پانچ روزہ بین الا قوامی کثیر لسانی نوجوان اردو اسکالرس فیسٹیول کے چوتھے دن عالمی سیمینار اورعالمی مشاعرے کا انعقاد
وائس چانسلر سنگیتا شکلا اور پروفیسر اسلم جمشید پوری کو بین الاقوامی نسائی ادبی تنظیم ایوارڈ
ڈاکٹر حسن امام ،جمشید پور کو سماجی خدمات کے لیے سر سید نیشنل ایوارڈاور مصر کی ڈاکٹر ولا جمال کو ادبی خدمات کے لیے سید اطہر الدین انٹرنیشنل ایوارڈ
میرٹھ31؍ اکتوبر2022ء
’’بین الاقوامی نسائی ادبی تنظیم( بنات) کا کام اور مقصد معاشرے میں زبان اور علم و ادب کی شمع روشن کرنا ہے،نیز بہناپے کو فروغ دیتے ہوئے،سماج کی برائیوں کو دور کرتے ہوئے خواتین کو آگے بڑھنے کا حوصلہ عطا کرنا ہے۔یہ الفاظ تھے معروف افسانہ نگار اور بنات کی صدر ڈاکٹر نگار عظیم کے جو شعبۂ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی،میرٹھ، اتر پردیش اردو اکادمی ،لکھنؤ،بین الاقوامی نسائی ادبی تنظیم، (بنات) اوربین الاقوامی نوجوان اردو اسکالرز انجن(آیوسا)کے اشتراک سے چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں منعقد ہورہے پانچ روزہ بین الا قوامی کثیر لسانی نوجوان اردو اسکالرس فیسٹیول(اردو، ہندی، انگریزی، سنسکرت، فارسی)بعنوان’’ اردو کی ادبی صحافت‘‘ کے چوتھے دن منعقدبنات کے چھٹے یوم تاسیس کے موقع پر بنات کے افتتاحی اجلاس میں اظہار خیال کے دوران ادا کررہی تھیں۔بنات کے کل تین اجلاس منعقد ہوئے جس ہندوستان بھر سے بہنوں نے شر کت کی۔ اسی دوران بنات نے شیخ الجامعہ پروفیسر سنگیتا شکلا،اور پروفیسر اسلم جمشید پوری کو ’’بنات‘‘ ایوارڈ سے نوازا۔پروگرام کی صدارت کے فرا ئض بنات کی سر پرست قمر جمالی، حیدر آباد نے کی اور مہمانان خصوصی کے بطور پروفیسر وائی وملا اور پروفیسر بندو شرما نے شر کت کی جب کہ اس سیشن کی نظا مت کے فرائض ڈاکٹر شاداب علیم نے ادا کیے۔
اس سے قبل چوتھے دن کے پروگراموں کا آغاز شعبے کے پریم چند سیمینار ہال میں اردو سیشن سے ہوا ۔جس میں وصی اعظم انصاری،لکھنو،کے پی شمس الدین،کیرالا نے اپنے مقالات پیش کیے۔ نظامت عظمیٰ پروین نے کی۔
وہیں شعبۂ ٹاکسیکالوجی میں انگلش سیشن کی مجلس صدارت پر پروفیسر وکاس شرما،میرٹھ ،پروفیسر صالحہ رشید، الہ آباد اور ڈاکٹر سورنا رونق افروز رہے جب کہ حنا کوثر، ڈا کٹر سیدہ ، عینی سیفی اور ڈاکٹر مرنالنی اننت مظفر نگر نے اپنے مقالات پیش کیے۔ نظامت کے فرائض حبا خان اور شکریے کی رسم ڈاکٹر الکا وششٹھ نے ادا کی۔
اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے تسنیم کوثر نے کہا کہ سا ری دنیا میں شورشوں کا شور ہے، حساس دل بے چین و بے قرار ہے ۔خواتین قلم کا روں کی انجمن بنات اس دور پُر آ شوب میں امن وآشتی کی مشعل لیے آگے بڑھ رہی ہے۔قلم اس کی تلوار بھی ہے اور ڈھال بھی،تیر بھی ہے اور ترکش بھی۔سسٹر ہڈSisterhood کا فروغ اس کا خاص مقصد ہے۔
عذرا نقوی نے کہا کہ چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں ہماری نسائی تنظیم بنات کا یوم تاسیس منعقد ہونا ہم سب کے لیے باعث فخر ہے۔بنات کی کو آرڈینیٹر ڈاکٹر شاداب علیم نے کہا کہ میرٹھ کی زمین ادبی لحاظ سے بڑی زرخیز ہے۔ہندوستان بھر سے آئیں بنات بہنوں کا اس ادبی خطے میں خیر مقدم کرتی ہوں واقعی یہ لمحات ہمارے لیے باعث فخر ہے کہ جن مایہ ناز مصنفین کو ہم کتابوں ،رسائل یاکسی دیگر ذرائع سے پڑھتے سنتے آئے ہیں وہ آج ہمارے رو برو ہیں اور ہمیں اور ہمارے طالب علموں کو آپ سب سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا ہے۔
بنات کا آخری اجلاس شام4؍ بجے منعقد ہوا جس کی محفل صدارت پر ڈاکٹر ہما مسعود، ڈاکٹر فرحت خاتون،نعیمہ جعفری اور رما نہرو جلوہ افروز رہیں۔ نظا مت کے فرائض چشمہ فاروقی نے بحسن و خو بی ادا کیے۔ جبکہ رفیعہ نوشین، حیدر آباد،ڈاکٹر نگہت آ را، نسیم بیگم نسیم،نصرت شمسی، رام پور،رفیعہ ولی،کشمیر،ڈاکٹر فریدہ رحمت اللہ ، بنگلور،نشاط پروین برسوی، سیدہ نسیم، نانڈیکر، طلعت سروہا، سہارنپور،شہناز رحمت اللہ، زنفر کھو کھر،کشمیر،گلزار بانو کشمیر نے اپنی تخلیقات پیش کی جس کو حاضرین نے خوب سراہا۔
پروگرام میں ڈاکٹر شبستاں آس محمد، فرح ناز، نوید خان،بھوت،ڈاکٹر ہما نسیم،ڈاکٹر فرقان سردھنوی ،آفاق احمد خاں، ذیشان خاں،انیس میرٹھی سمیت عمائدین شہر اور کثیر تعداد میں طلبہ و طالبات نے شر کت کی۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

