Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
کتاب کی بات

by adbimiras جون 7, 2022
by adbimiras جون 7, 2022 0 comment

راستے خاموش ہیں / مکرم نیاز ـ محمد علم اللہ

کسی بھی انسان کے بارے میں اس کے حلیے یا روزگارکی بنیاد پر رائے قائم نہیں کرنی چاہیے، مگر انسانی طبیعت کئی مرتبہ ظاہری طور پر کیا نظر آرہا ہے اسی سے کوئی نتیجہ اخذ کر لیتی ہے۔ پہلے پہل جب انجینئر سید مکرم نیاز کی کتاب ‘‘راستے خاموش ہیں’’ ملی تو ‘‘اسے ایویں ہی کوئی کتاب ہوگی جیسے آج کل لوگ چھاپتے رہتے ہیں ’’سوچ کر کنارے رکھ دیا کہ کبھی موقع ملے گا تو دیکھ لیں گے، اس میں کہیں ذہن کے ایک گوشے میں یہ بات بھی تھی کہ پیشے سے انجینئر کیا افسانہ نگاری کرے گا، لیکن پھر یہ سوچ کرکے کہ کتاب میں کچھ نہ ہو مگرتعلق ہی سہی اگر کسی نے اتنی محبت سے کتاب بھیجی ہے تو اسے ضرور پڑھنا چاہئے ، اس کی ورق گردانی شروع کی اور مکمل کتاب ختم کرکے ہی دم لیا۔

یوں انجینئر مکرم نیاز نے ثابت کر دیا کہ تخلیقی کام کے لئے کسی خاص شعبہ سے وابستگی اس میں مخل نہیں ہوتی بلکہ تخلیقیت کے لئے لگن، محنت، ریاضت اور مستقل مزاجی کی ضرورت ہوتی ہے، تبھی تو انھوں نے اس پیشے سے وابستہ دیگر کئی نامور مصنفین کی طرح ڈھرے سے الگ ایک نئی راہ بنانے میں کامیابی حاصل کی جس طرح ہندوستان میں چیتن بھگت انجینئرنگ کے شعبہ سے وابستگی کے باوجود فکشن میں جگہ بنائی ، تنقید نگار حضرات اس کے فن پر گفتگو کر سکتے ہیں لیکن اس سے کسے انکار ہو سکتا ہے کہ وہ بڑے طبقے کو متاثر کرتے اور پڑھے جاتے ہیں یا پھر دوسرے بڑے قلم کار جیسے جوان بینیٹ- سول انجینئر اور مصنف، پریمو لیوی- مصنف اور کیمیکل انجینئر،فیوڈور دوستوفسکی- فوجی انجینئر اور مصنف،سٹینڈل-ریاضی دان اور مصنف، لوئس بیونیوئل، مصنف اور زرعی انجینئر، جان مارگریٹ، معمار اور شاعر،البرٹ ایسپینوسا، مصنف اور کیمسٹ وغیرہ جنھوں نے اسی شعبہ سے وابستہ رہتے ہوئے تخلیقی دنیا میں نام کمایا۔

انجینئر مکرم نیاز بھی اسی قلم قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں جنھوں نے صحافت کی وادی میں کئی دہائی سے اپنی موجودگی کا احساس دلایاہے اور اب فکشن میں بھی اپنی جگہ بنانے میں کامیاب نظر آتے ہیں۔ ‘‘ راستے خاموش ہیں ’’ میں کل تیرہ افسانے ہیں اور ہر افسانہ اپنی جگہ ایک عمدہ کہانی ہے، جس میں زندگی کی توانائی پوری آب و تاب کے ساتھ رواں دواں دکھائی دیتی ہے۔ ہر کہانی ایک بے چین معاشرے کی گواہ ہے، جس میں کہیں درد ہے، کہیں کسک، کہیں المیہ، کہیں خواب تو کہیں اس خواب کو حاصل کرنے کے لئے طویل جد و جہدکی حیران کن داستان۔

سب سے پہلی کہانی’’تیری تلاش میں ‘‘ہے جس میں مصنف نے فرسٹ پرسن کی زبانی ایک ایسے شخص کی داستان بیان کی ہے جو پوری زندگی محنت، تگ و دؤ اور جدو جہد کرتے کرتے ایک منزل کو پالینا چاہتا ہے، اس منزل کو حاصل کرنے کی دوڑ کے درمیان کیسے کیسے ارمانوں کا خون ہوتا ہے، کیسے معاشرے اور سماج کا دباؤ پڑتا ہے، کیسے بیوی، بال بچے اورخاندان والے پریشان کرتے ہیں، کیسے سب کو خوش کرنے کے لئے انسان بھاگتا رہتا ہے ،بھاگتا رہتا ہے، یہاں تک کہ تھک کے ایک دن گرجاتا ہے اور اپنا عکس اپنے بچے میں دیکھنے لگتا ہے، یہ ایک دل دوز کہانی ہے جس سے ہمارے معاشرے کی مکمل عکاسی ہوتی ہے۔

دوسری کہانی’’آگہی‘‘ دل کو چیز دینے والی کہانی ہے، یہ کہانی اس قدر دل دوز ہے کہ پڑھتے ہوئے آنکھوں سے اپنے آپ ہی آنسو بہہ نکلتے ہیں، رشتوں کی مٹھاس میں گوندھی گئی یہ کہانی بہت کچھ کہتی ہے جس میں ایک انسان کی مجبوری بھی ہے، بے بسی بھی، بے چینی بھی اور ان سب سے بڑھ کر تہذیب اور ثقافت کا وہ اعلیٰ نمونہ جس کو ہر حساس دل سنجو کے رکھنا چاہتا ہے۔ اس کہانی میں افسانہ نگار مثالوں میں بھی ایسی دل دوز مثالیں لاتا ہے کہ انسان انھی میں کھو کر رہ جاتا ہے، اس کہانی میں کہیں بوسنیا کے لہو رنگ راستوں کی خاموشی جھلکتی ہے تو کہیں چیچنیا کی بارود زدہ سڑکوں کا سناٹا، کہیں روانڈا کے تباہ حال میدانوں میں چھایا ہو کا عالم تو کہیں رشتوں کی جدائی کا المیہ دکھائی دیتا ہے۔

تیسری کہانی’’خلیج‘‘ بھی ایک دردناک طوائف کی کہانی ہے،جو اپنے اندر ایک عجب سی بے بسی اور اداسی لیے ہوئے ہے۔ اس کہانی سے کئی چیزوں کا علم ہوتا ہے مثلا جب کسی سے دل ٹوٹ جاتا ہے تو ہزار کوششوں کے باوجود جڑتا نہیں بلکہ اس میں مستقل کھائی ہی بنتی رہتی ہے جیسے اس کہانی میں لڑکے کا اپنے باپ سے بنی کھائی ہے جس نے اسے چڑچڑا اور نفرتی بنا دیا ہے۔ یہ کہانی طویل ہونے کے باوجود ایک نظم کی طرح ہے جس میں بلا کی روانی اور بہاؤہے۔

چوتھی کہانی ‘‘راستے خاموش ہے’’ کے عنوان سے ہے۔ یہ ایک خوبصورت کہانی ہے جو رشتوں کی ٹوٹ پھوٹ کو خوبصورتی سے بیان کرتے ہوئے اس کو سمیٹنے کی کوشش کرتی ہے جو کرچیاں بن کر بکھر جانا چاہتی ہیں۔ اس کہانی میں مصنف ایک بھلے مانس کی طرح سماج اور خاندان سے برگشتہ نوجوان کو دلنشین پیرائے میں ماں کی لوری اور نانی کی کہانی طرح تلخیوں کو بھلا کر رشتوں اور خوشیوں کی لمس کو پا لینے کا حوصلہ دلاتے نظر آتے ہیں۔

لڑائی جھگڑا، خصوصا ساس بہو کے درمیان اور پھر اس میں بیٹے کا کود جانا ہر گھر کی کہانی ہےـ پانچویں کہانی جو ’’ سوکھی باؤلی‘‘ کے عنوان سے ہے ، گھروں میں ہونے والے اسی تصادم کو درشاتی ہے جس میں دادی اماں اپنے بیٹے، بہو اور پوتوں کے رویوں سے نالاں اور بے چین سب کچھ دیکھتی رہتی ہے لیکن خوف کھاتی ہے کہ اگر کچھ بولے گی تو پھر شروع ہوگی ایک مہابھارت۔ دادی اماں ناسٹیلجیا میں گذرے دنوں کو یاد کرتی ہیں جب ان کا شوہر ٹھیکیدار تھا اور کیسے ان کا گھر جنت بنا ہوا تھا لیکن اس کے شوہر کے انتقال کے بعد پورا گھر ایسے ہوگیا جیسے سوکھی باؤلی، اس میں گھر کی چھوٹی چھوٹی سیاست اور روزانہ کی ہنگامہ آرائی کو کہانی کی صورت میں خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے۔

خط کی صورت میں کہانی لکھنے کی روایت بہت پرانی ہے ‘‘شکست ناتمام’’ اسی طرز کی ایک کہانی ہے جو اس کتاب کی چھٹی کہانی ہے۔ اس کہانی میں مصنف نے خط کے اسلوب میں ایک محبت کی کہانی کو بڑے خوبصورت اور دلچسپ پیرایے میں بیان کیاہے۔ اس میں وصل اور فراق کو مصنف نے انتہائی جذباتی انداز میں بیان کرتے ہوئے ایک محبوب کی کیفیت کو بیان کیا ہے جس کا نتیجہ جدائی نکلتا ہے اور محبوب روتا، بلکتا، تڑپتا ان تمام بیتے ایام و لمحات کو یاد کرتا ہے جو ساتھ ساتھ گذارے تھے لیکن ان کا انجام جدائی کی شکل میں ہوتا ہے۔

ساتویں کہانی جس کا عنوان’’ زمین‘‘ہے، ایک طویل مگر دل گداز کہانی ہے جو دو تہذیبوں اور تین نسلوں کے درمیان گھومتی ہے۔ کہانی کی طوالت کہیں کہیں کھٹکتی بھی ہے لیکن اس کا تجسس پن اس کمی کو پوری کر دیتا ہے۔ یوں تو یہ کہانی ہر حساس دل کو تڑپاکے رکھ دے گی مگر ہم جیسے پردیسیوں کو جنھوں نے بہت کم عمری میں اپنے وطن کو خیرباد کہتے ہوئے سب کچھ پیچھے چھوڑ دیا تھا بہت دیر تک رلاتی ہے۔ کہانی میں دادی اماں کا کردار بہت مضبوط اور اس پیپل کے پیڑ کی طرح ہے جو جتنا بوڑھا ہوتا ہے اتنا ہی گھنا اور سایہ دار ہوتا ہے اور اس کے سائے میں لوگ سکھ محسوس کرتے ہیں، لیکن نئی نسل دنیا کی رنگینیوں میں مست کہاں اس کی اہمیت کو سمجھتی ہے، اس کہانی میں مصنف نے بڑی خوبصورتی سے اس کا احساس کرایا ہے۔ میری نظر میں یہ کہانی اس کتاب کی سب سے بہترین کہانی ہے جو اپنے اندر روایت، تہذیب، اس کے درمیان تصادم، ٹوٹ پھوٹ، مذہب بیزاری، پرانی قدروں کی پھسلن اور اس کی خوبصورتی کو بہت اچھے انداز میں درشاتی ہے۔

آٹھویں کہانی’’ گلاب کانٹے اور کونپل‘‘ روایتی بیانیہ سے شروع ہوتی ہے تو درمیان میں ہی کہانی کو چھوڑ کر آگے بڑھ جانے کو جی چاہتا ہے، لیکن چند قدم آگے بڑھنے پر ہی کہانی کی رومانویت قاری کو اپنے سحرمیں جکڑ لیتی ہے۔ دیگر کہانیوں کی طرح یہ بھی ایک خوبصورت کہانی ہے جو محبوبہ اور وطن کی محبت دونوں سے لپٹی ہوئی ہے۔ آج کل ہندوستان یا بر صغیر میں ملک کے جو حالات ہیں اس میں نوجوان نسل کسی ایسی جگہ جانا چاہتی ہے جہاں بے سکونی ہو تشدد، مار دھاڑ اور غربت نہ ہو مگر یہ کہانی ویسے نوجوانوں کو حوصلہ دیتی ہے اور بتاتی ہے کہ مصیبتوں سے فرار اختیار کرنا دانش مندی نہیں بلکہ مصیبت کو سکون اور جہنم کو جنت بنانا اصل کام ہے۔

’’اداس رات کا چاند‘‘یہ اس کتاب کی نویں کہانی ہے جسے ایک پڑھی لکھی خاتون کی زبانی خود کلای کے انداز میں لڑکی کی زبان سے بیان کیا گیا ہے، یہ ایک المیہ پر مبنی کہانی ہے کہ ایک طرف ہمارا معاشرہ تہذیب یافتہ لڑکی تلاش کرتا ہے دوسری طرف اس میں کیڑے نکالتا، اس میں عیب ڈھونڈتا اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود بھی اسے وہ مقام نہیں دینا چاہتا جسکی وہ حقدار ہے۔ اس کہانی میں ایک لڑکی کی ڈھلتی عمر اور پیا کے انتظار میں گذرتے لمحات کو برف کی طرح گھلتے اور پگھلتے ہوئے دکھایاگیا ہے جو دراصل ہمارے معاشرہ کی وہ حقیقت ہے جس سے پورا معاشرہ آنکھیں بند کئے ہوئے ہے۔

دسویں کہانی’’بے حس ‘‘کے عنوان سے ہے، جس کا بنیادی کردار ایک افسانہ نویس ہے، جو ڈرا ہوا ہے، اس کے ڈرے ہوئے ہونے کی ایک بڑی وجہ اس کا اقلیتی فرقہ سے ہونا ہے، لیکن دراصل وہ اپنی بے حسی اور کمزوری کو چھپانے کے لئے اپنی اولاد کو بھی طفل تسلی دیتے ہوئے اپنی بے حسی کو فلسفیانہ انداز میں جواز فراہم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ کہانی کار نے بچے اور والد کے درمیان کشمکش کو کہانی کی صورت میں خوبصورت انداز میں بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔

گیارہویں کہانی’’کرن‘‘ ایک استعاراتی کہانی ہے جس میں مصنف نے ایک میت کی زبانی اس کی کہانی بیان کی ہے جو بظاہر مر تو گیا ہے لیکن مری ہوئی حالت میں وہ کیا سوچ رہا ہے، ہیولی کیسے بول رہا ہے، مرنے والے کے بارے میں لوگ کیا سوچتے ہیں، کہانی کار نے خوبصورت انداز میں اسی کو بیان کیا ہے، جس میں معاشرتی رویوں، عام زندگی اور مرنے کے بعد انسان کی حالت، میت کے گھر کی سوگ میں کی جانے والی نمود و نمائش اور ڈھکوسلوں کو بیان کرکے معاشرے کو بیدار کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

بارہویں کہانی ‘‘درد لا دوا’’ میں ایک افسانہ نگار کی کیفیات کو بیان کیا گیا ہے جس میں افسانہ نگار خود کلامی کے انداز میں باتیں کرتے ہوئے وہ افسانے کیوں لکھتا ہے اس کو بتانے کی کوشش کی گئی ہے۔

’’ایک وائلن محبت کنارے‘‘یہ اس کتاب کی آخری اور بہترین کہانی ہے۔ ایک ایسی محبت کی کہانی جس کے پیچھے یادوں کا ایک سرگم بہتا ہے، آنکھیں اشکبار ہوتی ہیں اور آنسو خود بخود بہہ نکلتے ہیں۔ اس کہانی کو پڑھتے ہوئے ساحر لدھیانوی کا وہ شعر یاد آتا ہے جس میں وہ کہتے ہیں:

دنیا نے تجربات و حوادث کی شکل میں

جو کچھ مجھے دیا ہے وہ لوٹا رہا ہوں میں

یہ ایک بوڑھے وائلن نواز کی کہانی ہے جو اب بوڑھا ہوچکا ہے، ہاتھوں میں رعشہ طاری ہے، وہ اخبار میں ایک اشتہار پڑھتا ہے جس میں لکھا ہوتا ہے کہ ضرورت ہے ایک وائلن کی کفایتی دام پر۔ اس اشتہار کو پڑھتے ہی بوڑھا ماضی میں کھو جاتا ہے وہ وائلن اسے کیسے ملا تھا، کیسے اس نے ابا سے ضد کی تھی، ابا کے پاس پیسے نہیں تھے، مگر پھر بھی ابا نے کتنے جتن سے اسے وہ وائلن دلایا تھا،اور وہ اپنا خوبصورت وائلن کیسے ایک چھوٹی مگر پیاری بچی کو تحفے کے طور پر دے دیتا ہے، یہ بہت پیاری کہانی ہے۔

بحیثیت مجموعی ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ ایک خوبصورت افسانوی مجموعہ ہے، جسے اس کی لطافت، شیرینی، انداز بیان اور اسلوب نگارش کی وجہ سے دیر تک یاد رکھا جائے گا۔ یہ سبھی افسانے ملک و بیرون ملک کے معتبر ادبی رسالوں میں شائع ہو چکے ہیں جو بذات خود اس بات کی ضمانت ہیں کہ یہ کوئی معمولی افسانے نہیں ہیں۔کہیں کہیں پر اردو میں بہتر متبادل موجود ہوتے ہوئے انگریزی الفاظ کا استعمال کھٹکتا ہے، وہیں چند جگہوں پر دکنی لہجہ کی بھی جھلک دکھائی دیتی ہے، مثلا ایک جگہ مصنف کہتے ہیں: ”خبر اس کے حواس کو منتشر کرنے منتظر تھی”۔ یہاں کرنے کے بعد کے لئے یا کو کا استعمال کرنا تھا، اس طرح کا دکنی لہجہ چند اور جگہوں پر متن کی قرات کو متاثر کرتا ہے۔ ایک جگہ مصنف لکھتے ہیں: ”غبارہ اس کے کان کے قریب برسٹ کیا۔” اگر اردو میں غبارے کے لئے پھٹنا لفظ موجود ہے تو برسٹ کرنا کانوں کو یقینا اچھا نہیں لگے گا۔

ایک سو بانوے صفحات پر مشتمل کتاب کو تعمیر ویب ڈیولپمنٹ نے شائع کیا ہے، کاغذ اور طباعت بھی ٹھیک ہے مگر قیمت تین سو روپے بہت زیادہ ہے۔ کتاب میں علامہ اعجاز فر خ، محمد حمید شاہد، نعیم بیگ، عشرت معین سیما، ڈاکٹر ارشد عبد الحمید اور دیگر قلم کاروں اور قارئین کی رائے بھی شامل کی گئی ہیں جو بھرتی کی چیز ہے۔ مصنف نے بلا وجہ صفحات بڑھانے کی کوشش کی ہے۔ اتنی عمدہ اور معیاری کہانیاں لکھنے اور انھیں شائع کرنے پر سید مکرم نیاز یقینا مبارک باد کے مستحق ہیں، امید کی جاتی ہے کہ ادبی حلقوں میں اس کتاب کو پذیرائی حاصل ہو گی۔

 

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
جامعہ ٹیچر ز ایسو سی ایشن نے یو پی ایس سی سول سروسز ٹاپر شروتی شرما کو تہنیت اور مبارک باد دی
اگلی پوسٹ
پرندہ پکڑنے والی گاڑی / غیاث احمد گدّی – غضنفر

یہ بھی پڑھیں

فروری 2, 2026

فروری 1, 2026

دسمبر 14, 2025

ستمبر 29, 2025

جولائی 12, 2025

جولائی 12, 2025

فروری 5, 2025

جنوری 26, 2025

ظ ایک شخص تھا – ڈاکٹر نسیم احمد...

جنوری 23, 2025

جنوری 18, 2025

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں