ڈاکٹر افضال عاقل کی "کانٹوں کی زباں” : ایک تاثر – نسیم اشک
ڈاکٹر افضال عاقل بحیثیت شاعر و ادیب اپنی مستحکم شناخت رکھتے ہیں اور بطور معلم اردو کے بے شمار طلباء و طالبات کو فیض پہنچا رہے ہیں اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔افضال عاقل صاحب نام و نمود سے دور خاموشی سے ادب کی خدمت کرتے ہیں۔ان کا قلم منثور اور منظوم دونوں میدان میں برق رفتاری سے دوڑتا ہے۔ان کی حالیہ تصنیف "کانٹوں کی زباں”انکی بارہویں کتاب ہے۔اس کتاب میں تبصرے و تجزیئے شامل ہیں اور یہ چھ پڑاو پر مشتمل ہے۔ہر پڑاؤ پر افضال عاقل کا قلم اپنی آن بان اور شان دکھا رہا ہے۔مجموعے کا نام کانٹوں کی زباں ضرور ہے پر پھولوں کا دل رکھنے والے افضال صاحب کانٹوں کی زباں نہیں رکھتے۔وہ لہجہ جتنا تلخ اپنا لیں نام کے ساتھ ان کے دل کی معصومیت آڑے آ جاتی ہے۔ایک اچھا مبصر اور تجزیہ نگار تحاریر کی خوبیاں اور خامیاں نکالتے وقت معتدل ہوتا ہے۔غیر جانبداری سے کام کرنے والے تحریروں کو نکھارتے ہیں،سجاتے ہیں، سنوارتے ہیں۔اس کتاب میں مصنف نے جہاں اپنے سنیئر قلمکاروں کی کتابوں کا تبصرہ پیش کیا ہے وہی اپنے ہم عصر اور جونیئر قلم کاروں کو بھی اپنی گفتگو کا موضوع بنایا ہے جو ایک دیدہ ور قلم کار ہونے کا بین ثبوت ہے۔حال،ماضی اور مستقبل کو ایک ساتھ ایک جگہ اکٹھا کرکے انہوں نے اردو ادب کا ایک منظر نامہ پیش کیا ہے۔قاری ان کی اس کتاب سے اردو ادب میں ہونے والے کاموں کی جانکاری حاصل کر سکتا ہے اور وہ حضرات جن کی کتابوں پر تبصرے و تجزیئے اس کتاب میں شامل ہیں ان کی کتابوں کے حوالے سے قارئین اچھی خاصی جانکاری حاصل کر سکتے ہیں،کتاب کی نوعیت و مواد کے تعلق سے۔ یہ کتاب ان کے لئے بھی سود مند ثابت ہوگا جو اردو ادب کی حالیہ کار کردگی کا جائزہ لینا چاہتے ہیں۔ یہ کتاب محض افضال عاقل کی کتابوں میں ایک اضافہ نہیں بلکہ اس کے سوا اور بھی بہت کچھ ہے۔
ابتدائی دنوں سے میں اس بات کا قائل رہا ہوں کہ پہلے لکھنے پڑھنے کی فضا قائم ہو اس کے بعد دوسرے مرحلے آتے ہیں جب چیزیں ہوں گی ہی نہیں تو تبصرے و تجزیئے کہاں سے ہوں گے؟
سب کے اپنے نظریات ہوتے ہیں لیکن اتنا تو طئے ضرور ہے کہ جو کام نیک نیتی اور ایماندارانہ طریقے سے انجام پاتا ہے وہ یقیناً اجتماعی فائدے کا سبب ہوتا ہے۔افضال عاقل نے ہمیشہ اس نقطہ کو ذہن میں رکھا اور اس حوصلے نے انہیں ایک کے بعد دیگرے کامیابیوں سے ہم کنار کیا۔
کتاب کا انتساب اولین اساتذہ کے نام ہے جو ایک بہترین خراج عقیدت ہے۔فہرست کو دیکھتے ہی ایسا معلوم ہوتا جیسے یہ ایک پٹارہ ہے جس میں بیتے عہد کی داستان ہے ،حال کا منظر نامہ اور مستقبل کی تابناکی ہے۔لفظ پڑاؤ کا استعمال مجھے بہت اچھا لگا اس سے ایک ایسے کارواں کا پتہ چلتا ہے جو محو سفر ہے یہ انکی بالغ نظری کا پتہ دیتا ہے۔
کتاب میں جو تبصرے و تجزیئے شامل کئے گئے ہیں وہ اس بات کی غمازی بھی کرتے ہیں کہ افضال عاقل رٹے رٹائے،بسے بسائے اصولوں کی پابندی نہیں کرتے۔ان کے یہاں انکا اپنا نظریہ ملتا ہے صحت مند جسم کےساتھ صحت مند نظرئے کے بھی مالک ہیں اور اس مناسبت سے انہوں نے مختلف اصناف پر لکھی گئ کتابوں پر اپنی بے لاگ رائے پیش کی ہے۔انکی وسعت نظری اور وسعت قلبی داد کی طلب رکھتی ہیں۔انہوں نے اردو ادب کے بدلتے منظر نامے کو پیش نگاہ رکھا ہے اور کسی بھی صنف سے بیزاری کا اظہار نہیں کیا ہے میری دانست میں یہ بڑا کام ہے اور بڑی بات ہے۔انکے ہاں ایک صحتمند تنقیدی شعور اور گہری فنی بصیرت کے ہمراہ مثبت زاویہ فکر بھی ملتا ہے فن پر گفتگو کرتے وقت وہ جس سلیقگی و سائستگی کا مظاہرہ کرتے ہیں وہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔تبصرے میں انکے ماخذ کے حولے سے حاصل سیر گفتگو ملتی ہے،فن کے محاسن کے ساتھ خامیوں یا یوں کہئے کمیوں کی جانب اشارہ بھی ملتا ہے۔کچھ تبصروں کے قدم مضامین کے آنگن میں بھی پڑتے ہیں۔کتاب کی ضخامت قاری پر بار اس لئے نہیں کہ اس کا مطالعہ انہیں مختلف اصناف کے علاوہ مختلف شعراء و ادباء کی کتابوں اور ان کے فن سے آشنائی کراتی ہے۔ کتاب کا سرورق دیدہ زیب ہے۔کتاب کی پشت پر افضال عاقل کی مفکرانہ تصویر کے ساتھ انکے شائع شدہ کتابوں کی تصویریں بہت خوب لگتی ہیں نیز انکی تخلیقات سے آشنائی بھی ہوتی ہیں۔
ڈاکٹر افضال عاقل کی یہ کتاب”کانٹوں کی زباں” بلا شبہ ادب میں ایک اضافے کی حیثیت رکھتا ہے اور ان کا یہ قدم قابل تحسین اور نئ نسل کے لئے مشعل راہ ہے۔اس کتاب کی اشاعت پر میں ان کو تہہ دل سے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔اللہ ان کے قلم کو جوانی اور روانی دونوں بخشے۔آمین
نسیم اشک
ہولڈنگ نمبر10/9گلی نمبر3
جگتدل 24 پرگنہ مغربی بنگال
فون۔9339966398
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page


1 comment
بہت عمدہ۔۔۔۔۔بہت خُوب۔۔۔۔۔آلہ آپکو سر لکھنے کی طاقت دے