شعبۂ اردو،سی سی ایس یو میں ’’افسانہ اور اس کے فنی لوازم‘‘ پرآف لائن پروگرام کا انعقاد
میرٹھ19؍ مئی2022ء
اردو ادب میں کہانی ایک ایسی صنف ہے جسے احترام کے ساتھ پڑھا اور سمجھا جاتا ہے۔ بہت سے افسا نہ نگاروں نے اس صنف کو تقویت عطا کی۔ کہانی میں انسانی زندگی کے کسی گوشے کو پیش کیا جاتا ہے۔یہ الفاظ تھے صدر شعبۂ اردوپروفیسر اسلم جمشید پوری کے جو آیو سا اور شعبۂ اردو کے زیر اہتمام منعقد ادب نما کے تحت ’’ افسانہ اور اس کے فنی لوازم‘‘ موضوع پراپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ادا کررہے تھے۔انہوں نے مزید کہاکہ ایک سچا افسانہ نگار وہی ہو تا ہے جو سماج کی سچی عکاسی اپنے افسا نوں میں پیش کرے۔ عصر حاضر میں بہت سے افسا نے لکھے جارہے ہیں مگر ضروری نہیں کہ ہر افسا نہ اچھا ہو جس کہانی میں قاری کو سماج کا اصل چہرہ دکھائی دے وہ عمدہ کہانی ہوتی ہے۔ انہوں نے اس موقع پر اپنی کہانی ’’یزید وقت‘‘ کی قرأت کی جسے سامعین نے خوب سرا ہا۔
اس سے قبل پرو گرام کا آغازایم اے کے طالب علم فاروق شیر وانی نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔بعد ازاںعظمیٰ پروین نے ہدیۂ نعت اور سعید احمد سہارنپوری نے اپنی مترنم آواز میںغزل پیش کر کے سماں باندھ دیا پروگرام میںمائنارٹی ایجو کیشنل سوسائٹی،میرٹھ کے صدر محترم آفاق خاں نے مہمان خصوصی کے بطور شرکت کی۔استقبالیہ کلمات محمد عمران ،تعارفی کلمات ڈاکٹر ارشاد سیانوی،شکریے کی رسم ڈاکٹر الکا وششٹھ اورنظامت کے فرائض ڈاکٹر شاداب علیم نے انجام دیے۔
اس موقع پرپروفیسر اسلم جمشید پوری کے ذریعے پڑھی گئی کہانی ’’یزید وقت‘‘ پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر آصف علی نے کہاکہ یہ کہانی این آ رسی کے تنا ظر میں لکھی گئی ایک بہترین کہانی ہے ۔اس میں انہوں نے اپنے وسیع مطالعے، عمیق مشاہدے اور طویل تجربے کی بنیاد پر جنگل اور جنگلی جانوروں کی علامتوں کے ذریعے عہد حاضر کے حالات کو متاثر کن انداز میں پیش کیا ہے۔ کہانی قر آن کی ایک آ یت کے ترجمے سے شروع ہوتی ہے اور تاریخ کے متعدد بڑے ظالموں اور ان کے انجام کو بیان کرتے ہوئے ختم ہو جاتی ہے تاہم یہ تاثر ضرور چھوڑ جاتی ہے کہ یزید وقت اگر چہ کچھ وقت کے لیے غالب آ بھی جائے تب بھی انجام کار شکست ہی اس کا مقدر ہے۔
مہمان خصوصی آفاق احمد خاں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج اردو کا پریم چند سیمینار ہال ایک لیب نظر جس ہم آج سیکھ رہے ہیں کہ کہانی کیسے لکھی جاتی اور کیسے پڑھی جاتی ہے۔ زندگی کی عکاسی ایک افسانہ نگار اپنی کہانی میں اس خوبی سے پیش کرتا ہے کہ قاری کو اصل منظر صاف دکھائی دینے لگتا ہے۔بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو سماج کی اصل سچائی کو سامنے لاتے ہیں۔ یزید وقت سے سماج و زندگی کا اصل چہرہ سامنے آ تا ہے۔
اس موقع پر کثیر تعداد میں طلبہ و طالبات موجود رہے
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

