"اقبال کے تخلیقی و فکری زاویے “ (ڈاکٹر گلزار احمد وانی) – ڈاکٹر محمد یونس ڈار
محترم ڈاکٹر گلزار احمد وانی کی تازہ تصنیف "اقبال کے تخلیقی و فکری زاویے “ نظر نواز ہوئی۔ان کی سابقہ تصانیف کا مطالعہ رکھنے والے قارئین جانتے ہیں کہ ڈاکٹر گلزار بطور تخلیق کار،بطورمحقق،انشائیہ نگاراور نقاد جو ذہنی اپج رکھتے ہیں وہ ابتدا ہی سے ان کی تحریروں میں ایک انفرادی شان دکھا رہی ہے۔اردو شعروادب سے متعلق ان کے تجزیات اور مطالعات بہت اہم ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ اب یہ ذہنِ رسا علامہ اقبال کے تخلیقی و فکری زاویوں کو اپنے حطیہء تحقیق میں لانے پر مُصر ہے۔علامہ اقبال کے فکر وفن پر تواتر سے لکھا جارہا ہے۔اگرچہ کہیں کہیں بات تکرار کی حد تک بھی پہنچ جاتی ہے لیکن اس سلسلے میں گلزار صاحب کی مذکورہ کتاب میں تازگی اور ندرت کا یہ احساس دامن گیر ہوجاتا ہےکہ ہنوز کلام ِ اقبال میں امکانِ تحقیق و تنقید کے بے شمار جہاں آباد ہیں جن کی کھوج وقت کی اہم ضرورت ہے۔
"اقبال کے تخلیقی و فکری زاویے “نامی کتاب
جی ۔این ،کے پبلکیشنز نے شائع کی ہے ۔مذکورہ کتاب 256 صفحات پر مشتمل ہے۔تین فصلوں پر مشتمل اس کتاب کا پیش لفظ(ڈاکٹر گلزار احمد وانی)،تقریظ (پروفیسر حمید نسیم رفیع آبادی)،حروفے چند (پروفیسر منظر حسین)،دیباچہ (غلام حسین طالب) اور ڈاکٹر گلزار حسین وانی کا ادبی ذوق(ڈاکٹر محی الدین قادری زورکشمیری ) نے تحریر کیا ہے۔
مذکورہ کتاب کا فصل اول،’اقبال کی نظموں کا تجزیاتی مطالعہ’،کے نام سے درج ہے۔اس فصل میں جن نظموں کا تجزیاتی مطالعہ پیش کیا گیا ہے اُن میں نظم” ذوق و شوق،لالہء صحرا،سر گذشتِ آدم،مسجد قرطبہ ،خضرِ راہ اور نظم ‘بچے کی دُعا شامل ہیں۔
نظم”ذوق و شوق”ایک مطالعہ مذکورہ فصل کا پہلا مضمون ہے جس میں فاضل مصنف نے اقبال کی فطرت نگاری،ان کے منشورِ حیات میں عشق کی کارفرمائی،
کائنات اور کائنات سے متعلق
اسرارو رموز سے متعلق گفتگو کی ہے۔نظم "ذوق و شوق” کو اگرچہ کچھ شارحینِ اقبال نے حمد قرار دیا ہے اور کچھ نے نعت۔لیکن ڈاکٹر گلزارنے اس کے بالعکس نظم کی فکری و فنی خوبیوں کا ذکرکرکے ہم تک علامہ اقبال کے آفاقی پیغام پہنچانے کی بھر پور سعی کی ہے۔
تاب کا دوسرا مضمون لالہء صحرا ۔ایک جائزہ ہے۔اس مضمون میں مصنف نے علامہ اقبال کی ندرتِ فکر اور فطری شاعرہونے کے واضح دلائل پیش کیے ہیں۔ساتھ ہی اقبال کے اس آفاقی پیغام کی طرف بھی اشارہ کیا ہے جو مذکورہ نظم میں اسلام اور مردِ مومن اور اس کی قوتِ نمو اور انسان کا جذبہء عمل علامتوں اور ترکیبوں کی صورت جلوہ گر ہے۔
نظم "سرگزشتِ آدم”ایک مطالعہ ،فصل اول میں شامل تیسرا مضمون ہے۔جو حضرت آدم سے لے کر حصرت محمدﷺ کے مبارک دور تک کی ایک تواریخی دستاویز کی صورت میں دستیاب ہے۔”جس میں آدم کا دنیا میں آنا اور کائنات کی سی سیر کی بنیاد پر اس کے امتحانات کے مراحل پیش آنا ،بتوں کو خانہ ء کعبہ میں سجانا،پھر پیغمبروں کی صورت میں آکر بتوں کو توڑنا اور کوہِ طور پر ذوق تکلم پیدا ہوجانا،کبھی صلیب پہ اپنوں کو لٹکانا اور کبھی غارِ حرا میں برسوں قرار پانا وغیرہ۔یہ سب اس نظم میں شعر در شعر ایک قاری کو مطالعے کے لیے موجود ہے۔”نیز مذکورہ مضمون میں نظم کی صنفی شناخت،اس میں اسلامی تلمیحات و واقعات کے سیاق و سباق میں انسانی کشمکش ،تلاش و جستجو ،تغیر و تبدل اور رازِ ہستی کی صورت گری اور اس کی رنگینیاں
اور بے کرانیاں بھی موضوعِ بحث لائی گئی ہیں۔
"مسجد قرطبہ "نظم میں تصورِ زمان و مکان، نامی مضمون میں مصنف نے تصورِ زمان و مکان اور عشق کی کارفرمائی پر مفصل گفتگو کی ہے۔عشق
جو ہمہ جہت اور ہزار شیوہ ہے، کس طرح سے مردِ خدا کا عمل اس سے صاحب فروغ بن جاتا ہے اور کس طرح عشق اس کی اصل حیات اور موت اس پر حرام ہوجاتی ہے۔یعنی کس طرح سے وہ زماں و مکاں کی قیود سے ماورا ہوجاتا ہے۔علوم و فنون کے معجزے ہوں،
کائنات کی رنگارنگی،تب و تاب،استحکام و توانائی ہو، قوموں کی کایا پلٹ کا معاملہ ہو یا فرد کو صاحبِ کردار بنانا ہو،ہرجگہ عشق ہی کی جلوہ سامانی ہے۔ اس تمام تر صورتحال کی تفصیل مذکورہ مضمون میں بہ آسانی مل جاتی ہے۔
نظم” خضرِ راہ ۔ایک مطالعہ ” فصل اول
کا پانچواں مضمون ہے ۔جس میں مذکورہ نظم کا تاریخی پسِ منظر،1922 میں انجمن حمایت السلام،لاہور کے جلسے میں نظم کی پڑھت اورسامعین کا آبدیدہ ہونا بھی ذکر ہوا ہے۔
عظمتِ آدم،مغربی تہذیب کے منفی اثرات اور سرمایہ داری کی حیلہ گری کی طرف بھی اشارہ ملتا ہے۔یعنی شہنشاہیت کا خاتمہ،سیاسی و اقتصادی بحران اور اُمید حیات کا جاندار پہلو بھی نظم کا ایک اہم حصہ ہے۔ساتھ ہی مصنف نے اپنے مطالعے میں تشبیہات ، استعارات اور تراکیب کا ذکر بھی خوب خوب کیا ہے۔
نظم "بچے کی دعا” کا تجزیاتی مطالعہ فصل اول کا آخری مضمون ہے۔جس میں بچے کی معصوم تمناؤں،آرزؤں اور امنگوں کو دعا کی صورت پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہےتاکہ بچوں کی تربیت شروع میں ہی کچھ اس نوعیت کی ہو کہ وہ اپنے رب کو پہچانے، دوسروں کی بھلائی کا سوچے اور زندگی کے اصل مقصد کو سمجھے۔مصنف نے بڑے ہی خوب صورت اور جاندار اسلوب میں اس سب کی نشاندہی کی ہے۔
مذکورہ کتاب کا فصل دوم،”افکارِ اقبال” کے نام سے درج ہے۔اس فصل میں آٹھ مضامین شامل ہیں جن میں،”اقبال اور شیخ العالم کی فکری مما ثلتیں،علامہ اقبال کا تصورِ تعلیم، شاہین بچوں کے اقبال،محی الملت ۔اقبال،اقبال اور قرآن،کلام اقبال میں مناظر قدرت،فکر اقبال ۔جہات اور معنی،اور’ظلمتِ شب میں نظر آئی کرن اُمید کی قابل ذکر ہیں۔
"اقبال اور شیخ العام کی فکری مماثلتیں "،فصل دوم کا پہلا مضمون ہے۔جس میں علامہ اقبال اور شیخ العالم کے کلام کی فکری،موضوعاتی اور روحانی ہم آہنگی سے متعلق گفتگو ملتی ہے۔ دنیا کی بے ثباتی، فقیری،وقت کی اہمیت،تصورِ موت، نماز کی اہمیت،حصولِ علم، انسان کی عظمت، فلاح و بہبودی دونوں کے کلام میں بدرجہ اتم موجود ہے۔اس فصل کا دوسرا مضمون” علامہ اقبال کا تصورِ تعلیم ہے۔جس میں مصنف نے واضح دلائل سے ثابت کیا ہے کہ اقبال کس قدر روایتی اور غلامی دور کے اس تعلیمی نظام سے متنفر تھے جس سے نوجوان نسل غیر انسانی اور غیر اخلاقی اعمال میں ملوث ہوکر صراطِ مستقیم سے بھٹک رہی تھی۔چنانچہ اقبال اُس تعلیمی نظام کے خواہاں تھے جس سے نوجوان نسل کے قلوب و اذہان منور بھی ہوں اور جو دین سے آشنائی کا سبب بھی بن جائے۔تیسرے مضمون”شاہین بچوں کے اقبال ” میں کلام اقبال میں بچوں کی ذہنی و نفسیاتی تعلیم و تربیت اور ان کو قوم کے اعلیٰ اور ذمہ دار انسان بنانے کے بارے میں بحث ہوئی ہے۔چوتھے مضمون "محی الملت۔اقبال ” میں علامہ اقبال کو اس لحاظ سے امت مسلمہ کا غم خوار دکھایا گیا ہے کہ وہ مسلمانوں میں تعلیمی فقدان،نوجوان افراد کی مغرب سے مرعوبیت،مسلمانوں میں نااتفاقی،دینی تعلیم سے فرار،آدمیت کا فقدان کے مسائل کو لے کر بڑے ہی فکر مند نظر آتے ہیں۔جس سے ان کے دلِ بے قرار کی تڑپ کوکوئی لذت ہی حاصل نہیں ہے۔دراصل یہ مضمون علامہ اقبال کے فکر و فلسفہ کے لیے بہترین خراجِ تحسین ہے۔”اقبال اور قران” مذکورہ کتاب کے فصل دوم کا پانچواں مضمون ہے۔جس میں عظمتِ قرآن،قوموں کی پستی و زوال اورنوجوان کو قرآن کی طرف رجوع کی تلقین بھی ملتی ہے۔چھٹے مضمون”کلام اقبال میں مناظر قدرت”میں فطرت کے مناظر کی رنگینیاں بہت دُور تک دیکھی جاسکتی ہے۔”اقبال نے بقول ایس جہاں،” فطرت سے جو لگاؤ اور نسبت قائم کی ہےوہ محض حسن آفرین نہیں ہے بلکہ ان کے یہاں اشیاء کا تصور فکری اور مقصدی رجحانات کے زیرِ اثر ملتا ہے۔”
"فکرِ اقبال جہات و معنی "والے مضمون میں خودی،عشق،یقین،حیات و کائنات، عالم اسلام کے ماضی و حال،محبت،رواداری، اور اخوت جیسے انمول جواہرات کا مالا بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔فصل دوم کے آخری مضمون ” ظلمتِ شب میں نظر آئی کرن اُمید کی،میں مسلمانوں کی زبوں حالی، غلامی، عصری تقاضوں اور مغربی فکر و نظر کی یلغار،ناامیدی،بے عملی،بے ذوقی
،بے بضاعتی وغیرہ کی ظلمات سے اقبال کی ناپسندگی کا اظہار دکھایا گیا ہے اور ان سے نکلنے کی تلقین کی گئی ہے۔ یعنی بقولِ مصنف "وہ (اقبال) ان ظلمات کے سو پردوں کے اندر بھی نور کی پھواریں دیکھتے ہیں اور زندگی کی گردش اسی سے پختہ تر ہے۔”
فصل سوم جو’ اقبال شناسی’،کے نام سے مذکورہ کتاب میں درج ہے’میں مجید مضمر کی اقبال شناسی،فرید پربتی بحیثیت ِ اقبال شناس،فکر اقبال اور ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم اور چند شارحینِ اقبال جیسے مضامین شامل ہیں۔
اس فصل کے پہلے مضمون’ مجید مضمر کی اقبال شناسی’ میں ان کے دو مضامین
(۱)اقبال کی شاعری میں مکالماتی انداز اور (۲) ساقی نامہ کو بنیاد بنا کر مرحوم مجید مضمر کی اقبال شناسی ثابت کرنے کی سعی کی گئی ہے۔جو قابلِ تحسین ہے۔یاد رہے یہ دونوں مضامین اقبال انسٹی ٹیوٹ کے مجلہ "اقبالیات” میں شائع ہوچکے ہیں۔
دوسرے مضمون ” فرید پربتی بحیثیت اقبال شناس میں مرحوم فرید پربتی کی اقبال شناسی پر خامہ فرسائی کی گئی ہے۔مصنف نے فرید پربتی کے بھی دو مضامین’ اقبال اور اصلاح ِ سخن کی روایت’اور ‘خضر راہ’ کے تناظر میں ان کی اقبال شناسی کی بات کی ہے۔
مذکورہ کتاب کا سوم مضمون ‘فکر اقبال اور ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم’کے نام سے کتاب میں درج ہے۔یہ دراصل ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم کی کتاب فکر اقبال کا تبصرہ ہے۔جس میں اقبال کے افکار،فلسفہ اور شعری محاسن پر سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے۔مصنف نے ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم کے ان تنقیدی تصورات پر بھی بات کی ہے جو انہوں نے ا س کتاب میں رقم کیے ہیں۔جن کی وجہ ان کی علمی و ادبی سرگرمیوں کا کماحقہ احاطہ ہوجاتا ہے۔
کتاب کا آخری مضمون’چند شارحینِ اقبال’ کے نام سے درج ہے۔اس مضمون میں پروفیسر یوسف سلیم چستی،اسرار زیدی اور ڈاکٹر خواجہ حمید یزدانی کی شرحوں کے بارے میں تفصیل سے گفتگو کی گئی ہے۔نیز ان شرحوں کی ادبی اہمیت اور قد وقامت کے بارے میں بھی بات کی گئی ہے۔
من جملہ،ڈاکٹر گلزار احمد وانی کی کتاب ‘اقبال کے تخلیقی و فکری زاویے’ مطالعات اقبال میں ایک اہم اضافہ ہے۔اس کتاب میں جہاں فکرِ اقبال کے گوناں گوں گوشوں سے متعلق سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے،وہیں اس کتاب سے نت نئے موضوعات کو پھر سے کھنگالنے کی تحریک بھی ملتی ہے۔مذکورہ کتاب میں شامل تمام مشمولات قاری کو دعوتِ فکر دیتے ہیں کہ اقبال کو حال سے زیادہ مستقبل کا شاعر سمجھنا چاہیے نیز اس کی عصری معنویت کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔غرض ڈاکٹر گلزار کا صمیم لہجہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ پڑھنے والوں کی آستینوں میں اگرچہ قدیم بُت ہی ہوں تب بھی وہ اپنی اذان دیتے رہیں گے۔
۔۔۔۔۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

