’ اونچی اڑان‘: ادبِ اطفال کی نئی جہت – شہباز پروین
جھارکھنڈ کی سرزمین کے لیے یہ خوش آیند بات ہے کہ یہاں سے اردو ادب کے جیالے اپنی تخلیقی ، تنقیدی اور تحقیقی کاوشوں سے اردو دنیا کے منظر نامے پر اپنا دیر پا نقش قایم کررہے ہیں۔ رانچی کا خطّہ اس سلسلے میں ہمیشہ اپنی علمی و ادبی سرگرمیوں کی وجہ سے پیش پیش رہتا ہے۔ اردو افسانچے کے معتبر دستخط ڈاکٹر ایم۔اے۔حق کا شمار اُن نمایندہ شخصیات میں ہوتا ہے جنھوں نے عالم گیر سطح پر اپنے افسانچوں کی وجہ سے شہرت پائی۔ ادبِ اطفال کے لیے ان کی تازہ وارد کتاب’ اوٗنچی اُڑان‘ ایک نایاب تحفے کی حیثیت رکھتا ہے۔ بچوں کی نفسیات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اگر دیکھا جائے تو کتاب کا سر ورق کافی دیدہ زیب ہے ۔ کتاب کا بیک کور بھی کافی خوب صورت ہے جس میں مصنّف و مرتّب کی ایک ساتھ جاذبِ نظر تصویر تو ہے ہی، کتاب سے ہی ایک منتخب افسانچۂ اطفال’سزا‘ کو بھی شامل کیا گیا ہے جس سے قاری ایک نظر میں کتاب کے باطن پر ایک طائرانہ نظر ڈال لے۔
مصنّف کے مطابق وہ اس صنف یعنی ’افسانچۂ اطفال‘ کے موجد ہیں اور اس صنف کے سلسلے سے کتاب میں عالمی سطح پر۱۱۶؍ ادبی اور تعلیمی ماہرین کی آرا کو شامل کیا گیا ہے جس سے اس نئی صنف کے سلسلے سے ایک نظریہ قایم کرنے میں مدد ملتی ہے۔کتاب میں ’عرضِ مصنّف‘ کے تحت ایم۔اے۔ حق نے ادبِ اطفال کے بارے میں اپنی فکر مندی کا اظہار کرتے ہوئے افسانچۂ اطفال کی ایجاد کے اسباب و عوامل پر روشنی ڈالی ہے۔ کتاب کے مرتّب ڈاکٹر تسلیم عارف نے عرضِ مرتّب کے تحت ’نئے عہد کے بچّوں کے لیے کہانیاں‘ کے عنوان سے کتاب میں شامل افسانچۂ اطفال پر خاطر خواہ گفتگوٗ کی ہے۔انھوں نے موجودہ دور میں ان افسانچۂ اطفال کی اہمیت و افادیت پر بھی بے حد تفصیل سے روشی ڈالی ہے اور منتخب افسانچۂ اطفال پر تنقیدی نظر بھی ڈالی ہے۔ انھوں نے کہانیوں میں ایم۔اے۔حق کے اسلوب کی بھی کافی تعریف کی ہے۔کتاب میںایم۔اے۔حق کا انٹرویو بھی شامل ہے جسے شاہد اختر انصاری نے لیا تھا اور یہ اردو دنیا کے جولائی ۲۰۲۰ئ کے شمارے میں شایع ہوا تھا۔ اس انٹرویو میں شاہد اختر انصاری نے افسانچۂ اطفال اور اس تعلق سے دیگر لکھنے والوں کے بارے میں دل چسپ سوالات قایم کیے ہیںجس سے ہمیں اس صنف کے سلسلے سے کافی اہم معلومات حاصل ہوتی ہیں۔
اردو میں تازہ وارد اس صنف میں اس مجموعے کو اوّلیت کا شرف حاصل ہے۔یہی وجہ ہے کہ کہانیوں کی ابتدا سے ٹھیک پہلے ’تعارفِ صنف‘ کے تحت ’افسانچۂ اطفال کیا ہے؟ ‘عنوان سے ایم۔اے۔حق کا ایک مضمون بھی شامل کیا گیا ہے جو ہفت روزہ اخبار ’صدائے انصاری‘میں شایع ہوا تھا۔ اس مضمون میں افسانچۂ اطفال کے حدود و اربع پر اختصار میں گفتگوٗ کی ہے ۔ اس مضمون کو شامل کرنے کا مقصدشاید یہ ہو سکتا ہے کہ اس صنف سے لوگوں کو اچھی طرح واقفیت ہو جائے۔کتاب میں کل ۶۲؍ کہانیاں شامل ہیں جن میں سے اکثر ایک صفحے پر مشتمل ہیں اور کچھ ایک دیڑھ یا دو صفحے پر بھی پھیلی ہوئی ہیں۔
’اوٗنچی اُڑان‘ میں شامل تخلیقات کا مطالعہ ہمیں اس بات کا بھی پتا دیتا ہے کہ نئی نسل کس قدر ہوش مند اور سمجھ دار ہے ۔یہاں یہ بھی اندازہ ہوتاہے کہ جدید ٹکنالوجی سے بہرہ ور ہونا کتنا ضروری ہے اوران کے استعمال سے کن کن پریشانیوں سے بچا جا سکتا ہے۔ اس موضوع پر ’گوگل‘، ’باخبر‘ اورتنبیہہ‘ اہم کہانیاں ہیں۔مصیبت کے وقت ’گوٗگل‘ اور’جسٹ ڈائل‘سے واقفیت کی افادیت کا پتا ’گوگل‘ اور’باخبر‘ جیسی کہانیوں سے ملتا ہے اور سفرمیں احتیاطی تدابیر کے فائدے کو کہانی ’تنبیہہ‘ کے ذریعے واضح کیاگیا ہے۔حالاں کہ ’گوٗگل‘، ’فیصلہ‘ یا ’جوئے کا اڈّا‘جیسی ذرا طویل کہانیوں کوبہ حیثیت افسانچہ اس مجموعے میں شامل کرناتھوڑاگراں گزرتا ہے لیکن موضوع کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے ان کہانیوں کو شامل کیا جانا کچھ نا مناسب بھی نہیںمعلوم ہوتا۔اس کے علاوہ کہانی’سزا‘، ’واہ‘، ’معافی‘،’کھیل کھیل میں‘ اور’حاضر دماغ‘ بھی اچھی کہانیاں ہیں۔ کہانیوں کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان افسانچۂ اطفال کو نئی نسل کے بچّوں کی ذہنی ساخت اور نفسیات کو سامنے رکھ کر بڑی باریک بینی سے تخلیق کیا گیاہے۔ مرتب ِ کتاب نے اس کتاب کی کہانیوں کی اہمیت اور افادیت کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے انھیں بچّوں کے نصاب میں شامل کرنے کی سفارش کی ہے جو میری رائے میں ایک مناسب قدم ہے۔ امّیدہے کہ اردو کے ادبی حلقے میں اس نئی صنف اور اس مجموعے کی خاطر خواہ پذیرائی حاصل ہو گی۔
٭٭٭
اوٗنچی اُڑان
مصنّف: ایم۔اے۔حق
مرتّب: ڈاکٹر تسلیم عارف
صفحات:136
قیمت: 300؍ روپے
سنۂ اشاعت:2020
ناشر: ثریا پبلی کیشنز، رانچی۔7903131652
مبصر: شہباز پروین،
سینیر ری سرچ فیلو، شعبۂ اردو،
رانچی ،یونی ورسٹی، رانچی، جھارکھنڈ
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

