سبھی بچّو آؤ نظر کو اٹھاؤ
دِکھے آسماں میں قمر تو بتاؤ
نمودار ہو گا نیا چاند دیکھو
فلک پر ابھی عید کا چاند دیکھو
وہ دیکھو حسیں چاند اب دِکھ رہا ہے
وداع ماہِ رمضان کو کہہ رہا ہے
یہ اعلان کر دو کہ کل عید ہوگی
رہو شاد بچّو کہ کل عید ہوگی
نئے کپڑے کل زیب تن ہم کریں گے
سلام و دعا سب سے کرتے رہیں گے
گلے مل کے رنجش مٹائیں گے بچّو
اُخوت کی محفل سجائیں گے بچّو
یہ ہے عید کا دن تو عیدی ملے گی
ہے یومِ خوشی ہر خوشی بھی ملے گی
کھلونے خریدو گے میلے میں جا کر
پسندیدہ چیزیں بھی کھاؤ وہاں پر
مگر یاد رکھنا ریاضت ہے روزہ
ہے فرمانِ اللہ عبادت ہے روزہ
ملا ہے یہ تحفہ رسالت کے صدقے
خوشی عید کی اِس عبادت کے صدقے
بڑے ہوگے جب تم بھی روزے رہو گے
خدا کے لیے بھوکے پیاسے رہو گے
جزا اس کی اللہ سے پاؤ گے بچّو
حقیقی خوشی تب مناؤ گے بچّو
( عید کے تعلق سے بچّو ںکی نذر نظم’’عید کا چاند‘‘)
خطاب عالم شاذ ؔ
(معلم : شمس اردو پرائمری اسکول، جگتدل)
رابطہ نمبر : 8777536722
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

