ہر طرف بلڈوزر چل رہے ہیں، اور لگتا ہے کہ شاید اعلیٰ عدالتیں سکتے میں ہیں۔ انہیں جواب دینا چاہیے۔
بلڈوزر آئینی حقوق کو چیلنج کر رہے ہیں۔ لیکن ہماری اعلیٰ عدالتیں جواب نہیں دے رہی ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے وہ چکّر کھا گئیں ہیں۔ یا، شاید ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ‘بل ڈیز’ ہو گئی ہیں، یعنی حکومتوں کے طاقت کے غیر آئینی استعمال کے سامنے نظامی غیر فعالی کی حالت۔ یوپی اور ایم پی میں مزید گھروں کی مسماری کے ساتھ، جب کہ گجرات، آسام، تریپورہ اور دہلی کے شہری حکام پہلے ہی بلڈوزر کلب میں ہیں، بنیادی حقوق کی خلاف ورزیاں بڑے پیمانے پر ہو رہی ہیں۔ لیکن انصاف کے پہیے بلڈوزر کی پٹریوں سے کہیں زیادہ آہستہ چل رہے ہیں۔ ایم پی ہائی کورٹ نے اپریل میں کھرگون فسادات کے بعد کیے گئے انہدام پر نوٹس جاری کیا تھا، لیکن اب تک کچھ بھی نہیں ہوا ہے۔ دہلی کے جہانگیر پوری میں 20 اپریل کی مسماریوں پر روک لگانے کے بعد سپریم کورٹ کی اگلی سماعت اگست کے لیے درج ہے۔ لازم ہے کہ عدالتوں کو اور زیادہ عجلت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ سؤاو موٹو نوٹس بھی لے سکتی ہیں، کیونکہ ڈیو پروسس کی بنیاد پر جرم اور سزا کا تعین کرنا عدالتوں کا بنیادی فرض ہے، اور یہ اس وقت داؤ پر ہے۔
اس کو درست کرنے کا ایک موقع پیر کو الہ آباد ہائی کورٹ میں پریاگ راج میں مکان کے انہدام کے خلاف دائر پٹیشن کے ذریعے آیا ہے۔ پٹیشن میں کہا گیا کہ یہ مکان اس شخص کی بیوی کی ملکیت ہے جس پر ’پرتشدد مظاہروں’ کو منظم کرنے کا الزام ہے۔ یہ بلڈوزر کی کارروائی کے بدترین پہلوؤں میں سے ایک کو واضح طور پر توجہ میں لاتا ہے۔ جرم کا تعین نہ صرف عدالتوں کے باہر کیا جا رہا ہے بلکہ ملزم کے اہل خانہ کو بھی سزا دی جا رہی ہے۔ اجتماعی سزا کا تصور قرون وسطیٰ میں مقبول تھا، حتیٰ کہ قانون میں بھی اس کا اطلاق ہوا۔ ظاہر ہے، آئینی جمہوریتوں میں اس کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ اس کے باوجود، پچھلے دو سالوں میں، اور خاص طور سے پچھلے چند ہفتوں کے دوران، سرکاری عہدیداروں کے آرڈر سے چلائے گئے بلڈوزر قانون کی حکمرانی کے لیے ایک خطرناک سوال کھڑا کر رہے ہیں۔
اعلیٰ عدالتیں بلڈوزر ’انصاف‘ کی راہ میں عدالتی رکاوٹ پیدا کر سکتی ہیں۔ عدالتوں کی سخت مداخلت ضدی حکومتوں کو بھی خود کو درست کرنے کے لئے مجبور کرتی ہیں۔ ایک اچھی حالیہ مثال لکھمپور کھیری جانچ پر سپریم کورٹ کی ہدایت ہے۔ انصاف کا نظام اپنی تمام کمیوں کے باوجود شہریوں کے حقوق کے محافظ کے طور پر کام کرتا ہے۔ یہ ‘بل ڈیزڈ’ نہیں رہ سکتا۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

