۱۸۵۷ کی جنگ آزادی میں ناکامی سے ہندستانی سماج اور معاشرہ زبردست بکھراؤ اور انتشار کا شکار ہوگیا تھا۔ ہوش و حواس نے کام کرنا بند کردیا تھا۔ ہر طرف سناٹے کی دبیز چادریں تن گئی تھیں۔ انگریزوں کے ظلم و زیادتی نے تھوڑی بہت جو رمق باقی تھی، اسے بھی ختم کردیا۔ اور ظلم بھی ایسے ایسے جس کا تصور بھی محال ہے۔ ہر ذی علم اور ذی ہوش باغی کو انگریزکے عتاب کا شکار ہونا پڑا۔’ اللہ رے سناٹا کوئی آواز نہیں آتی‘ کا ہولناک منظر ہوش و خرد کو اپنے آہنی شکنجے میں جکڑ لیا تھا۔لیکن جب ظلم و استبداد اپنے انتہا کو پہنچ جاتا ہے، تو اسی کی کوکھ سے متعدد راستے نکلنے شروع ہوجاتے ہیں۔ چنانچہ کچھ عرصہ بعد جب ہوش و حواس نے کام کرنا شروع کیا تو قوم وملت کے چند سپوتوں نے اس منتشر اور بکھرے ہوئے سماج اور معاشرہ کو منظم کرنے کی کوشش میں لگ گئے۔ اتفاق سے مختلف شعبۂ حیات سے تعلق رکھنے والے افراد نے منتشر سماج و معاشرہ کو منظم کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ اُس وقت ہندستانی سماج و معاشرہ کا سب سے کمزور پہلو جہالت اور لا علمی تھی۔ اُس نازک دور میں حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ (۱۸۳۲۔۱۸۸۰) نے دارالعلوم دیوبند، حضرت مولانا محمد علی مونگیریؒ (۱۸۴۶۔۱۹۲۷) نے ندوۃ العلما لکھنؤ اور سر سید احمد خان (۱۸۱۷ ۔ ۱۸۹۸) نے ایم او کالج قائم کر ہندستانی سماج میں علم کی شمعیں ایسی روشن کیں جس کی تابناکی سے آج سارا معاشرہ منور ہے۔ قلمی اور مطبوعہ کتابوں کے تحفظ کے لئے خدا بخش خاں (۱۸۴۲۔۱۹۰۸)، نواب رضا علی خاں اور نواب میر یوسف علی خاں سالار جنگ سوم (۱۸۸۹۔۱۹۴۹) نے بالترتیب خدا بخش لائبریری پٹنہ، رضا لائبریری رامپور اور سالار جنگ میوزیم حیدرآباد قائم کر ہندستانی سماج کو ایک نادر اور نایاب تحفہ عطا کیا۔علم کی اشاعت اور انسانیت کی تعلیم کو بروئے کار لانے کے لئے صحت مند جسم اور تندرست دماغ بنیادی وسائل ہیں۔ حکیم اجمل خاں (۱۸۶۸۔۱۹۲۷) نے اپنی طبی مہارت سے ہندستانی معاشرہ کو صحت مند اور توانا بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ تعلیمی درس گاہوں کے بعد درسی کتابوں کی طباعت و اشاعت کا مسئلہ درپیش ہوا تو منشی نولکشور (۱۸۳۶۔۱۸۹۵) فرشتۂ رحمت بن کر سامنے آئے اور مطبع نولکشور کی بنیاد رکھی۔ تمام رکاوٹوں اور مزاحمتوں کے باوجود ان حضرات نے جس تندہی اور بے لوثی سے کام کیا، وہ تاریخ کے اہم اور سنہرے باب ہیں۔
۱۸۵۷ سے قبل لکھنؤ میں مطبع حاجی حرمین شریفین، مطبع جلالی (۱۸۴۰)، مطبع علوی (۱۸۴۱)، مطبع میر حسن (۱۸۴۴)، مطبع محمدی (۱۸۴۵)، مطبع مولائی (۱۸۴۵)، مطبع خیالی (۱۸۴۶)، تمکین پریس (۱۸۴۶)، مطبع احمدی (۱۸۴۷)، مطبع مہدیہ (۱۸۴۹) اور مطبع مرتضوی (۱۸۴۹) جیسے مطابع موجود تھے۔ لیکن ۱۸۵۷ کے ہنگاموں میں اکثر مطابع تباہ و برباد ہوگئے۔ منشی نولکشور کو اس کا شدید احساس تھا اور وہ اس شعبہ کو اپنی کاوشوں سے آباد کرنا چاہتے تھے۔ صحافت کا چسکا تو انھیں دوران تعلیم آگرہ کالج میں لگ چکا تھا۔ وہاں ’سفیر آگرہ‘ نام سے ایک اخبار شائع ہوتا تھا۔ منشی نولکشور اس کے مستقل مضمون نگاروں میں شامل ہوگئے۔ اُسی زمانے میں ’کوہ نور‘ لاہور کے ایڈیٹر منشی ہر سکھ رائے بھٹناگر اور ’سفیر آگرہ‘ کے ایڈیٹر و مالک دیوان چند میں کسی مسئلہ پر اختلاف ہوگیا۔دونوں کے درمیان یہ اختلاف روز بہ روز بڑھتا ہی جارہا تھا۔ منشی نولکشور نے بڑی حکمت عملی سے اس اختلاف کو ختم کرادیا۔ منشی ہر سکھ رائے نولکشور کی ذہانت اور اُن کی اِس ادا سے بہت متأثر ہوئے اور ’کوہ نور‘ کے معاونین میں شامل ہونے کی دعوت دی۔ منشی نولکشور کی دیرینہ خواہش اب تکمیل کی طرف رواں دواں تھی۔ انھوں نے اس پیش کش کو منظور کر لیا اور لاہور چلے گئے اور چار سال وہاں رہے۔ اِس دوران انھوں نے اخبار کوہ نور اور مطبع کوہ نور کو بڑی محنت اور دیانت داری سے سنبھالا۔ منشی ہر سکھ اُن کی دلچسپی اور کارگزاری سے بہت متأثر ہوئے۔منشی نولکشور کی دلی خواہش ایک اخبار کا اجرا اور ایک مطبع کا قیام تھا۔ اس لئے انھوں نے بڑی دلچسپی اور بہت لگن سے اخبار نویسی اور طباعت و کتابت کے رموز و نکات سے واقفیت حاصل کی۔ ۱۸۵۷ کے آغاز میں کسی معاملہ پر دونوں میں اختلاف ہو گیا اور نولکشور نے اخبار کوہ نور اور مطبع کوہ نور سے تعلق ختم کر لیا اور لکھنؤ چلے آئے۔پھر ۱۸۵۸ئ میں انھوں نے مطبع نولکشور قائم کیا۔ سرمایہ کی کمی کے سبب شروع میں دستی پریس پر کام شروع کیا۔ ۱۸۵۷ سے پہلے لکھنؤ میں جو بھی مطبع موجود تھے، ان میں مذہبی اور درسی کتابیں زیادہ شائع ہوتی تھیں۔ نولکشور کو ان مطابع کی صورت حال کا پتا تھا۔ اس لئے انھوں نے شروع میں چھوٹی چھوٹی مذہبی اور درسی کتابیں طبع کیں۔ قرآن شریف کے سی پارے کی اشاعت سے نولکشور کے کاروبار میں دن بہ دن ترقی ہوتی چلی گئی۔
قرآن شریف کی کتابت عہد نبوتؐ میں ہی شروع ہو گئی تھی اور اس وقت تک جاری رہی جب تک کمپیوٹرسے اس کی کمپوزنگ کا سلسلہ شروع نہیں ہوا ۔ کتابت میں بھی ایسے ایسے نمونے اور ایسی ایسی فنکاری پیش کی گئی جسے دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ اب تک کی تحقیق کے مطابق ۱۵۳۰ میں قرآن شریف کا سب سے پہلا مکمل نسخہ عربی نص کے ساتھ اٹلی کے شہر وینس میں طبع ہوا۔ لیکن رومن پوپ کے کہنے پر اُسے ضائع کردیا گیا۔ اس کے بعد مکمل نسخہ عربی رسم الخط میں ابراہم ہنکلمان نے جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں طبع کیا۔ اس کے نسخے یورپ کے بعض مکاتیب میں پائے جاتے ہیں۔ اس نسخہ کا استعمال مسلمانوں نے کیا یا نہیں، اس کے ثبوت نہیں ملتے ہیں۔ ۱۶۹۸ میں اٹلی میں اور ۱۷۸۷ میں بطر سبرج میں طبع ہوا۔ ۱۸۰۳ میں عبد العزیز توقطمش بن علی نے قازان میں دو مرتبہ عربی رسم الخط میں قرآن مجیدطبع کیا۔ ۱۸۳۴ میں گوسٹو فلوجل نے ایک نہایت عمدہ نسخہ شائع کیا۔ اس کی دوسری طباعت تصحیح کے ساتھ ۱۸۴۱ میں ہوئی۔ تیسری طباعت۱۸۵۸ میں، چوتھی طباعت۱۸۷۰ میں، پانچویں طباعت ۱۸۸۱ میں اور چھٹی طباعت ۱۸۹۳ میں ہوئی (یورپ میں پرقرآن کریم کی طباعت اور تراجم کے مختلف ادوار؍ اویس انور، ڈاکٹر محمد اسحاق، راحۃ القلوب، جلد۳، شمارہ ۱، جنوری۔جون ۲۰۱۹)۔ بر صغیر میں قرآن شریف کی پہلی طباعت کب ہوئی، اس کے بارے میں حتمی طور پر بتانا مشکل ہے ۔ البتہ یہ طے ہے کہ ۱۸۵۷ سے قبل ہندستان میں جو مطابع قائم ہوئے، انھوں نے قرآن شریف کی طباعت کا اہتمام کیا تھا۔مطبع نولکشور کے قیام سے قبل لکھنؤ میں جو مطابع موجود تھے، جن کا اوپر ذکر ہوا ہے، ان مطابع سے یقینا قرآن شریف کی طباعت ہوئی ہوگی۔ کیونکہ انھیں مطابع کے نہج پر منشی نولکشور نے مذہبی اور درسی کتابوں کی طباعت سے اپنے پریس کا آغاز کیا۔
سرمایے کی کمی کے سبب منشی نولکشور طباعت و اشاعت کا کام اعلی پیمانے پر نہیں کر پارہے تھے۔ اسی زمانے میں دو ایسے واقعات رونما ہوئے جسے غیبی مدد کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ پہلا یہ کہ محسن کاکوروی کے بھائی مولوی احسن کاکوروی کویہ احساس ہوگیا تھا کہ سرمایے کی کمی کے سبب سے نولکشور خاطر خواہ طریقے سے کام نہیں کر پا رہے ہیں، اس لئے انھوں نے مذہبی کتابوں کی طباعت میں اضافہ کے لئے اُن کوایک معقول رقم بطور اعانت دی۔ اُس عبوری دور میں اُن کے تعاون سے نولکشور کو بہت مدد ملی۔ انھوں نے مولوی احسن کاکوروی کے احسان کو فراموش نہیں کیا اور جب حالات سازگار ہوئے تو وہ رقم اُن کو واپس کی، لیکن مولوی احسن کاکوروی نے لینے سے انکار کردیا۔ نوکشور نے اس احسان کے بدلے اُن کی ایک ضخیم کتاب ’احوال الانبیا‘ دو جلدوں میں شائع کردی۔
دوسری غیبی مدد اُس وقت آئی جب نولکشور کو مطبع کے لئے کاغذ کی سخت ضرورت محسوس ہو رہی تھی۔ اتفاق سے اُسی زمانے میں کلکتہ میں گورنر جنرل کا دربار منعقد ہوا اور ’اودھ اخبار‘ کے نمائندہ کی حیثیت سے نولکشور مدعو کئے گئے۔ کلکتہ میں دوران قیام یورپ کے کسی ملک سے کلکتہ کی بندرگاہ پرکاغذ سے بھرا ہوا ایک جہاز لنگرانداز ہوا۔ کچھ دن بعد کاغذ کی نیلامی کی تاریخ متعین ہوئی۔ نولکشور ایک تماشائی کی حیثیت سے نیلامی کے دن بندرگاہ گئے۔ اتنا سرمایہ نہیں تھا کہ وہ نیلامی میں حصہ لیتے، صرف معلومات حاصل کرنے گئے تھے۔ جہاز سے نمونہ کے طور پر جو کاغذ اتارا گیا، وہ آب خوردہ نکلا۔ کلکتہ کے تاجروں نے اُس کاغذ کو رد کردیا۔ نولکشور اپنی فراست اور دور اندیشی سے سارا معاملہ سمجھ گئے اور مناسب حال قیمت لگا کر کاغذ خرید لیا۔ چوتھائی رقم اُسی وقت ادا کرنی تھی۔ جیسے تیسے قرض لے کر انھوں نے مطلوبہ رقم ادا کردی۔ جب جہاز سے کاغذ اُتارا گیا تو کاغذ نہایت اچھی حالت میں نکلا۔ کلکتہ کے تاجر حیران رہ گئے اور اصرار کیا کہ وہ کاغذ اُسے فروخت کردیں۔ منشی نولکشورنے معقول منافع کے ساتھ آدھا کاغذ فروخت کردیا جس سے پوری قیمت ادا ہوگئی اور قرض بھی باقی نہ رہا۔ کاغذ کے اِس بڑے ذخیرے کی حصولیابی سے اودھ اخبار کے صفحات میں اضافہ کیا گیا اور بڑی نادر و نایاب کتابیں شائع کی گئیں۔
اب تک چھوٹی چھوٹی کتابیں مطبع نولکشور سے شائع ہورہی تھیں لیکن جب کاغذ کا وافر ذخیرہ غیبی مدد کے طور پر حاصل ہوا تو ضخیم کتابوں کی طباعت شروع کرائی گئی، جس میں اولیت قرآن شریف کی طباعت کو دی گئی۔ ۱۸۵۷ کی جنگ آزادی میں جب ہندستانی مطابع تباہ و برباد ہوگئے تھے تو مطبوعہ قرآن شریف کی قلت محسوس کی جانے لگی۔ چونکہ مطبوعہ قرآن شریف ہر مسلم گھر کی ضرورت تھی، اس لئے کاروباری اعتبار سے اِس کی اشاعت بڑی نفع بخش تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ عقیدت کا جذبہ بھی کارفرما تھا۔ منشی نولکشور قرآن شریف کی عظمت و تقدس اور اُس کی اہمیت سے اچھی طرح واقف تھے۔ اس لئے انھوں نے نہایت احترام و اہتمام کے ساتھ اُس کی طباعت کا آغاز کیا۔ اس درجہ احتیاط برتتے تھے کہ اِس کی طباعت میں حتی الامکان مسلم ملازمین کو شامل کرتے تھے اور یہ سخت ہدایت تھی کہ جب تک طباعت کا کام چلتا رہے، ہر شخص باوضو رہے۔ قرآن شریف کی کتابت سے پہلے مشین کو خوب اچھی طرح سے صاف کرایا جاتا اور اُس کے چاروں طرف پاک و صاف چادریں بچھائی جاتی تاکہ کوئی مطبوعہ کاغذ زمین پر نہ گرے۔ منشی نولکشور بنفس نفیس قرآن شریف کی طباعت کے وقت موجود رہتے۔ وہ مشین کے قریب صاف اجلے فرش پر بیٹھ جاتے اور اپنے زانو پر پاک و صاف چادر ڈال لیتے اور قرآن شریف کی کتابت اور پروف پر ایک نظر ڈال کر پروف دیکھنے والوں میں تقسیم کردیتے۔ مولانا ضیائ الدین اصلاحی نے لکھا ہے کہ’’منشی نولکشور قرآن مجید کی حرمت و تقدس کا جس قدر خیال رکھتے تھے، اتنا خیال مسلمان بھی نہیں رکھتے‘‘ (نیا دور، لکھنؤ، نومبر۔دسمبر ۱۹۸۰، ص۶۷)۔
نولکشورقرآن مجید کی طباعت کے دوران ناقص اور ناقابل استعمال کاغذ کو ردّی کاغذوں کے ساتھ ضائع نہیں کرتے تھے، بلکہ انھیں ایک کمرہ میں جمع کرتے جاتے تھے۔ ۱۸۷۰ میں نواب حیدرآباد سالار جنگ لکھنؤ آئے تو انھوں نے مطبع نولکشور کا معائنہ کیا۔ اُن کو وہ کمرہ بھی دکھایا گیا جس میں یہ ناقص اور ناقابل استعمال کاغذ جمع تھے۔ نواب صاحب قرآن مجید کے ساتھ نولکشور کے اس احترام سے بہت متأثر ہوئے اور اِن ناقابل استعمال کاغذات کے عوض بڑی رقم عطا کی۔ طباعت کے بعد پلیٹوں کی دھلائی کا پانی بھی نالیوں میں بہنے نہیں دیتے تھے بلکہ بڑے اہتمام کے ساتھ ایک صاف جگہ پر جمع کرادیتے تھے۔
منشی نولکشور نے قرآن مجید کی کتابت بھی اپنے وقت کے مشہور خطاط سے کرائی۔اودھ اخبار کی ادارت پر مامور مشہور عالم اور خوش نویس مولانا ہادی علی اشک اور مشہور خوش نویس منشی اشرف علی نے کئی چھوٹے بڑے سائز کے قرآن مجید کی کتابت کی۔ اُن کے علاوہ دیگر کاتبوں سے بھی کتابت کرائی گئی۔ کاتبوں کو بھی یہ ہدایت تھی کہ باوضو ہوکر کتابت کریں۔ جس جگہ کاتب حضرات کتابت کے لئے بیٹھتے تھے، اُس کی صفائی اور پاکیزگی کا پورا پورا خیال رکھا جاتا تھا، جس کی دیکھ بھال کے لئے ہمہ وقت ملازم موجود رہتے تھے۔ کتابت کی تصحیح کے لئے مستند عالموں اور حافظوں کی خدمات مستقل طور پر حاصل کر لی گئی تھی۔کتابت کی صحت پر خاص دھیان دیا جاتا تھا۔کم سے کم پانچ اور زیادہ سے زیادہ بارہ اور سولہ حافظوں سے اس کی تصدیق کرائی جاتی تھی۔ اِن عالموں، حافظوں اور خوش نویسوں کی اُن کے مرتبے کے مطابق قدر و منزلت کی جاتی تھی اور انھیں فکرِ معاش سے بے فکر کردیا جاتا تھا۔ اُس وقت مطبع نولکشور میں جس قدر ذی علم حضرات موجود تھے، اس کے بارے میں ناظر کاکوروی لکھتے ہیں کہ ’’لکھنؤ میں جس قدر مشہور حافظ، عالم، مؤرخ، ادیب اور شاعر اس مطبع میں بیک وقت جمع ہو گئے تھے، ہندستان کے کسی دوسرے مطبع کو نصیب نہ ہوئے‘‘ ( اردو کے ہندو ادیب، ص۱۸۴)۔
منشی نولکشور نے اپنی زندگی میں مسلمانوں کی ضرورت کے مطابق پندرہ سے زیادہ قرآن مجید مختلف سائز اور شکل میں شائع کئے۔ اس میں کچھ مترجم بھی تھے۔ قرآن مجید کا ہدیہ بھی بہت کم رکھا جاتا تھا۔ اس وجہ سے جب کوئی ایڈیشن نکلتا توہاتھوں ہاتھ لیا جاتا تھا اور جب تک دوسرا طبع ہوتا پہلا ختم ہوجاتا تھا۔ اس لئے قرآن مجید کی کتابت و طباعت کا کام مسلسل جاری رہتا تھا۔قرآن مجید کے کم ہدیہ رکھنے کے سلسلے میں منشی رام جی داس بھارگوا نے منشی نولکشور کی فیاضی اور بلند ہمتی کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’منشی صاحب نے اپنی فیاضی اور علوئے ہمتی سے کئی قسم کے قرآن اور ان کی تفسیریں اور ترجمے شائع کئے اور ان کو اس قدر ارزاں نرخ پر فروخت کیا کہ ہر گھر میں کئی کئی قرآن دکھائی دیتے ہیں اور ہر شخص اپنے دین سے واقف ہوگیا اور ہوتا جاتا ہے‘‘(مقدمہ مواہب الرحمن مطبوعہ نولکشور) ۔ اِن میں چندمطبوعہ نسخے اس قدر مقبول ہوئے کہ لاکھوں کی تعداد میں ان کی اشاعت ہوئی۔بعض نسخوں کی طباعت ۱۹۵۰ئ تک جاری رہی۔ اِس کے بعد باہمی اختلاف کے سبب مطبع تقسیم ہوگیا اور یہ سلسلہ منقطع ہوگیا۔
مطبع نولکشور کے قرآن مجید کے مطبوعہ نسخے شہروں کے علاوہ دور دراز قصبوں اور گاؤں کے غریب مسلمانوں کے گھر گھر تک پہنچ گئے۔ ہندستان کے علاوہ بیرونی ممالک جیسے افغانستان، ایران، چین اور ترکستان میں بھی اِس مطبع کے مطبوعہ قرآن مجید بکثرت جاتے تھے۔ اس کے لئے باضابطہ ان ممالک سے آرڈر آتے تھے۔ امین سلونوی اس سلسلے میں لکھتے ہیں:’’قرآن مجید کے نسخے ہزاروں کی تعداد میں مختلف مسلم ممالک کو اُن کے آرڈر پر تیار کرکے بھیجے‘‘ (نیا دور، لکھنؤ، نومبر۔دسمبر ۱۹۸۰، ص۱۶۲)۔قرآن مجید سے نولکشور کی گہری عقیدت تھی اور اس کا حد درجہ احترام کرتے تھے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ اُن کے کاروبار میں کافی ترقی ہوئی۔ امیر حسن نورانی لکھتے ہیں کہ ’’عام طور پر مشہور ہے کہ قرآن مجید کے اس درجہ احترام کے باعث ان کے کاروبار میں بہت برکت اور ترقی ہوئی‘‘ (سوانح منشی نولکشور، ص۹۴)۔
قرآن مجید کے علاوہ تجوید و قرأت اور تفسیر کی مستند اور مشہور کتابوں کو بھی نولکشور نے بڑے اہتمام سے شائع کیا۔ فیضی کی بے نقط تفسیر ’سواطع الالہام‘ جب شائع کرنے کا ارادہ کیا تو دار العلوم ندوۃ العلما کے ممتاز عالم مولانا امیر علی ملیح آبادی سے اس پر مقدمہ لکھوایا اور انھوں نے مقدمہ بھی بے نقط ہی لکھا۔زمخشری کی ’الکشاف‘، بیضاوی کی تفسیر بیضاوی، سیوطی اور محلی کی ’تفسیر جلالین‘، شاہ ولی اللہ کی ’فتح الخبیر‘، واعظ کاشفی کی تفسیر ’مواہب علیہ‘، ابو نصر شیرازی کی ’عرائس البیان‘ وغیرہ مستند و معتبر تفسیریں بھی اسی مطبع سے شائع ہوئیں۔ نولکشور نے جس کثرت کے ساتھ اسلامیات پر کتابیں شائع کیں، وہ ان کی اعلی ظرفی، علم دوستی اور وسیع المشربی کا بیّن ثبوت ہے اور مسلمانوں پر یہ ان کا بہت بڑا احسان ہے۔ حضرت مولانا علی میاں ندویؒ انھیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اُن کے اس احسان کا ذکر کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں: ’’انھوں نے اپنے پریس کو جس طرح اسلامیات اور عربی و فارسی اور اردو ادبیات کے لئے وقف کر دیا تھا اور اس کے ذریعہ نادر و نایاب کتابوں کو جس طرح سب کے لئے دستیاب کر دیا تھا، وہ مسلمانوں اور اہل علم کے اوپر اُن کا احسان عظیم ہے‘‘ (نیا دور، لکھنؤ، نومبر۔دسمبر ۱۹۸۰، ص۹)۔
قرآن پاک کی آیت کریمہ انا نحن نزلنا الذکر و انا لہ لحافظون (یہ ذکر یعنی قرآن ہم نے ہی اتارا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں) کے ذریعہ اللہ تعالی نے قرآن شریف کی حفاظت کی ذمہ داری خود لی ہے اور ہر دور اور ہر زمانے میں اپنے نیک بندوں کے ذریعہ اس کے تحفظ کا سامان مہیا کراتے رہتے ہیں۔ ۱۸۵۷ کی بغاوت کے بعد جب برصغیر میں مطبوعہ قرآن مجید کی قلت محسوس ہونے لگی تو منشی نولکشور کی شکل میں ایک نیک بندہ منصۂ شہود پر جلوہ گر ہوتا ہے اورنہایت عقیدت و احترام سے قرآن مجید کی طباعت کو اپنے طباعتی مشن کا اہم حصہ بنا لیتا ہے اور اس انہماک کے ساتھ اس نیک کام میں مشغول ہوجاتے ہیں جس کی مثالیں بہت کم دیکھنے کو ملتی ہیں۔
ایں سعادت بزور بازو نیست
تا نہ بخشد خدائے بخشندہ
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

