اسلام نے نکاح کا مقصد محبت و الفت بتایا ہے۔ اس لیے نکاح کرتے وقت چند امور کو پیش نظر رکھنے کی ہدایت فرمائی۔ جس سے میاں بیوی میں جہاں تک ممکن ہو محبت، یگانگت اور ہمدردی پیدا کر دی جائے تو جو رشتہ ازدواج کی پائیداری کا سبب ہو۔ میاں بیوی میں اتحاد و اتفاق ہو۔ اور وہ پرسکون زندگی بسر کر سکیں۔یہ بنیادی بات ہے اسلام نے یہ حق ہر مرد اور عورت کو دیا ہے لہٰذا کسی کو یہ اختیار نہیں کہ وہ کسی پر اپنی مرضی مسلط کرے یہاں تک کہ باپ، دادا کو بھی جبر کا اختیار نہیں۔ اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا ’’ان عورتوں سے نکاح کرو جو تمہارے لیے پسندیدہ اور حلال ہوں‘‘۔ پسندیدہ اور حلال کے یہ معنی نہیں کہ دین اسلام سے خارج ہو کر نفسیاتی تسکین حاصل کرنے کے لئے خیر دین دار عورتوں سے نکاح کیا جائے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’لوگو! سن لو، تمہارا رب ایک ہے کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر، کسی سرخ کو کالے اور کسی کالے کو سرخ پر تقوی کے سوا کوئی فضیلت نہیں۔بے شک تم میں اللہ کے نزدیک معزز وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے۔سنو! کیا میں نے تمہیں بات پہنچا دی؟ لوگوں نے عرض کی یا رسول اللہ! ہاں! فرمایا تو جو آدمی یہاں موجود ہے وہ ان لوگوں تک یہ بات پہنچا دے جو موجود نہیں‘‘۔ بعض علماء کرام کے نزدیک لڑکے لڑکی میں ہر ممکن حد تک مناسبت کا لحاظ کیا جاتا ہے۔ بے جوڑ اور غیر مناسب رشتوں سے بچا جاتا ہے۔ اسکی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ نسلوں میں بگاڑ پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر ہوتا ہو۔ قرآن نے تو ہمیں یوں اشارہ کیا کہ ’’اے لوگو! ہم نے تمہیں مرد اور عورت سے پیدا فرمایا اور ہم نے تمہیں (بڑی بڑی) قوموں اور قبیلوں میں تقسیمِ کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بے شک ﷲ کے نزدیک تم میں زیادہ باعزت وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہو‘‘۔’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورت سے چار چیزوں کے باعث نکاح کیا جاتا ہے اس کے مال، اس کے حسب و نسب، اس کے حسن و جمال اور اس کے دین کی وجہ سے تیرے ہاتھ گرد آلودہ ہوں، تو دیندار کو حاصل کر‘‘۔ ایک نوجوان مومن اللہ کے تقویٰ کے بعد جو اپنے لیے بہتر تلاش کرے وہ نیک بیوی ہے کہ اگر اسے حکم دے تو اطاعت کرے، اس کی جانب دیکھے تو خوش ہو، اگر وہ کسی بات کے کرنے پر قسم کھا لے تو اسے پوری کر دے اگر شوہر کہیں چلا جائے تو اس کی غیر موجودگی میں اپنی جان و مال کی نگہبانی کرے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "جب تمہارے پاس ایسے شخص کے نکاح کا پیغام آئے جس کی دینداری اور اخلاق تمہیں پسند ہوں تو اس سے نکاح کردو خواہ وہ کوئی بھی شخص ہو۔ اگر تم نے ایسا نہ کیا تو زمین میں بہت زیادہ فساد اور فتنہ پھیلے گا۔‘‘ ہمارے نبی ایک ایسا دین لے کر آئے جو انسانی حقوق کی حفاظت جزبات اور خواہشات کو مدنظر رکھتے ہوئے زنا بالجبر سے روکتے ہوئے کالے رنگ اور گورے رنگ کے فرق کو نظر انداز کر کے اللہ کی تخلیق کا مزاق اڑایے بغیر دین کے مطابق نکاح عام کرتا ہے وہ نجات پا گیا۔
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو ایک انصاری کے گھر بھیجا تاکہ وہ اپنے رشتہ کا پیغام دیں۔ اس انصاری کے گھر والوں نے کہا کہ حبشی غلام حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہاکہ اگر حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تمہارے پاس آنے کے لئے نہ کہا ہوتا تو میں میں کبھی نہ آتا۔ انہوں نے کہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں حکم دیا ہے۔ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا ہاں۔ انہوں نے کہا تم اس رشتہ کے مالک ہو۔ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جاکر حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سونے کا ٹکڑا آیا۔ آپ نے وہ حضرت بلال کو عطا کیا کہ یہ اپنی بیوی کے پاس لے جانا اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے دوستوں سے فرمایا تم اپنے بھائی کے ولیمے کی تیاری کرو‘‘۔
مندرجہ بالا حدیث حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آزاد عورت کا نکاح ایک حبشی غلام کے ساتھ کر کے ہر قسم کے تفاوت کو ختم کر دیا اور بتا دیا کہ اصل چیز مسلمان ہونا باقی چیزیں کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔اپنی قوم کی تعلیم و ترقی، عزت و عظمت اور خوشحالی و آسودگی کی تدابیر کی جائیں، مگر اس کی بنیاد محنت و جہد پر ہو کسی دوسرے کے وسائل پر قبضہ یا کسی دوسرے کی آزادی سلب کرنے یا اس کے سماجی و معاشی استحصال پر نہ ہو۔ پہلی صورت مفید اور بہتر ہے جبکہ دوسری صورت ظالمانہ و مفسدانہ ہے۔ اسلام میں شادی کے سلسلہ میں اخلاق کے ساتھ ساتھ قومی و قبائلی تعلقات کا لحاظ بھی کرلیا جائے تو رشتہ زوجیت و نکاح میں مزید پختگی پیدا ہونے کے امکانات پیدا ہوجائیں گے اور بس۔ یہ تمام تدابیر دراصل ایک ہی مسئلہ کے محکم و پائیدار کرنے کیلئے کی جاتی ہیں کہ رشتہ مضبوط بنیادوں پر استوار ہو۔ میاں بیوی کے درمیان مثالی ہم آہنگی ہو، پیار ہو، ہمدردی ہو، میل ملاپ ہو، اور ان دو کی باہمی محبت کے ذریعے ان کے والدین اور پوری برادری و خاندان تک یہ خوشگوار تعلقات پھیلتے پھولتے چلے جائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
دو محبت کرنے والوں میں، نکاح کی طرح (پائیدار) تمہیں کوئی اور تعلق نہیں ملے گا‘‘۔’حضرت جابر بن عبد اﷲ رضی اﷲ عنہما سے روایت کی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کسی عورت کو پیغام نکاح دے اگر اس کی ان خوبیوں کو دیکھ سکتا ہو جو اسے نکاح پر مائل کریں، تو ضرور ایسا کرے۔ حضرت جابر کا بیان ہے کہ میں نے ایک لڑکی کو پیغام دیا اور چھپ کر اسے دیکھ لیا یہاں تک کہ میں نے اس کی وہ خوبی بھی دیکھی جس نے مجھے نکاح کی جانب راغب کیا لہٰذا میں نے اس کے ساتھ نکاح کر لیا‘‘۔
’’تقوی کے سوا کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی فضیلت نہیں۔‘‘ لہذا تمام باتوں کو مد نظر رکھا جائے اور بڑے بزرگوں کے فیصلے پر عملدرآمد رہا جائے اور جہاں تک ہو سکے رشتوں کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کی جائے۔
طارق اطہر حسین
عبدالحمید نگر برنپور آسنسول مغربی بنگال ہندوستان
9563691626
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

