کی تعداد بھی کم نہیں جو منٹو کو فحش نگار کہتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ افسانہ نگار کو افسانہ نگار ہی تسلیم کرنا چاہیے منٹو کے عہد میں بھی لوگوں نے جب ان پر فحش نگار ہونے کا الزام لگایا تو منٹو نے اس کے جواب میں کہا تھا ’’ہماری تحریریں آپ کو کڑوی کسیلی لگتی ہیں مگر اب تک جو مٹھاس آپ کو پیش کی جاتی رہی ہے ان سے انسانیت کو کیا فائدہ ہوا ہے … نیم کے پتے کڑوے سہی مگر خون ضرور صاف کر دیتے ہیں۔ ‘ منٹو کی کہانیوں میں جنسی مسائل کو ضرور بیان کیا گیا ہے مگر ان کی بیشتر کہانیوں کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ منٹو ماہر نفسیات تھے، انھوں نے اپنی کہانیوں میں سماج میں پھیلی گندگی کو بے نقاب کرنے کی کوشش کی ہے اور ظاہر ہے کنوئیں کی گندگی صاف کرنے کے لیے کنواں میں اترنا ہوتا ہے اوریہی کام منٹو نے کیا۔ بہرحال منٹو کی تمام کہانیوں میں جنس موضوع نہیں ہے بلکہ ان کی بہت سی کہانیوں میں سماجی اور سیاسی جبر کو دکھایا گیا ہے۔ ’نیا قانون‘ بھی اسی ضمن کا افسانہ ہے۔ اس کہانی کا مرکزی کردار منگو کوچوان ہے۔افسانے میں اس کی شخصیت یوں پیش کی گئی ہے۔
’’منگو کوچوان اپنے اڈے میں بہت عقلمند آدمی سمجھا جاتا تھا۔ گو اس کی تعلیمی حیثیت صفر کے برابر تھی اور اس نے کبھی اسکول کا منھ بھی نہیں دیکھا تھا لیکن اس کے باوجود اسے دنیا بھر کی چیزوں کا علم تھا۔ اڈے کے وہ تمام کوچوان جن کو یہ جاننے کی خواہش ہوتی تھی کہ دنیا کے اندر کیا ہو رہا ہے، استاد منگو کی وسیع معلومات سے اچھی طرف واقف تھے۔ ‘‘
کہانی کے عنوان سے ہی ظاہر ہے کہ کسی نئے قانون کی آمد ہے اور لوگوں کو ایسا محسوس ہورہا ہے کہ نئے قانون کے آتے ہی ان کی تمام پریشانیوں کا حل بھی نکل آئے گا۔مگر کیا واقعی ایسا ہوسکتا ہے۔دراصل عام انسان کو ہمیشہ مشکلات کا سامنا ہی کرنا پڑتا ہے۔منگو کوچوان کے ذریعے منٹو نے بھی ان ہی مسائل کی جانب توجہ دلانے کی کوشش کی ہے۔منٹو کے افسانہ ’نیا قانون‘ کے بارے میں ابو اللیث صدیقی نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے وہ کافی اہم ہے:
’’’اس افسانے میں منٹو کا کوئی کمزور پہلو نہیں ابھرتا۔ یہ ہماری سیاسی جد و جہد کے دور کا آئینہ ہے جس میں ہماری آرزوئیں، امنگیں، تمنائیں اور ناکامیاں جھلکتی ہیں اور فنی معیار سے بھی ایک کامیاب افسانہ ہے۔ اچھے مختصر افسانے کے لیے ضروری ہے کہ اس میں واقعات کا تانا بانا زیادہ نہ بکھرا ہو۔ بات سے بات نکل کر طوالت نہ پیدا ہو جائے۔ مرکزی خیال ایک رہے۔ کردار، واقعات اور مکالمات اسی ایک خیال کو اجاگر کرنے اور تاثر میں شدت پیدا کرنے میں ممد و معاون ثابت ہوں … یہ بات بھی یہاں پوری طرح واصل ہو گئی ہے کہ کردار صرف ایک ہی ہے۔ (استاد منگو) واقعات اور مکالمات مناظر اور پس منظر کا محور بھی ایک ہے۔ یعنی نئے قانون کے نفاذ کا انتظار۔ ‘‘
(منٹو: نوری نہ ناری۔ ممتاز شیریں۔ ص۔ 124) اشاعت دوم (کراچی سنہ 2004)
بہرحال یہ کہانی انسانی المیے کی روداد ہے جس میں منٹو نے ان سیدھے اور معصوم لوگوں کی زندگی اور طرز زندگی کو پیش کیا ہے جو سیاسی اور سماجی جبر کے ستائے ہوئے ہیں۔یہی نہیں انگریزوں کے مظالم اور ان سے نجات کی کوشش کو بھی اس افسانے میں پیش کیا گیا ہے۔
حیات اللہ انصاری کاافسانہ ’’ بھیک‘‘ بھی نصاب میں شامل ہے۔ حیات اللہ انصاری کی شہرت ان کے ناول ’’ لہو کے پھول‘‘ سے ہے جو پانچ جلدوں پر مشتمل ہے۔ مگر ان کی کہانیوں کے کئی مجموعے اور جدیدیت کے تعلق سے ان کی کتاب ’’ جدیدیت کی سیر‘‘ ان کی اہم کتابیں ہیں جسے ادبی دنیا میں احترام سے دیکھا جاتا ہے۔جہاں تک افسانہ ‘‘بھیک ’’ کا تعلق ہے تو یہ کہانی غربت میں زندگی بسر کررہے کچھ بچوں کی کہانی ہے۔رجنی اس افسانے کا مرکزی کردار ہے۔رجنی بارہ برس کی ایک غریب اور یتیم لڑکی ہے، جس کے سر پر چھوٹے بھائی بہنوں کا بوجھ بھی ہے۔ وہ کسی طرح بھیک اور چھوٹے موٹے کام کرکے جیسے تیسے زندگی بسر کرنے پر مجبور تھی کہ اچانک ایک دن اس کی ملاقات کیلاش نام کے آدمی سے ہوتی ہے جو رجنی کی مجبوری پر رحم کھا کر اسے اور اس کے بھائی کو اپنے گھر رکھنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔ کیلاش اور رجنی کے درمیان کی گفتگو دیکھیے:
’’کہاں رہتی ہو؟‘‘
لڑکی نے نیچے کی گھنی تاریکیوں کی طرف اشارہ کر کے کہا۔
’’وہاں بہت نیچے۔‘‘
’’ماں باپ کیا کرتے ہیں؟‘‘
’’مر گئے۔‘‘
’’تم کیا کرتی ہو؟‘‘
’’کچھ نہیں۔‘‘
’’کیوں؟‘‘
’’بچہ کچھ نہیں کرنے دیتا۔‘‘
’’بچہ۔ کیا تمہارے بچہ بھی ہے؟‘‘
لڑکی اس بدگمانی پر ہنس پڑی اور کہنے لگی۔
’’میرا دو برس کا بھائی ہے جو بہت دق کرتا ہے۔ ہر وقت کھانا مانگتا ہے۔ رات کو نہ وہ سونے دیتا ہے اور نہ ڈر ۔۔۔‘‘
ڈر! اس وادی میں کس چیز سے؟‘‘
’’میری کٹھریا کا دروازہ ٹوٹا ہوا ہے۔ رات بھر میں ڈرتی رہتی ہوں کہ کوئی آکر ہم کو کھانہ جائے۔‘‘
کیلاش کے دل میں دیا ابل پڑی۔
’’نوکری کرے گی؟‘‘
’’کوئی رکھے تو کیوں نہ کروں۔ میں تو بہت محنت سے اس کی سیوا کروں گی۔‘‘
’’اچھا میں رکھوں گا تجھے بھی اور تیرے چھوٹے بھائی کو بھی۔‘‘
لڑکی حیرت زدہ ہو کر کیلاش کو دیکھنے لگی۔
’’بابوجی، سچ!‘‘
’’ہاں سچ، بالکل سچ۔‘‘
لڑکی تھوڑی دیر تک حیرت زدہ رہی۔ پھر اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اور وہ کیلاش کے پاؤں پر گر پڑی۔ اور شکر گزاری سے بابوجی بابو جی کرنے لگی۔ اس کے منہ سے اور کچھ نہ نکلا۔‘‘
کیلاش کی نوکری کا آفر رجنی کو نہ صرف قبول تھا بلکہ دیکھا جائے تو یہ اس کی سب سے بڑی خوشی کا ذریعہ تھا۔ اسے یقین تھا کہ اب ان کی بھوک پیاس کا مسئلہ تو حل ہوگا ہی کیلاش اسےکھانے کے ساتھ کپڑے اور دیگر ضرورت کی چیزیں بھی دے گا مگر جب وہ دوسرے دن کیلاش کے گھر اپنے پانچ بھائی بہنوں کے ساتھ آتی ہے تو کیلاش ان سب کو دیکھ کر حیران ہوجاتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ ان پانچ بچوں کی پرورش وہ نہیں کر پائے گا اور یہی سوچ کر وہ رجنی کو دو روپیے دے کر رخصت کر دیتا ہے۔رجنی ان پیسوں سے پوریاں خریدتی ہے اور اپنے بھائی بہنوں کو کھلاتی ہے اور پھر شام میں اپنے گھر لوٹ آتی ہے۔گویا جس امید کے ساتھ صبح وہ کیلاش کے پاس آئی تھی اب اپنی لاچاری اور غربت کے ساتھ وہ واپس اپنے گھر لوٹ جاتی ہے، وہیں جہاں دروازہ ٹوٹا ہوا تھا اور اسے روز رات میں اس بات کا خوف رہتا کہ رات میں کہیں کوئی جانور آکر انھیں کھا نہ جائے۔
غریبی اور بھوک ایک ایسا مسئلہ ہے جس سے دنیا کی بڑی آبادی متاثر ہے۔ایسے میں ہماری کیا ذمہ داری ہے ہمیں اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس کہانی میں واضح طور پر تو کچھ نہیں کہا گیا ہے مگر بین السطور میں یہ پیغام ضرور پوشیدہ ہے کہ ہمیں اپنے ارد گرد موجود غریب لوگوں کی زندگی کے بارے میں غور و فکر کرنا چاہیے۔
مجموعی طور پرہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ این سی ای آر ٹی کے نصاب میں شامل افسانوں کا بنیادی تعلق انسانی زندگی اور اس کے در پیش مسائل سے ہے۔ مذکورہ تمام افسانو ں کو پڑھ کر یہی تاثر ابھرتا ہے کہ ان کے ذریعے کہانی کاروں نے معاشرے میں پھیلے عدم مساوات کو موضوع بنایا ہے۔ ان کہانیوں میں عام انسان کی زندگی اور ان کے بہت سے مسائل کو پیش کرنے کی سعی کی گئی ہے۔
Mehreen Qadir Hossen Ali Jan
Hermitage Road, Camp Fouquereaux Phoenix,
Mauritius, Indian Ocen
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

