گزشتہ چند مہینوں سے ملک میں نفرت آمیز سرگرمیاں زوروں پر ہیں۔ کہیں گیان واپی مسجد میں شیولنگ کا ابھرتا سیلاب پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لیتا ہے تو کہیں مسجدوں سے لاؤڈ اسپیکر ہٹانے کا معاملہ سر اٹھاتا ہے تو کہیں ٹی وی چینلز پرنبئ اکرم تاجدار حرم صلی اللہ علیہ وسلم پر گستاخانہ و توہین آمیز کلمات کی کھلی اجازت ملک میں قائم بھائی چارگی و مذہبی رواداری کو نفرت کی آگ میں جھونکنے کا کام کرتی ہے۔
ایک طرف امن پسند طبقہ باہمی اخوت کا پاسدار بن کر ملک میں امن کی فضا ہموار کرنے کی کوشش کرتا ہے تو دوسری جانب انتہا پسند ٹی وی پینلسٹ ملک میں نفرت کا بازار گرم کرنے میں مصروف نظر آتے ہیں۔
ملک ہندوستان جس کی بنیاد سیکولرازم ہے جہاں ہر مذہب کے پیروکار کو اپنے مذہبی شعائر پر عمل پیرا ہونے کی پوری آزادی ہی نہیں بلکہ تعزیرات ہند کی دفعہ 295A کے مطابق کسی بھی مذہب کے پیروکار پر طعنہ زنی یا توہین آمیز الفاظ کے استعمال پر عدالت انصاف کا دروازہ کھٹکھٹانے والوں کا پرتپاک خیر مقدم کرتی ہے۔
مگر گزشتہ چند برسوں سے برسر اقتدار حکومت نے ملک میں انصاف کے ترازو کو بھی بے داغ نہ چھوڑا چنانچہ چند شر پسند عناصر نے آئین ہند کو بالائے طاق رکھتے ہوئے نفرت و عداوت کا وہ بازار گرم کیا جس کی اٹھتی ہوئی چنگاری کو اگر فی الوقت سرد کرنے کی فکر نہ کی گئی تو وہ دن دور نہیں جب ہٹلر شاہی عروج پر ہوگی اور اقلیتی طبقہ اپنی شناخت باقی رکھنے میں ناکام ہوتا دکھائی دے گا۔
اب ایسے ماحول میں جب ہمارے رہبر دوعالم صلی اللہ علیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور ٹی وی پینلسٹ اپنی کم علمی و کم مائیگی کی بنیاد پر ایک ایسی شخصیت کو داغدار بنانے کی ناکام کوشش کرتے نظر آتے ہیں جن کی مدح سرائی خالق کائنات خود کرتا ہے تو ہم پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم اتحاد و اتفاق کا پرچم لہراتے ہوئے برادران وطن کو یہ باور کرانے کی کوشش کریں کہ مذہب اسلام امن کا علمبردار ہے جس کی رہنمائی کرنے والی شخصیت وہ حسن اخلاق کا پیکر ہے جس کی تائید قرآن ان الفاظ میں یوں کرتا ہے ” إنك لعلى خلق عظيم”. (سورة القلم : 4 )
یہ وہ شخصیت ہے جسے حسن اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا۔ یہ وہ اعلی کردار ہے جس کی خوشبو نے پورے جزیرہ عرب کو مدہوش کردیا۔ یہ وہ روشن چراغ ہے جس کی لو نے عرب کی تاریک راہوں کو منور کردیا۔ یہ وہ خوبصورت مظہر ہے جسے دیکھ کر دشمنان دین مبہوت رہ گئے۔ یہ وہ خوبرو انسان ہے جس نے انسانیت کی راہ دکھائی۔
ایسے پر فتن دور میں جب مسلم قوم پوری طرح سے حکومت کے نشانے پر ہے ، ہم پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم حکمت عملی سے کام لیتے ہوئے اسلام اور مسلمانوں کی عملی تصویر پیش کریں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعدد ازدواج کی حکمت عملی سے خود امت مسلمہ کو بھی آگاہ کرنے کی کوشش کریں کیونکہ مسلم امت کا ایک بڑا طبقہ دینی تعلیمات سے دوری کی بنا پر اس معاملے میں غلط فہمی کا شکار ہے جس کا خطرناک نتیجہ اس صورت میں سامنے آتا ہے کہ سوشل میڈیا کے اس پرفتن دور میں مسلم قوم کچھ حد تک ان بیجا الزامات سے متاثر نظر آتی ہے چہ جائیکہ اس کی مذمت کرے یا اس کی مدافعت میں آگے بڑھ کر حصہ لے۔
دشمنان دین پر یہ حقیقت آشکار کریں کہ مختلف مذاہب کی قانونی و مذہبی تاریخی سند اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام سے قبل بھی تعدد ازدواج کی رسم رائج تھی , معروف فرانسیسی محقق گستاؤلیبان اپنی تصنیف( De Arabs Civilization)میں تعدد ازدواج پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: ’’مؤرخین یورپ کی نظروں میں تعدد ازدواج گویا عمارت اسلامی کی بنیاد کا شہر اور اشاعت دین اسلام کا بڑا سبب ہے،
تعدد ازدواج کی رسم اسلام سے بالکل الگ ہے کیونکہ یہ رواج کل اقوام مشرقی، یہود وایرانیوں اور عربوں میں پہلے سے موجود تھی۔ اسی طرح “انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا” کے مطابق مشہورماہر لسانیات جارج مرڈاک (Murdock)کی رپورٹ 1949ء کے مطابق دنیا کی 554 قوموں میں سے 415 میں تعدد ازدواج کا رواج پایا جاتا ہے۔[1]
مذاہب عالم کی تاریخ کا مطالعہ اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ تعدد ازدواج تمام مذاہب میں ہمیشہ رائج رہا ہے۔ اسے صرف پیغمبر اسلام رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کرنا محض جہالت،کوتاہ عقلی، تنگ نظری کے علاوہ کچھ نہیں ۔ یہ بے بنیاد الزامات محض اسلام دشمنی اور مسلمانوں سے بغض و عناد کی بنیاد پر ہے۔
غیر الہامی مذاہب میں سب سے زیادہ قابل ذکر ’’ہندو مت‘‘ ہے ان کی مذہبی کتابوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ تعدد ازدواج ہندو مذہب میں ہمیشہ سے رائج رہی ہے۔ ہندو دھرم میں قدیم زمانے سے موجودہ زمانے تک اس کی اہمیت مسلم ہے۔ (The position of woman in hindu civilization)کےرائٹر (Dr.A.S.Altekar)اس سچائی کو بیان کرتے ہیں کہ ویدک لٹریچر میں تعدد ازدواج ( polygamy ) کے حوالے قطعی طور پر زیادہ ہیں ۔ ہندو دھرم کے ماننے والے ’’رام چندر جی‘‘ کو اپنا بھگوان مانتے ہیں ان کے والد راجہ دشرتھ کی متعدد بیویاں تھیں ۔ (1) رانی کوشلیا۔ رام چندر جی کی والدہ (2) رانی سمترا۔ والدہ لکشمن جی (3) رانی کیتکی۔ والدہ بھرت جی۔ سری کرشن جی کی ہزاروں گوپیاں اوربہت سی بیویاں تھیں .[2]
معروف مسلمان مورخ ابو ریحان البیرونی نے اپنی کتاب ’’الہند‘‘ میں لکھا ہے کہ”اہل ہند میں بعض کی نظر میں طبقاتی اعتبار سے متعدد عورتیں ہوسکتی ہیں چنانچہ برہمن کے لیے چار _ کشتری کے لیے تین, ویش کے لیے دو, اور شودر کے لیے ایک بیوی ہوگی‘‘ جبکہ الہامی مذاہب یہودیت، عیسائیت اوردین اسلام تعدد کثرت ازدواج کے قائل ہیں ۔ یورپی مصنف ویسٹر مارک (Westermarck) اور یہودی مصنف ابراہیم لیون نے بھی اپنے دلائل اور مذہبی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے بتایا ہے کہ خدا نے زیادہ شادیاں کرنے کی اجازت دی ہے۔ توریتی قانون نے اس کی ممانعت نہیں کی عیسائیت میں بھی اس امرکی گواہی ملتی ہے_[3]
ایک عالی مرتبت ، خوبرو اور نیک نام شخص جس کی صداقت و امانت کی قوم قریش خود قائل تھی اور جس کے لئے جوانی میں متعدد شادیاں کرنے میں معاشر تی اور معاشی لحاظ سے کوئی رکاوٹ نہ تھی پھر بھی وہ اپنے سے پندرہ سال بڑی ایک بیوہ عورت کےساتھ زندگی کے سنہرے سال گزار دے۔پھر پچاس سال کی عمر کے بعد اکثر شادیاں مختلف خاندانوں اور قبائل کی ان بیوہ عورتوں سے کرے جو فطری طور پر جنسی تحریک کے لئے کوئی خاص رغبت بھی نہ رکھتی ہوں اور پھر ان کی حکمت عملی کو پس پشت ڈالتے ہوئے ان پر جنسی خواہشات کا بے بنیاد الزام لگانا بعید از عقل اور محض اسلام دشمنی کا نتیجہ ہے۔ کیونکہ اگر وجہ صرف ( معاذ اللہ) نفسانی خواہشات کی تکمیل تھی تو پچاس سال بعد کی جانے والی شادیاں کم از کم خوبصورت کنواری لڑکیوں سے ہونی چاہیے تھیں جب کہ ان کے پاس حکومت و طاقت بھی تھی، حکومت بھی عام نہیں کہ چند علاقوں پر ہو، وہ تو لوگوں کے دلوں پر حکومت کرتے تھے۔۔ درحقیقت جس طرح نبی اکرمﷺ کے باقی ہر عمل کے پیچھے کوئی نہ کوئی حکمت ہوتی تھی اسی طرح آپ کی زندگی کا یہ پہلو بھی حکمتوں سے خالی نہ تھا۔
اسلامی حکومت کی توسیع کے لئے تعلقات کی وسعت اور مختلف خاندانوں اور بااثر قبائل کا تعاون ایک بنیادی ضرورت تھی، اس مقصد کی تکمیل کی خاطر حضور نے بہت سی شادیاں کیں ، یہ سب نکاح مختلف قبائل سے تھے، جن میں سے اکثر کاسبب مختلف قبائل کے درمیان تالیف ِقلب یا بیواؤں کو سہارا دینا تھا، یا اس خاندان سے تعلقات کو استوار کرنا مقصود تھا، یا ان رشتوں سے اسلام کو فروغ اور اللہ کی خوشنودی مقصود تھی۔ اپنی پہلی شادی اپنے بھر پور عالم شباب میں ایک چالیس سالہ بیوہ خاتون سے کر کے آپ ﷺ نے اپنے اوپر کسی جنسی جذبے کے غلبے کی مکمل نفی کردی تھی جو بالعموم ہمارے مستشرقین کے لئے موضوع بحث بنا رہتا ہے۔
تعدد ازدواج کی ایک ظاہری حکمت یہ بھی تھی کہ حضور ﷺ کا سابقہ ایک سخت جاہل قوم سے تھا جو تہذیب وتمدن میں بہت پیچھے تھی اور جسکی معاشرتی زندگی بہت ہی بے ہنگم تھی لہذا ان کی خواتین سے نکاح کرنے کا مقصد محض ان کی بہترین تعلیم و تربیت تھی جنہیں امہات المؤمنین کے ذریعے ہی صیقل کرنا تھا۔ حضور ﷺ کا کوئی رشتہ ازدواج بھی محض نکاح کی خاطر نہ تھا بلکہ اس میں بہت سی حکمتیں پوشیدہ تھیں ۔ کوئی ایک نکاح ایسا نہیں ہوا جس نے اسلامی انقلاب کی راہ ہموار نہ کی ہو۔
لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اسلامی تعلیمات کو عام کریں اور نسل نو کو اسلامی تعلیمات سے مزین کرنے کی کوشش کریں تاکہ ملک میں انسانیت کی آبیاری ہو سکے اور اسلاموفوبیا کا ماحول ختم ہو ۔ اور اس سلسلے ميں ہر فرد اپنا مثبت کردار ادا کرے لہذا علماء و ادباء اپنے قلم کو حرکت دیں اور سنہری اسلامی تعلیمات کو صفحہ قرطاس پر بکھیریں، خطباء و مقررین اسلام سے متعلق غلط فہمیوں کا ازالہ کرتے ہوئے اسلام کے سچے پیغامات سے اپنے منبروں کو زینت بخشیں تو سماجی کارکنان سوشل میڈیا کے ذریعے مذہب اسلام کی حقانیت کو واضح کرنے کی کوشش کریں تو پھر بعید نہیں کہ وہ دور فاروق لوٹ آئے جہاں امیر و غریب محض تقوی کے پیمانے پر ترقی کرسکیں۔ اللہ تعالٰی سے دعا ہے کہ ملک کی سلامتی کو بحال رکھے اور اسلام اور مسلمانوں کوعزت وغلبہ عطا فرمائے۔ آمین
مراجع و مصادر
قرآن
حدیث
1 رسول اللہﷺکے متعدد نکاح کی حکمتیں ۔آصف علی،
[2] ایضا
[3] ایضا
ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی
آراضی باغ ، اعظم گڑھ
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

