"نعمتِ ارزاں ” : ایک مختصر جائزہ ۔شیبا کوثر
جناب پرو فیسر سید شاہ حسین احمد صاحب سجاده نشیں خانقاہ حضرت دیوان شاہ ارزانی رحمت اللّه علیہ کی تقد یم و ترتیب کردہ کتاب "نعمتِ ارزاں ” میدان تصوف کے لئے یقیناً ایک نعمت ہے جس میں تحقیق کی بنیاد پر صاحبِ کتب نے بہت گراں قدر معلومات کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے ۔اس کتاب کے مطالع سے علم و فہم کے کئی در یچے کھلتے ہیں اور میدان تصوف کو سمجھنے میں ایک عام قاری کی رہنمائی ہوتی ہے ۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ "نعمتِ ارزاں "ایک خاص قسم کے قاری کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے جو تصو ف کو اپنی زندگی میں مقام دیتے ہیں۔اور جن کے دلوں میں بزر گانِ دین اور او لیاء اللّه کی محبّت اور قدر ہوتی ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ اولیاء اللّه کا تذکرہ اور ان کے ارشادات پڑھنے سے انسان میں دین کی رغبت اور ان کے نقش قدم پر چلنے کا شوق دل میں پیدا ہوتا ہے اور ایک اللّه والے کی زندگی کے شام و سحر کس طرح سے گزرتے ہیں اس کا اندازہ ہوتا ہے اور پھر جس کے دل میں زندگی کی حقیقت کا راز پانے کا جنون ہوتا ہے اس کو اولیا ء اور صوفیاء اکرام کی زندگی کے حالات سے بہت کچھ سیکھنے اور سمجھنے کو ملتا ہے۔جس کی وجہ کر ان کے قلب کو سکون ملتا ہے ۔
"نعمتِ ارزا ں "اسی میدانِ عمل کی طرف رہنمائی کرتا ہے کیونکہ اس رسالہ میں خانقاہ حضرت دیوان شاہ ارزانی رحمت اللّه علیہ کے اولیا ء اللّه کا تذکرہ ہے۔جہاں تک خانقاہ کا تعلق ہے تو یہ بات بالکل عیاں ہے کہ ہندوستان میں اسلام کی اشاعت میں ان کے کردار سے انکار نہیں کیا جا سکتا بلکہ سچ تو یہ ہے کہ دین کی تبلیغ اور اشاعت کے یہی مراکز ہوا کرتے تھے اور انہیں خانقاہو ں کے سجاد گان کے عمل و کردار نے دین کی اشا عت میں ایک اہم رول ادا کیا ہے اور آج بھی جس کا فیض جاری و ساری ہے۔
بہار کی سر زمین بھی خانقاہوں سے خالی نہیں ہے یہاں آج بھی کئی خانقاہیں قائم ہیں انہیں خانقاہوں میں ایک اہم نام خانقاہ حضرت دیوان شاہ ار زانی رحمت اللہ علیہ کا بھی ہے۔جن کے سجاد گان ہمیشہ اور ہر دور میں اپنے علم وعمل سے لوگوں کے لئے فیض کے مو جب رہے ہیں ۔
"نعمتِ ارزاں "کی شروعات حرف چند سے ہوتی ہے۔جس میں مولانا سید شاہ مصباح الحق عما دی سجاد ہ نشیں خانقاہ عمادیہ ،منگل تالاب پٹنہ سٹی نے اپنے تاثر ات کو پیش کیا ہے جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ "خانقاہ شاہ ارزانی کے رسوم اور سجاد گان کا انداز صوفیانہ تھا اس رسالہ کے پڑھنے سے بہت واضح ہو جاتا ہے کہ تمام سجاد گان کا شمار صاحبا نِ علم کے ساتھ ساتھ اصحابِ تصرف میں بھی ہوتا رہا ہے ۔اور سبھی صاحبِ فضل و تقویٰ رہے ہیں ۔طریقت و معرفت میں ان سبھو ں کا ایک خاص مقام رہا ہے۔اور اسی علم و فضل کا چشمہ ابھی تک جاری ہے کہ اک زمانہ اس سے فیض پا رہا ہے اور اہل ذوق استفادہ کرتے ہیں ”
اس کے بعد مقدمہ پیش کیا گیا ہے جس میں جناب سید شاہ حسین احمد سجا ده نشیں خانقاہ حضرت دیوان شاہ ارزانی نے بڑی عرق ریزی کے ساتھ محققانہ گفتگو کی ہے۔جن کے الفاظ میں "پٹنہ اور اعتراف پٹنہ کی قد یم ترین ہی نہیں بلکہ اب تک کی تحقیق کے مطابق پہلی خانقاہ ،خانقاہ حضرت شاہ ارزانی ہے،جس کے بانی آفتاب شریعت حضرت دیوان شاہ ارزانی رحمتہ اللّه علیہ( م۔1028ھ) ہیں آپ کی ولادت پنجاب کے ضلع قصور میں ہوئی۔آفتاب شریعت حضرت دیوان شاہ ارزانی کا تعلق افغانستان کے قبیلہ خو یشگی سے ہے ۔آپ والد کا نام ملا بر ہان الدین ہے جو اپنے وقت کے معروف عالم دین اور صوفی تھے ۔ملا برہان الدین قند ہار کے وادی ارغسان سے ہجرت کر کے قصور آئے تھے "۔
اپنی تحقیق کی بنیاد پر مقدمہ میں آگے لکھتے ہیں کہ "حضرت دیوان شاہ ارزانی رحمت اللّه کی خانقاہ جو روحانیت ،شریعت ،طریقت،علم و ادب اور توکل علی اللّه کا نہ صرف عظیم الشان مرکز ہے بلکہ عملی درسگاه بھی۔الحمداللّه چار صدی سے بھی زیادہ عرصہ سے اس خانقاہ سے رشدو ہدایت،تبلیغ و دین،توکل علی اللّه کی تعلیم نہ صرف دی جاتی ہے بلکہ جس سجاده نشیں کی حیات کو اٹھا کر دیکھا جائے سب کے سب اس کے عملی نمونہ بھی نظر آئیں گے۔علم و ادب کی دنیا میں بھی یہ خانقاہ اہم مقام رکھتی ہے۔یہاں کے تمام سجاد گان صاحبِ تصنیف کثیرہ ہوئے ہیں،لیکن خلوت کو جلوت پر تر جیح دینا اور انکساری،و خاكساری کی وجہ سے ان حضرات کو بحیثیت ادیب و شاعر وہ شہرت نہ مل سکی جس کے وہ مستحق تھے۔یہ خانقاہ ہندوستان کی ان چند انگلی پر گنے جانے والی خانقاہوں میں سے ایک ہے جہاں سجادہ نشینی سنت جناب امیر معاویہ پر نہیں بلکہ سنت رسول خدا حضرت محمّد مصطفیٰ صلی اللّه علیہ و سلم پر ہو تی ہے.” اس کے علاوہ بھی مقدمہ میں خانقاہ حضرت دیوان ارزانی اور میدانِ تصوف پر پُر سیر گفتگو کی گئی ہے۔ جس کے مطالعے سے علم و عرفان کے سوتے پھوٹتے ہیں اور روح کو تسکین اور دل کو قرار ملتا ہے ۔
مقدمہ کے بعد خانقاہ کے سجاد گان پر مشتمل حصّہ اول سے لیکر حصّہ نہم تک الگ الگ عنوان سے سجاد گان کی زندگی پر باب ہیں جس میں ان کے زندگی کے حقائق پیش کئے گئے ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ یہاں کے سجادہ نشیں عالم با عمل اور جامع شریعت و طریقت رہے ہیں نبی پاک سے بے پناہ محبّت ،اہل بیت سے عقیدت ،حقو ق اللّه کے ساتھ ساتھ حقوق العباد پر بھی نظر ،نماز با جما عت اور زندگی کا ہر ہر لمحہ یاد الہی میں گزارنا ان کا شیوہ رہا ہے ۔
ضمیمہ کے تحت حضرت سید شاہ حیدر علی,حضرت سید شاہ حامد حسین ،سید شاہ عاشق حسین اور سید شاہ حسین احمد مد ظلہ صاحب کے حالات زندگی کا مختصر جائزہ لیا گیا ہے جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان لوگوں کی زندگی اعلی کردار کا نمونہ ہے جو صحیح مانوں میں ایک اولیا ءاللّه کی زندگی ہونی چاہئے۔
یہ حقیقت ہے کہ اللّه سبحانہ تعالیٰ ہر زمانے میں انسانوں کی رہنمائی کیلئے انبیاءکرام بھیجتے رہے تا کہ ان کو ہدایت کا راستہ دکھا ئیں،انبیاءکرام کے بعد اولیاء عظام کو بھیجا جو ان کی سنتوں پر چلتے ہیں اور ان کی امّت کو ان کے طریقہ پر چلاتے ہیں۔ان حضرات سے زمانہ کبھی خالی نہیں رہا کوئی نہ کوئی داعی حق آتا رہا جو بیان و برہان کے ساتھ ساتھ حق پر دلالت کرتا رہا۔ولی اپنے پیچھے ولی کو چھوڑ جاتا ہے جو اس کے آثار کی پیر وی اور اس کے سلوک کی اقتدا ء کرتا ہے اور مریدین اس سے ادب شرعی سیکھتے ہیں ۔ہندوستان ہمیشہ سے بزر گان دین اور اولیاء اللّه کا مسکن رہا ہے ان بز ر گوں میں بہت سارے نام ایسے ہیں جنہوں نے عام ہدایت کے لئے خانقاہیں قائم کی جہاں سے رشد و ہدایت کے آبشا رے نکلتے رہے ہیں اور آج بھی روح کے پیا سے اپنی پیاس بجھانے کے لئے خانقاہوں کی طرف عقیدت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور فیضیاب ہوتے ہیں ۔
"نعمت ارزاں "کے مطالع سے یقین کے ساتھ یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ انہیں خانقاہوں میں سے ایک” خانقاہ حضرت دیوان شاہ ارزانی "پٹنہ بھی ہے , جہاں سے یہ سلسلہ آج بھی جاری و ساری ہے ۔
اللّه والوں کی ایک خاص بات یہ ہوتی ہے کہ انہیں دیکھتے ہی اللّه یاد آ جاتا ہے موجودہ سجاد ہ نشیں پروفیسر سید شاہ حسین احمد صاحب انہیں چند اللّه والوں میں سے ایک ہیں ۔ان کے گفتار و کردار میں ایک طرح کی شائستگی موجود ہے ،عاجزی و انکساری انکا خاصہ ہے ان کی علمی گفتگو سے کوئی بھی انکے گہرے علم کا اندازہ لگا سکتا ہے۔ذکر الہی ان کا مشغلہ ہے۔آج کے اس پر آشو ب دور میں ایسی شخصیت انسانیت کے لئے ایک رحمت سے کم نہیں ۔
ہمیں انکی شاگردہ ہونے پر فخر ہے ۔یہ ہماری خوش نصیبی ہے کہ اللّه نے مجھے ایسے عالم و فاضل،متقی ،پر ہیز گار اور با صلاحیت استاد سے علم حاصل کرنے کا موقع عنایت فرمایا جن کی شخصیت سے ہمیں بہت کچھ سیکھنے کا موقع فراہم ہوا ۔میں اللّه پاک سے ان کی درازی عمر کے لئے دعا گو ہوں تاکہ عام و خاص ان کی شخصیت سے فیض حاصل کر سکے ۔
ان کے ذریعہ پیش کردہ "نعمت ارزاں "یقیننا ایک نعمت ہے جو اپنے پڑھنے والوں کو میدان عمل کا سپاہی بدلنے میں مددگار ثابت ہوگا ۔
اس رسالہ کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اس کا طرز بیان جدا گانہ ہے۔مطالع سے یہ احساس ہوتا ہے کہ کبھی فارسی اور اردو دونوں زبانیں ایک سنگم کی طرح تھیں یعنی بغیر فارسی کے اردو پڑھنا سمجھنا مشکل تھا لیکن آجكل فارسی زبان کا چلن اردو آبادی میں بہت کم ہو گیا ہے جس کی وجہ کر اردو کے عام قاری کو اس طرح کے معیاری رسالہ سے دلچسپی کم ہو جاتی ہے۔کل ملا کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ "نعمت ارزاں "میدان تصوف کو سمجھنے کے لئے گراں قدر اضافہ ہے جس کے ذریعہ میدان تصوف کو سمجھنے میں کافی مدد ملتی ہے اس لئے ہر خاص و عام کو اس کا مطالعہ کرنا چاہیے جس سے یقیناً اس کے روح کو تسکین ہوگی ۔
شیبا کوثر
(ریسرچ اسکالر ویر کنور سنگھ یونیورسٹی آ ر ہ ، بہار ).
۔sheebakausar35@gmail.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

