Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
متفرقات

چکبست کی نثر (خطوط اور ڈراما کی روشنی میں) – ڈاکٹر مشیر احمد

by adbimiras مئی 23, 2022
by adbimiras مئی 23, 2022 0 comment

چکبست کی بنیادی شناخت نظم گو کی ہے۔ انھوں نے ابتدا میں روایتی انداز کی شاعری کی اور کچھ غزلیں بھی ان کی شاعری کا حصہ بنیں۔ ان کا اصل مزاج نظم گوئی کا تھا، اس لیے ان کی عام شہر ت و مقبولیت ایک نظم نگار کی حیثیت سے ہے۔ انھوں نے قومی ووطنی شاعری کی حیثیت سے اپنی انفرادیت قائم کی۔ ان کی شاعری میں وطن کی محبت کا جذبہ غالب ہے۔ شاعر کے علاوہ چکبست بے باک صحافی اور ایک صاحب طرز انشا پرداز کی وجہ سے بھی جانے جاتے ہیں۔ نثر کے تعلق سے انھوں نے بہت سارے مضامین لکھے، جو ’مضامین چکبست‘ کے نام سے شائع ہوئے۔ اس کے علاوہ ان کے مضامین رسالہ صبح امید، اودھ پنچ، کشمیر درپن، زمانہ، ادیب، اردوئے معلی، مرقع اور تہذیب میں بھی شائع ہوتے رہے ہیں۔ انھوں نے بعض کتابوں کے دیباچے اور تقاریظ بھی لکھیں۔ نثر میں ان کے جس کارنامے  پر ایک صدی بعد بھی گفتگو کی جارہی ہے، وہ’معرکۂ چکبست وشرر‘ہے۔ اصل میں ان کی تنقیدی بصیرت کو اسی کتاب میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔

چکبست نے اپنے عزیز و اقارب کو بعض خطوط بھی لکھے ہیں، اس کے علاوہ ایک ڈراما’کملا‘ کے نام سے لکھا، جن میں اصلاحی نقطۂ نظر غالب ہے، اسی حصے کو ان کی بعض نظموں میں بھی ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ راقم الحروف نے اس مختصر مضمون میں  چکبست کے خطوط اور ڈراما کی روشنی میں گفتگو کرنے کی کوشش کی ہے۔ جب ہم چکبست کے خطوط کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی نوعیت مختلف ہے۔ یعنی ان کے بعض خطوط  ذاتی نوعیت کے ہیں۔ان خطوط میں چکبست کی شخصیت غالب ہونے کے ساتھ ساتھ ادب کے تعلق سے جو باتیں کہی گئی ہیں،وہ کئی اعتبار سے اہمیت کی حامل ہیں۔ساتھ ہی ساتھ سیاسی، سماجی، تہذیبی مسائل بھی ان کے خطوط میں نظر آتے ہیں۔ آئندہ سطور میں ان کے دستیاب شدہ خطوط کے حوالے سے انھیں امور پر گفتگو کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

تذکرۂ ہزار داستان معروف بہ ’’خمخانۂ جاوید‘‘جلد دوم میں لالہ سری رام نے چکبست کے کچھ سوانحی حالات دریافت کیے تھے، اس کے جواب میں انھوں نے لالہ سری سرام کو ایک خط لکھا تھا۔ اس کا ایک حصہ ملاحظہ ہو:

’’جناب والا ! تسلیم۔ آپ نیاز مند کے سوانحی حالات دریافت کرتے ہیں۔ حیران ہوں کہ کیا لکھوں۔ اول تو میں باضابطہ شاعر ہی نہیں ہوں۔ تخلص کا بھی گنہگار نہیں ہوں۔ چکبست میرا عرف ہے نہ کہ تخلص۔ سولہ سترہ برس سے شعر و سخن کا مذاق ضرور ہے لیکن ایک دیوان بھی تیار نہیں ہوا۔ ایسی حالت میں مجھے باضابطہ شاعروں کے زمرے میںداخل کرنا ہی بیکار ہے۔ مگر خیر مجموعہ میں تو میرا نام آہی گیا۔ اب آپ کو زندگی کے حالات کیا لکھوں۔لکھنؤ وطن ہے، عمر تقریباً اٹھائیس سال ہے۔ اپنے دوستوں کا دل بہلانے کو کبھی کبھی شعر کہہ لیتا ہوں۔ پرانے رنگ کی شاعری یعنی غزل گوئی سے ناآشنا ہوں لیکن اسی کے ساتھ میرا عقیدہ یہ ہے کہ محض نئے خیالات کو توڑ مڑوڑ کر نظم کر دینا شاعری نہیں ہے۔ میرے خیال کے مطابق خیالات کی تازگی کے ساتھ زبان میں شاعرانہ لطافت اور الفاظ میں تاثیر کا جوہر ہونا ضروری ہے۔ لیکن میں پھر آپ کو لکھتا ہوں کہ میں قدردان سخن ہوں، سخنور نہیں ہوں۔ جس کا نام شاعری ہے وہ اور چیز ہے جو بہر حال مجھے نصیب نہیں۔ ‘‘ (ص ۳۲۹۔رای گلاب سنگھ پریس، لاہور ،۱۹۱۱ئ)

مذکورہ بالا خط کا حوالہ اکثر ادیبوں کے یہاں ملتا ہے۔ اس اعتبار سے یہ خط بہت مشہور ہے۔ چکبست کا یہ خط اس لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے کہ اس میں انھوں نے اپنی اور شاعری کے تعلق سے بعض اہم باتوں کی نشاندہی کی ہے۔اس خط میں توجہ طلب امور یہ ہیں:

اول یہ کہ ایک غلط فہمی یا عام خیال یہ ہے کہ چکبست ان کا تخلص ہے، لیکن چکبست کی اس تحریر سے اس غلط فہمی کا ازالہ ہوتا ہے اور یہ معلوم ہوتا ہے کہ چکبست تخلص نہیں، بلکہ ان کی عرفیت ہے۔ دوم یہ کہ اچھی اور عمدہ شاعری کسے کہتے ہیں،اس کی طرف بھی اشارہ ملتا ہے کہ خیال میں ندرت ہو، زبان میں شاعرانہ لطافت ہو اور الفاظ میں تاثیر ہو۔ تیسری بات اس خط سے چکبست کی خاکساری اور انکساری کا بھی علم ہوتا ہے۔

۲۸؍ دسمبر ۱۹۰۳ کو چکبست نے منشی سید افضلؔ علی خاں خلف اسیرؔ لکھنوی کو ایک خط لکھا ہے۔ جس سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ چکبست افضل لکھنوی سے اصلاح لیتے تھے۔ خط کا متن ملاحظہ ہو:

’’جناب مخدوم و مکرم بندہ !

بعد تسلیم واضح رائے عالی ہو کہ نظم ذیل ایک رسالہ میں اشاعت کے لیے روانہ کرنی ہے۔ لہٰذا میدوار ہوں کہ ازراہِ عنایت قدیمانہ اس کو اصلاح فرماکر بندہ کو ممنون فرمائیے۔ بذریعۂ ڈاک اس کو روانہ فرمادیجیے گا۔

آپ کا خادم

برج نرائن چکبست

کشمیری محلہ

نظم کا ایک بند ملاحظہ ہو۔ پوری نظم ’’انگور‘‘ کے نام سے صبح وطن میں موجود ہے:

محیط دہر میں تہذیب کا جو دور ہوا

ہوا بدل گئی رنگ زمانہ اور ہوا

دماغ خانہ و حشت تھا جاے غور ہوا

خدا کی شان جہاں کا عجیب طور ہوا

گھٹا جو جہل تو سامان عز و جاہ بڑھے

شعور کو جو ترقی ہوئی گناہ بڑھے

(بحوالہ چکبست: حیات اور ادبی خدمات، ڈاکٹر افضال احمد، ص ۲۳۔سرفراز قومی پریس، لکھنؤ ۱۹۷۵ئ)

اس خط کے جواب میں استاد نے جو خط لکھا ہے ،اسے بھی یہاں نقل کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے تاکہ اندازہ ہو سکے کہ افضل علی کے نزدیک چکبست کے کلام کی کیا وقعت تھی۔ خط کا ایک حصہ ملاحظہ فرمائیں:

’’ ۔۔۔۔۔۔۔آپ نے بہت خوب فرمایا ہے۔ اور یہ شوق اگر کچھ دنوں رہا تو آپ کا کلام قابل تعریف کے ہو جائے گا۔ زیادہ شوق ملاقات۔ ‘‘

۱۴؍ جنوری ۱۹۰۴      منشی سید افضل علی خاں عفی عنہ          (ایضاً ۔ص ۲۳۔۲۲)

۳؍ ستمبر ۱۹۰۹ کو چکبست نے ایک اور خط افضل لکھنوی کو لکھا ،جس میں اپنی ایک غزل بھی بغرض اصلاح ارسال کی ۔ ان دونوں خطوط سے واضح ہوتا ہے کہ چکبست باقاعدہ افضل لکھنوی کے شاگرد تھے۔ آخر الذکر خط کا ایک حصہ ملاحظہ فرمائیں:

’’ جناب مخدوم و مکرم بندہ تسلیم !

پیشتر میں نے ایک غزل آپ کی خدمت میں روانہ کی تھی، اس کی اصلاح کے لیے مشکور (کذا) ہوں لیکن اب مشاعرے کا جو موقع آیا تو معلوم ہوا کہ وہ طرح یعنی دم میرا، قدم میرا۔ اب طرح نہیں ہے۔ اب دوسری غالبؔ کی طرح مقرر کی گئی ہے یعنی ’’ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا‘‘ اور ۱۱؍ ستمبر کو مشاعرہ ہے۔ آج سے نو روز باقی ہیں۔ طرح مذکور پر میں نے ایک غزل تیار کی ہے وہ آپ کی خدمت میں بھیجتا ہوں۔ مہربانی کرکے جس قدر جلد ممکن ہو عنایت فرمائیے کیوں کہ گیارہ تاریخ کو مشاعرہ ہے اور آج تیسری تاریخ ہے۔

برج نرائن چکبست

غزل کاایک شعر :

درد دل پاسِ وفا جذبۂ ایماں ہونا

آدمیت ہے یہی اور یہی انساں ہونا

اس غزل میں کل ۲۳؍ اشعار ہیں۔                             (ایضاً۔ ص ۲۲)

پنڈت برج کشن گرٹو نے ’’استری درپن‘‘ میں عورتوں اور لڑکیوں سے متعلق کوئی مضمون شائع کروایا تھا، اس مضمون میں لڑکیوں کے پردے کے تعلق سے کچھ لکھا تھا۔ جسے چکبست نے سخت ناپسند کیا تھا۔ اس تعلق سے اپنے غصے کا اظہارکرتے ہوئے چکبست نے ایک خط پنڈت برج کشن گرٹو کو ۲۸؍ فروری ۱۹۱۸ کو لکھا :

’’پیارے برجو!

۔۔۔۔۔۔۔۔چونکہ ہم لوگ ایک جگہ نہیں اورنہ میں تم سے اس بات پر جھگڑا کرنا چاہتا ہوں مگر ساتھ ہی اس بات کا اظہار کردینا بھی ضروری خیال کرتا ہوں کہ یہ بات تمھارے لیے بہت زیادہ قابل اعتراض اور بعید از عقل ہے۔۔۔۔۔۔۔۔رہامضمون کا موضوع مجھے ضرور اس کے لیے صرف اتنا کہنا ہے کہ میں تم سے متفق نہیں ہوں۔ مجھے تسلیم ہے کہ دور حاضر کی لڑکی میں بہت زیادہ شوخی ہوتی ہے، میں اس شوخی کے خلاف رہا ہوں اور اب بھی اس کا مخالف ہوں۔ ۔۔۔۔۔میں سخت پردہ کی تجویز کا مشورہ نہ دوں گا تاکہ وہ نیک بنیں، نہ میں یہ کہوں گا ہماری عورتوں کا خاص تعلق یہ ہے کہ وہ اپنے امور خانہ داری میں مشغول رہیں اور اپنے شوہروں کو آرام دیں۔میں امید کرتا ہوں کہ جن خیالات کا اظہار میں نے پھول مالا نظم میں کیا ہے اس بلند ترین مقصد کے واسطے عورتیں ہماری جماعت میں پیدا ہوئی ہیں۔ اورمیرا یہ بھی خیال ہے کہ ہمارا سلوک عورتوں کے ساتھ ہمدردی سے ہونا چاہیے اور گستاخی و نفرت سے نہیں، ورنہ ہمارے کام کی بھی اصلاح مشکل ہو جائے گی۔ اور لوگ تم سے مشتعل ہو جائیں گے۔

تمھارا خیراندیش

برج نرائن چکبست

(ایضاً۔ ص ۸۹۔۸۸)

لڑکیوں کے تعلق سے چکبست کے جو خیالات تھے، اس خط نے ان کے موقف کو واضح کردیا ہے۔ چکبست عورتوں کی اصلاح چاہتے تھے اور ان پر کسی بھی طرح کا ظلم و ستم ان کے نزدیک ناقابل قبول تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ آزاد ماحول میں لڑکیوں کی اصلاح کی جائے ، تاکہ وہ سماج کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔ وہ لڑکیوں کی اصلاح کے لیے ہمیشہ کوشاں بھی رہے۔ چکبست کی تحریروں کااگربغور مطالعہ کیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے یہاں اصلاحی نقطئہ نظر غالب ہے۔ انھوں نے لڑکیوں کے لیے نظمیں بھی لکھی ہیں۔ ایک نظم ’’پھول مالا‘‘ کا ذکر خط میں ہوا ہے اس کے علاوہ اس تعلق سے دوسری نظمیں مثلاً: برق اصلاح، قوم کی لڑکیوں سے خطاب ،دردِ دل اور آوازۂ قوم وغیرہ بہت مشہور ہیں۔

’’اودھ پنج‘‘ میں’ جنت کی ڈاک‘ کے عنوان سے آتش لکھنوی کے کل ۱۲؍ خطوط شائع ہوئے ہیں۔ محققین کی رائے ہے کہ وہ خطوط آتش کے نہیں ،بلکہ چکبست کے ہیں۔ معرکۂ چکبست و شرر یعنی مباحثہ گلزار نسیم کے مؤلف میرزا محمد شفیع شیرازی نے اس سلسلہ میں لکھا ہے:

’’جناب چکبست کے قلم سے جو مضامین جناب شرر کے اعتراضات کے جواب میں شائع ہوئے ہیں، ان میں پوری شان تنقید قائم ہے اور اپنے مخالفین کی شان میں ایک لفظ بھی ایسا استعمال نہیں کیا ہے ،جو مذاق سلیم کے پائے سے گرا ہوا ہو۔ سنجیدہ مضامین کے علاوہ جو مضامین اودھ پنج میں جنت کی ڈاک کے سلسلے میں آتش کے خطوط کے عنوان سے شائع ہوئے ہیں وہ بھی لوگ جناب چکبست کی طرف منسوب کرتے ہیں اور ہم کو بھی ذاتی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ مضامین مذکور جناب چکبست کے لکھے ہوئے ہیں۔ ان مضامین میں بھی مولوی شرر صاحب کی زبان دانی کا مضحکہ ضرور اڑایاگیا ہے مگر کسی مقام پر قومی یا مذہبی تعصب کا شبہ نہیں ہوتا۔‘‘(ص ۴۴۔ نسیم بک ڈپو، لکھنؤ۔ مارچ ۱۹۶۶)

مذکورہ بالا بیان میں آتش کے جن خطوط کا ذکر ہوا ہے اور جسے محققین چکبست کے خطوط بتا رہے ہیں، تقریباً تمام خطوط کا تعلق معرکۂ چکبست و شرر سے ہے اور یہی موضوع ہر جگہ غالب ہے۔ اس تعلق سے یہاں باتیں بہت ہوںگی اس لیے راقم الحروف نے اس سے گریز کیا ہے۔

چکبست نے ایک ڈراما ’’کملا‘‘ کے نام سے لکھا ہے۔ اس ڈراما کا مرکزی خیال بے جوڑ شادی اور مقصد سماجی اصلاح ہے۔ آج کے پس منظر میں دیکھا جائے تو بیوہ کی شادی یا بے جوڑ شادی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ توہم پرستی ،جہالت، غیر ضروری رسم و رواج اور خاص طور پر عورتوں ؍ لڑکیوں کی تعلیم پر زور دینے کی گونج چہار طرف سنائی دے رہی ہے اور لڑکیوں کی تعلیم کے لیے حکومت نے طرح طرح کی اسکیموں کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔ اس ضمن میں اگر ہم چکبست کا ڈراما کملا کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ مسائل ان کے یہاں بھی تھے۔ ڈراما پر گفتگو کرنے سے قبل مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس کی کہانی مختصراً بیان کر دی جائے۔

زمیندار ٹھاکر ہری ہر سنگھ کا بیٹا سورج سنگھ ولایت سے آیا ہوا ہے ،جو ماڈرن خیال کا ہے۔ وہ اجیت سنگھ اور اپنی بہن کملا کو شادی سے پہلے ایک دوسرے سے متعارف کرادینا ضروری اور مناسب تصور کرتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ کملا کی ایک تصویر بھی اجیت سنگھ کو دے دیتا ہے۔ دوسری طرف ٹھاکر ہری ہر سنگھ کی سوچ اور فکر بالکل مختلف ہے۔ وہ اس بات کو سخت ناپسند کرتا ہے۔ ڈراما میں جو تصادم اور اتھل پتھل کی کیفیت ہے، اس کا ذمہ دار چیت سنگھ ہے۔ وہ دونوں طرف ملا ہوا ہے۔ ایک طرف وہ سورج سنگھ اور کملا کاساتھ دیتا ہے، ان کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور دوسری جانب ساری باتیں ٹھاکر ہری ہر سنگھ کو بھی بتا دیتا ہے۔ اس بات سے ناراض ٹھاکر، سورج سنگھ اور کملا کو گھر سے نکال دیتا ہے۔ اس کے بعد گھر کا سارا نظام متزلزل ہو جاتا ہے اور دھیرے دھیرے ڈراماکے سارے کردار موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ٹھاکر ہری ہر سنگھ کی پرانی سوچ اور جہالت کی وجہ سے اس کا پورا خاندان تباہ و برباد ہو جاتا ہے۔

ڈراما’’کملا‘‘ کے اہم کرداروں میں ٹھاکر ہری ہر سنگھ ،کملا، سورج سنگھ، چیت سنگھ، اجیت سنگھ ، گجراج سنگھ، چمپا اور کوشلا وغیرہ ہیں۔ ٹھاکر ہری ہر سنگھ قدامت پرست اور دقیانوسی خیال کا ہے ۔ اس کی حیثیت ایک زمیندار کی ہے۔ خاندان میں آپسی اختلافات اس قدر بڑھ جاتے ہیں کہ پورا خاندان مٹ جاتا ہے۔ یہی اس ڈراما کی کہانی ہے، جسے چکبست نے نہایت خوبصورت پیرائے میں قارئین کے سامنے پیش کیا ہے۔

ڈراما’’کملا‘‘ پانچ ایکٹ پر مشتمل ہے۔ اس ڈراما پر اظہار خیال کرتے ہوئے رام لعل نابھوی نے اپنی کتاب ’’چکبست‘‘ میں لکھاہے:

’’ یہ ڈراما پانچ ایکٹ پر مشتمل ہے۔ مرکزی خیال بے جوڑ شادی ہے۔ مکالمے برجستہ و برمحل ہیں۔ غزلیں اور گیت بھی شامل کیے گئے ہیں۔ اس وقت کے رواج کے مطابق ڈراما کی ابتدا ایک گیت سے ہوتی ہے۔ قدامت پرستی، شکی مزاجی، لالچ ،غصہ کا عبرتناک انجام دکھانے سے غرض ان چیزوں سے نفرت پیدا کرنا ہے۔ ‘‘

(ص ۱۸۳۔ ترقی اردو بیورو، نئی دہلی۔ ۲۰۰۰ )

ڈراما میں جو غزلیں اور گیت شامل ہیں ان میں کچھ کلام میرا بائی اور غالب کے ہیں اور بقیہ کلام چکبست کے طبع زاد ہیں۔

فنی نقطئہ نظر سے اگر اس ڈراما کو پرکھا جائے تو یہ نہایت کمزور ڈراما ہے۔ اصلاحی نظریہ غالب ہے اور فن مفقود ہے۔ اس میں دو تہذیبوں کا تصادم ہے ،قدیم و جدیدکی کشمکش کے کئی رُخ سامنے آتے ہیں۔ اس ڈراما میں چکبست نے ان مسائل پر روشنی ڈالی ہے، جو اس وقت ہندوستانی سماج میں درپیش تھے۔ عطیہ نشاط لکھتی ہیں:

’’صاحب حیثیت لوگ اپنے لڑکوں کو اعلیٰ تعلیم کے لیے ولایت بھیجتے تھے اور وہاں جاکر اپنی تہذیب سے برگشتہ ہوکر ایسے صاحب بہادر ہوجاتے تھے کہ اپنی زبان بھی نہیں بول سکتے تھے۔ ایک طرف سورج سنگھ ہے جو انگریزی طور طریق میں ایسا غرق ہے کہ ٹھیک سے اردو بھی نہیں بول سکتا ،دوسری طرف اس کا زمیندار باپ ٹھاکر ہری ہر سنگھ ہے جو دیہاتی زبان میں گفتگو کرتا ہے۔ باپ اور بیٹے کی تہذیبی سطحوں کا یہ فاصلہ خیالات کی ایک ٹکر کا سامان مہیا کرتا ہے اور اس تصادم سے ڈرامے کو آگے بڑھنے کا موقع ملتا ہے۔‘‘(اردو ڈراما روایت اور تجزیہ: عطیہ نشاط ،نصرت پبلشرز ،لکھنؤ۔ ۱۹۷۳ ۔ص ۲۱۷)

ڈراما میں شادی کے مسئلہ میں لڑکے اور لڑکی کی پسند کی طرف بھی اشارہ کیا گیاہے۔ ٹھاکر ہری ہر سنگھ کو یہ بات بالکل گوارا نہیں کہ اس کی لڑکی اپنے من پسند لڑکے سے شادی کرے۔ وہ غصے میں آکر اپنے اکلوتے بیٹے کو گھر سے نکال دیتا ہے اور آدھی رات کو اپنی بیٹی کو بھی گھر سے نکل جانے کے لیے کہتا ہے۔ افضال احمد لکھتے ہیں:

’’ٹھاکر ایک زمیندار اکھڑ آدمی ہیں۔ پرانے طرز کے زمیندار ہیں ۔ تعلیم سے بالکل بے بہرہ ہیں، غصہ حد سے زیادہ ہے اور چاہتے ہیں کہ ان کے معاملات میںکوئی دخل نہ دے۔ مشرقی تہذیب کے مطابق گھر کے بڑے بوڑھے ہونے کی وجہ سے اور گھر کے مالک کی وجہ سے ہر چیز میں اپنا ہی اثر رکھنا چاہتے ہیں۔ ٹھاکر ہیں اس لیے بات بات پر ڈنڈا یا تلوار سیدھی کرتے ہیں۔‘‘    (چکبست حیات :ص ۲۱۱)

ڈراما کے دوحصے خاص طور پر ملاحظہ فرمائیں۔ پہلے حصہ میں باپ بیٹے کی گفتگو کا منظر ہے اور دوسرے حصے میں کملا( جو اس ڈراما کا مرکزی کردار ہے) کو گھر سے نکالے جانے کے بعد کی زندگی کا منظر پیش کیا گیا ہے۔

ٹھاکر صاحب:           اب ہمرا منہ نہ کھلوائو۔ ہم کا اکل سکھاوت ہو۔اپنے کرتوت ناہیں دیکھت ہو۔ سسر گھوڑ دوڑ ماں دوئی ہجار روپیہ بوڑھا سے لے کر ہار آئے یو کس ساستر کی ریت ہے۔ اس کا بلایت میں فضول خرچی نہیں کہت ہیں ۔کنیا دان ماں روپیہ دینا فضول خرچی ہے۔

سورج سنگھ : ول آپ بالکل Uncivilized ہے آپ نہیں جانتا کہ گھوڑ دوڑ میں جوا کھیلنا کلچر کی بات ہے۔ ولایت کا بڑا بڑا لوگ گھوڑ دوڑ میں جوا کھیلتا ہے۔

ٹھاکر صاحب:           ہم کا سسر انگریزی ماں برا بھلا کہیو تو ہما تمھارا کھپڑی توڑ دیبے سسر بلایت۔

سورج سنگھ : ول آپ کا Tone بڑا Insulting ہے ۔ آپ بالکل Unconstitutional ہے۔ ہم زیادہ توہین نہ برداشت کرے گا۔

کوسلا:                  (سورج سنگھ سے) بھیا تمھیں چپائے رہو۔ بڑے سے بھڑن کا نہ چاہی۔

سورج سنگھ: ول ہم یہ توہین نہیں برداشت کر سکتا آپ (ٹھاکر صاحب کی طرف) ہم سے معافی مانگنے نہیں تو ہم Action لے گا۔

ٹھاکر صاحب:           (غصے میں اٹھ کر اور لاٹھی تان کر) سسر ہم تم سے معافی منگبے ۔ہمرے سامنے سے ہٹت ہو کہ ناہیں۔ ابھی مارے ڈنڈن کے چرسا نکال دیہوں۔                              (ایضاً۔ ۲۱۰)

کملا اجیت سنگھ کے عشق میں گرفتار ہے، جب اس کا باپ بارہ بجے رات کو گھر سے نکال دیتا ہے تو وہ دنیا سے بے پرواہ سادہ زندگی گذارنے لگتی ہے اور اسی میں خوش بھی رہتی ہے۔ اُدھر چمپا اجیت سنگھ کو خبر دینا چاہتی ہے ،لیکن کملا اسے منع کرتی ہے کہ وہ ایسا نہ کرے ،کیونکہ میں جس حالت میں ہوں خوش ہوں۔ مکالمہ ملاحظہ ہو:

چمپا:                    میں نے سوچا کہ کسی اپائے سے اجیت سنگھ کو تمھارے حال کی خبر کردی جائے۔

کملا:        نہیں نہیں، کہیں ایسا بچپن نہ کرنا، میرے منہ میں کالک نہ لگانا۔

چمپا:                    میں نے اس لیے کہا تھا کہ اس بے چارے کو خبر بھی نہ ہوگی۔

کملا:        نہیں! اتنی خبر ضرور ہوگی کہ اب بیاہ نہ ہوگا۔ ٹھاکر صاحب نے تار ضرور بھیج دیا ہوگا۔

چمپا:                    اس خبر سے کیا فائدہ۔ انھیں یہ تو معلوم ہوگا کہ تم نے ان کے لیے جوگ لیا ہے۔

کملا:        توچاہتی ہے کہ وہ بھی سمجھیں کہ کیسی بدنصیب سے منگنی ہوئی تھی جس کو باپ نے بارہ بجے رات کو گھر سے نکال دیا۔

چمپا:                    پھر کیا کیا جائے۔ کچھ تدبیر تو کرنا چاہیے ۔تمھاری عمر کس طرح پار ہوگی؟

کملا:        تو اس کی فکر نہ کر اب آنند ہے آنند۔

مذکورہ مکالمہ سے کملا کی مستقل مزاجی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے اور یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ کملا کس قدر اپنی عزت وآبرو کا پاس و لحاظ رکھتی ہے۔اس وقت کا سماج کتنا محتاط تھا۔

ڈراما پر تبصرہ کرتے ہوئے عطیہ نشاط اپنی کتاب ’’اردو ڈراما :روایت اور تجزیہ ‘‘ میں لکھتی ہیں:

’’ کملا اپنی بعض خامیوں کے باوجود اردو ڈرامے کی تاریخ میں اس لیے اہمیت رکھتا ہے کہ یہ برج نرائن چکبست جیسے اہم شاعر اور ادیب کی کوشش ہے۔ دوسرے یہ کہ عصری مسائل کو پیش نظر رکھ کر اپنے زمانہ میں دو تہذیبوں کی کشمکش اور اصلاح رسوم کے خیالات عام کرنے کے لیے ڈراما کا ذریعہ اختیار کرکے چکبست نے نیا راستہ نکالا ہے ۔ اس کے مکالمے بر محل اور اچھے ہیں، جن میں مختلف طبقوں کے جذبات اور نفسیات کا خیال رکھا گیا ہے۔ گانوں میں بھی معیار کی بلندی کے ساتھ ساتھ عام پسندیدگی مد نظر رکھی گئی ہے جو مصنف کے ستھرے ادبی ذوق کی دلیل ہے۔ ‘‘               (ص ۲۲۰)

چکبست نے کسی کمپنی یااسٹیج کرنے کے لیے یہ ڈراما نہیں لکھاتھا، بلکہ ان کا ایک اصلاحی مشن تھا جسے انھوں نے ڈراما کی شکل میں پیش کیا ۔اس لیے بحیثیت فن اس کا مطالعہ نہیں کرنا چاہیے، اسے صرف اور صرف ڈراما کی صورت میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔

بحیثیت مجموعی ہم کہہ سکتے ہیں کہ چکبست کی مستقل مطبوعات جن میں وطن کا راگ، صبح وطن اور مضامین چکبست وغیرہ شامل ہیں اس کی اپنی اہمیت ہے۔ چکبست کی نثر کا دوسرا روپ ان کے خطوط اور ڈراما کی شکل میں ہمارے سامنے آتا ہے۔ جس کے مطالعہ سے نئے نئے پہلو اجاگر ہوتے ہیں۔ ڈراما ’’کملا‘‘ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ چکبست کا جو اصلاحی مشن تھا، جسے انھوںنے اپنی دوسری تحریروںمیں جگہ جگہ پیش کیا ہے، اسے مزید مستحکم بنانے کے لیے ایک مکمل ڈراما تحریر کیا ۔اسے چکبست کا امتیاز سمجھنا چاہیے۔ چکبست نے شاعری اور نثر دونوں میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ دونوں صورت میں ان کے یہاں حب الوطنی کا جذبہ واضح طور پر ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔ صحافت کے ذریعے بھی انھوں نے اسی مشن کو آگے بڑھانے کی حتی الامکان کوشش کی۔ صبح امید اس کی واضح مثال ہے۔ چکبست کے کارنامے سے اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے ایک طرف جہاں وطن عزیز سے اپنی والہانہ محبت کا اظہار کیا ہے، وہیں اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے بھی اپنی طرف سے کوشش کی ہے۔ کم عمری میں انھوں نے ان دونوں حوالوں سے جو کچھ کیاہے، اسے ہمیشہ یاد کیا جاتا رہے گا۔

 

کتابیات

(۱)         اردو ڈراما :روایت اور تجزیہ – ڈاکٹر عطیہ نشاط            نصرت پبلشرز ،لکھنؤ                 ۱۹۷۳

(۲)        تذکرۂ ہزار داستان معروف بہ , خمخانۂ جاوید جلد دوم , لالہ سری رام , رای گلاب سنگھ پریس ،لاہور             ۱۹۱۱

(۳)        چکبست :حیات اور ادبی خدمات         افضال احمد   سرفراز قومی پریس، لکھنؤ  ۱۹۷۵

(۴)        چکبست, رام لعل نابھوی          ترقی اردو بیورو، نئی دہلی    ۲۰۰۰

(۵)        چکبست اور باقیات چکبست – کالی داس گپتا رضا ,وِمل پبلی کیشن، بمبئی،          مارچ ۱۹۷۹

(۶)        مباحثہ گلزار نسیم حصہ دوم , یا معرکۂ چکبست و شرر  مرزا محمد شفیع شیرازی, نسیم بکڈ پو، لکھنؤ مارچ ۱۹۶۶

 

مشیر احمد

شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ

نئی دہلی

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

 

0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
اگلی پوسٹ
شعری افق کا ایک تابناک ستارہ : بشیر بدر – علیزے نجف

یہ بھی پڑھیں

میں پٹاخے سے ہی مر جاؤں گا بم...

دسمبر 14, 2024

شبلی کا مشن اور یوم شبلی کی معنویت – محمد...

نومبر 24, 2024

تھوک بھی ایک نعمت ہے!! – عبدالودود انصاری

نومبر 19, 2024

اردو میں غیر زبانوں کے الفاظ  – شمس...

نومبر 9, 2024

غربت  و معاشی پسماندگی کا علاج اسلامی نقطہ...

مئی 6, 2024

اقبال ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

نومبر 7, 2023

طائر بامِ فکر و فن : ڈاکٹر دبیر...

نومبر 3, 2023

جدید معاشرے اور طلباء کے لیے ادب (...

ستمبر 28, 2023

موبائل فون ایڈکشن اور بچوں کا مستقبل –...

اگست 30, 2023

نیرنگِ خیال کی جلوہ نمائی شعر و ادب...

اگست 29, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں