وہ رات میرے سینے میں ٹھہر سی گئی ہے ۔ ستائیس اکتوبر دو ہزار گیارہ کی رات،ایک ایسی رات جس میں میں نے کوئی خواب نہیں دیکھا، وصل کا خواب جو اکثر مجھے دن بھر بے چین کئے رکھتا تھا ۔ اسی رات کی صبح نے میرے سارے پرانے خواب چھین لئے ۔ پرسکون رات کے بعد وہ ایک اضطراب بھری صبح تھی ۔شاید صلاح الدین پرویز کی ذات کا اضطراب اس صبح میں تحلیل ہو گیا تھا ۔
رات کے آخری پہرمیں صلاح بھائی کی موت نے میرے ذہن سے ماضی کے سارے تار جوڑ دئے ۔ وہ ساعتیں،وہ لمحے،وہ باتیں،اداسیاں، مسکراہٹیں،محفلیں سب ایک ایک کر کے میرے وجود سے لپٹ گئے۔ اور میرا پورا دن ایک ایسی بے کیف رات میں بدل گیاجس میں سورج بدن کے بھیتر طلوع ہوتا ہے اوروجود کو خاکستر کر دیتا ہے ۔
وہ صبح میرے لئے قیامت کی صبح سے کم نہ تھی ۔سورج کی کرنوں کے ساتھ ساتھ میرے دل کی دھڑکنیں بھی بڑھتی جا رہی تھیں ۔ ایسا لگنے لگا جیسے میں خود موت کے ایک تجربے سے گزر رہا ہوں ۔ شاید اس موت میں میری بھی موت شامل ہو گئی تھی ۔ان لمحوں اور رتجگوں کی موت جن میں نئے آئیڈیا ز نے جنم لیا تھا۔ان لفظوں کی موت جو ہم دونوں نے مشترکہ طور پر وضع کئے تھے ۔ تخیل کی چنگاری کی موت جس نے استعارہ کو زندہ رکھا تھا ۔اس ایک لمحے میں جانے کتنی موتیں واقع ہو گئی تھیں کہ ان کا شمار میرے لئے مشکل تھا اور ان سب سے بڑی موت استعارہ کی تھی جو ہم دونوں کی زندگی تھی بلکہ بقول دیگرے ہم دونوں کا ہمزاد ۔پاکستان سے پروفیسر قیصر نجفی نے لکھا تھا :
’’استعارہ جسے میں صلاح الدین پرویز اور حقانی القاسمی دونوں کا ہمزاد تصور کرتا ہوں ۔۔۔۔۔۔ممکن ہے اہل نظر دو الگ الگ وجودوں کا ایک ہمزاد تسلیم کرنے سے گریز کریں ۔ان کے لئے عرض ہے کہ مادھو لال حسین کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ۔اگر مادھو لال اور سائیں حسین کو ایک دوسرے کا عشق ایک کر سکتا ہے تو صلاح الدین پرویز اور حقانی القاسمی کو استعارہ کا عشق ایک جان اور سہ قالب کیوں نہیں کر سکتا
رانجھا رانجھا کردی نی میں آپے رانجھا ہوئی
آکھو مینوں تہیدی رانجھا ہیر نہ آکھو کوئی
اور پھر ایک عارف نے یہ بھی تو کہا ہے :
من تو شدم تو من شدی من تن شدم تو جاں شدی
تا کس نہ گوید بعد ازیں من دیگرم تو دیگری ‘‘
استعارہ کی موت ذرا کچھ پہلے ہوگئی تھی مگر اس میں زندکی کی تھوڑی بہت سانسیں ٹھہری ہوئی تھیں ۔پچیس مئی دوہزار کواس کی زندگی کا پہلا جشن تھاجس کی تفصیل اردو اخبارات کے علاوہ موقر انگریزی اخبار ‘دی ہندو ’ نے یوں رقم کی تھی :
Urdu Journal Launched
New delhi, may 25, The former Prime Minister, Mr. V.P. Singh, today said art and literature have an important role to play in helping of commodification.
He was speaking on the occasion of the launch of ‘Iseara’, an Urdu literary journal jointly edited by noted Urdu poet and Sahitya Akademi award winner Mohammad Salahuddin Pervez and literary critic and journalist Haqqani Al Qasmi.
Mr. Shahid Mehdi, Vice-Chancellor of Jamia Millia Islamia, diplomat and well-known author Mr. Pavan Verma and Prof. Gopi Chand Narang were other dignitaries who attended the function.
Isteara promises to be "a testament and metaphor which seeks to fill the gaps in the global Urdu literature.”
It reflects diversity of thought and vision and has been able to secure the contribution, co-operation and support of creative writes from several countries.
مگر شاید کسی کی نظر لگ گئی کہ وہ زندگی رفتہ رفتہ موت میں مدغم ہوتی گئی ۔جس کے نقوش ہم دونوں کے رتجگوں نے ترتیب دئے تھے ۔
استعارہ نے صلاح الدین پرویز کو ایک نئی زندگی دی تھی،ماضی سے مختلف زندگی،جب ایک تخلیق کار نے اپنے ادارتی ہنر سے پوری ادبی دنیا کو چونکا دیا تھا ۔ادبی مجلہ کا ایک نیا رنگ و روپ اور بالکل نئی ترتیب دیکھ کر آنکھیں حیران تھیں ۔ بہتوں کو یقین نہیں ہو رہا تھا کہ یہ صلاح الدین پرویز کا رسالہ ہے اور بہتوں کا گمان تھا کہ استعارہ کی مدت حیات بہت مختصر ہوگی مگر اس کے تقریبا پندرہ شمارے شائع ہوئے اور ہر شمارے نے تخلیقی معاشرے پر جو اثرات مرتب کئے وہ رسائل میں شائع شدہ تبصروں سے واضح ہے۔، ہر رسالے سے الگ،منفرد،متنوع انداز تھا اس کا ۔اس کے پہلے شمارے پر جولائی،اگست،ستمبر دوہزار کی تاریخ درج تھی اور یہ چار سو آٹھ صفحات پر مشتمل تھا ۔ باب العلم مولا علی کو منسوب اس رسالے کا سرورق مشہور مصور ظہور زرگر نے بنایا تھا اور پہلے شمارے میں وارث علوی،محمود ہاشمی،دیوندر اسر،شمیم حنفی، عتیق اللہ، اور ابو الکلا م قاسمی جیسے مشاہیر کے مضامین شامل تھے ۔ وی پی سنگھ پر گوشے کے علاوہ باب افسانہ، باب بدن،، باب میزان، نظم،غزل اور دیگر ابواب تھے ۔ صلا ح الدین پرویز کا اداریہ تھا جس پر بطور گواہ میرے دستخط تھے ۔ پہلے شمارے سے ہی اس کا جادو سر چڑھ کر بولنے لگا ۔ اردو کی کوئی ایسی بستی نہیں تھی جہاں اس رسالے کی گونج نہ پہونچی ہو۔پاکستان میں اس کا والہانہ خیر مقدم ہوا ۔مشہور فکشن نگارانتظار حسین نے انگریزی اخبار ڈان میں کالم لکھا اور اس کے مشمولات کو سراہتے ہوئے استعارہ کے رول کی وضاحت یوں کی :
"The co-editor Haqqani-ul-Qasmi has defined the role” Isteara intend to play in terms of a holy war against all kinds of Fraud and Forgery, which according to him, is rampant in our literary world
اور جیلانی کامران جیسے ممتاز ناقد نے the Nation Lahore کے سولہ دسمبر دوہزار کے شمارے میں یہ اعتراف کیا :
In this issue, besides the familiar topics of prose-poetry, new areas of criticism have appeared with the problem of literary excellence and craftmanship and the aesthetics’ of physical body.
تخلیقی آزادی اس رسالے کی اساس تھی ۔اس میں نئے نئے ابواب قائم کئے گئے ۔ ہر باب کا ایک دیباچہ ہوتا تھا ۔ اور ہر شمارہ کسی نہ کسی شخصیت کو منسوب ۔ یہ بھی ہوا کہ ایک شمارے کا انتساب یوں کیا گیا :
غفار منزل کی سڑک کنارے بیٹھنے والے اس بوڑھے فقیر کے نام جو بھیک مانگ کر اپنے بچے کو اردو کی تعلیم دلا رہا ہے
یہ بہت بڑا طنز تھا جسے اردو حلقوں نے محسوس کیا۔استعارہ نے مختلف سطحوں پر جو جدتیں پیدا کی، اس کی تقلید کی گئی ۔ تنقید نمبر کے کے علاوہ استعارہ کا ضخیم فکشن نمبر بھی شائع ہوا جو چھ سو چوالیس صفحات پر مشتمل تھا اور اس کی ایک بڑی خوبی یہ تھی کہ چالیس افسانے تجزیوں کے ساتھ شائع کئے گئے تھے اور تقریبا چالیس افسانوی مجموعوں پر تبصرے بھی شامل کئے گئے تھے ۔ استعارہ کے مستقل ابواب کے علاوہ وی پی سنگھ،آشفتہ چنگیزی،کیفی اعظمی،اٹل بہاری باجپٹی،محمود ایاز، وہاب اشرفی،بیگ احساس، خلیل مامون،حنیف ترین، طارق چھتاری، ساجد رشید، جینت پر مار، گلزار، ناصر شہزاد،جیلانی بانو کے گوشے شائع کئے گئے ۔ بہت جلد استعارہ نے اپنا تشخص قائم کر لیا ۔قیصر نجفی نے یہ لکھ کر اعتراف کیا کہ :
‘‘جہاں جہاں اردو لکھی بولی اور سمجھی جاتی ہے استعارہ نے اپنے علمی وقار اور ادبی قامت کے جھنڈے گاڑ دئے ہیں۔’’
اردو کی نئی بستیوں تک اس رسالے کی رسائی یوں ہوئی کہ تجارتی ذہنیت اس راہ میں رکاوٹ بن سکتی تھی مگریہ ایک تخلیقی ذہن رکھنے والے کا رسالہ تھا جس سے کوئی منفعت مقصود نہیں تھی۔ یہ سراسر گھاٹے کا سودا تھا اور زیاں سہہ کر بھی صلاح بھائی کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تیرتی رہتی تھی۔وہ تو چار سو کا خریدار بنانے کے لئے چار ہزار خرچ کر دیتے تھے ۔
استعارہ کے وہ مالک و مختار تھے مگر یہ کبھی نہیں ہو ا کہ انہوں نے میرے فیصلے بدلوا دئے ہوں،ہاں یہ ضرور ہوا کہ میری وجہ سے انہوں نے اپنے فیصلے بدل لئے ۔ یہ ان کا بڑا پن تھا ۔ وہ اکثرکہا کرتے تھے کہ حقانی تم ہی فائنل اتھارٹی ہو ۔ مگر میں نے ان کے اس جملے کا کبھی احترام نہیں کیا۔ ہمیشہ ان ہی کے ایماء پر تحریروںکا انتخاب ہوتا رہا۔
صلاح الدین پرویز اس رسالے میں مکمل طور پر لین ہو گئے تھے ۔ شاید ہی اپنی زندگی یا تجارت میں انھوں نے اتنی محنت کی ہوگی۔کبھی کبھی کہتے تھے کہ نئی نسل کے ایک محرر کا مضمون میں نے سترہ بار کریکٹ کیا ہے ۔ وہ خوب سے خوب تر کے لئے نئے نئے زاوئے تلاش کرتے تھے ۔اور یہ سارے زاوئے اساس میں روشن ہوتے تھے ۔ اساس کے عنوان سے انہوں نے جو کچھ لکھا،ادبی حلقوں میں اس کا نوٹس لیا گیا ۔قیصر نجفی نے یہ اعتراف کیا کہ :
رنگ و نور کی اس دنیا سے باہر نکلا تو ’اساس ‘کی پر اسرار وادیوں میں کھو گیا جہاں ابن عربی،سراج منیر اور صلاح الدین پر ویز وحدت فکر و نظر کی مسند پر اس طرح براجمان ملے کہ من وتو کا کوئی فاصلہ درمیان میں نہیں تھا ۔چہار سو تاریخ،فلسفہ،علم الکلام، حکمت و دانش،سلوک و معرفت،شعر و ادب اور نقد و نظر کے دریا بہ رہے تھے ۔ میں کہ بحر علم کا شناور نہیں تھا،اپنے اندر سمٹ گیا اور وہاں سے چلے جانے ہی میں عافیت سمجھی ۔اچانک ایک آواز کی زنجیر نے جکڑ لیا ۔ میرے پاؤں جیسے زمین میں دھنس گئے ہوں ۔ صلاح الدین پرویز گویا نظر آئے ۔ ’’کانوں کی زیبائش شاستروں کے سننے سے ہوتی ہے کنڈلوں سے نہیں،ہاتھوں کی زیبائش دان دینے سے ہوتی ہے،کنگنوںسے نہیں ۔ انسان کی زیبائش اس کے ساہتیہ سے ہوتی ہے،ماتھے کے چندن سے نہیں ‘‘اللہ اللہ کیا علم و حکمت کی الہامی باتیں تھیں جو ایک ایسا انسان کر رہا تھا جو سادھو تھا نہ سنت،درویش تھا نہ رشی،اوتار تھا نہ پیمبر ۔معا دل میں تجسس کی ایک ہوک اٹھی یہ کون صلاح الدین پر ویز ہے جس میں سقراط جیسا حوصلہ اور گوتم جیسی شکتی ہے جس کے علم کی سوت نہج البلاغہ ہے۔
صلاح الدین پرویز اپنے ادارئے میں وہ کہنہ اسلوب قطعی اختیار نہ کرتے تھے جو اکثر مدیروں کا ہوتا ہے ۔ وہ بڑی لمبی بھومیکا باندھتے تھے ۔ اور مضمون کی روح میں اتر کر ہر دے کی دھڑکنوں سے لکھتے تھے:
’’میں ابن الفارض کے ساتھ صرف ایک صبح اور ایک شام رہا اور اسی ایک صبح اور ایک شام میں میرے سینے میں ایسی آگ روشن ہو گئی کہ سات سمندر کے پانی سے بھی وہ آگ ٹھنڈی نہیں ہو سکتی ۔ میں ابن الفارض کے ساتھ مقام ا رین پہ کھڑا ہر طرف سے آنے والی خوشبوئوں سے اپنے وجود کو معطر کرتا رہا۔ انہی کے ساتھ وادی نعمان میں پیلو کے درختوں سے لپٹ کر میں نے دل کو بھی تلاش کیا جو کسی سنگر یلی وادی میں کھو گیا تھا۔ میں ایک شام ریتیلے میدان کے راحت کدے میں بھی رہا۔ کتنی راحت اور کتنا سکون تھا اس ریتیلے میدان میں۔ مقام ضارج کی وادی میں بھی گیا، مقام و عساء میں بھی قیام کیا، کوہ سلع، لعلع اور شظا میں بھی گیا۔ ینبع کی سر سبزوادی میں بھی رہا۔ اس ایک صبح ایک شام کی مد ہوشی میرے وجود پر طاری ہے۔
ابن الفارض کے ساتھ ان چند لمحوں کی معیت نے عشق کی گمراہی میں مبتلا کر دیا۔ اس کے بعد ہدایت کی کوئی راہ نہیں۔ اب میں محبت کے باب مین قبیلہ عصی سے بھی زیادہ نا فرمان ہو گیا ہوں مجھے جس سکر، جس نے خودی کی تلاش تھی اس سکر کا سراغ مجھے مل گیا ہے۔ اب میں اسی سکر میں محو ہوں اور دیکھ رہا ہوں محبت کے وہ مقامات اور منزلیں جوابن الفارض کی’ یک نگہ‘‘ سے مجھ پر منکشف ہوتی جا رہی ہیں۔
میں تو نا آشنائے علم و فن ہوں، مجھے ابن الفارض نے بتایا کہ شاعری میں سوز اور سحر کے لئے مطالعے کی نہیں، مجاہدے کی ضرورت پڑتی ہے۔ تبھی سے میں سوچ رہا ہوں کہ شاید آج ہمارے ادب سے ‘مجاہدہ’ گم ہو گیا ہے صرف ‘مطالعہ’ رہ گیا ہے جس کی وجہ سے ادب میں گمرہی پھیل رہی ہے اور کجروی پیدا ہو رہی ہے اور وہ سارا شور و شر، شاعری میں سما گیا ہے جس سے انسانی کائنات میں تعفن پھیل رہا ہے۔ اور ذہن ظلمت کدہ، میں تبدیل ہو رہا ہے۔
ابن الفارض کے اجالے میں مجھے وہ اندھیرا مشرق سے مغرب تک نظر آ رہا ہے اور میں دیکھ رہا ہوں کہ تخلیق دنیا، سمٹ کر سکڑ کر ایک نقطہ میں منجمد ہو گئی ہے۔ اب اس انجماد کو توڑنے والی کوئی آواز نہیں۔ تمام آوازیں، احساس منجمد ہو گئے ہیں۔ اندر کی آگ بجھ گئی ہے۔ مجھے یہ آگ صرف اور صرف اس لمحہ جنوں میں ابن الفارض کے ہاں نظر آ رہی ہے کیونکہ ابن الفارض کے پاس لفظوں کی قوت، حدت و شدت اور تاثیر کو محسوس کرنے والا دل تھا۔ ان پہ الفاظ و معانی کا الہام ہوتا تھا۔ اسی لئے شعر کا ایک ٹکڑا بھیا ن کی پوری شخصیت، ان کے وجود کو متغیر کر دیتا تھا۔ ا ن پر وجد کی کیفیت طاری کر دیتا تھا جب کہ آج حال یہ ہے کہ پوری شاعری پڑھ جایئے پھر بھی آدمی کے اندرون میں کوئی لرزش نہیں ہوتی۔ شاعر ی پڑھ کر محسوس کرتا ہے جیسے کھوکھلے الفاظ کی وادیوں سے گزر رہے ہوں۔ا ن لفظوں کا تھوڑا سا بھی اثر نہ ذہن پر ہوتا ہے اور نہ ضمیر پر۔ (استعارہ 22,23جنوری جون 2006)
صلاح الدین پرویز کی اس مختصر سی تحریر میں کتنے علامات و مقامات پنہاں ہیں،کتنے ادیبوں کو اس کی خبر ہے ۔
استعارہ کے دفتر ہی میں انہوں نے دی وار جرنلس اور ایک ہزار دو راتیں ناول لکھے جس کے گواہ میرے علاوہ محمد اکرام خاں ہیں۔ یہ گواہی اس لئے ضروری ہے کہ نمرتا اور آئیڈنٹٹی کارڈ کو کچھ لوگ ان کی تخلیق نہیں مانتے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنی کوئی بھی تخلیق کسی قریبی دوست یا اکسپرٹ کی ترمیم،تنسیخ اور تصحیح کے بغیر چھپنے کے لئے نہیں بھیجتے تھے اور اس کا ثبوت یا شہادت یہ ہے کہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ نظم سے میرا کوئی خاص علاقہ نہیں ہے پھر بھی وہ کہا کرتے تھے کہ حقانی اس نظم کے درو بست درست کر دینا ۔جبکہ وہ پانچ منٹ میں تحیر اور تاثر سے بھر پور ایسی نظمیں لکھ دیتے تھے کہ بہتوں کے لئے پانچ ماہ کی مشقت کے باوجود ایسی ایک سطر لکھنا بھی مشکل ہوتا ۔
ہم دونوں گواہی دیتے ہیں کہ ان کے دونوں ناول کمپیوٹر پر کمپوز ہوئے تھے اور اس میں کسی کی معاونت شامل نہیں تھی ۔رات بھر وہ الٹی سیدھی لکیریں تیار کرتے اور صبح مکمل انہماک کے ساتھ وہ کمپوز کرانے لگتے ۔کاغذ پر صرف چند لائنیں ہوتی تھیں اور وہ بڑھتے بڑھتے کئی صفحات پر پھیل جاتیں ۔ ہندوستانی اساطیر سے انہیں گہرا لگاؤ تھا ۔ان کی اکثر تحریروں میں اس کا جمال اور تحیر نظر آتا تھا ۔ اسطور کی روشنیوں میں سے ایک نئی روشنی تلاش کر لیتے تھے ۔جنس ان کے لئے شجر ممنوعہ نہیں تھا اس میں بھی نئے زاوئیے کی جستجو ان کی سرشت بن گئی تھی ۔
صلاح الدین پرویز کی ہر تحریر ان کے وجود،نظریہ،تضادات کا جسٹی فیکیشن ہو اکرتی تھی۔ وہ اپنی نظر اور نظریے کا جوازکہیں نہ کہیں سے ضرور تلاش کر لیتے تھے اور اپنے تخلیقی کرداروں سے اس پہ ڈسکورس بھی کرواتے تھے ۔
ان کی تخلیق میں تو جذباتی وفور تھا ہی ان کی شخصیت میں نرگسیت بھی تھی اور جذباتیت بھی جس نے ان کی شخصیت کو کہیں کہیں Damageبھی کیا، وہ جذباتی استحصال کا بھی شکار ہوئے، خاص طور پر شہرت کے بھو کے ادیبوں نے انہیں اپنا لقمہ تر بنایا۔
اور ان کی زندگی میں ایک اور عنصر تھا وصل کی راحتیں ۔ جو راتیں تلاش کرتی ہے ۔صلاح الدین پرویز راتوں کے سکر اور سرشاری میں اتنے سر مست ہو گئے کہ ان کی امیج ایک casanova کی بن گئی تھی ۔فیض کے اس مصرع کو انہوں نے اپنے طرز زیست سے بالکل الگ رکھا تھا یا اسے اپنی زندگی کی فرہنگ میں داخل نہیں ہونے دیا کہ :
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
صلاح بھائی کے تعلق سے یہ عام سوچ تھی مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کے وصل کے بیشتر معاملات شرعی حدود سے باہر نہیں تھے۔ آلنگن اور بات ہے کہ
یہ آلنگن نہ ہو تو تخلیق ادھوری رہ جاتی ہے۔ وصل کی ابجد ہی صلاح الدین پرویز کی تخلیقی اساس ہے:
ایسے رہا میں تم میں
جیسے تم رہتی ہو مجھ میں
جیسے دئیے میں لو رہتی ہے
ایسی رہیںتم مجھ میں
وہ میرے سب کہاں ہیں؟
ابھی تو سب یہیں تھے
اب کہاں ہیں!!
وہ پاگل کرنے والی شب، وہ گنبد
وہ الماسی پرندے اور زبرجد
وہ دو جسموں کی پہلی وصل ابجد
بہت جاگے ہوئے ہیں آؤ مرلیں
مگر ایک پل اچانک سب ہوا کیا
جو تھی اک رت بسنتی اب خزاں ہے
پری پیکر تھی جو، وہ اب دھواں ہے
وصال خواب نظمیں ان کا شناس نامہ تھیں مگر ان کی زندگی کی آخری ساعتیں ہجر کے عذابوں میں گزریں اور یہی ہجر ان کی جاں کے زیاں کا سبب بنا ۔ ژاژ کا گداز شاعر اس ہجر کی تاب نہ لا سکا اور بآخر جنگل،دھوپ سمندر سایہ،لو پوئمز،کنفیشن،دشت تحیرات، پرماتما کے نام آتما کے پتر،کتاب عشق اور بنام غالب کا شاعر،نمرتا،آئیڈنٹٹی کارڈ،ایک دن بیت گیا،سارے دن کا تھکا ہوا پرش،دی وار جرنلس اور ایک ہزار دو راتیں کا فکشن نگار اس دنیا سے رشتہ توڑ گیا اور اپنی تخلیقی آواز کا رشتہ ذہنوں سے جوڑ گیا ۔ نظمیہ شاعری کی اس سالم شخصیت نے خود ہی کہا تھا :
I confess
My name is Salahuddin
And I am dead from both the end
but my voice lives.
سچ بالکل سچ،ان کی تخلیقی آواز زندہ رہے گی ۔یہ گواہی ناقدین دیں یا نہ دیں مگر آنے والا عہد ضرور دے گا ۔
٭٭٭
Email: haqqanialqasmi@gmail.com
Cell: 9891726444
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

